Video yükleniyor...

Video Yüklenemedi

Ana Sayfaya Dön

شروع اللہ کے نام سے جو زندگی لینے والا اور دینے والا ہے - ✍️ ہم آج بھی کہتے ہیں اقوام متحدہ ہی اصل میسن ہے ۔میسن ختم نہیں ہوئی جدت کے ساتھ ساتھ اس نے اپنے نام اپنی شکل اور اپنے ڈھانچہ کو بدل لیا ہے ۔ اب...

11,675 görüntüleme • 1 yıl önce •via X (Twitter)

0 Yorum

Yorum bulunmuyor

Orijinal gönderinin yorumları burada görünecek

Benzer Videolar

پی ٹی آئی میں جو کچھ ہو رہا ہے خان کو بائی پاس کر کے کیا جا رہا ہے ،ورکروں کو خان کی رہائی اہم بنانی ہوگی ،ورنہ یو این او روپ میں لوگ ائے ہیں جو لے جائیں گے ،خان سے کسی وکیل کی ملاقات نہیں ہوئی ،باہر نکلیے اور احتجاج کیجے اس کے علاوہ کوئی راستہ نہیں ہے ،ہربات میں وکیل جھوٹ بول رہے ہیں ✍️ مسٹر چیف آپ پارٹیوں کو ادھر ادھر مصروف کر کے ایسا نہیں کرسکتے قوم کو بتایا جائے رجیم چینج کا دوسرا پارٹ شروع ہونے کو ہے ، ✍️دو قافلے شاہراہ فیصل سے ہوتے ہوئے بلوچستان میں داخل ہوئے ہیں اترے ہیں st4.483🪐st.0927🪐کس جگہ ؟ دو اور بحری جہاز آج لنگر انداز ہو رہے ہیں ۔تحقیات کے پتہ چلا ہے نہ تو یہ پاکستان سے باہر جارہے ہیں ،نہ یہ پاکستان میں تیار ہو کر باہر جا رہے ہیں،ایسا ہی ایک قافلہ پاکستان میں ہمیشہ رہا ہے چین کی تنصیاب کی حفاظت کے لیے دو سے تین ڈیوژنُ فورسز حفاظت میں ناکام رہی ہیں ،چین نے پیغام محبت بھیجا ہے حاضری لگوائیں ۔اگر تو افغانستان جا رہے ہیں پاکستان کی زمین کیوں استعمال کی ؟ اگر یہ ریکھوڈک اور معدنیات پر پہرہ دینے ا رہے ہیں پاکستان نے اجازت کیسے دی وہ بھی حکومت کو بائی پاس کرتے ہوئے ،اگر پاکستان نے اپنی زمین اور معدنیات بیچی ہیں تو کس کی اجازت سے اور کس کی اجازت سے یو این او کے روپ میں ائے ہیں ؟ ہم کسی صورت شام لیبیا نہیں بنے دیں گے 🥷🏼 انڈیا نے کراچی سے دور سمندر کے دو حصوں پر قبضہ کر لیا ہے ،پاکستان ابھی تک ناکام رہا ہے اپنے نیوی کا سامان اور لوگ چھڑوانے میںُ یہ ٹویٹ پبلک نہیں ناک لگاتی ہے 🪐🥷🏼👣st4.6792تین ناک دیکھتی رہی ہے 🪐گ🪐🌚سائیکل لال 👁️👁️🥷🏼وہ ننگا نہیں چلا ✍️🛢️🚠🪐کیا ہم شیطان ہوئے 🪐👁️🥷🏼🪐ہم ننگے نہیں نہائے 🪐🌑🌑🎛️میدان 🪐👁️سٹ۴۶۰۷۵🪐وہ الٹا ہے 👁️🌑🪐🥷🏼st۸۰۸۹۶دنیا دس بارہ رنگی👖🌎🎛️پیلا 👁️🥷🏼👁️مالٹا 🪐🛢️🪐دن 🪐🚠👁️🥷🏼ہم الٹا نہیں چلے 🥷🏼🌚👣st۶۰۱۴۶🪐🥷🏼st۸۰۹۸۷🥷🏼🥷🏼👣st۲۷۸۰/۵ہم لڑے 🪐👣🥷🏼🚠🪐st۴/۶۷۲🪐🪐st90£"&🥷🏼🥷🏼hst5685st۳۰۲۸

