Loading video...

Video Failed to Load

Go Home

مجھے امید ہے کہ خالقِ کائنات خدا بھی اوپر ہے، اور اللہ سے بڑا کوئی طاقتور نہیں۔ وہ دیکھتا ہے، سمیع اور بصیر ہے۔ وہ ہماری شہ رگ سے بھی زیادہ ہمارے قریب ہے، سب کچھ جانتا ہے اور اس سے کچھ چھپ نہیں سکتا۔ خدا کا قانون بھی...

62,395 views • 10 days ago •via X (Twitter)

0 Comments

No comments available

Comments from the original post will appear here

Related Videos

میرے خیال میں اب صورت حال وہ نہیں ہے اب امریکہ سپر طاقت نہیں رہا ہے، وہ اپنا ایک بھرم رکھنے کے لئے یہ سارا کچھ کر رہا ہے، بلکہ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ شاید ٹرمپ اپنے ذاتی دفاع کیلئے یہ سب کچھ کر رہا ہے، امریکہ کی دفاع کیلئے بھی نہیں کر رہا اور وہاں پر اس وقت امریکہ کی عوامی تائید بھی اس وقت حاصل نہیں ہے، بڑا سوال یہ ہے کہ جس شخص نے الیکشن لڑا کہ دنیا سے جنگ ختم کروں گا اس نے اقتدار میں آ کر دنیا پر جنگ مسلط کر دی ہے یہ خود امریکیوں کے اور امریکی عوام کے نظر میں بھی ایک سوالیہ نشان ہے۔ سو اس وقت پوری دنیا ازسر نو سوچ رہی ہے اور ظاہر ہے سوویت یونین کی ٹوٹنے کے بعد ہم پہلے سے کہہ رہے ہیں کہ عالمی تبدیلی اور تغیرات آئیں گی سو اس وقت پوری دنیا امریکہ سے لے کر روس تک اور چین تک یہ عالمی تغیرات کی زد میں ہیں اور ہمیں خود بیٹھ کر خود اعتمادی کے ساتھ اپنے مستقبل کو خود تراشنا ہوگا۔ ہمیں یہی سوال ہے کہ اس وقت ثالثی کی باتیں بھی ہو رہی ہیں کیا پاکستان اس پوزیشن میں ہے کہ وہ ثالثی کر سکے اور شہباز شریف جیسے حکمران کے ٹویٹ پر ٹرمپ کا ٹویٹ آنا خود ٹرمپ کی کمزوری اور امریکی پالیسی کی کمزوری کی عکاس ہے۔ سو اس حوالے سے ہمیں سوچنا چاہیے۔ صحافی: کیا ہماری طاقت عکاس نہیں ہے؟ نہیں پاکستان بہرحال محاصرے میں ہے اور سوائے ثالثی کے کردار کے ہمارے پاس اور کون سا راستہ ہے؟ جب تک ہمارے دماغ سے یہ کیڑا نہیں نکلے گا کہ ہم نے افغانستان کو زیر نگیں رکھنا ہے اور افغانستان میں کوئی حکومت وہ ہماری مرضی کے بغیر نہیں چلے گی اس وقت تک معاملات ٹھیک نہیں ہو سکتے، ہمیں ایک آزاد افغانستان ایک صاحب استقلال افغانستان ایک خودمختار افغانستان اس پر توجہ رکھنی چاہیے اور ماضی کے جو ہمارے اس حوالے سے قربانیاں ہیں ان کو کسی ایک کامیاب نتائج تک ہمیں پہنچانا چاہیے۔ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ افغانستان میں سفارتی جو ہماری ستتر یا اٹھتر سالہ کوششیں ہیں وہ اب تک کیوں ناکام ہیں یہ مستقل ایک سوال ہے، یہ کافی نہیں ہے ہم نے بڑی کوشش کی اور افغانی نہیں مانتے اور ہم نے بڑی کوشش کی اور افغانی نہیں مانتے، مسئلہ یہ نہیں ہے، مسئلہ یہ ہے کہ کیوں نہیں مانتے، کیا ساری غلطیاں ستتر سال سے انہی کی طرف ہیں اور کیا ہمارے طرف بلکل کوئی غلطی نہیں ہے، یہ بھی ہمیں قومی سطح پر سوچنا چاہیے، افغانستان صرف حکومت کا نام نہیں ہے، افغانستان صرف وہاں امارت اسلامیہ کا نام نہیں ہے، افغانستان وہاں کے عوام کا بھی نام ہے، افغان قوم کا نام ہے، افغان قوم کے ہمارے ساتھ رشتے ہیں، ہمارے ساتھ ان کے تعلقات ہیں، ہمارے ساتھ ان کی برادریاں شریک ہیں اور ہمارے ساتھ ان کی معاشرت شریک ہے، ان تمام رشتوں کو سامنے رکھتے ہوئے ہمیں افغانستان کے حوالے سے سوچنا چاہیے، یہ ہر وقت رجیم چینج اور رجیم چینج کے باتیں یہ شاید نہ ختم ہونے والا سلسلہ بنے، ہم نے ظاہر شاہ کے خلاف انقلاب کی حمایت کی، پھر اس کے بعد کمیونسٹ انقلاب آیا پھر ہم نے ان کے خلاف جہاد اس وقت ہم امریکہ جب آیا تو ہم بھی شامل ہو گئے، پھر وہی امریکہ تھا اس نے طرف تبدیل کر دیا تو مشرف کے زمانے میں ہم پھر امریکہ کی جنگ لڑ رہے تھے، آج ہم پھر ایک دفعہ امریکہ کی خواہشات کی مطابق، یہ کیسا امریکہ ہے کہ پاکستان کی اگر انڈیا سے لڑائی ہو تو کریڈٹ لیتا ہے کہ میں نے جنگ بند کرا دی اور اگر افغانستان کے ساتھ لڑائی ہو جائے تو کہتے ہیں پاکستان ٹھیک جا رہا ہے اس کو اور کرنا چاہیے۔ تو یہ چیزیں ان کی بدنیتی پر دلالت کرتی ہے اور ہمیں کسی کے ٹریپ میں نہیں آنا چاہیے وہ اب خود ٹریپ میں آ چکے ہیں، پھنسے ہوئے ہیں، مشکلات کے شکار ہیں اور وہ کامیابیاں حاصل نہیں کر پا رہے ہیں، پاکستان کو ہر قدم احتیاط سے اٹھانا چاہیے اور پارلیمنٹ کو اعتماد میں لینا چاہیے۔ دیکھیے سفارت کاریاں حکومتوں کا کام ہے، ریاستوں کا کام ہے، پارٹیوں کا کام نہیں ہوتا ہے، ہم پبلک ٹو پبلک ریلیشنز جو ہیں اس میں مدد دے سکتے ہیں، ہم سب مسلمان ہیں ہم سب بھائی بھائی ہیں ہم ایک دوسرے پر ڈیپنڈ کر رہے ہیں، لیکن عوام کی ضرورتوں اور خواہشات کو مد نظر رکھتے ہوئے ریاستیں فیصلہ کریں، بین الاقوامی قوتوں کے تابع فیصلہ نہ کریں، اپنے ملک کے عوام کے خواہشات اور ان کی ضرورتوں کے تابع فیصلے کریں۔ امیر جےیوآئی مولانا فضل الرحمان کی ڈیرہ اسماعیل خان میں گفتگو

Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan

17,437 views • 5 months ago

جب تک ہمارے دماغ سے یہ کیڑا نہیں نکلے گا کہ ہم نے افغانستان کو زیر نگیں رکھنا ہے اور افغانستان میں کوئی حکومت وہ ہماری مرضی کے بغیر نہیں چلے گی اس وقت تک معاملات ٹھیک نہیں ہو سکتے، ہمیں ایک آزاد افغانستان ایک صاحب استقلال افغانستان ایک خودمختار افغانستان اس پر توجہ رکھنی چاہیے اور ماضی کے جو ہمارے اس حوالے سے قربانیاں ہیں ان کو کسی ایک کامیاب نتائج تک ہمیں پہنچانا چاہیے۔ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ افغانستان میں سفارتی جو ہماری ستتر یا اٹھتر سالہ کوششیں ہیں وہ اب تک کیوں ناکام ہیں یہ مستقل ایک سوال ہے، یہ کافی نہیں ہے ہم نے بڑی کوشش کی اور افغانی نہیں مانتے اور ہم نے بڑی کوشش کی اور افغانی نہیں مانتے، مسئلہ یہ نہیں ہے، مسئلہ یہ ہے کہ کیوں نہیں مانتے، کیا ساری غلطیاں ستتر سال سے انہی کی طرف ہیں اور کیا ہمارے طرف بلکل کوئی غلطی نہیں ہے، یہ بھی ہمیں قومی سطح پر سوچنا چاہیے، افغانستان صرف حکومت کا نام نہیں ہے، افغانستان صرف وہاں امارت اسلامیہ کا نام نہیں ہے، افغانستان وہاں کے عوام کا بھی نام ہے، افغان قوم کا نام ہے، افغان قوم کے ہمارے ساتھ رشتے ہیں، ہمارے ساتھ ان کے تعلقات ہیں، ہمارے ساتھ ان کی برادریاں شریک ہیں اور ہمارے ساتھ ان کی معاشرت شریک ہے، ان تمام رشتوں کو سامنے رکھتے ہوئے ہمیں افغانستان کے حوالے سے سوچنا چاہیے، یہ ہر وقت رجیم چینج اور رجیم چینج کے باتیں یہ شاید نہ ختم ہونے والا سلسلہ بنے، ہم نے ظاہر شاہ کے خلاف انقلاب کی حمایت کی، پھر اس کے بعد کمیونسٹ انقلاب آیا پھر ہم نے ان کے خلاف جہاد اس وقت ہم امریکہ جب آیا تو ہم بھی شامل ہو گئے، پھر وہی امریکہ تھا اس نے طرف تبدیل کر دیا تو مشرف کے زمانے میں ہم پھر امریکہ کی جنگ لڑ رہے تھے، آج ہم پھر ایک دفعہ امریکہ کی خواہشات کی مطابق، یہ کیسا امریکہ ہے کہ پاکستان کی اگر انڈیا سے لڑائی ہو تو کریڈٹ لیتا ہے کہ میں نے جنگ بند کرا دی اور اگر افغانستان کے ساتھ لڑائی ہو جائے تو کہتے ہیں پاکستان ٹھیک جا رہا ہے اس کو اور کرنا چاہیے۔ تو یہ چیزیں ان کی بدنیتی پر دلالت کرتی ہے اور ہمیں کسی کے ٹریپ میں نہیں آنا چاہیے وہ اب خود ٹریپ میں آ چکے ہیں، پھنسے ہوئے ہیں، مشکلات کے شکار ہیں اور وہ کامیابیاں حاصل نہیں کر پا رہے ہیں، پاکستان کو ہر قدم احتیاط سے اٹھانا چاہیے اور پارلیمنٹ کو اعتماد میں لینا چاہیے۔ امیر جےیوآئی مولانا فضل الرحمان کی گفتگو

Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan

30,029 views • 5 months ago

"پشتون بہت باوقار لوگ ہیں، بہت کشادہ دل رکھتے ہیں، درگزر کرنے والے ہیں۔ ایسا نہ بولیں، ایسا نہ بولیں۔ یہ بہت برا کام ہے، یہ بہت خطرناک کام ہے۔ اس حوالے سے میں نے بہت پختہ ارادہ کیا ہوا ہے۔ ​ایک شخص 40 سال بعد اپنے باپ کا بدلہ کیوں لیتا ہے، مولوی صاحب؟ کیوں ایک شخص 40 سال بعد اپنے باپ کا بدلہ لیتا ہے اور تلوار نکال کر وار کرتا ہے؟ یہ بہت برا کام ہے۔ یہ باتیں وہ نہیں چھوڑیں گے۔ اس کو اتنا آسان مت سمجھیں کہ آپ نے کسی کو مار دیا اور وہ بھول جائیں گے۔ ​اس کا حساب ہم لیں گے، خدا کی قسم، انشاءاللہ الرحمٰن۔ ہم اس کا حساب لیں گے اور قرآن شریف کی رو سے لیں گے۔ پشتونوں کی روایات اور جرگہ کی رو سے لیں گے۔ عزیزان! ہم کسی کو تکلیف نہیں دیں گے، برا نہیں کریں گے۔ ہمارے ساتھ جو برا ہوا ہے ہم اسے معاف کر دیں گے۔ ہم کسی کے ساتھ برا نہیں کریں گے۔ ​لیکن اب ہم اس بات سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ اب ہم تمام پشتونوں کے مشورے سے آگے بڑھیں گے۔ تمام پشتونوں سے، یہ پشتونوں کے مشورے سے ہوگا۔ ہم تمام پشتونوں سے مشورہ کریں گے۔ پشتون ہر جگہ موجود ہیں۔ جنہوں نے گولیاں چلائی ہیں... ہم نہتے لوگ ہیں۔ ہم نہتے لوگ ہیں عزیزان! ​لوگوں کا خیال یہ ہے کہ وہ ہمیں ماریں گے اور پھر وہ ہمارے وطن پر حکمرانی کریں گے۔ میں آپ سے وعدہ کرتا ہوں، لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ، کہ میرے وطن پر حکمرانی کرنے والا بھی بہادر ہو اور اگر میں نے اپنی باری نہ لی تو میں مسلمان بھی نہیں ہوں، میں پشتون بھی نہیں ہوں۔" قائد حزب اختلاف محمود خان اچکزئی

