Loading video...

Video Failed to Load

Go Home

صبح جن بزرگ کا بتایا تھا، اور چیک اپ کروانے کا کہا ابھی وہ کام بھی مکمل ہوگیا گھر سے رکشہ میں واجد لے گیا آکر اور 34 کلومیٹر دور بھوآنہ میں ڈاکٹر رحمت اللہ کے کلینک لے گیا ڈاکٹر صاحب ہر دفعہ خصوصی شفقت کرتے اور مریضوں کو...

16,099 views • 1 month ago •via X (Twitter)

0 Comments

No comments available

Comments from the original post will appear here

Related Videos

محسن نقوی نے عمران خان کے علاج کے معاملے پر علیمہ خان کی سیاست اور بیرسٹر گوہر کی بیچارگی کو کھول کر رکھ دیا۔۔ 👇👇👇👇👇 ہم نے کہا عمران خان کا چیک اپ کرنا ہے، ساتھ جانے کے لیے آپ اپنے ڈاکٹر کا نام دے دیں جواب میں کہا گیا ڈاکٹر نہیں فیملی کا بندہ لے جائیں، پھر ہمیں قاسم زمان کا نام دیا گیا۔ ہم نے کہا ٹھیک ہے۔ پھر کہا گیا آپ پہلے ایک ہفتے کے لیے عمران خان کو اسپتال منتقل کر دیں تو ہم مانیں گے۔ میں نے جواب دیا ایک نہیں دو ہفتے کے لیے کر عمران خان کو اسپتال بھیج دیں گے اگر ڈاکٹرز کہیں گے تو۔۔ تین روز تک ان کی وجہ سے عمران خان کا چیک اپ ڈیلے ہوا۔۔ ہم نے چیک اپ کے دن بیرسٹر گوہر کو انفارم کیا کہ آپ جیل آ جائیں ڈاکٹرز کے ساتھ آپ اندر چلے جائیں اور خود چیک اپ کے دوران آپ وہاں رہیں،، اڑھائی بجے کا انہیں ٹائم دیا، ایک گھنٹہ اڈیالہ میں انتظار کرتے رہے مگر پھر بیرسٹر گوہر نے جواب دیا کہ پارٹی سے مشاورت ہوئی ہے میں نہیں آ سکتا۔۔ ان کے انکار اور چیک کے اپ کے بعد ہم نے پھر رابطہ کیا کہ قائد حزب اختلاف قومی اسمبلی، قائد حزب اختلاف سینیٹ اور بیرسٹر گوہر تینوں آ جائیں اپنے ڈاکٹرز کو بھِی لے آئیں۔۔ جواب ملا کہ ڈاکٹرز تو لاہور میں ہیں۔ اپوزیشن لیڈر سینیٹ اور بیرسٹر گوہر پمز آئے اور ان کے ڈاکٹرز فون پر تھے، ڈیڑھ گھنتہ بریفنگ ہوئی، ان کے ڈاکٹرز نے کہا بہترین علاج ہو رہا ہے ہم مطمئن ہیں۔ اس موقع پر میں نے پھر کہا کہ اپنے ڈاکٹرز سے پوچھیں کہ کوئی ایسا ٹیسٹ رہ گیا ہے جو آپ کے ڈاکٹرز کروانا چاہئیں ہم تیار ہیں۔۔ اس کے بعد جب سب واپس گئے تو علیمہ خان نے پارٹی کے لوگوں کو کہا اور یہ ہمارے پاس موجود ہے کہ اگر ہم سب کچھ مان گئے تو ایشو ختم ہو جائے گا۔۔ علیمہ خان کی وجہ سے تین دن تک عمران خان کا چیک اپ نہیں ہو سکا، پی ٹی آئی کے سیاسی لیڈر عمران خان کے علاج پر آن بورڈ ہوتے تھے مگر علیمہ خان ہر چیز کو ویٹو کر دیتی تھیں۔ ان کی اپنی نیت میں کھوٹ ہے۔