SAGA in Field

103,817 görüntüleme • 2 yıl önce

میرے خیال میں اب صورت حال وہ نہیں ہے اب امریکہ سپر طاقت نہیں رہا ہے، وہ اپنا ایک بھرم رکھنے کے لئے یہ سارا کچھ کر رہا ہے، بلکہ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ شاید ٹرمپ اپنے ذاتی دفاع کیلئے یہ سب کچھ کر رہا ہے، امریکہ کی دفاع کیلئے بھی نہیں کر رہا اور وہاں پر اس وقت امریکہ کی عوامی تائید بھی اس وقت حاصل نہیں ہے، بڑا سوال یہ ہے کہ جس شخص نے الیکشن لڑا کہ دنیا سے جنگ ختم کروں گا اس نے اقتدار میں آ کر دنیا پر جنگ مسلط کر دی ہے یہ خود امریکیوں کے اور امریکی عوام کے نظر میں بھی ایک سوالیہ نشان ہے۔ سو اس وقت پوری دنیا ازسر نو سوچ رہی ہے اور ظاہر ہے سوویت یونین کی ٹوٹنے کے بعد ہم پہلے سے کہہ رہے ہیں کہ عالمی تبدیلی اور تغیرات آئیں گی سو اس وقت پوری دنیا امریکہ سے لے کر روس تک اور چین تک یہ عالمی تغیرات کی زد میں ہیں اور ہمیں خود بیٹھ کر خود اعتمادی کے ساتھ اپنے مستقبل کو خود تراشنا ہوگا۔ ہمیں یہی سوال ہے کہ اس وقت ثالثی کی باتیں بھی ہو رہی ہیں کیا پاکستان اس پوزیشن میں ہے کہ وہ ثالثی کر سکے اور شہباز شریف جیسے حکمران کے ٹویٹ پر ٹرمپ کا ٹویٹ آنا خود ٹرمپ کی کمزوری اور امریکی پالیسی کی کمزوری کی عکاس ہے۔ سو اس حوالے سے ہمیں سوچنا چاہیے۔ صحافی: کیا ہماری طاقت عکاس نہیں ہے؟ نہیں پاکستان بہرحال محاصرے میں ہے اور سوائے ثالثی کے کردار کے ہمارے پاس اور کون سا راستہ ہے؟ جب تک ہمارے دماغ سے یہ کیڑا نہیں نکلے گا کہ ہم نے افغانستان کو زیر نگیں رکھنا ہے اور افغانستان میں کوئی حکومت وہ ہماری مرضی کے بغیر نہیں چلے گی اس وقت تک معاملات ٹھیک نہیں ہو سکتے، ہمیں ایک آزاد افغانستان ایک صاحب استقلال افغانستان ایک خودمختار افغانستان اس پر توجہ رکھنی چاہیے اور ماضی کے جو ہمارے اس حوالے سے قربانیاں ہیں ان کو کسی ایک کامیاب نتائج تک ہمیں پہنچانا چاہیے۔ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ افغانستان میں سفارتی جو ہماری ستتر یا اٹھتر سالہ کوششیں ہیں وہ اب تک کیوں ناکام ہیں یہ مستقل ایک سوال ہے، یہ کافی نہیں ہے ہم نے بڑی کوشش کی اور افغانی نہیں مانتے اور ہم نے بڑی کوشش کی اور افغانی نہیں مانتے، مسئلہ یہ نہیں ہے، مسئلہ یہ ہے کہ کیوں نہیں مانتے، کیا ساری غلطیاں ستتر سال سے انہی کی طرف ہیں اور کیا ہمارے طرف بلکل کوئی غلطی نہیں ہے، یہ بھی ہمیں قومی سطح پر سوچنا چاہیے، افغانستان صرف حکومت کا نام نہیں ہے، افغانستان صرف وہاں امارت اسلامیہ کا نام نہیں ہے، افغانستان وہاں کے عوام کا بھی نام ہے، افغان قوم کا نام ہے، افغان قوم کے ہمارے ساتھ رشتے ہیں، ہمارے ساتھ ان کے تعلقات ہیں، ہمارے ساتھ ان کی برادریاں شریک ہیں اور ہمارے ساتھ ان کی معاشرت شریک ہے، ان تمام رشتوں کو سامنے رکھتے ہوئے ہمیں افغانستان کے حوالے سے سوچنا چاہیے، یہ ہر وقت رجیم چینج اور رجیم چینج کے باتیں یہ شاید نہ ختم ہونے والا سلسلہ بنے، ہم نے ظاہر شاہ کے خلاف انقلاب کی حمایت کی، پھر اس کے بعد کمیونسٹ انقلاب آیا پھر ہم نے ان کے خلاف جہاد اس وقت ہم امریکہ جب آیا تو ہم بھی شامل ہو گئے، پھر وہی امریکہ تھا اس نے طرف تبدیل کر دیا تو مشرف کے زمانے میں ہم پھر امریکہ کی جنگ لڑ رہے تھے، آج ہم پھر ایک دفعہ امریکہ کی خواہشات کی مطابق، یہ کیسا امریکہ ہے کہ پاکستان کی اگر انڈیا سے لڑائی ہو تو کریڈٹ لیتا ہے کہ میں نے جنگ بند کرا دی اور اگر افغانستان کے ساتھ لڑائی ہو جائے تو کہتے ہیں پاکستان ٹھیک جا رہا ہے اس کو اور کرنا چاہیے۔ تو یہ چیزیں ان کی بدنیتی پر دلالت کرتی ہے اور ہمیں کسی کے ٹریپ میں نہیں آنا چاہیے وہ اب خود ٹریپ میں آ چکے ہیں، پھنسے ہوئے ہیں، مشکلات کے شکار ہیں اور وہ کامیابیاں حاصل نہیں کر پا رہے ہیں، پاکستان کو ہر قدم احتیاط سے اٹھانا چاہیے اور پارلیمنٹ کو اعتماد میں لینا چاہیے۔ دیکھیے سفارت کاریاں حکومتوں کا کام ہے، ریاستوں کا کام ہے، پارٹیوں کا کام نہیں ہوتا ہے، ہم پبلک ٹو پبلک ریلیشنز جو ہیں اس میں مدد دے سکتے ہیں، ہم سب مسلمان ہیں ہم سب بھائی بھائی ہیں ہم ایک دوسرے پر ڈیپنڈ کر رہے ہیں، لیکن عوام کی ضرورتوں اور خواہشات کو مد نظر رکھتے ہوئے ریاستیں فیصلہ کریں، بین الاقوامی قوتوں کے تابع فیصلہ نہ کریں، اپنے ملک کے عوام کے خواہشات اور ان کی ضرورتوں کے تابع فیصلے کریں۔ امیر جےیوآئی مولانا فضل الرحمان کی ڈیرہ اسماعیل خان میں گفتگو

Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan

17,445 görüntüleme • 6 ay önce

ہم جس حال میں خیبر پختونخوا میں حکومت کر رہے ہیں، کوئی ہمیں حکومت کرنے کے لیے چھوڑ بھی نہیں رہا . صوبے کے چیف منسٹر کو اپنے لیڈر سے ملاقات نہیں کرنے دیا جا رہا۔ جیل مینوئل کے مطابق کسی بھی قیدی سے ملاقات کو نہیں روکا جا سکتا۔ جیل مینوئل کے مطابق کسی بھی قیدی سے ملاقات کی جا سکتی ہے۔ عمران خان اس ملک کے وزیر اعظم رہے ہیں اور ایک منتخب چیف منسٹر اس سے ملاقات نہیں کر سکتا۔ کیا پاکستان کسی ضابطے اور اصول پر چلتا ہے نہیں، یہ صرف ڈھنڈے سے چلتا ہے۔ ظلم اور ڈھنڈے کا یہ نظام ہمیں کسی صورت منظور نہیں ہے۔ اس ملک میں اگر ہم نے رہنا ہے تو قانون اور آئین کے تحت رہنا ہے۔ یہ جو ظلم ہو رہا ہے، یہ صرف عمران خان کے ساتھ نہیں ہو رہا، عوام کے ساتھ ہو رہا ہے۔ عوام سے ان کے ووٹ کا حق چھینا گیا، یہ فیصلہ عوام نے نہیں کرنا ہے کہ ہم نے کس کو ووٹ دینا ہے۔ ووٹ ڈالنے والے سے ووٹ گننے والا اہم ہے۔ اگر کسی ممبر عوامی نمائندے کو معلوم ہو کہ اس کے ووٹ کی کوئی اہمیت نہیں، تو کیا وہ آپ کی بات مانے گا۔ عوام کے پاس ووٹ کا حق ہے تو آپ کا نمائندہ آپ کی قدر کرتا ہے۔ ابھی جو ہری پور ضمنی انتخابات میں ہوا ہے، ووٹ کسی اور کو پڑا اور رکن کوئی بن گیا۔ فارم 45 کے مطابق سب کچھ ٹھیک ہے، لیکن کمپیوٹر پر بیٹھا آدمی اپنی مرضی کا ڈیٹا فیڈ کر رہا ہے۔ کس قسم کی عدالت، کس قسم کی الیکشن کمیشن، عدالتوں کو انتظامیہ کے ماتحت کیا گیا ۔

