Video wird geladen...

Video konnte nicht geladen werden

Zur Startseite

سید کی دعا سے سید کی سپہ سالاری تک کا سفر‼️‼️ مخدوم سید صفدر بخاری لاہور کے مشہور بزرگ ہیں۔ اس نایاب وڈیو میں یہ بتا رہے ہیں کہ اسلام آباد کے مشہور صوفی بزرگ شاہ عبدلطیف کاظمی المعروف بری امام نے آج سے ساڑھے تین سو سال پہلے...

101,740 Aufrufe • vor 18 Tagen •via X (Twitter)

8 Kommentare

Profilbild von Izza
Izzavor 18 Tagen

Pakistan zindabad

Profilbild von Jaam
Jaamvor 18 Tagen

پاکستان ہمیشہ زندہ باد رہے گا 🇵🇰🇵🇰🇵🇰

Profilbild von Dr Aakkifah
Dr Aakkifahvor 18 Tagen

بری امام کی ساڑھے تین سو سال پرانی پیشن گوئی آج حقیقت بن کر سامنے ہے۔ نورپور سے اسلام آباد تک کا سفر اللہ کی قدرت کا ثبوت ہے۔ یہ شہر اسلام کا قلعہ ہے اور اس کا مستقبل روشن ہے۔

Profilbild von Amna Aman
Amna Amanvor 18 Tagen

ان شاء اللہ

Profilbild von Asim Mardan
Asim Mardanvor 18 Tagen

😅😅😅🤣🤣🤣😁😁😁😁😁😁🤣🤣🤣🤣😁😁😅😅😅😅😅😅😅

Profilbild von MoonJutt
MoonJuttvor 18 Tagen

ان شاء ﷲ.... پاکستان ہمیشہ زندہ باد 🇵🇰⚔️

Profilbild von Roshni
Roshnivor 18 Tagen

ماشاءاللہ ماشاءاللہ

Profilbild von Mujtaba
Mujtabavor 18 Tagen

Pakistan zindabad

Ähnliche Videos

آج یہودیوں کے ابو ٹرمپ کے نائب صدر جے ڈی ماس نے تقریر کی اور اس میں اس نے اسلامی ایٹمی طاقت کے خاتمے کا ذکر کیا۔ ▪️واحد اسلامی ایٹمی طاقت کون ہے اور اس کا محافظ کون ہے؟ یقینا پاکستان اور اس کی افواج ▪️یہودیوں اور ان کے سہولت کاروں کو ہمیشہ سے نہ تو عرب سے کبھی خطرہ ہوا نہ ہی ایران سے۔ ڈیوڈ بن گوریان نے 1948 میں کہا تھا “ہمیں عربوں سے نہیں بلکہ پاکستان سے خطرہ ہے”۔ انہیں پتہ ہے کہ جب کبھی بھی ان پر چڑھائی ہوئی تو وہ پاک فوج ہی ہو گی۔ اسی لیے تو ان کا ہمیشہ نشانہ پاک فوج رہی۔ یہ جانتے ہیں کے پاکستان کو صرف ایک طاقت نے جوڑے رکھا ہے اور وہ ہے پاک فوج۔ ▪️مہاتما عمران ان کا ترپ کا پتہ ہے، اسی لیے تو یہ ٹرمپ کو ابو بنا کر اس کا انتظار کر رہے ہیں کہ ٹرمپ ابو آئیں گے اور ہمیں بچائیں گے۔ مہاتما اور اس کے حواریوں کا نشانہ بھی صرف پاک فوج ہے۔ ▪️لیکن یہ جانتے نہیں کہ یہ محمدی فوج ہے اور اس کا رکھوالا اللہ تعالی کی ذات ہے۔ یہ لاکھ مکر کر لیں چالیں چل لیں انشاللہ ان کا ہر مکر اور ہر چال ان کے منہ پر دے ماری جائے گی

