Video wird geladen...

Video konnte nicht geladen werden

Zur Startseite

صاف ستھرا پنجاب کے عملے کی اداکاری ایک ملازم ایک جگہ سے کوڑا اٹھا کر دوسری جگہ رکھتا ہے پھر اسے اٹھاتا ہے اس دوران تصاویر بنتی ہیں اور کارکردگی رپورٹ اوپر بھجوا دی جاتی ہے۔

24,029 Aufrufe • vor 4 Monaten •via X (Twitter)

0 Kommentare

Keine Kommentare verfügbar

Kommentare vom Original-Post werden hier angezeigt

Ähnliche Videos

عموماً لوگوں کے ذہن میں اینجیوپلاسٹی اور اسٹنٹ کے حوالے سے بہت سے خدشات اور سوالات ہوتے ہیں۔ پتہ نہیں یہ پروسیجر کیسے ہوتا ہے، کتنی تکلیف ہوتی ہے، اسٹنٹ کیسا ہوتا ہے، کہاں لگتا ہے اور دل کی نالی میں کیسے پہنچایا جاتا ہے۔ چونکہ اب یہ پروسیجر بہت عام اور محفوظ ہو چکا ہے، اس لیے آج ہم نے اپنی ایک بزرگ مریضہ کی اجازت سے ایک مختصر ویڈیو ریکارڈ کی ہے تاکہ آپ اس پورے عمل کو آسان انداز میں سمجھ سکیں۔ اینجیوپلاسٹی کے آغاز میں مریض کے ہاتھ میں ایک کینولا لگایا جاتا ہے۔ اسی راستے سے ایک باریک ٹیوب، جسے کیتھیٹر کہا جاتا ہے، دل کی نالیوں کے دہانے تک پہنچائی جاتی ہے۔ اس کیتھیٹر کے ذریعے ہلکی سی ڈائی دی جاتی ہے تاکہ اسکرین پر دل کی نالیوں کی تصویریں واضح نظر آئیں اور معلوم ہو سکے کہ تنگی کہاں موجود ہے۔ اس کے بعد ایک نہایت باریک وائر نالی کے اندر سے گزارتے ہوئے تنگ حصے کو کراس کر کے آگے نارمل حصے تک پہنچائی جاتی ہے۔ پھر اسی وائر کے اوپر ایک چھوٹا سا بیلون لے جایا جاتا ہے جو تنگ جگہ پر راستہ بنانے میں مدد دیتا ہے۔ بعد ازاں اسی وائر کے ذریعے اسٹنٹ مطلوبہ مقام تک پہنچایا جاتا ہے۔ جب اسٹنٹ بالکل تنگی والی جگہ پر آ جاتا ہے تو بیلون کو پھلا کر اسٹنٹ کو نالی میں مکمل طور پر کھول دیا جاتا ہے۔ یوں اسٹنٹ نالی کی دیوار کا حصہ بن جاتا ہے اور خون کا بہاؤ بحال ہو جاتا ہے۔ پھر بیلون اور باقی آلات باہر نکال لیے جاتے ہیں اور پروسیجر مکمل ہو جاتا ہے۔ اسی تمام عمل کی مختصر مگر مکمل تفصیل اس ویڈیو میں دکھائی گئی ہے۔ امید ہے کہ اس سے آپ کو اینجیوپلاسٹی اور اسٹنٹ کے بارے میں بہتر آگاہی ملے گی اور آپ یہ پیغام دوسروں تک بھی پہنچا سکیں گے کہ یہ کوئی خوفناک یا پیچیدہ عمل نہیں بلکہ ایک محفوظ، مؤثر اور نسبتاً سادہ پروسیجر ہے جو روزانہ ہزاروں مریضوں میں کامیابی سے انجام دیا جاتا ہے۔

Yasir Bashir

14,282 Aufrufe • vor 3 Monaten