正在加载视频...

视频加载失败

صادق اور امين كا لقب فقط آقا كريم حضرت محمد❤صل اللّٰه عليہ وآلہ وسلم رحمت للعالمين خاتم النبيين كے ليے ھے ۔۔ کیا قانون میں لکھا ہے کہ سپریم کورٹ کسی عام انسان کو یہ لقب دے سکتی ھے اگر لکھا ہے تو اسے تبدیل کریں ۔۔ اس بہن...

21,356 次观看 • 10 个月前 •via X (Twitter)

0 条评论

暂无评论

原始帖子的评论将显示在这里

相关视频

2022 کے وسط میں ہم نے یہ منظر دیکھا کہ سپریم کورٹ آدھی رات کو بیٹھی۔ رات بارہ بجے سپریم کورٹ کا اجلاس ہوا۔ کیا دنیا میں کہیں ایسا پہلے کبھی ہوا ہے کہ آدھی رات کو عدالتیں اس طرح بیٹھیں اور مقدمات کی سماعت کے لیے کارروائی شروع کر دی جائے؟ اور پھر پاکستان کے ایک وزیراعظم کو عہدے سے ہٹانے کے لیے کارروائی کی گئی اور پارلیمان کے فیصلے کو کالعدم قرار دے دیا گیا۔حالات نے ثابت کر دیا کہ عمران خان کے خلاف ایک سازش تھی۔ پھر گزشتہ ساڑھے چار برسوں میں جو کچھ ہم نے مسلسل دیکھا ہے، وہ انسانی اور بنیادی حقوق کی بے رحمانہ خلاف ورزیوں کا ایک سلسلہ ہے۔ ملک کو ایک ایسی ریاست میں تبدیل کر دیا گیا ہے جہاں خوف اور جبر کا راج ہے۔ اگر یہ کہا جائے کہ ملک کو ایک آمرانہ اور جابرانہ طرزِ ریاست میں تبدیل کر دیا گیا ہے تو غلط نہ ہوگا۔ یہاں بنیادی حقوق کا کوئی تصور باقی نہیں رہا۔ انسانی حقوق کا کوئی احترام نہیں رہا۔ آئین کی کوئی حیثیت نہیں رہی۔ قانون کی حکمرانی کا کوئی تصور باقی نہیں رہا۔ہر چیز کو بے رحمی سے پامال کیا گیا ہے۔ اور اگر حکومت یہ سمجھتی ہے کہ دنیا اس بیان یا اس نوٹ پر یقین کر لے گی، تو میرا نہیں خیال کہ دنیا 8 فروری 2024 کو ہونے والے انتخابات کو بھول گئی ہے۔ دنیا نے دیکھا کہ لوگ گھروں سے نکلے، سڑکوں پر آئے اور پھر عمران خان کے حق میں ووٹ دیا۔دنیا جانتی ہے کہ عمران خان نے 180 نشستیں جیتیں۔دنیا نے یہ بھی دیکھا کہ مسلم لیگ ن کے وزیراعظم کے پاس صرف 17 نشستیں تھیں۔ دنیا نے جمہوریت کے تصور کی ایک بے رحمانہ پامالی دیکھی، جہاں 17 نشستیں رکھنے والے شخص کو پاکستان کا وزیراعظم بنا دیا گیا، جبکہ 180 نشستیں جیتنے والا شخص 5 اگست 2023 سے جیل میں قید ہے۔ سردار لطیف کھوسہ ایڈوکیٹ