سید عدنان بادشاہ 🇵🇰

53,529 Aufrufe • vor 2 Jahren

صحافی: مولانا صاحب آپ نے تقریر میں غزہ کا ذکر کیا فلسطین کا ذکر بھی کیا اور آپ نے کہا کہ یہ جو بالائے طاق رکھ کے آواز ہونی چاہیے، آپ سمجھتے ہیں کہ جو بڑے ممالک ہیں اسلامی ممالک ہیں سعودی عرب ہے پاکستان ہے ترکی ہے ان سب کو بڑی توانا طریقے سے آواز اٹھانی چاہیے پلیٹ فارم کی شکل میں تاکہ یہ ظلم و بربریت کا خاتمہ ہوسکے مولانا: ہم نے تو یہاں تک تجویز دی ہے کہ اسلامی امت کی اسی حوالے سے ایک تنظیم ہونی چاہیے اور اس تنظیم کی قیادت سعودی عرب کرے کہ مرکز اسلام کی نگرانی وہ کر رہے ہیں مرکز اسلام کی خدمت وہ کر رہے ہیں تو مکہ اور مدینہ دونوں مسلمانوں کے مراکز ہیں اسلام کے مراکز ہیں اور جن کی خدمت کی ذمہ داری جو ہے اس وقت خادم الحرمین الشریفین کے ذمے ہے تو یہ مقام ان کا ہے کہ وہ اسلامی دنیا کی قیادت کریں اس حوالے سے اور اس کو منظم کریں، اسی نظم کے ساتھ اور اسی وحدت کے ساتھ ہم دشمن سے دفاع کر سکیں گے مسلمانوں کا دفاع کر سکیں گے ان سے ان کے بشر حقوق کا دفاع کر سکیں گے ورنہ اسی طریقے سے دنیا ہمارا کھیلے گی کیا ہوا کیا گزرے افغانستان کے اوپر، کیا گزری عراق کے اوپر، کیا گزری لیبیا کے اوپر، کیا گزری شام کے اوپر اور اس وقت سعودی عرب اور یمن کے درمیان جو صورتحال ہے اس پر بھی اسلامی دنیا یقیناً پریشان ہے اور یہ حق ہے اس کا اور اس وقت جو فلسطینیوں پہ گزر رہی ہے حد کر دی ہے کہ کس طریقے سے یہ لوگ آئندہ انسان کی بات کریں گے یا انسانی حق کی بات کریں گے، تو یہ ضروری ہے کہ اسلامی دنیا کی طرف انہوں نے متوجہ کیا ہے اور ہم رابطہ عالمی اسلامی کے اور خادم الحرمین الشریفین کے اور ان کے ولی عہد کے شکر گزار ہیں جنہوں نے اس اقدام سے امت کو اس اہم مقصد کی طرف متوجہ کیا۔ صحافی: مولانا صاحب کچھ ممالک نے اسرائیل کو اسلامی ممالک نے اسرائیل کو تسلیم کیا ہوا ہے تو آپ سمجھتے ہیں پاکستان پر بھی دباؤ ہو رہا ہے تو اس ساری صورتحال میں کیا لائحہ عمل ہو سکتا ہے کہ یو این تو اس پہ خاموش ہے امریکہ اس کا ساتھ دے رہا ہے تو کس طرح اسلامی ممالک اسرائیل کو روک سکیں گے؟ مولانا: اسلامی ممالک کی وحدت اور ایک موقف کے اوپر مجتمع ہونا، آج ایک موقف ہے سب کا کہ اسرائیل جو ہے وہ قابض ہے اور اس کا تسلط ہے اور فلسطینی جو ہے وہ آزادی کی جنگ لڑ رہے ہیں لہذا اسرائیل کو تسلیم کرنا یہ مسئلہ نہیں ہے بلکہ فلسطین کی آزادی یہ مسئلہ ہے مسلمانوں کا اور مسلمانوں کو اصل مسئلے کی طرف متوجہ ہونا چاہیے، ہمیں ایک غیر ضروری موقف کی طرف لے جایا جا رہا ہے جس میں خالصتاً یا اسرائیل کا مفاد ہے یا مغربی دنیا اور امریکہ کا مفاد ہے مسلمان کا مفاد کہاں گیا امت مسلمہ کا مفاد کہا گیا اور مسجد اقصیٰ کا حق کہاں چلا گیا جس پر مسلمانوں کا حق ہے پھر فلسطین جو ہے وہ ارض فلسطین مسلمانوں کی سرزمین ہے فلسطینیوں کی سرزمین ہے ان کی آزادی کا جو بنیادی سوال ہے جو 75 سال سے زندہ ہے کیا اس مقصد کو بھی ہم حاصل کریں گے یا نہیں کریں گے یہ بڑا بنیادی سوال ہے جی۔

Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan

13,145 Aufrufe • vor 2 Jahren

اقوام متحدہ میں اسرائیل کے مندوب نے پی ٹی آئی کی زبان بولی ہے ، آپ کو ماننا پڑے گا کہ ہم نے جو نشاندہی کی تھی وہ اب درست ثابت ہورہی ہے، اسرائیل امریکہ اور مغرب کے ہاتھوں کا ایک خنجر ہے جس نے فلسطین کی پیٹھ پر گھونپ کر مقدس سر زمین پر قبضہ کیا،بیت المقدس پہ قبضہ کیا اور عالمی قوتیں ایک ناجائز ملک کا تحفظ کر رہی ہیں، اسرائیل وہ ملک ہے جو قیام پاکستان کے ایک سال بعد 1948 میں وجود میں آیا،جس کے پہلے وزیراعظم نے خارجہ پالیسی پر پہلا پالیسی بیان دیا کہ اسرائیل کی خارجہ پالیسی کا اساس اور اس کا بنیادی ہدف دنیا میں ایک نو زائدہ مسلم ریاست (پاکستان) کا خاتمہ ہوگا،اسرائیل اپنے قیام کے بعد اپنی زندگی کا آغاز پاکستان کے خاتمے کے اہداف سے کرتا ہے اور پاکستان میں لوگ اسرائیل کو تسلیم کرنے کی مہم جوئی کر رہے ہیں،یہ وہ غلامانہ ذہنیت ہے جس کے خلاف ہم میدان عمل میں ہیں، یہ وہ جنگ ہے جو ہم لڑ رہے ہیں،یہ تہذیب کی جنگ ہے اور اس کے پیچھے سیاسی جنگ ہے، پھر اس کے پیچھے اقتصادی جنگ ہے۔اور ہم انشاءاللہ اسرائیل اور اس کے ایجنٹوں کا ہر محاذ پر راستہ روکیں گے۔

Maulana Fazl-ur-Rehman

202,652 Aufrufe • vor 3 Jahren

اس مہینے کے شروع میں فتنہ الخوارج کے خلاف آپریشن میں شہید ہونے والے کیپٹن حمزہ یہ ویڈیو آپریشن غضب للحق کی ہے جب کیپٹن حمزہ اور پاک فوج کے بہادر جوانوں نے طالبان کی چیک پوسٹ اپنے قبضے میں لی۔ ہمارے جوان طالبان کے جھنڈے کو بھی عزت دے رہے ہیں۔ کیوں؟ صرف اس لیے کہ اس پر کلمۂ لکھا ہوا ہے۔ وہ کہہ رہے ہیں: “اسے عزت سے اتاریں، زمین پر نہ گرنے دیں” یہ ہے پاک فوج کا اصل چہرہ۔ یہ ہے اسلام کا حقیقی روپ۔ وہ دشمن کے جھنڈے کو بھی صرف اس لیے احترام دیتے ہیں کہ اس پر اللہ کا کلمہ ہے۔ اب دوسری جانب ٹی ٹی پی اور طالبان اسلام کا نام استعمال کرتے ہیں، مساجد اور قرآن کا سہارا لیتے ہیں، مگر حقیقت میں وہ ہیں خوارج ہمارے جھنڈے کی توہین، ہمارے شہیدوں کی لاشوں کی بے حرمتی، بے گناہ مسلمانوں کا قتل ۔ فرق بالکل صاف ہے : ایک طرف فتنہ الخوارج ٹی ٹی پی اور طالبان دہشتگرد ہیں جو اسلام کا لبادہ اوڑھ کر مسلمانوں کا خون بہاتے ہیں ۔ دوسری جانب پاکستانی فوج ہے جو حقیقی اسلام کی تصویر ہیں ۔ حتیٰ کہ دشمن کے کلمے والے جھنڈے کو بھی زمین پر نہیں گرنے دیتے۔

