Video wird geladen...

Video konnte nicht geladen werden

Zur Startseite

صبا فیصل کے بجائے نادیہ جمیل جیسی خواتین کو ٹی وی پہ زیادہ جگہ ملنی چاہیئے تا کہ معاشرے کی اصلاح ہو سکے اور روایتی جملوں اور بہووں کے بجائے بیٹوں کی بطور شوہر تربیت پر بھی فوکس کیا جائے۔

42,633 Aufrufe • vor 9 Monaten •via X (Twitter)

0 Kommentare

Keine Kommentare verfügbar

Kommentare vom Original-Post werden hier angezeigt

Ähnliche Videos

ترکی کی خواتین مسجدِ اقصیٰ کے مسلسل بند رہنے اور اس کی توہین کے خلاف ترک مردوں کی خاموشی اور بے حسی پر شدید احتجاج کر رہی ہیں۔ فاتح مسجد استنبول میں تراویح کی نماز کے دوران انہوں نے اضافی سرپوش (حجاب یا دوپٹے) مردوں کی طرف پھینک کر انہیں غیرت مند بننے، بیدار ہونے اور اپنی ذمہ داری نبھانے کی تلقین کی۔ ترک معاشرے میں یہ علامتی عمل مردوں کی عزت و غیرت کی حفاظت اور انہیں چیلنج کرنے کا ایک روایتی طریقہ مانا جاتا ہے، جو یہ پیغام دیتا ہے کہ "اقصیٰ کو حقیقی مردوں کی ضرورت ہے"۔ اسی طرح پاکستانی خواتین کو بھی چاہیے کہ وہ چوڑیاں پھینک کر احتجاج کریں، خاص طور پر فوجی اور عسکری مساجد میں۔ اس سے ان نام نہاد مردوں کو احساس دلایا جا سکتا ہے کہ مسجدِ اقصیٰ کی توہین اور اس کے بند ہونے پر ان کی بھی ذمہ داری ہے۔ ساتھ ہی یہ یاد دلایا جائے کہ بے بس افغان قوم سے لڑنے کے بجائے انہیں حقیقی ظلم کے خلاف میدان میں اترنا چاہیے، جہاں مسلمانوں کے پہلے قبلے پر ظلم ہو رہا ہے؛ نہ کہ بزدلی سے معصوم بچوں، عورتوں اور مریضوں کو نشانہ بنا کر خود کو مجاہد تصور کرنا۔

Sabine Kayani || سبین کیانی ||

28,540 Aufrufe • vor 6 Monaten