Asad Qaiser

16,009 görüntüleme • 9 ay önce

بلوچ راج! اس ظالم اور جابر ریاست کی سفاکیت اور درندگیاں ہم سب کے سامنے واضع ہیں ہم اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں کہ کیسے بلاجواز اور بلاتفریق ریاست نے ہمارے لیڈراں کو پابندِ سلاسل کیا ہے۔ یہ نوآبادکار اپنے طاقت کے نشے میں اس قدر اندھا ہو چکا ہے کہ اس کے سامنے جنس، عمر اور پیشہ وغیرہ کچھ بھی معنی نہیں رکھتے اگر وہ مارتے یا تشدد کرتے وقت کسی بھی چیز کا خیال رکھتا ہے تو وہ بلوچ شناخت ہے اور بلوچ کو مارنے یا بیگواہ کرنے کے لئے یہی شناخت کافی ہے۔ویسے تو کئی سالوں سے ہم یہ قیامت جھیلتے آ رہے ہیں لیکن اس مختصر دورانیے میں ہم نے ریاست کی بدترین شکل دیکھی ہے کہ اُس نے کیسے ہمارے نہتے مظاہریں پر گولیاں برسائی، آنسو گیس چلائے اور واٹر کینن سے پانی برسائے اور جب سے ہمارے توانا آوازیں ہمارے رہنما سلاخوں کے پیچھے ہیں اُس دن سے ریاست پورے بلوچستان میں اس گھمنڈ کے ساتھ خون کی ہولی کھیل رہی ہے کہ پیچھے کوئی آواز اٹھانے والا نہیں ہے اور ہم بھی نادانستہ طور پر آہستہ آہستہ ریاست کی سفاکیتوں کے سامنے خاموشی کا رواج اپنا رہے ہیں جو کہ ہمارے لئے باعث موت کے سوا اور کچھ نہیں ہے۔ قریب ماضی میں جہان بھی کوئی شخص اٹھایا جاتا یا کسی کو ماورائے عدالت قتل کیا جاتا تو اس کے لواحقین فوراً سراپاء احتجاج ہوتے لیکن حالیہ دنوں میں ریاست ہماری خاموشی کا فاعدہ اٹھاتے ہوئے ہر روز کسی نہ کسی جگہ سے لوگوں کو جبری گمشدگی کا نشانہ بنا رہی ہے اور مسخ شدہ لاشیں پھینک رہی ہے لیکن ہم خاموش ہیں کیوں؟ کیا ہم بالاچ مولابخش کی شہادت کو بھول چُکے ہیں کہ جس سے ایک تحریک وجود میں آئی، اس کی بھی بنیادی اکائی شہید بالاچ کے لواحقین تھے کہ جنہون نے خاموشی کا گلا گھونٹ دے کر ہم سب کو ایک آواز ہونے پر مجبور کیا، آج بھی حالت وہی ہیں آج بھی بالاچ مر رہے ہیں لیکن ہم خاموش ہیں کیا ہم اس خاموشی کو اپنا کر اپنے ہی شہداء کی وارثی سے کترا کر انکا مجرم تو نہیں بن رہے؟ بلوچ راج! ہم بارہا کہتے ہیں کہ بی وائی سی صرف ایک پارٹی نہیں اور نہ ہی اس قیادت تک محدود ہے بی وائی سی پوری قوم ہے وہ قوم جو ریاستی جبر کے سامنے لاشیں اٹھارہی ہے جو اپنے آنکھوں کے سامنے اپنے گھروں کو اجھڑتا دیکھ رہی ہے۔ ہر بلوچ جو اس جبر کو دیکھ رہا ہے اور اس کو محسوس کر رہا ہے اُس پر اتنی ہی زمہ داری عائد ہوتی ہے جتنی کہ بی وائی سی پر ہوتی ہے، تو پھر اس کٹھن حالت میں جہاں ہر طرف موت ہے اور مزاحمت کرکے زندہ رہنے کے علاوہ کوئی دوسرا کسر موجود ہی نہیں تو یہ خاموشی اور بے حسی کیسی؟ کیا ہم خود کو اور اپنے قوم کو اس چیز سے دھوکے میں نہیں ڈال رہے کہ خاموشی سے ہم بچ سکتے ہیں، لیکن ظالم کا ہمشہ سے یہی وطیرہ رہا ہے کہ وہ کبھی بھی اپنے غلام قوم یا زمین پر لوگوں میں تفریق نہیں کرتی۔ تو پھر ہم کیوں اس خوش فہمی میں رہیں؟ #ReleaseBYCLeaders #StopBalochGenocide