Pakistan Defence🇵🇰

28,925 Aufrufe • vor 1 Monat

پاکستان بننے کے بعد، پاکستان کے اندر تین قسم کے لوگوں نے پاکستان کی تخلیق اور پاکستان کے وجود کی تین طرح کی تعبیر کی ہے۔ ایک طبقے نے کہا کہ پاکستان اس لیے بنا ہے کہ یہاں قرآن و سنت کا نظام ہوگا۔ نہ اب انگریز ہے، نہ اب ہندو ہے، مسلم اکثریتی ملک ہے اور یہاں اب شریعت ہوگی۔ایک تصور یہ تھا۔ کچھ لوگ تھے جنہوں نے اس تصور سے پاکستان کی آزادی کی تعبیر کی کہ ہماری معیشت آزاد ہوگی، ہم کسی کے غلام نہیں ہوں گے۔ اور ایک طبقہ وہ تھا جس نے پاکستان کے وجود کو اس بات سے تعبیر کیا کہ ایک جمہوری ملک ہوگا اور جمہوری ماحول میں ہم سانس لیں گے اور اپنے فیصلے خود کریں گے۔ اب اسلامی نظام کا قیام، شریعت کے مطابق زندگی، معاشی خوشحالی یا جمہوری نظام۔۔۔ان تینوں حوالوں سے ذرا آپ پاکستان کا آج،مطالعہ کر لیں۔ یہاں شریعت کتنی ہے؟ قرآن و سنت کتنا ہے؟ معیشت کتنی خوشحال ہے؟ ہماری جمہوریت کا کیا حشر کر دیا ہے؟ کون سا مقصد ہے جو پاکستان کے کسی ایک شہری کا مکمل ہوا ہو؟قرآن و سنت کے طلبگار، وہ بھی محرومیت کا اظہار کر رہے ہیں۔ معیشت کی بات کرنے والے، وہ بھی محرومیت کا شکار ہیں۔ اور جمہوریت کی بات کرنے والے، وہ بھی مایوس بیٹھے ہوئے ہیں۔ اب اس ملک کے وجود کی اگر نفی ہوئی ہے تو تمہارے رویوں نے کی ہے۔ سیاسیات تو ایک بڑا وسیع میدان ہے، بڑا توسع ہے اس میدان میں۔۔ ہمیں کہا جاتا ہے کہ مولوی صاحب! اب قرآن و سنت کی باتیں چھوڑو۔ اب قرآن و سنت کی بات کرنے والے اور مذہب کی بات کرنے والے کی ملک کی سیاست میں کوئی گنجائش نہیں۔ ہم نے اگر ملک کی سیاست میں گنجائش پیدا کی ہے تو اس میں تمہارا کیا کردار ہے؟ یہ مقام بھی ہمارے ان نوجوانوں اور کارکنوں نے اپنی قربانیوں سے حاصل کیا ہے۔ اور مت سوچے کوئی کہ وہ ہمارے لیے دنیا تنگ کر دیں گے، ہمارے لیے گنجائش تنگ کر دیں گے۔ میں انہیں کہنا چاہتا ہوں کہ اپنے لیے گنجائش تنگ کر رہے ہو۔ ہم نظریاتی لوگ ہیں اور اپنے نظریات کے لیے ایک تاریخ رکھتے ہیں۔ دو سو سالہ تاریخ ہماری پشت پر ہے، تمہاری پشت پر کیا ہے؟ انگریز کی غلامی، خوشامد، ان کے گھوڑوں کے خرخرے، اور اس کے بدلے میں جاگیریں حاصل کرنا اور بڑے بڑے جاگیردار بن جانا یہ تمہاری تاریخ ہے۔ اور قربانیاں دینا ہماری تاریخ ہے، تم کس چیز میں ہمارا مقابلہ کر سکتے ہو؟ تو جنابِ رسول اللہ ﷺ کے دین کی سربلندی کے لیے میدان میں اترنا، یہ ہمارا مشن ہے۔ یہ مدرسے، یہ مولویوں کے مشین نہیں ہیں، یہ بذاتِ خود ایک مشن ہے۔ اور مولوی کا کام کیا ہے؟ یا امت کی امامت کرنا، یا لوگوں کے جنازے پڑھانا۔ ہمیں قوم کی امامت کرنے کا طریقہ بھی آتا ہے اور تمہارے جنازے پڑھنے کا طریقہ بھی آتا ہے۔ تو ملک کے مقاصد کو ذرا سمجھنا ہے۔ آزادی کے جشن منائیں، لیکن جشن کی آڑ میں ملک کے بنیادی مقاصد سے آنکھیں چرانا، آنکھیں بند کرنا۔۔۔یہ نہیں ہوگا، ان شاء اللہ۔ امیر جےیوآئی مولانا فضل الرحمٰن کا اسلام آباد میں خطاب

Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan

11,771 Aufrufe • vor 1 Monat

مولانا اسحاق بیان کر رہے ہیں کہ اصحاب رسول کی سنت ہے کہ وہ اپنا نسب اسلام بتاتے تھے۔ حضرت سلمان فارسی سے کسی نے پوچھا آپ کا نسب کیا ہے تو انہوں نے کہا سلمان ابن اسلام۔ بلال حبشی جب مسلمان ہوئے تو عمر فاروق جیسے خلیفہ نے انہیں سیدنا بلال کہا۔ مسلمان کی شناخت قوم نہیں بلکہ اسلام ہے۔ مصور پاکستان علامہ اقبال نے اسی لیے کہا تھا یوں تو سید بھی ہو مرزا بھی ہو افغان بھی ہو تم سبھی کچھ ہو بتاؤ تو مسلمان بھی ہو اس کے بعد مسلمانان برصغیر نے اپنی قوموں کو پس پشت ڈالا اور نعرہ لگایا پاکستان کا مطلب کیا لا الہ ال اللہ۔ اس نعرے نے پھر ایسا جادو کیا کہ اللہ کریم نے ہمیں پاکستان جیسا تحفہ دیا۔ آج پھر ہمارا دشمن ہمیں بلوچ، پٹھان، سندھی، پنجابی، گلگتی اور کشمیری کے نعرے سیکھا رہا ہے۔ کہیں دشمن کے آلہ کار پشتون کارڈ کھیل کر اور جرگے منعقد کر کے افغانسان سے محبت کا اظہار کر رہے ہیں، کہیں بلوچ قوم کا نعرا مار کر غیر بلوچ مزدوروں کو قتل کیا جا رہا ہے اور کہیں نام نہاد کشمیری سردار ابراہیم اور سردار عبدالقیوم جیسے قائدان ملت کو گالیاں بک کر کشمیریت کو ہوا دے رہے ہیں۔ یہ جان لو بقا پنجابی، پٹھان اور کشمیریت وغیرہ میں نہیں، ہماری بقا پاکستان میں ہے کیونکہ پاکستان اسلام کا قلعہ اور ہم اس کے محافظ ہیں پاکستان ہمیشہ زندہ باد

Eagle Eye

21,412 Aufrufe • vor 2 Monaten

جو جھوٹ بول رہے ہیں کہ قاسم خان/سلیمان خان نے پاکستان کے GSP+ سٹیٹس کو ختم کرنے کی بات نہیں کی، ان پاکستان کے دشمنوں کو پتہ ہونا چاہئیے کہ جس فورم پر گفتگو کی گئی وہاں کوئی بچے نہیں بیٹھے ہوئے تھے کہ آپ بلاواسطہ بھی ذکر کریں پاکستان کے GSP+ سٹیٹس کا اور آپ کی اشاروں کنایوں میں کی گئی پاکستان مخالف بات کو کوئی سمجھ نہ سکے۔ پاکستان کے سٹیٹس کو mention کرنے کا مقصد ہی اس بات کی طرف اشارہ کرنا تھا۔ یہ backhanded approach ہوتی ہے جس میں براہ راست نہ کہہ کر بھی اپنا مدعا بیان کر دیا جائے۔ افسوس کہ وہ بچے جو آج تک غیرمتنازعہ تھے، اب متنازعہ اور سیاسی بن چکے ہیں۔ کسی کے سیاسی اور پاکستان مخالف مقاصد کے ہاتھوں استعمال ہو گئے۔ والد سے گفتگو میں تو عمران خان نے بتایا کہ ان کی صحت بہتر ہو رہی ہے آنکھ ٹھیک ہو رہی ہے سو یہ تو اس بات کا ثبوت ہے کہ عمران خان کو جیل میں ہر قسم کے انسانی حقوق عام قیدیوں سے بڑھ کر میسر ہیں۔ میں یہ بھی سمجھتی ہوں کہ وزیر اطلاعات عطااللہ تارڑ Attaullah Tarar کو ان 20/25 سال کے "چھوکروں" کی اس پاکستان مخالف حرکت بارے پریس کانفرنس کرنے کی ضرورت نہیں تھی، یہ اتنے اھم نہیں کہ ریاست کا مرکزی وزیر ان کو جواب دے؛ پاکستان الحمدللہ ان 20/25 سال کے "چھوکروں" کی اس حرکت سے بہت زیادہ بلند،مضبوط اور باوقار ہے۔ یہ کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔ ہاں اپنا ہی تشخص ضرور بگاڑ لیا۔ پاکستان مخالف دشمنوں کو تکلیف ہی اس بات کی ہے کہ اس ملک کو اس قدر عزت، پذیرائی اور عالمی وقار کیوں حاصل ہو رہا ہے اور وہ بھی فیلڈ مارشل حافظ سید عاصم منیر کے دور میں ۔۔۔۔۔ لیکن ایک پلان ان کا ہے اور ایک پلان اللہ کا ہے ۔۔۔ اور غالب پلان تو اللہ ہی کا ہے ✌️💯💥🇵🇰 آج صبح جی ٹی وی GTV پر میرا تجزیہ ۔۔۔ 👇 👇 👇

Gharidah Farooqi (T.I.)

30,993 Aufrufe • vor 6 Monaten

حافظ سید عاصم منیر پر اللہ کی خاص رحمت ہے۔یہ اللہ کا خاص بندہ ہے۔ آپ یہ ویڈیو دیکھ کہ چند سیکنڈز میں "سید" نے اللہ کے نام کا"ورد"کتنی بار کیا ہے۔ جو شخص اس حد تک اللہ کا نام لے۔۔اللہ اس سے کیوں نا راضی ہو۔ سید کہتا ہے۔۔ ہماری فوج اللہ کی فوج ہے،ہم اللہ کے نام پر لڑتے ہیں، بھارت کے خلاف اللہ نے سربلند کیا۔ اللہ کا خاص کرم ہے کہ اللہ نے دشمن کو دھول چٹائی ہے، مسلمان جب اللہ پر بھروسہ کرتا ہے تو اس کی پھینکی ہوئی مٹی بھی میزائل بن جاتی ہے۔ اللہ پر بھروسہ ضروری ہے۔ میں اللہ کے حکم اور اس کے فرمان کے مطابق اپنے فرائض سرانجام دیتا ہوں۔ جو شخص اللہ کو اس حد تک یاد رکھتا ہو۔۔اللہ اس کو کیسے بھول سکتا ہے۔ بدبخت ہیں وہ لوگ جو اس اللہ کے بندے کے خلاف بہتان باندھتے اور غلاظت بکتے ہیں وہ ایک غلیظ انسان(نیازی) کے لیے اپنی آخرت تباہ کر رہے ہیں اگر تم لوگوں کے دل میں زرا سا اللہ کا خوف ہے اور آخرت کی فکر ہے تو اس شخص کے راستے سے ہٹ جاو۔ (اسد آر چوہدری)