PTI

35,892 次观看 • 1 个月前

الله تعالیٰ میاں عمران ارشد کو مزید ہمت اور حوصلہ عطا فرمائیں کہ وہ معاشرے میں دینی مسئلے کے نام پر پھیلی ہوئی اس قبیح رسم "حلالہ" (دراصل زنا) کے خلاف جہاد کا ارادہ ظاہر کر رہے ہیں (آمین)- یہ انتہائی ضروری ہے کیونکہ "حلالہ" کوئی شرعی اصطلاح نہیں- عرف عام میں حلالہ کا معنی یہ ہے کہ: جب شوہر اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے دے تو اس کے بعد اس کی بیوی اس پر حرام ہوجاتی ہے- اب اگر وہ عدت گزارنے کے بعد کسی اور مرد سے نکاح کر لے اور ازدواجی تعلق بھی قائم کرلے، پھر اس کے بعد شوہر کا انتقال ہوجائے یا وہ اتفاقی طور پر طلاق دے دے تو عدت گزارنے کے بعد وہ عورت پہلے شوہر کے لیے حلال ہوجاتی ہے- تاہم اس میں طلاق کی شرط کے ساتھ حلالہ کی غرض سے نکاح کرنا مکروہ تحریمی ہے- نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا نکاح کرنے والے اور جس شخص کے لیئے یہ نکاح کیا جائے دونوں کو اللہ تعالی کی رحمت سے دور بتایا ہے- شریعت نے مرد کو تین طلاقوں کا حق دیا تھا تاکہ بوقت ضرورت وہ اپنے حق کو استعمال کرسکے لیکن جب وہ اپنا یہ حق ضائع کردے تو شریعت نے اس کے لیئے یہ سزا مقرر کی ہے کہ وہ اپنی سابقہ بیوی سے نکاح بھی نہیں کرسکتا، جب تک کہ وہ کسی اور شخص سے نکاح کے بعد ازدواجی تعلقات قائم نہ کرلے- جب اس نے شریعت کی نگاہ میں سب سے ناپسندیدہ عمل (تین طلاقوں) کا ارتکاب کیا تو شریعت نے اسے یہ سزا دی کہ اس کی بیوی اب اس پر حرام ہے- نکاح ساتھ نبھانے کیلئے کیا جاتا ہے نہ کہ کچھ وقت بعد چھوڑنے کی شرط کے ساتھ- اور اگر ایسی شرط رکھ دی جائے تو یہ نکاح نہیں بلکہ زنا ہوتا ہے-
2:39

Sensitive content

الله تعالیٰ میاں عمران ارشد کو مزید ہمت اور حوصلہ عطا فرمائیں کہ وہ معاشرے میں دینی مسئلے کے نام پر پھیلی ہوئی اس قبیح رسم "حلالہ" (دراصل زنا) کے خلاف جہاد کا ارادہ ظاہر کر رہے ہیں (آمین)- یہ انتہائی ضروری ہے کیونکہ "حلالہ" کوئی شرعی اصطلاح نہیں- عرف عام میں حلالہ کا معنی یہ ہے کہ: جب شوہر اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے دے تو اس کے بعد اس کی بیوی اس پر حرام ہوجاتی ہے- اب اگر وہ عدت گزارنے کے بعد کسی اور مرد سے نکاح کر لے اور ازدواجی تعلق بھی قائم کرلے، پھر اس کے بعد شوہر کا انتقال ہوجائے یا وہ اتفاقی طور پر طلاق دے دے تو عدت گزارنے کے بعد وہ عورت پہلے شوہر کے لیے حلال ہوجاتی ہے- تاہم اس میں طلاق کی شرط کے ساتھ حلالہ کی غرض سے نکاح کرنا مکروہ تحریمی ہے- نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا نکاح کرنے والے اور جس شخص کے لیئے یہ نکاح کیا جائے دونوں کو اللہ تعالی کی رحمت سے دور بتایا ہے- شریعت نے مرد کو تین طلاقوں کا حق دیا تھا تاکہ بوقت ضرورت وہ اپنے حق کو استعمال کرسکے لیکن جب وہ اپنا یہ حق ضائع کردے تو شریعت نے اس کے لیئے یہ سزا مقرر کی ہے کہ وہ اپنی سابقہ بیوی سے نکاح بھی نہیں کرسکتا، جب تک کہ وہ کسی اور شخص سے نکاح کے بعد ازدواجی تعلقات قائم نہ کرلے- جب اس نے شریعت کی نگاہ میں سب سے ناپسندیدہ عمل (تین طلاقوں) کا ارتکاب کیا تو شریعت نے اسے یہ سزا دی کہ اس کی بیوی اب اس پر حرام ہے- نکاح ساتھ نبھانے کیلئے کیا جاتا ہے نہ کہ کچھ وقت بعد چھوڑنے کی شرط کے ساتھ- اور اگر ایسی شرط رکھ دی جائے تو یہ نکاح نہیں بلکہ زنا ہوتا ہے-