Tehreek-e-Tahafuz-e-Ayin-e-Pakistan

33,198 views • 1 month ago

ہم نے تمام سیاسی جماعتوں کو اکٹھا کیا ہے، کیونکہ اس وقت امن و امان ملک کا سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ خیبر پختونخوا میں وفاقی حکومت کی ناقص پالیسیوں کے باعث بدامنی ہے، جبکہ بلوچستان اور آزاد کشمیر کی صورتِ حال بھی سب کے سامنے ہے۔ عوام محسوس کر رہے ہیں کہ انہیں اکیلا چھوڑ دیا گیا ہے۔ ایسی صورتِ حال میں ملک کیسے چلے گا۔ موجودہ اسمبلی میں عوام کے لیے ایک بھی قانون نہیں بنایا گیا۔ ہم نے 27 ستمبر کو لانگ مارچ کا اعلان کیا ہے اور تمام سیاسی جماعتوں کو ساتھ ملائیں گے۔ اگر عوام آزاد عدلیہ، مضبوط پارلیمنٹ، مہنگائی کا خاتمہ اور خودمختار پاکستان چاہتے ہیں تو انہیں اٹھنا ہوگا۔ پاکستان ہمارا ہے، ہم کسی سے بھیک نہیں مانگتے۔ ہمیں پاکستانی کی حیثیت سے باعزت زندگی گزارنی ہے۔ کسی کو اختیار نہیں کہ وہ ہمیں ڈکٹیشن دے یا ہمارے فیصلے کرے۔ پاکستان کے فیصلے اس ملک کے عوام کریں گے۔ سپریم کورٹ کا واضح فیصلہ تھا، آپ نے اسے نہیں مانا۔ وہ دن دور نہیں جب عمران خان جیل سے باہر ہوگا۔

Asad Qaiser

21,969 views • 9 days ago

ہم جس حال میں خیبر پختونخوا میں حکومت کر رہے ہیں، کوئی ہمیں حکومت کرنے کے لیے چھوڑ بھی نہیں رہا . صوبے کے چیف منسٹر کو اپنے لیڈر سے ملاقات نہیں کرنے دیا جا رہا۔ جیل مینوئل کے مطابق کسی بھی قیدی سے ملاقات کو نہیں روکا جا سکتا۔ جیل مینوئل کے مطابق کسی بھی قیدی سے ملاقات کی جا سکتی ہے۔ عمران خان اس ملک کے وزیر اعظم رہے ہیں اور ایک منتخب چیف منسٹر اس سے ملاقات نہیں کر سکتا۔ کیا پاکستان کسی ضابطے اور اصول پر چلتا ہے نہیں، یہ صرف ڈھنڈے سے چلتا ہے۔ ظلم اور ڈھنڈے کا یہ نظام ہمیں کسی صورت منظور نہیں ہے۔ اس ملک میں اگر ہم نے رہنا ہے تو قانون اور آئین کے تحت رہنا ہے۔ یہ جو ظلم ہو رہا ہے، یہ صرف عمران خان کے ساتھ نہیں ہو رہا، عوام کے ساتھ ہو رہا ہے۔ عوام سے ان کے ووٹ کا حق چھینا گیا، یہ فیصلہ عوام نے نہیں کرنا ہے کہ ہم نے کس کو ووٹ دینا ہے۔ ووٹ ڈالنے والے سے ووٹ گننے والا اہم ہے۔ اگر کسی ممبر عوامی نمائندے کو معلوم ہو کہ اس کے ووٹ کی کوئی اہمیت نہیں، تو کیا وہ آپ کی بات مانے گا۔ عوام کے پاس ووٹ کا حق ہے تو آپ کا نمائندہ آپ کی قدر کرتا ہے۔ ابھی جو ہری پور ضمنی انتخابات میں ہوا ہے، ووٹ کسی اور کو پڑا اور رکن کوئی بن گیا۔ فارم 45 کے مطابق سب کچھ ٹھیک ہے، لیکن کمپیوٹر پر بیٹھا آدمی اپنی مرضی کا ڈیٹا فیڈ کر رہا ہے۔ کس قسم کی عدالت، کس قسم کی الیکشن کمیشن، عدالتوں کو انتظامیہ کے ماتحت کیا گیا ۔