Asad R Chaudhry

13,241 Aufrufe • vor 10 Monaten

ہم صرف سندھ کی بات نہیں کر رہے، ہم پورے پاکستان کی بات کرتے ہیں،ہم نے ایک نئے زاویے کے ساتھ سوچنا ہے،میں آپ کے ضمیر کو جھنجھوڑنے کے لیے آیا ہوں،آج وقت آگیا ہے کہ اپنے ملک کی اصلاح کو ٹھیک کریں،ملک کو اسلامی شناخت دینی ہوگی یہاں پر نہ انسانی حقوق کا تحفظ ہے اور نہ ہی یہاں انسان کی جان، عزت و آبرو محفوظ ہے،کہا جاتا ہے کہ مولوی بھی اقتدار اور کرسی کی جنگ لڑ رہا ہے لیکن سنو اقتدار اور کرسی کی جنگ تو تم لڑ رہے ہو کرسی تک پہنچنا یہ تمہاری زندگی کا مقصد ہے،ہماری منزل اس سے بھی آگے ہے،نوجوان نسل کو گمراہ کیا گیا، بے حیائی اور عریانی کو نوجوان نسل کی زندگی کا حصہ بنایا، یہاں پر اپنی سیاست کے لیے اسرائیل کے موساد اور ہندوستان کے را سمیت امریکہ اور یورپ سے پیسا لے کر کہتے رہے کہ ہم پاکستان بنا رہے ہیں، حالانکہ وہ تو اپنے آقاؤں کا ایجنڈا پورا کر رہا تھا،مجھے افسوس ہے جس نے ہماری نوجوان نسل کو تباہ و برباد کردیا،ملک کو آگے جانے سے روک دیا گیا۔ سندھ کے لوگوں نے ہمیشہ محبتیں دی ہیں، سندھ پاکستان کا حصہ ہے اور رہے گا انشااللہ، انتخابات ہوں گے، کتاب پر ٹھپہ لگے گا،اللہ تعالی جمیعت علماء اسلام اور ہمارے اتحادیوں کو کامیاب کرے گا۔ انشاءاللہ

Maulana Fazl-ur-Rehman

75,603 Aufrufe • vor 2 Jahren

آج ان چار صوبوں کو توڑ کر ٹکڑوں میں تقسیم کیا جا رہا ہے،جب فوج کی حکومت تھی انہی چار صوبوں کو ایک صوبہ مغربی پاکستان بنا کر ون یونٹ لگا دیا تھا،وہ بھی ہماری فوج کی سوچ تھی اور آج صوبوں کو توڑ کر تقسیم کرنا بھی اسی فوج کی سوچ ہے،خواہ مخواہ ایک "کاکے" کو آگے کردیا ہے۔ جب چاہیں پورے مغربی پاکستان کو ایک صوبہ بنا دیں اور جب چاہیں چار صوبوں کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیں، جہاں ہر فیصلے کے پیچھے اسٹیبلشمنٹ کے اپنے عزائم ہوں وہاں کوئی قومی مفاد نہیں ہوتا۔ ہم نے اس ملک میں رہنا ہے تو خیرخواہی کی بنیاد پر اپنے ضمیر کی بات کرتے ہیں،ہم اپنی بھلائی اسی میں دیکھتے ہیں اور آپ کی بھی خیرخواہی اسی میں دیکھتے ہیں،مگر ان کا مزاج بن گیا ہے کہ ان کو خوشامدگروں کی زبان اچھی لگتی ہے۔ لیکن ہم ملک کو اسٹیبلشمنٹ کی ملکیت نہیں مانتے،یہ ملک ہمارا ہے،ہم اس کے شہری ہیں،اور ریاست عوام کے بغیر کچھ نہیں ہے۔ ہم اصولاً کسی یونٹ بنانے کے خلاف نہیں،دوسرے ملکوں میں بھی یونٹس بنتے ہیں لیکن وقت اور ماحول کو بھی دیکھنا چاہئے۔ ہم نے فاٹا کو صوبے میں انضمام کے وقت بھی کہا تھا یہ فاٹا کے عوام کے سیاسی مستقبل کا مسئلہ ہے، لہٰذا فاٹا کے عوام سے پوچھ لیا جائے لیکن آپ نے ان پر انضمام تھوپ دیا، آج اس کا کیا حشر ہے؟ اس وقت باجوہ صاحب تھے، جو مجھے کہتے تھے کہ آپ کیوں اس کی مخالفت کرتے ہیں؟ یہ تو ہمارے لیے ضروری ہے اور جب میں نے ان کو جوابات دئے تو چند روز کے بعد مجھے ایک امریکی افسر گھر آ کر ملا، اور اس نے کہا کہ آپ کیوں فاٹا انضمام کی مخالفت کرتے ہیں؟ یہ تو ضروری اور لازمی ہے۔ آج ہمارا جنرل خود مجھے کہتا ہے کہ فاٹا انضمام کا فیصلہ غلط تھا۔ جب چاہو لوگوں کے سیاسی مستقبل کو داؤ پر لگا دو اور پھر جب چاہو طریقہ بدل دو، آپ کا فیصلہ جو آج ناگزیر ہے،کل آپ کا وہ فیصلہ غلط ثابت ہوتا ہے،کسی ایک فیصلے کی مثال بھی نہیں ملتی جس کے نتائج قوم کی حفاظت میں سامنے آئے ہوں۔ یہ وہ ساری چیزیں ہیں جس پر ڈیبیٹ ہونی چاہئے یک طرفہ فیصلہ مسلط نہ کریں،یہ عوام کا ملک ہے، یہاں عوام نے رہنا ہے،عوام کا مستقبل اس سے وابستہ ہے۔ صوبوں کی تقسیم کے پیچھے کیا مفادات ہیں؟ نمبر ایک، صوبوں کے اندر جو معدنی ذخائر ہیں، آئین کی اٹھارویں ترمیم کے تحت صوبے اس کے مالک ہیں، صوبوں کے بچے اس کے مالک ہیں، اور یہ چیز انہیں مرکز میں ہضم نہیں ہو رہی ہے۔ دوسری چیز کہ این ایف سی ایوارڈ، قومی محصولات کا جو حصہ صوبوں کو ملتا ہے، وہ اب ستاون فیصد تک پہنچ گیا ہے، اور آئین کہتا ہے کہ اضافہ ہو سکتا ہے، کم ہی نہیں ہو سکتا،یہ بھی ان کو ہضم نہیں ہو رہا۔ اب صوبے تقسیم کرو تاکہ یہ لوگ ازسرِنو معدنیات اور این ایف سی ایوارڈ کے فیصلے پھر سے کریں۔ ہم صوبوں کو طاقتور دیکھنا چاہتے ہیں اور یہ لوگ سب کو کمزور کرنا چاہتے ہیں اس حوالے سے سیاسی جماعتوں کو بھی اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ پیپلز پارٹی بات تو کرتی ہے، لیکن وہ صرف سندھ کی حد تک کرتی ہے۔اصولی طور پر بات کریں۔ مسلم لیگ خاموشی اختیار کیے ہوئے ہے، مرکز میں حکومت مسلم لیگ نون کی ہے، اور اتنے بڑے قومی سطح کے معاملات کاکے کے حوالے ہیں جس کی حیثیت ایک ذاتی ملازم سے ذیادہ اہم نہیں ہے،وہ کابینہ کا ممبر ہے۔ اسلام آباد ٹیریٹری کے لیے دو کمیٹیاں بنی ہوئی ہیں۔ ایک کمیٹی میں بھی کاکا جی، دوسرے میں بھی کاکا جی، ایک کی رپورٹ کچھ، دوسری کی رپورٹ کچھ اس میں تضادات ہیں تو پاکستان ہم ان کے حوالے نہیں کرسکتے، یہ قوم کی چیز ہے، قوم کی امانت ہے اسکا فیصلہ بھی عوام نے کرنا ہے۔