Baloch Yakjehti Committee

26,173 görüntüleme • 1 yıl önce

سب سے بڑی غلطی جو عاصم منیر اور حکومت کرتے ہیں وہ یہ غلط فہمی ہے کہ سوشل میڈیا پر کوئی aliens آ کر پوسٹ کرتے ہیں۔ یہاں عوام اپنی رائے دیتی ہے، بس تھوڑا سا طریقہ مختلف ہے ان کی جوانی کے زمانے سے۔ اب کسی ٹی وی پروگرام کی ضرورت نہیں رہی، صرف ایک عدد سمارٹ فون کی ضرورت ہوتی ہے جو آجکل سب کے پاس ہے۔ دوسری بڑی غلطی وہ یہ کرتے ہیں کہ فارم ۴۷ والا طریقہ یہاں بھی چل جائے گا۔ جھوٹ کے پاؤں نہیں ہوتے ، وہ اگر چل بھی جائے تو زیادہ دیر نہیں چلتا۔ قوم کے شعور کا جو عالم ہے اس میں تو جھوٹ، منافقت اور manipulation کی گنجائش ہی نہیں۔ Orya Maqbool Jan نے بلکل ٹھیک کہا (جس کی Imran Riaz Khan نے بھی تائید کی اپنی اس وڈیو میں) کہ حکومت اور عسکری ادارے اربوں روپے خرچ کرکے ، تنخواہ دار لوگوں سے عمران خان کے رضاکار سوشل میڈیا کا مقابلہ نہیں کر سکتے۔ اسی لیے ساڑھے تین سال سے ہار رہے ہیں عمران خان اور عوام سے- سلام ہے پاکستان کے بے لوث سوشل میڈیا ٹائیگرز اور ٹائیگریسز کو۔ ہم سب ایک دوسرے کو نہیں جانتے مگر دل میں ایک دوسرے کی بہت عزت کرتے ہیں، کیونکہ ہمیں پتہ ہے کہ کسی کو پاکستان کی بہتری کے علاوہ اور کچھ نہیں چاہیے اور یہ بھی پتہ ہے کہ کن مشکل حالات میں اپنی پوری کوشش صبح شام کرتے ہیں۔ جیت تو ہم سب کا مقدر ہے اور اس بات کا پورا یقین ہے کیونکہ اللہ الحق ہے! #خان_قوم_تیرے_سنگ_رہے_گی