Asad Qaiser

16,009 views • 8 months ago

🚨🚨 گورنر سندھ کا دنیا کو واضح پیغام (ویسے آخری 30 سیکنڈز میں انہوں نے دنیا کو جو پیغام دیا ہے وہ میں سمجھ نہیں سکا مکمل طور پر،آپ میں سے کسی کو ٹھیک سمجھ آئی ہو تو ضرور بتائے اور اس جملے کا بھی بتائیے گا کہ ہم نہیں تو پاکستان نہیں۔۔اس کا کیا مطلب تھا) ایران امریکہ جنگ کے بعد ہم پریشان تھے کہ تجارت ہوگی کیسے؟ انہوں نے کہا کہ آپ پریشان نہ ہوں ہم ہیں ناں، ہم پریشان تھے کہ بم پھٹ رہے ہیں، ہمارے بچے مررہے ہیں، ہماری مساجد کو بھی نہیں چھوڑا جارہا، ہمارے سپاہیوں کو جلایا جارہا ہے، ہماری بستیوں اور دیہاتوں پر حملے کیے جارہے ہیں، ہم پریشان تھے،اللہ جانتا ہے کہ بہت پریشان تھے، کہ ہمارے ریڑھی والے،ٹھیلے والے ، مارکیٹ میں شاپنگ کرنے کے لیے جانے والی ہماری بہنیں، ان کی حفاظت کیسے ہوگی؟ پھر ہم کہتے تھے کہ اللہ ہی مالک ہے، پھر ہم نے سوچا کہ ہمیں بھی کچھ کرنا ہے، میں نام تو نہیں لوں گا مگر سپریم کمانڈر فیلڈ مارشل سی ڈی ایف سید عاصم منیر ،ان کی ٹیم اور شاہینوں نے بمباروں کو ایسا پھوڑا ہے ،ایسا پھوڑا ہے، ورنہ وہ چوبیس گھنٹوں میں لینا چاہتے تھے ہمیں، ہم نے یقینی بنایا ہے کہ جواب میں کسی سویلین ،کسی بہن،کسی بیٹی اور کوئی سکول نشانہ نہ بنے، لیکن واضح کردوں کہ مجھے بھی ان کی ایک بات اچھی لگتی ہے، کوئی بھی بدمعاش ہو، بھارت،اسرائیل یا پڑوسی،سب کے لیے پیغام واضح ہے، میں نے ایک سال پہلے کہا تھا، ناصر صاحب بھی بیٹھے تھے، ہم FM بھی کہتے ہیں،فیلڈ مارشل، فیلڈ مارشل نے کہا تھا کہ ایک پاکستانی پر بھی آنچ نہیں آنے دیں گے، پیغام واضح ہے کہ ہم نہیں تو پاکستان نہیں، پاکستان نہیں تو ہمارے لیے دنیا نہیں، اگر آپ رہنا چاہتے ہیں تو جیو اور جینے دو، گورنر سندھ نہال ہاشمی