Mudassar Saeed

23,323 views • 7 months ago

جب ہمیں پمز پہنچایا گیا تو میں نے پوچھا کہ سپریم کورٹ کا آرڈر تو شفا انٹرنیشنل کا تھا ، تو مجھے کہا گیا کہ عمران خان کا فالو اپ چیک اپ ہونا تھا ، اس لیے یہاں لائے، مکمل اندھیرا تھا ، ہمارے پاس موبائل نہیں تھا کیونکہ جیل میں موبائل لے جانے کی اجازت نہیں ہوتی ، پندرہ منٹ گاڑی میں مجھے بٹھائے رکھا ، پھر کہا کہ ڈاکٹر صاحبہ آپ آجائیں، مکمل اندھیرا تھا ، موبائل ٹارچ پر راستہ دکھاتے ہوئے او پی ڈی کے راستے مجھے ایک آفس لے جایا گیا اور وہاں بٹھایا گیا۔ اس کے بعد مجھے اوپر ایک کمرے میں لے گئے ، عمران خان بھی حیران تھے ، عمران خان مجھے ملے پیار کیا اور کہا کہ میں دس ماہ بعد اپنی بہن سے مل رہا ہوں، میں نے عمران خان کو بتایا کہ یہاں فالو اپ چیک اپ کے بعد ہم شفا انٹرنیشنل جائیں گے، وہاں آپ کے مکمل ٹیسٹ ہوں گے ، پھر ہمیں ایک دفتر لے گئے ، جہاں ڈاکٹر عارف نے عمران خان کی آنکھ کا معائنہ کیا ، آفس میں چیک اپ کیا ، آئی ڈراپس کا پوچھا کہ کونسی ڈال رہے ہیں؟ عمران خان نے کہا مجھے نام یاد نہیں، میں نے ڈاکٹرز سے کہا کہ آپ کو نام نہیں معلوم کہ آپ نے کونسے لکھ کے دیے ہیں؟ پریسکپن نہیں ہے آپ کے پاس ؟ ڈاکٹر ایک دوسرے کو دیکھتے رہے ، ڈاکٹر عظمیٰ خان

PTI

188,341 views • 1 month ago

”آج جمعہ،6 فروری 2026 ہے۔ عمران خان صاحب کی فیملی کی جانب سے میرے ساتھ ایک رپورٹ شیئر کی گئی، جو آج ہی کی تاریخ میں پاکستان انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز، اسلام آباد سے جاری کی گئی ہے۔ اس رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ عمران خان صاحب کی آنکھ کی تکلیف کے لیے کون سے ٹیسٹس کیے گئے، لیکن ان ٹیسٹس کی رپورٹس یا رزلٹس کے بارے میں کوئی ذکر موجود نہیں ہے۔ رپورٹ میں یہ بتایا گیا ہے کہ تشخیص کے مطابق عمران خان صاحب کو سینٹرل ریٹینل وین اوکلوژن ہوا ہے۔ یہ وہی تکلیف ہے جس کا ذکر پہلے بھی میڈیا میں آ چکا ہے، جس میں آنکھ سے خون واپس لے جانے والی شریان میں خون جم جاتا ہے۔ یہ بھی بتایا گیا ہے کہ علاج کے طور پر ایک آنکھ کے اندر ایک خاص دوا کا انجیکشن لگایا گیا، جو اس بیماری میں عام طور پر استعمال کی جاتی ہے۔ ہمیں جو تشویش پہلے بھی تھی، اور جس کا ہم نے پہلے ذکر کیا تھا، وہ یہ ہے کہ خان صاحب کی آنکھ کے علاج کے لیے یہ نہایت ضروری ہے کہ انہیں ریٹینل اسپیشلسٹ دیکھے۔ اس حوالے سے رپورٹ میں کوئی ذکر موجود نہیں ہے۔ رپورٹ میں یہ ضرور لکھا گیا ہے کہ کوالیفائیڈ اور ایکسپیرینسڈ آف Ophthalmologists نے انہیں دیکھا، یعنی آنکھ کے ماہرین نے معائنہ کیا، لیکن ہر آنکھ کا ماہر اس بیماری کا علاج نہیں کرتا۔ ہمیشہ بہتر ہوتا ہے کہ ایسے مریض کو ریٹینل اسپیشلسٹ دیکھے۔ جبکہ ایسے ڈاکٹرز ہمارے ملک میں دستیاب ہیں اور ہر بڑے شہر میں موجود ہیں، اس لیے ہم دوبارہ امید کرتے ہیں کہ ریٹینل اسپیشلسٹس کو بلایا جائے گا تاکہ وہ خان صاحب کا معائنہ، ایویلیوایشن اور علاج کر سکیں۔ رپورٹ میں یہ بھی لکھا گیا ہے کہ فالو اپ کی ضرورت ہے، اور یقیناً وہ پلان بھی کیا گیا ہوگا، لیکن اس کی کوئی تفصیل موجود نہیں کہ فالو اپ کب ہوگا اور اس دوران کیا علاج کیا جائے گا۔ ایک اور نہایت اہم پہلو یہ ہے، جس کا پہلے بھی ذکر کیا جا چکا ہے، کہ اس بیماری کے پیچھے اکثر کوئی اور میڈیکل کنڈیشن ہوتی ہے، جس کی وجہ سے یہ مسئلہ پیدا ہوتا ہے۔ رپورٹ میں اس حوالے سے کوئی ذکر نہیں کہ آیا کسی میڈیکل اسپیشلسٹ نے خان صاحب کو دیکھا، کوئی متعلقہ ٹیسٹس کیے گئے، یا اگر کوئی ایسی میڈیکل کنڈیشن سامنے آئی ہے تو اس کا کوئی علاج شروع کیا گیا یا نہیں۔ میں دوبارہ زور دینا چاہتا ہوں کہ یہ ایک بہت سنجیدہ بیماری ہے، اور اس سے آنکھ کو مستقل نقصان پہنچ سکتا ہے۔ ہم ابھی خطرے سے باہر نہیں آئے، اور مزید فالو اپ اور علاج کی اشد ضرورت ہے۔ آخر میں، میں ایک بار پھر اپیل کرتا ہوں کہ مجھے رسائی دی جائے۔ میں گزشتہ تقریباً پچیس سال سے عمران خان صاحب کا پرسنل فزیشن ہوں، اور میرے ساتھ ساتھ دستیاب اسپیشلائزڈ، کوالیفائیڈ اور ٹرینڈ ریٹینل اسپیشلسٹس کو بھی اجازت دی جائے تاکہ ہم خان صاحب کی دیکھ بھال میں شامل ہو سکیں اور یہ یقینی بنا سکیں کہ انہیں بہترین ممکنہ علاج فراہم کیا جا رہا ہے “ ڈاکٹر عاصم یوسف #FreeTheSoulOfPakistan #AllowAccessToImranKhan