Maulana Fazl-ur-Rehman

34,036 Aufrufe • vor 1 Monat

آج سے ٹھیک 44 سال پہلے، فروری 1982 میں، اسرائیل کے ایک عبرانی جریدے "کیوونیم" میں ایک مقالہ شائع ہوا تھا۔ لکھنے والا کوئی عام آدمی نہیں تھا، بلکہ اسرائیل کی وزارتِ خارجہ کا ایک سابق سینیئر اہلکار اور سٹریٹجک تجزیہ کار تھا۔ اس کا نام تھا اووڈ نیون (Oded Yinon)۔ اس مقالے کا عنوان تھا: "1980 کی دہائی میں اسرائیل کے لیے ایک حکمتِ عملی"۔ دنیا آج اسے "ینون پلان" کے نام سے جانتی ہے۔ اس منصوبے کا لبِ لباب صرف ایک تھا: "اگر اسرائیل کو مشرقِ وسطیٰ پر ہمیشہ کے لیے حکمرانی کرنی ہے، تو اسے اپنے اردگرد موجود تمام عرب ممالک کو نسلی، لسانی اور مسلکی بنیادوں پر ٹکڑے ٹکڑے کرنا ہو گا تاکہ 'گریٹر اسرائیل' کا خواب پورا ہو سکے" ۔اووڈ نیون کا استدلال بڑا سادہ لیکن ہولناک تھا۔ اس کا کہنا تھا کہ پہلی جنگِ عظیم کے بعد برطانیہ اور فرانس نے "سائکس-پیکو معاہدے" کے تحت جو عرب دنیا بنائی، وہ ریت کی دیوار ہے۔ یہ ممالک اندر سے کھوکھلے ہیں کیونکہ ان میں مختلف مسالک، نسلیں اور قومیتیں زبردستی ایک سرحد کے اندر بند کر دی گئی ہیں۔ نیون نے لکھا کہ اسرائیل کا اصل ہدف یہ ہونا چاہیے کہ وہ ان اندرونی دراڑوں کو اتنی ہوا دے کہ یہ ممالک خود اپنے ہی اندرونی خلفشار سے تباہ ہو جائیں۔اس نے باقاعدہ ایک ایک ملک کا نام لے کر خاکہ پیش کیا۔ اس نے لکھا کہ عراق اسرائیل کے لیے سب سے بڑا فوجی خطرہ ہے، لہٰذا اس کے تین ٹکڑے کر دیے جائیں: شمال میں کُردوں کی الگ ریاست، وسط میں سنیوں کا علاقہ، اور جنوب میں شیعہ ریاست۔ اس نے لکھا کہ شام کو اس کی علوی، دروز اور سنی آبادی کی بنیاد پر چھوٹی چھوٹی کمزور ریاستوں میں بانٹ دیا جائے۔ اس نے لبنان کے بکھراؤ کی بات کی اور مصر کی معیشت کو اس حد تک توڑنے کی تجویز دی کہ وہ کبھی جزیرہ نما سینا پر اپنا حق نہ جتا سکے۔ آج 2026 میں، اگر ہم مشرقِ وسطیٰ کے نقشے پر نظر ڈالیں، تو کلیجہ منہ کو آتا ہے۔ اووڈ نیون نے 1982 میں جو کچھ کاغذ پر لکھا تھا، وہ آج ہمارے سامنے حقیقت بن کر ناچ رہا ہے۔ صدام حسین کا وہ طاقتور عراق کہاں گیا؟ آج وہ عملی طور پر تین حصوں میں بٹ چکا ہے۔ شام کا کیا حشر ہوا؟ پچھلے پندرہ سالوں سے جاری خانہ جنگی نے شام کو کھنڈر بنا دیا اور وہاں مختلف نسلی گروہ اپنی اپنی بقا کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ لیبیا، یمن اور لبنان کی صورتحال دیکھ لیں۔ کیا یہ سب کچھ اتفاقیہ ہے؟ جی نہیں! یہ اسی ینون پلان کی حرف بہ حرف تعمیل ہے جس پر مغربی طاقتوں اور اسرائیل نے مل کر کام کیا۔ عرب دنیا کا سب سے بڑا المیہ یہ رہا کہ انہوں نے کبھی اپنے دشمن کی سوچ کو پڑھنے کی زحمت ہی نہیں کی ۔ جب اسرائیل کے معروف دانشور اسرائیل شاہاک نے اس منصوبے کا انگریزی ترجمہ کر کے دنیا کے سامنے رکھا، تو عرب حکمرانوں نے اسے محض ایک "خیالی پلاؤ" کہہ کر مسترد کر دیا آج عرب دنیا کی آپسی نااتفاقی اس بات کا ثبوت ہے کہ دشمن اپنی سٹریٹجی میں کامیاب ہو چکا ہے۔ انہوں نے مسلمانوں کو مسلمانوں سے لڑا کر، شیعہ سنی کی خلیج کو وسیع کر کے، اور نسلی تعصبات کو ابھار کر پورا خطہ بارود کے ڈھیر میں تبدیل کر دیا۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر اسرائیل کی سٹریٹجی کو ناکام کرنے اور عرب دنیا کو متحد کرنے کی بھرپور کوشش کر رہا یہی وجہ ہے کہ یہودیوں کے لیے کانٹا ہے