Siddique Jan

53,526 views • 5 months ago

اس وقت ہم پارلیمنٹ کے سامنے کھڑے ہیں۔ کل سے ہم نے یہاں دھرنا دیا ہوا ہے۔ ہمارے ساتھ سینیٹرز اور ایم این ایز ہیں، خاص طور پر قائدِ حزبِ اختلاف سینیٹ اور قومی اسمبلی موجود ہیں، اور میں خود اس ہاؤس کا اسپیکر رہا ہوں۔ عمران خان کو علاج معالجے کے لیے ہسپتال منتقل کرنا کوئی بڑی بات نہیں ہے۔ ہمارا مطالبہ بہت سادہ ہے کہ عمران خان کو علاج معالجے کی سہولت دی جائے اور اسے ہسپتال منتقل کیا جائے۔ یہ اس کا قانونی حق ہے اور جیل مینول اور رولز کے مطابق ہے۔عمران خان اس ملک کے سابق وزیرِ اعظم اور قومی ہیرو ہیں، اس سب کے باوجود ان کے ساتھ یہ رویہ رکھا جا رہا ہے۔ ہم نے پُرامن طریقے سے یہاں دھرنا دیا ہوا ہے۔ یہ پارلیمنٹ ہے، 25 کروڑ عوام کا نمائندہ ہاؤس ہے، اور اسے تالے لگائے گئے ہیں۔ یہاں کھانا پینا بند کیا گیا ہے، کربلا کا سماں پیدا کیا گیا ہے۔ اگر ان کا خیال ہے کہ اس سے ہم ڈر جائیں گے تو ہم واضح کرتے ہیں کہ جب تک عمران خان کو ہسپتال منتقل نہیں کیا جاتا اور ہمیں تسلی نہیں دی جاتی، ہم دھرنا ختم نہیں کریں گے۔ یہ ہمارا قانونی حق ہے۔ ہم سیاسی درجۂ حرارت کو کم کرنا چاہتے ہیں، یہ حکومت کی ذمہ داری ہے۔ بلوچستان اور ہمارے صوبے میں جو صورتِ حال ہے، اسلام آباد میں جو ہوا، لیکن اس سب کے باوجود حکومت ہوش کے ناخن نہیں لے رہی ہے۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ جلد از جلد عمران خان کو ہسپتال منتقل کیا جائے۔

Asad Qaiser

22,137 views • 6 months ago

کچھ لوگ کبھی یہ سوچتے ہوں گے کہ کافی عرصہ ہوگیا حقیقی آزادی کی جدوجہد کو مگر ابھی تک ملی نہیں۔ اگر آپ کبھی یہ سوچتے ہیں تو یہ وڈیو کلپ ضرور دیکھیں۔ جتنا بڑا خواب، اتنی زیادہ محنت درکار ہوتی ہے اور کامیاب وہ ہوتے ہیں جو ہار نہیں مانتے۔ یقین کریں کہ جتنی محنت آپ سب کر رہے ہیں، ہماری جیت کے بعد آپ کو شاید پھر بھی یہ ملال ہوگا کہ تھوڑا سا اور حصہ ڈالنا چاہیے تھا۔ ابھی جو زون میں ہیں ہم، وہ جیت کے بہت قریب ہے، یہ realize کرنا آسان نہیں کیونکہ ٹائم فریم کلئیر نہیں ہے لیکن جو فرسٹریشن آپ عسکری ٹاؤٹس کی دیکھ رہے ہیں (منیب فاروق کا”ایسی کی تیسی“ ریمارک، ڈی جی صاحب کا ”قبول نہیں“ ریمارک، اور اس کے بعد سوہیل آفریدی کا CM بننا،اور ڈی جی صاحب کا نوجوانوں کے ساتھ سمارٹ فون پر قبضہ کر کے خفیہ سیمینارز کرنا، اور پھر کچھ بہروپیوں کو نئی پاڑٹی بنانے کے لیے کام پر لگانا۔ یہ سب ان کی فرسٹریشن دکھاتا ہے۔ وہ کامیاب ہو نہیں سکتے کیونکہ عوام میں شعور بہت ہے، عمران خان بڑی لیڈ سے نوجوانوں کے دل جیت چکا ہے! یہ یقین رکھیں کہ جیت ہمارا مقدر ہے کیونکہ عمران خان نے کبھی ہار ماننی نہیں اور ہم نے اپنے کپتان کو کبھی اکیلا چھوڑنا نہیں۔ تب تک #ChallengeAccepted ہے انشاءاللہ!

Jibran Ilyas

43,291 views • 10 months ago