Jibran Ilyas

65,792 views • 7 months ago

حالت ہماری یہ ہو چکی ہے کہ ڈاکٹر عاصم یوسف، ڈاکٹر فیصل سلطان اور ڈاکٹر ثمینہ نیازی (عمران خان صاحب کے تین ذاتی معالجین) نے جیل میں عمران خان صاحب کا چیک اپ کیا۔ اسلام آباد ہائی کورٹ کے 29 اکتوبر 2024 کے جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب کے حکم پر میڈیکل بورڈ تشکیل دیا گیا تھا۔ اس کے علاوہ ٹرائل کورٹس اور دیگر عدالتوں نے بھی بارہا یقینی بنایا کہ عمران خان صاحب کا میڈیکل چیک اپ ان کے ذاتی ڈاکٹروں سے کروایا جائے اور اس حکم پر عمل بھی کروایا گیا۔ ڈاکٹر عاصم یوسف، ڈاکٹر فیصل سلطان اور ڈاکٹر ثمینہ نیازی نے جیل میں چیک اپ کیا، علاج کیا اور یہ سب لوئر کورٹس اور سیشن کورٹ کے احکامات پر ہوا۔ لیکن جب اسلام آباد ہائی کورٹ کی باری آتی ہے تو عدالتوں کے فیصلوں پر عملدرآمد ہی نہیں ہوتا۔ آج تین رکنی بینچ فیصلہ دیتا ہے مگر اڈیالہ روڈ پر اس کی دھجیاں اڑا دی جاتی ہیں۔ ہماری ہائی کورٹس کا معیار اور وقار اس قدر گر گیا ہے کہ تین ججز یا دو ججز بیٹھ کر فیصلہ دیتے ہیں اور ایک عام سرکاری اہلکار اسے ردی کی ٹوکری میں پھینک دیتا ہے، صرف اس لیے کہ 26ویں اور 27ویں ترامیم کے بعد ججز کو اس طرح بٹھایا گیا جنہیں نہ اپنے ادارے کا خیال ہے، نہ اپنی ذات کا، نہ عہدے کا اور نہ وقار کا۔ عمران خان صاحب کی ضمانت کی درخواست کی سماعت ہمیشہ لٹکائی جاتی ہے۔ میں مخصوص کیسز یا مخصوص وکلاء کا ذکر نہیں کروں گا جن کی سماعتیں برق رفتاری یا جیٹ انجن کی رفتار سے لگائی جاتی ہیں۔ میں عدلیہ سے کہنا چاہتا ہوں کہ آج عدلیہ عوام کی نظر میں عدلیہ کی بجائے انتظامیہ کا عدالتی ونگ بن چکی ہے۔ عدلیہ کو یہ تاثر جلد از جلد ختم کرنا ہوگا ورنہ عوام کی نظر میں اس کا وجود اتنا ضروری نہ رہے گا۔ وکیل قائد پاکستان تحریک انصاف خالد یوسف چوہدری Khalid Yousaf Chaudry