Amir H. Qureshi

56,612 次观看 • 19 天前

🚨🚨🚨 مجھے اس بات کی خوشی ہے کہ میں عمران خان کی حکومت میں آزاد ہوئی، انہوں نے مجھے فرانس بھیجا، آسیہ ملعونہ اس وقت عمران نیازی اور اس کے ذہنی غلام شخصیت پرست یوتھیے بھاولے ہو رہے تھے کہ یہ عدالت کا فیصلہ ہے اس میں حکومت یا عمران خان کا کوئی قصور نہیں ہے، حالانکہ ریکارڈ پر ہر چیز موجود ہے جیسے کہ عمران نیازی نے امریکہ میں خود کیمرے کے سامنے اعتراف کیا کہ ہم نے ایک مذہبی سیاسی جماعت کے قائدین کو جیلوں میں ڈالا اور آسیہ کی رہائی ممکن بنائی، عمران نیازی نے یہ بھی کہا کہ اس سے پہلے کسی اور حکومت نے یہ جرت نہیں کی کہ اس کو رہا کر کے باہر بھیجتے یہ کام میری حکومت نے کیا ہے، پہلے تو کہہ رہے تھے یہ عدالت کا فیصلہ ہے پھر خود ہی اپنی زبان سے اقرار کہ کہاں ہم نے رہا کروایا۔ اب کل بلہ کیس پر سپریم کورٹ نے فیصلہ سنا دیا بلہ پی ٹی آئی سے چھن گیا، اب یہ بھی تو سپریم کورٹ کا فیصلہ ہے۔ منافقوں
0:30

Sensitive content

🚨🚨🚨 مجھے اس بات کی خوشی ہے کہ میں عمران خان کی حکومت میں آزاد ہوئی، انہوں نے مجھے فرانس بھیجا، آسیہ ملعونہ اس وقت عمران نیازی اور اس کے ذہنی غلام شخصیت پرست یوتھیے بھاولے ہو رہے تھے کہ یہ عدالت کا فیصلہ ہے اس میں حکومت یا عمران خان کا کوئی قصور نہیں ہے، حالانکہ ریکارڈ پر ہر چیز موجود ہے جیسے کہ عمران نیازی نے امریکہ میں خود کیمرے کے سامنے اعتراف کیا کہ ہم نے ایک مذہبی سیاسی جماعت کے قائدین کو جیلوں میں ڈالا اور آسیہ کی رہائی ممکن بنائی، عمران نیازی نے یہ بھی کہا کہ اس سے پہلے کسی اور حکومت نے یہ جرت نہیں کی کہ اس کو رہا کر کے باہر بھیجتے یہ کام میری حکومت نے کیا ہے، پہلے تو کہہ رہے تھے یہ عدالت کا فیصلہ ہے پھر خود ہی اپنی زبان سے اقرار کہ کہاں ہم نے رہا کروایا۔ اب کل بلہ کیس پر سپریم کورٹ نے فیصلہ سنا دیا بلہ پی ٹی آئی سے چھن گیا، اب یہ بھی تو سپریم کورٹ کا فیصلہ ہے۔ منافقوں