Jibran Ilyas

45,473 görüntüleme • 9 ay önce

آج بھی میگا پروجیکٹس پاکستان کے اندر معطل ہیں،گزرے کئی سالوں سے ملٹی نیشنل کمپنیاں درجنوں کے حساب سے ملک سے باہر جا چکی ہیں، سرمایہ یہاں سے منتقل کر دیا ہے،پاکستانی اپنا سرمایہ منتقل کر رہے ہیں اور کوئی باہر کی کمپنیاں پاکستان کے اندر سرمایہ کاری کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ افغانستان کی سرحدات ہوں یا انڈیا کی سرحدات ہوں، شرق و غرب ہم نے اپنے اوپر بند کر دیے ہیں۔ تجارت نہیں ہے، کاروبار نہیں ہے، لوگوں کا آنا جانا مشکل ہو گیا ہے۔ چین کا ہم اعتماد کھو چکے ہیں، وہ پاکستان کے اندر سرمایہ کاری میں دلچسپی بھی نہیں لے رہا۔ تو پاکستان نے محصور ریاست کی شکل اختیار کر لی ہے۔ بدامنی میں روز بروز اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ پولیس اور فوجی جوانوں پر حملے ہو رہے ہیں اور ریاستی قوت دفاعی پوزیشن میں آ گئی ہے۔ کتنی بری بات ہے یہ! ہم ماضی کے معاملات اور مشکلات، اس سے تو ہم نمٹ نہیں پا رہے۔ گھر میں آگ لگی ہوئی ہے، نئے نئے مسائل ہم پیدا کر رہے ہیں۔ کبھی صوبوں کے سوال چھیڑ دیتے ہیں، کبھی این ایف سی ایوارڈ کا مسئلہ چھیڑ دیتے ہیں، کبھی معدنی ذخائر کا مسئلہ چھیڑ دیتے ہیں۔ اور پہلے جو ملک جس مشکل میں گھرا ہوا ہے اور جو ہمارے سروں پر مشکلات ہیں، موت ہمارے سروں پر منڈلا رہی ہے، آگ برس رہی ہے، بارود جو ہے، ہم ڈھیر پر بیٹھے ہوئے ہیں، اور ان حالات میں نئے نئے مسائل کھڑے کرنا، اس سے بڑھ کر غیر سنجیدگی اور نہیں ہو سکتی۔ مسائل ڈسکس کیے جائیں، پارلیمنٹ میں لائے جائیں اور حکومت کا ایک حصہ وہ صوبوں کی بات کر رہا ہے، صوبوں کو ٹکڑے کرنے کی بات کر رہا ہے۔ حکومت اور حکومت میں شامل جماعتیں خاموش ہیں، اس کا ایک فرد بول رہا ہے، وہ ہوتا کون ہے؟ ملک کے اندر اس کی حیثیت کیا ہے، اس کی پہچان کیا ہے؟ وہ جس کے گھر کا نوکر ہے، اس کی نوکری کرے، ان کے برتن دھوئے، کپڑے دھوئے، ان کی یہی ڈیوٹی ہے۔ ملک کے مسائل سے اس کا کوئی سروکار نہیں۔ اتنے بے بس ہم بھی نہیں ہیں کہ آپ ملک کے ساتھ کھیلتے رہیں اور ہم تماشا دیکھتے رہیں۔ اگر حالات نہیں ہیں، نئے مسائل اور ایشوز کا پاکستان متحمل نہیں ہے، تو پھر ہم بھی پاکستانی ہیں۔ ہم آپ کو پاکستان کا مالک تصور نہیں کرتے۔ حد سے آگے بڑھیں گے تو پھر اور لوگ بھی حد سے آگے بڑھیں گے۔ شکر کرو کہ ابھی ملک آپ کے ساتھ ہے، عوام پاکستان کے ساتھ ہیں، مذہبی جماعتیں پاکستان کے ساتھ ہیں، سیاسی جماعتیں پاکستان کے ساتھ ہیں۔ ہم نے ایران اور امریکہ کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کیا، ہم نے اس سے اختلاف نہیں کیا، لیکن قوم کو نتائج تو بتائے جائیں ناں کہ اس کردار کا کیا نتیجہ نکلا؟ آج سعودی عرب پر گولے برسائے جا رہے ہیں، حرمین شریفین کی طرف راکٹوں کے رخ کر دیئے گئے ہیں، اور کچھ پتہ نہیں کہ یہ جو ثالثی کا کردار تھا، خطے میں قیامِ امن کے لیے ایک کوشش تھی، اصولی طور پر ہم نے اس سے اختلاف نہیں کیا۔ لیکن قوم کو بتایا تو جائے، اور میں نے کئی بار اس بات کا ذکر کیا ہے کہ پارلیمنٹ کا اِن کیمرہ اجلاس بلا کر قوم کے نمائندوں کو بتایا جائے کہ ملک کہاں کھڑا ہے۔ کوئی جواب نہیں دیا جا رہا۔ پارلیمانی لیڈرز کا ایک بند کمرے کا اجلاس، میرے خیال میں، وہ کافی نہیں ہے اور اس میں اپوزیشن دلچسپی بھی نہیں لے رہی۔ تو اس اعتبار سے یہ ساری چیزیں ایسی ہیں کہ اس وقت قوم تشویش میں ہے۔ سعودی عرب پر حملہ، معاہدہ ہو چکا ہے ہمارا ان کے ساتھ۔ گو کہ وہ جنگی معاہدہ نہیں ہے، وہ دفاعی معاہدہ ہے، لیکن جب اس کے ساتھ یہ لفظ وابستہ کیا گیا کہ کسی بھی ملک پر حملہ دوسرے ملک پر حملہ تصور کیا جائے گا تو اس میں کچھ ذمہ داریاں آ جاتی ہیں، ہمارے اوپر بھی آتی ہیں۔ اب ترکی بھی اس میں شامل ہو گیا۔ اس کو آگے بڑھنا چاہیے تھا، اس میں مصر کو شامل ہونا چاہیے تھا، اس میں ایران کو شامل ہونا چاہیے تھا، لیکن عالمی قوتوں نے ایسے حالات پیدا کر دیے کہ وہ جو اسلامی اتحاد کے عمل کا ایک تسلسل تھا، وہ فلحال رک گیا ۔ قوم کو تو بتایا جائے کہ وہ کیا کر رہے ہیں، پارلیمنٹ کو تو بتایا جائے،اس ساری صورتحال سے قوم کو بے خبر رکھا جا رہا ہے،اور ملک کے اندر تشویش بڑھتی چلی جا رہی ہے۔ اور پھر پیسہ نہیں آئے گا ملک کے اندر، پھر اسلحہ ملک کے اندر آئے گا۔ ملک کے اندر اسلحہ کے راستے بنائے جا رہے ہیں، اور حالات آپ کے رویوں کی وجہ سے بنتے چلے جا رہے ہیں۔ پھر شکایت کس سے؟ ہم نے ٹی ٹی پی سے امن کی درخواست نہیں کرنی، ہم نے بی ایل اے سے امن کی درخواست نہیں کرنی، ہم نے اتحاد المجاہدین سے امن کی درخواست نہیں کرنی۔ ہم نے امن کا مطالبہ حکومت سے کرنا ہے، ہم نے امن کا مطالبہ اپنے اداروں سے کرنا ہے، جو ہمارے قیامِ امن اور ہماری جان، مال و عزت و آبرو کے محافظ ہیں، اور یہ ان کی آئینی اور قانونی ذمہ داری ہے۔ ہم نے ان سے مطالبہ کرنا ہے کہ آپ ہمیں کیا امن دے رہے ہیں؟
6:46