حِجاب رندھاوا H.R

36,140 Aufrufe • vor 19 Tagen

اسلام آباد: جمعیت علماء اسلام پاکستان کے مرکزی رہنما اور سینیٹر کامران مرتضیٰ نے پارلیمنٹ کے اجلاس میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ آج کا دن بلاشبہ تاریخی ہے، لیکن بدقسمتی سے یہ دن منفی معنوں میں تاریخ کا حصہ بنے گا۔ انہوں نے کہا کہ تاریخ میں کچھ دن فخر اور کامیابی کے طور پر یاد کیے جاتے ہیں، اور کچھ دن ایسے ہوتے ہیں جنہیں یاد کر کے قوم کو افسوس ہوتا ہے۔ “آج کا دن بھی ان ہی دکھ اور تکلیف والے دنوں میں شمار ہوگا۔” سینیٹر کامران مرتضیٰ نے کہا کہ امریکہ کی تین سو سالہ تاریخ میں صرف پچیس ترامیم ہوئیں، لیکن پاکستان میں محض تیرہ مہینے کے دوران دوسری آئینی ترمیم پیش کی جا رہی ہے۔ “چھبیسویں ترمیم طویل سیاسی گفت و شنید، مشاورت اور اتفاقِ رائے کے بعد منظور کی گئی تھی۔ اس عمل میں پاکستان پیپلز پارٹی، مسلم لیگ (ن) اور جمعیت علماء اسلام سب شریک تھے۔ مگر آج ہم صرف تیرہ مہینے بعد اسی ترمیم کو ریورس کرنے جا رہے ہیں، جو افسوسناک اور تشویشناک ہے۔” انہوں نے کہا کہ چھبیسویں ترمیم جمہوری ڈائیلاگ کا نتیجہ تھی، مگر ستائیسویں ترمیم اکثریت کے زور پر لائی جا رہی ہے۔ “یہ طرزِ عمل سیاسی شرافت کے منافی ہے۔ جب ہم نے چھ ہفتوں کی مشاورت کے بعد اتفاقِ رائے سے ترمیم منظور کی، تو یقین تھا کہ یہ پائیدار پیش رفت ہے۔ لیکن آج ایک گھنٹے کی کارروائی میں وہ تمام محنت اور اعتماد ختم کر دیا گیا۔” انہوں نے کہا کہ جے یو آئی پاکستان اب اس سیاسی دھوکے کے بعد اپنے لائحہ عمل کا ازسرِ نو جائزہ لے گی۔ “ہم پر جو وعدہ خلافی کی گئی ہے، اس کے بعد پارٹی فیصلہ کرے گی کہ کیا ہم اب بھی چھبیسویں ترمیم کو اون کر سکتے ہیں یا نہیں۔” سینیٹر کامران مرتضیٰ نے کہا کہ آئین کو شخصیات کے لیے نہیں بلکہ نسلوں کے لیے بنایا جاتا ہے، مگر افسوس کہ آج دستور کو شخصیات کے تابع کیا جا رہا ہے۔ “یہ دن تاریخ میں ہمیشہ منفی حوالوں سے یاد رکھا جائے گا، کیونکہ آج جمہوری اقدار، آئینی شرافت اور باہمی اعتماد کو شدید نقصان پہنچایا گیا ہے۔” آخر میں انہوں نے کہا کہ اس طرزِ عمل کے بعد 1973ء کے آئین کا جو کریڈٹ پاکستان پیپلز پارٹی کو حاصل تھا، وہ بھی اب برقرار نہیں رہا۔ “آج کا یہ دن سیاسی و آئینی لحاظ سے قوم کے لیے دکھ بھرا دن ہے۔”

Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan

15,588 Aufrufe • vor 11 Monaten

"میں سب سے پہلے اپنے وزیراعلی سے ایک شکوہ ضرور کروں گا کہ وہ کل میرے علاقے دیر تشریف لائے حالانکہ سوات میں ان کا کوئی معمولی سا دورہ تھا جس کے لیے وہ گئے تھے لیکن پھر شاید کوئی یہ بات ان کے علم میں لایا ہو گا کہ دیر میں اس طرح کا واقعہ ہوا ہے۔ ہم مہمان نواز لوگ ہیں، ہماری دہلیز پر اگر کوئی دشمن بھی چل کر آئے تو ہم اسے خوش آمدید کہتے ہیں، یہ تو ہمارے اپنے وزیراعلیٰ ہیں۔ لیکن جس طریقے سے وہ آئے اور جس طریقے سے وہ گئے، میرے خیال میں یہ دیر کے ان غیرت مند لوگوں کی ایک قسم کی توہین ہے۔ اور توہین اس بنیاد پر ہے کہ اس وقت ہسپتالوں میں تین شہداء اور دیگر لوگ پڑے تھے۔ میڈیا نے بھی دیکھا، کچھ لوگوں اور ان پولیس والوں نے جو وزیراعلیٰ سے فریاد اور شکایتیں کر رہے تھے، آپ نے بھی سنا ہو گا۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ چونکہ وہ صوبے کے چیف ایگزیکٹو ہیں۔ آپ دیر آ رہے ہیں، سیکیورٹی کی اتنی بڑی خلاف ورزی ہوئی ہے۔ آپ کور کمانڈر کو، آئی جی خیبر پختونخوا کو، یہاں کے قانون نافذ کرنے والے اداروں اور تمام متعلقہ انتظامیہ کو بلاتے اور میٹنگ کرتے۔ میٹنگ میں دیر کے عمائدین کو بلاتے، سیاسی پارٹیوں کو بلاتے، اور سوال کرتے، کسی کو جوابدہ بناتے۔ یہ کس طرح کا دورہ تھا کہ آپ آئے اور واپس چلے گئے اور نہ کسی سے سوال ہوا نہ کسی سے جواب طلب کیا گیا؟ کیا دیر کی ماؤں نے بیٹے اس لیے جنم دیئے ہیں کہ وہ اس طرح کی ایک سنسان جنگ میں مارے جائیں گے اور کوئی اس پر سوال بھی نہیں اٹھائے گا، کوئی اعتراض بھی نہیں کرے گا؟ اور مجھے تحریک انصاف کے اپنے کارکنوں سے بھی گلہ ہے کہ وزیراعلیٰ کا جس طرح انہوں نے استقبال کیا اور ہسپتال کے اندر نعرے بازی کر رہے تھے، کیا وہ ادھر کوئی فتح کا جشن منانے آئے تھے؟ ہمیں ان رویوں کو تبدیل کرنا ہو گا۔ دیر ہمارا وطن ہے، یہ سیاست پیچھے ہے، دیر کی غیرت اور ناموس آگے ہے۔ ترجمان تحریک تحفظ آئین پاکستان اخونزادہ حسین احمد یوسفزئی

Tehreek-e-Tahafuz-e-Ayin-e-Pakistan

12,370 Aufrufe • vor 2 Monaten

امیر جےیوآئی مولانا فضل الرحمٰن کی اسلام آباد میں پریس کانفرنس حکومت اور حکومت میں شامل جماعتیں خاموش ہیں، اس کا ایک فرد بول رہا ہے، وہ ہوتا کون ہے؟ ملک کے اندر اس کی حیثیت کیا ہے، اس کی پہچان کیا ہے؟ وہ جس کے گھر کا نوکر ہے، اس کی نوکری کرے، ان کے برتن دھوئے، کپڑے دھوئے، ان کی یہی ڈیوٹی ہے۔ ملک کے مسائل سے اس کا کوئی سروکار نہیں۔ اتنے بے بس ہم بھی نہیں ہیں کہ آپ ملک کے ساتھ کھیلتے رہیں اور ہم تماشا دیکھتے رہیں۔ اگر حالات نہیں ہیں، نئے مسائل اور ایشوز کا پاکستان متحمل نہیں ہے، تو پھر ہم بھی پاکستانی ہیں۔ ہم آپ کو پاکستان کا مالک تصور نہیں کرتے۔ حد سے آگے بڑھیں گے تو پھر اور لوگ بھی حد سے آگے بڑھیں گے۔ شکر کرو کہ ابھی ملک آپ کے ساتھ ہے، عوام پاکستان کے ساتھ ہیں، مذہبی جماعتیں پاکستان کے ساتھ ہیں، سیاسی جماعتیں پاکستان کے ساتھ ہیں۔ ہم نے ایران اور امریکہ کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کیا، ہم نے اس سے اختلاف نہیں کیا، لیکن قوم کو نتائج تو بتائے جائیں ناں کہ اس کردار کا کیا نتیجہ نکلا؟ آج سعودی عرب پر گولے برسائے جا رہے ہیں، حرمین شریفین کی طرف راکٹوں کے رخ کر دیئے گئے ہیں، اور کچھ پتہ نہیں کہ یہ جو ثالثی کا کردار تھا، خطے میں قیامِ امن کے لیے ایک کوشش تھی، اصولی طور پر ہم نے اس سے اختلاف نہیں کیا۔ لیکن قوم کو بتایا تو جائے، اور میں نے کئی بار اس بات کا ذکر کیا ہے کہ پارلیمنٹ کا اِن کیمرہ اجلاس بلا کر قوم کے نمائندوں کو بتایا جائے کہ ملک کہاں کھڑا ہے۔ کوئی جواب نہیں دیا جا رہا۔مولانا فضل الرحمن

Fahim Akhtar Malik

11,304 Aufrufe • vor 18 Tagen