Khawaja Yaseen Usmani

73,638 次观看 • 2 年前

آج سے ٹھیک 44 سال پہلے، فروری 1982 میں، اسرائیل کے ایک عبرانی جریدے "کیوونیم" میں ایک مقالہ شائع ہوا تھا۔ لکھنے والا کوئی عام آدمی نہیں تھا، بلکہ اسرائیل کی وزارتِ خارجہ کا ایک سابق سینیئر اہلکار اور سٹریٹجک تجزیہ کار تھا۔ اس کا نام تھا اووڈ نیون (Oded Yinon)۔ اس مقالے کا عنوان تھا: "1980 کی دہائی میں اسرائیل کے لیے ایک حکمتِ عملی"۔ دنیا آج اسے "ینون پلان" کے نام سے جانتی ہے۔ اس منصوبے کا لبِ لباب صرف ایک تھا: "اگر اسرائیل کو مشرقِ وسطیٰ پر ہمیشہ کے لیے حکمرانی کرنی ہے، تو اسے اپنے اردگرد موجود تمام عرب ممالک کو نسلی، لسانی اور مسلکی بنیادوں پر ٹکڑے ٹکڑے کرنا ہو گا تاکہ 'گریٹر اسرائیل' کا خواب پورا ہو سکے" ۔اووڈ نیون کا استدلال بڑا سادہ لیکن ہولناک تھا۔ اس کا کہنا تھا کہ پہلی جنگِ عظیم کے بعد برطانیہ اور فرانس نے "سائکس-پیکو معاہدے" کے تحت جو عرب دنیا بنائی، وہ ریت کی دیوار ہے۔ یہ ممالک اندر سے کھوکھلے ہیں کیونکہ ان میں مختلف مسالک، نسلیں اور قومیتیں زبردستی ایک سرحد کے اندر بند کر دی گئی ہیں۔ نیون نے لکھا کہ اسرائیل کا اصل ہدف یہ ہونا چاہیے کہ وہ ان اندرونی دراڑوں کو اتنی ہوا دے کہ یہ ممالک خود اپنے ہی اندرونی خلفشار سے تباہ ہو جائیں۔اس نے باقاعدہ ایک ایک ملک کا نام لے کر خاکہ پیش کیا۔ اس نے لکھا کہ عراق اسرائیل کے لیے سب سے بڑا فوجی خطرہ ہے، لہٰذا اس کے تین ٹکڑے کر دیے جائیں: شمال میں کُردوں کی الگ ریاست، وسط میں سنیوں کا علاقہ، اور جنوب میں شیعہ ریاست۔ اس نے لکھا کہ شام کو اس کی علوی، دروز اور سنی آبادی کی بنیاد پر چھوٹی چھوٹی کمزور ریاستوں میں بانٹ دیا جائے۔ اس نے لبنان کے بکھراؤ کی بات کی اور مصر کی معیشت کو اس حد تک توڑنے کی تجویز دی کہ وہ کبھی جزیرہ نما سینا پر اپنا حق نہ جتا سکے۔ آج 2026 میں، اگر ہم مشرقِ وسطیٰ کے نقشے پر نظر ڈالیں، تو کلیجہ منہ کو آتا ہے۔ اووڈ نیون نے 1982 میں جو کچھ کاغذ پر لکھا تھا، وہ آج ہمارے سامنے حقیقت بن کر ناچ رہا ہے۔ صدام حسین کا وہ طاقتور عراق کہاں گیا؟ آج وہ عملی طور پر تین حصوں میں بٹ چکا ہے۔ شام کا کیا حشر ہوا؟ پچھلے پندرہ سالوں سے جاری خانہ جنگی نے شام کو کھنڈر بنا دیا اور وہاں مختلف نسلی گروہ اپنی اپنی بقا کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ لیبیا، یمن اور لبنان کی صورتحال دیکھ لیں۔ کیا یہ سب کچھ اتفاقیہ ہے؟ جی نہیں! یہ اسی ینون پلان کی حرف بہ حرف تعمیل ہے جس پر مغربی طاقتوں اور اسرائیل نے مل کر کام کیا۔ عرب دنیا کا سب سے بڑا المیہ یہ رہا کہ انہوں نے کبھی اپنے دشمن کی سوچ کو پڑھنے کی زحمت ہی نہیں کی ۔ جب اسرائیل کے معروف دانشور اسرائیل شاہاک نے اس منصوبے کا انگریزی ترجمہ کر کے دنیا کے سامنے رکھا، تو عرب حکمرانوں نے اسے محض ایک "خیالی پلاؤ" کہہ کر مسترد کر دیا آج عرب دنیا کی آپسی نااتفاقی اس بات کا ثبوت ہے کہ دشمن اپنی سٹریٹجی میں کامیاب ہو چکا ہے۔ انہوں نے مسلمانوں کو مسلمانوں سے لڑا کر، شیعہ سنی کی خلیج کو وسیع کر کے، اور نسلی تعصبات کو ابھار کر پورا خطہ بارود کے ڈھیر میں تبدیل کر دیا۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر اسرائیل کی سٹریٹجی کو ناکام کرنے اور عرب دنیا کو متحد کرنے کی بھرپور کوشش کر رہا یہی وجہ ہے کہ یہودیوں کے لیے کانٹا ہے