Sensitive content

آج بھی میگا پروجیکٹس پاکستان کے اندر معطل ہیں،گزرے کئی سالوں سے ملٹی نیشنل کمپنیاں درجنوں کے حساب سے ملک سے باہر جا چکی ہیں، سرمایہ یہاں سے منتقل کر دیا ہے،پاکستانی اپنا سرمایہ منتقل کر رہے ہیں اور کوئی باہر کی کمپنیاں پاکستان کے اندر سرمایہ کاری کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ افغانستان کی سرحدات ہوں یا انڈیا کی سرحدات ہوں، شرق و غرب ہم نے اپنے اوپر بند کر دیے ہیں۔ تجارت نہیں ہے، کاروبار نہیں ہے، لوگوں کا آنا جانا مشکل ہو گیا ہے۔ چین کا ہم اعتماد کھو چکے ہیں، وہ پاکستان کے اندر سرمایہ کاری میں دلچسپی بھی نہیں لے رہا۔ تو پاکستان نے محصور ریاست کی شکل اختیار کر لی ہے۔ بدامنی میں روز بروز اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ پولیس اور فوجی جوانوں پر حملے ہو رہے ہیں اور ریاستی قوت دفاعی پوزیشن میں آ گئی ہے۔ کتنی بری بات ہے یہ! ہم ماضی کے معاملات اور مشکلات، اس سے تو ہم نمٹ نہیں پا رہے۔ گھر میں آگ لگی ہوئی ہے، نئے نئے مسائل ہم پیدا کر رہے ہیں۔ کبھی صوبوں کے سوال چھیڑ دیتے ہیں، کبھی این ایف سی ایوارڈ کا مسئلہ چھیڑ دیتے ہیں، کبھی معدنی ذخائر کا مسئلہ چھیڑ دیتے ہیں۔ اور پہلے جو ملک جس مشکل میں گھرا ہوا ہے اور جو ہمارے سروں پر مشکلات ہیں، موت ہمارے سروں پر منڈلا رہی ہے، آگ برس رہی ہے، بارود جو ہے، ہم ڈھیر پر بیٹھے ہوئے ہیں، اور ان حالات میں نئے نئے مسائل کھڑے کرنا، اس سے بڑھ کر غیر سنجیدگی اور نہیں ہو سکتی۔ مسائل ڈسکس کیے جائیں، پارلیمنٹ میں لائے جائیں اور حکومت کا ایک حصہ وہ صوبوں کی بات کر رہا ہے، صوبوں کو ٹکڑے کرنے کی بات کر رہا ہے۔ حکومت اور حکومت میں شامل جماعتیں خاموش ہیں، اس کا ایک فرد بول رہا ہے، وہ ہوتا کون ہے؟ ملک کے اندر اس کی حیثیت کیا ہے، اس کی پہچان کیا ہے؟ وہ جس کے گھر کا نوکر ہے، اس کی نوکری کرے، ان کے برتن دھوئے، کپڑے دھوئے، ان کی یہی ڈیوٹی ہے۔ ملک کے مسائل سے اس کا کوئی سروکار نہیں۔ اتنے بے بس ہم بھی نہیں ہیں کہ آپ ملک کے ساتھ کھیلتے رہیں اور ہم تماشا دیکھتے رہیں۔ اگر حالات نہیں ہیں، نئے مسائل اور ایشوز کا پاکستان متحمل نہیں ہے، تو پھر ہم بھی پاکستانی ہیں۔ ہم آپ کو پاکستان کا مالک تصور نہیں کرتے۔ حد سے آگے بڑھیں گے تو پھر اور لوگ بھی حد سے آگے بڑھیں گے۔ شکر کرو کہ ابھی ملک آپ کے ساتھ ہے، عوام پاکستان کے ساتھ ہیں، مذہبی جماعتیں پاکستان کے ساتھ ہیں، سیاسی جماعتیں پاکستان کے ساتھ ہیں۔ ہم نے ایران اور امریکہ کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کیا، ہم نے اس سے اختلاف نہیں کیا، لیکن قوم کو نتائج تو بتائے جائیں ناں کہ اس کردار کا کیا نتیجہ نکلا؟ آج سعودی عرب پر گولے برسائے جا رہے ہیں، حرمین شریفین کی طرف راکٹوں کے رخ کر دیئے گئے ہیں، اور کچھ پتہ نہیں کہ یہ جو ثالثی کا کردار تھا، خطے میں قیامِ امن کے لیے ایک کوشش تھی، اصولی طور پر ہم نے اس سے اختلاف نہیں کیا۔ لیکن قوم کو بتایا تو جائے، اور میں نے کئی بار اس بات کا ذکر کیا ہے کہ پارلیمنٹ کا اِن کیمرہ اجلاس بلا کر قوم کے نمائندوں کو بتایا جائے کہ ملک کہاں کھڑا ہے۔ کوئی جواب نہیں دیا جا رہا۔ پارلیمانی لیڈرز کا ایک بند کمرے کا اجلاس، میرے خیال میں، وہ کافی نہیں ہے اور اس میں اپوزیشن دلچسپی بھی نہیں لے رہی۔ تو اس اعتبار سے یہ ساری چیزیں ایسی ہیں کہ اس وقت قوم تشویش میں ہے۔ سعودی عرب پر حملہ، معاہدہ ہو چکا ہے ہمارا ان کے ساتھ۔ گو کہ وہ جنگی معاہدہ نہیں ہے، وہ دفاعی معاہدہ ہے، لیکن جب اس کے ساتھ یہ لفظ وابستہ کیا گیا کہ کسی بھی ملک پر حملہ دوسرے ملک پر حملہ تصور کیا جائے گا تو اس میں کچھ ذمہ داریاں آ جاتی ہیں، ہمارے اوپر بھی آتی ہیں۔ اب ترکی بھی اس میں شامل ہو گیا۔ اس کو آگے بڑھنا چاہیے تھا، اس میں مصر کو شامل ہونا چاہیے تھا، اس میں ایران کو شامل ہونا چاہیے تھا، لیکن عالمی قوتوں نے ایسے حالات پیدا کر دیے کہ وہ جو اسلامی اتحاد کے عمل کا ایک تسلسل تھا، وہ فلحال رک گیا ۔ قوم کو تو بتایا جائے کہ وہ کیا کر رہے ہیں، پارلیمنٹ کو تو بتایا جائے،اس ساری صورتحال سے قوم کو بے خبر رکھا جا رہا ہے،اور ملک کے اندر تشویش بڑھتی چلی جا رہی ہے۔ اور پھر پیسہ نہیں آئے گا ملک کے اندر، پھر اسلحہ ملک کے اندر آئے گا۔ ملک کے اندر اسلحہ کے راستے بنائے جا رہے ہیں، اور حالات آپ کے رویوں کی وجہ سے بنتے چلے جا رہے ہیں۔ پھر شکایت کس سے؟ ہم نے ٹی ٹی پی سے امن کی درخواست نہیں کرنی، ہم نے بی ایل اے سے امن کی درخواست نہیں کرنی، ہم نے اتحاد المجاہدین سے امن کی درخواست نہیں کرنی۔ ہم نے امن کا مطالبہ حکومت سے کرنا ہے، ہم نے امن کا مطالبہ اپنے اداروں سے کرنا ہے، جو ہمارے قیامِ امن اور ہماری جان، مال و عزت و آبرو کے محافظ ہیں، اور یہ ان کی آئینی اور قانونی ذمہ داری ہے۔ ہم نے ان سے مطالبہ کرنا ہے کہ آپ ہمیں کیا امن دے رہے ہیں؟

Maulana Fazl-ur-Rehman

24,032 görüntüleme • 8 gün önce