حِجاب رندھاوا H.R

36,140 次观看 • 14 天前

بریکنگ نیوز 🚨معید پیرزادہ کا شاندار، زبردست تجزیہ۔ ملٹری اسٹیبلشمنٹ کی بڑی گیم ایکسپوز کردی۔ سپریم کورٹ کی طرف سے خان کی ہسپتال منتقلی دو دنوں میں کرنے کے پیچھے چھپی اصل سٹوری بریک کر ڈالی 🔥🔥 سپریم کورٹ نے دو دن کیوں دیے؟ کیونکہ اگر یہ فیصلہ سپریم کورٹ کر رہی ہے پیشِ نظر عمران خان کی صحت اور ان کی کریٹیکل کنڈیشن اور میڈیکل سچوئیشن پہ۔ پھر سپریم کورٹ یہ کیوں کہتی ہے کہ ان کو دو دن کے اندر اندر آپ اڈیالہ جیل سے شفا ہسپتال میں منتقل کریں؟ سپریم کورٹ کو تو فیصلہ یہ کرنا چاہیے تھا کہ فوری طور پہ فارمر پرائم منسٹر آف پاکستان، in view of his Health Conditions اور جو ہم نے صورتحال دیکھی ہے، انکی زندگی کو خطرہ ہے۔ فوری طور پہ ہر قسم کے ٹیسٹ کرنے کے لیے میڈیکل بورڈ بنایا جائے اور فوری طور پہ عمران خان کو اڈیالہ جیل سے شفا ہسپتال کے اندر منتقل کیا جائے۔ اور یہ دو دن دینے جو ہیں، اب مجھے یہ سمجھ آتی ہے کہ دو دن دینا جو ہے وہ بہت سسپیشس (مشکوک) تھے، جیسا کہ میں بارہا کہہ چکا ہوں اور ہر دفعہ بہت سے لوگوں کو غصہ آتا ہوگا جب میں کہتا ہوں کہ پاکستان میں عدالت نام کی کوئی چیز نہیں ہے، یہ فیصلے سارے کے سارے ملٹری آفیسرز کرتے ہیں، جنرل عاصم منیر صاحب یہ فیصلے کر رہے ہیں۔ تو اس کا مطلب ہے کہ اس فیصلے کے اندر ہی ایک لوجک اور ایک سپیس رکھی گئی کھیلنے کے لیے۔ یہ وقت یہاں دیا گیا دو دن کا تاکہ ن لیگ (PML-N) اور پیپلز پارٹی (PPP) کے ساتھ اگر کوئی معاملے پھنسے ہوئے ہیں، کیونکہ اس وقت ایک پارلیمنٹ کا سیشن شروع ہے، خبر ہے نئے پروونسز (صوبوں) کے بننے کی بات ہونی ہے، 28 ویں ترمیم کی بات ہونی ہے، تو ایک خبر ان کو نکالی گئی سپریم کورٹ آف پاکستان سے۔ یہ دو دن کا وقت دینا جو ہے نا اس کی کوئی سینس نہیں بنتی تھی سپریم کورٹ کی طرف سے۔ دو دن کا مطلب یہ ہے کہ آپ نے وقت دیا ن لیگ کو، پیپلز پارٹی کو سوچنے کے لیے، اگر ان کی کوئی ریزرویشنز (تحفظات) تھیں اس اسٹیج پہ جنرل عاصم منیر کے ساتھ، ان کی اس حوالے سے ہو سکتا ہے وہاں پہ کوئی ان کی بات چیت ہو گئی ہو، کوئی انہوں نے سرنڈر کر دیا ہو۔ کیونکہ ن لیگ والے بڑے سیانے ہیں، یہ جو ریویو انہوں نے فائل کیا ہے سپریم کورٹ آف پاکستان میں، اس کے پیچھے پوری ایک گیم ہے۔ یہ کبھی بھی اتنے کچے کھلاڑی نہیں ہیں کہ یہ ہوا میں ایک تیر ماریں گے۔ اس کا مطلب ہے کہ ان کی پہلے کوئی بات ہو گئی ہے اور اب انہوں نے ایک ریویو فائل کر دیا ہے۔

‏زہـــرہ لیــاقت

148,877 次观看 • 1 个月前

پاکستانی اشرافیہ کے بچوں کا پروٹوکول اور ڈالہ کلچر ایک ایسی حقیقت ہے جو ہمارے معاشرے میں عام لوگوں کو احساس کمتری میں مبتلا کر رہی ھے اور معاشرے میں تقسیم پیدا کر رہی ھے۔ ایسے شاہانہ پروٹوکول طبقاتی تقسیم کو ننگا کرتے ہیں۔ جب عام آدمی کا بچہ سکول جاتے ہوئے ٹریفک میں پھنس جاتا ہے، یا بیمار ہو کر سرکاری ہسپتال کے باہر گھنٹوں انتظار کرتا ہے، تو اسی وقت اشرافیہ کے بچے سرکاری گاڑیوں کے جھنڈوں، مسلح محافظوں اور پولیس کی سرخیاں بچھا کر سڑکوں پر بادشاہوں کی طرح گھوم رھے ہوتے ہی۔ یہ پروٹوکول صرف حفاظت کا نام نہیں، بلکہ ایک نمائشی طاقت اور مراعات کا کھیل ہے۔ بچوں کی تعلیم اور علاج کے لیے ٹیکس چھوٹ اور مفت سہولیات، سرکاری وسائل پر بیرون ملک دورے اور شاپنگ، ٹریفک روک کر راستہ صاف کرانا، جبکہ عام شہری کی ایمبولینس کو بھی راستے میں کھڑا کر دیا جاتا ھے، یہ سب کس کے پیسوں سے؟؟ اسی غریب، مزدور اور متوسط طبقے کے ٹیکس سے، جس کے بچوں کو ایسا پروٹوکول تو دور کوئی بنیادی سہولیات بھی نہیں ملتی، اشرافیہ کے بچوں کو یہ حق دے دیا گیا ھے کہ پورا نظام ان کی سہولت کے لیے رک جائے۔۔ یہ مراعات نہیں، ظلم ہے۔ یہ طبقاتی تفریق ہے جو معاشرے کو کھوکھلا کر رہی ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ ہم سوال کریں۔ کیا ایک بچے کی جان دوسرے بچے سے زیادہ قیمتی ہے صرف اس لیے کہ اس کے والد کی کرسی اونچی ہے؟ یا وہ بہت پیسے والا ھے؟ یا پھر اسکے والد کے بہت تعلقات ہیں؟ آئین پاکستان کے مطابق امیر غریب سب برابر ہیں۔ تو پھر یہ سب کیوں؟ خدارا یہ پروٹوکول ختم کریں، مراعات ختم کریں اور وسائل کو عام عوام تک پہنچائیں جہاں سے یہ آئے ہیں۔ #طبقاتی_انصاف #پروٹوکول_ختم_کرو

چوہدری شاہد محمود

17,651 次观看 • 8 个月前