PTI

55,068 views • 6 months ago

ایک بار پھر عمران خان کو رات کے اندھیرے میں علاج کے لیے ہسپتال لے جایا گیا اور سرکاری پرچی پر پریس ریلیز کے نام پر رپورٹ شائع کر دی گئی۔ بظاہر پی ایم ایس ہسپتال سے جاری پریس ریلیز محض خانہ پری اور شدید انتظامی غفلت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس کی حیثیت ان پرچیوں سے زیادہ نہیں جن پر ہماری عدالتوں کو بنے بنائے فیصلے موصول ہوتے ہیں۔ 15 جون 2026 کو 74 سالہ عمران خان کو پانچویں انٹراوٹرل انجکشن کے لیے ہسپتال لایا گیا اور سطحی معائنے کے بعد ڈے کیئر پروسیجر کے نام پر فوراً فارغ کر دیا گیا۔ نہ مرض کا نام، نہ ڈاکٹر کی شناخت، نہ علاج کی تفصیل۔ رات کے اندھیرے میں عدالتیں لگنے کے بعد وہ کون سی پراسرار قوتیں ہیں جو پی ایم ایس ہسپتال میں ایسی سہولیات مہیا کرتی ہیں جن کا وہاں وجود نہیں۔ پرچی میں آنکھ کی اصل بیماری، کس آنکھ کا علاج، موجودہ بینائی کا معیار، او سی ٹی اسکین کی تفصیلی رپورٹ اور دی جانے والی دوا کا نام تک غائب ہے۔ سب سے خطرناک بات علاج کرنے والے ڈاکٹروں کی شناخت چھپانا اور مریض کے ذاتی معالجین یا اہل خانہ کو عمل سے دور رکھنا ہے۔ طبی نقطہ نظر سے یہ پریس بریف معلومات دینے کے بجائے اصل حقائق چھپانے کی دانستہ کوشش ہے جو صریحاً طبی غفلت کے زمرے میں آتی ہے۔ سابق وزیراعظم اور زیر حراست شخص کی صحت کے ساتھ یہ کھلواڑ اور پراسراریت برقرار رکھنا انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ بغیر کسی ٹھوس لانگ ٹرم ٹریٹمنٹ پلان کے یہ مضحکہ خیز ہتھکنڈے عمران خان کی زندگی کو خطرے میں ڈالنے کے مترادف ہیں۔ اسی لئیے اب نہیں تو کب نکلو گے! #جون_16_کو_اڈیالہ_چلو

PTI

12,556 views • 3 months ago

کئی سال پہلے میں نے حامد میر صاحب (Hamid Mir حامد میر) کے کہنے پر چینی کا بائیکاٹ #BoycottSugar کیا اور نہ صرف خود بلکہ اپنے پورے گھر اور دوستوں کو بھی اس "سفید زہر" سے دور رکھا۔ تاہم، کچھ ماہ پہلے جب میں مکمل طور پر اسلام آباد منتقل ہوا اور دوبارہ ہاسٹل لائف شروع کی، تو آمدن نہ ہونے اور اخراجات کے مسائل کے باعث مجبوری میں چینی والی چائے اور پراٹھے کا استعمال شروع کر دیا۔ ​کچھ ہی عرصے بعد اچانک میری طبیعت خراب ہو گئی۔ اللہ بھلا کرے ایک انسان دوست ڈاکٹر کا، جب میں ان کے پاس گیا تو انہوں نے پوچھا: "نوجوان! چینی کا استعمال کب سے کر رہے ہو؟" میں نے بتایا کہ ڈیڑھ ماہ سے، کیونکہ اس سے پہلے کئی سالوں تک میں نے چینی مکمل طور پر ترک کر رکھی تھی اور اب صرف ہاسٹل کی مجبوری میں استعمال کر رہا ہوں۔ اس پر ڈاکٹر صاحب نے ہدایت کی: "بیٹا! آپ دوبارہ کبھی چینی استعمال نہ کرنا۔" ​اب میں صبح کے ناشتے میں صرف ایک گلاس دودھ اور سادی روٹی لیتا ہوں اور اس سفید زہر سے جان چھڑا کر بہت پرسکون ہوں۔ اس کانفرنس میں حامد میر صاحب نے بالکل درست کہا کہ چینی واقعی ایک سفید زہر ہے اور اس کے پیچھے شوگر مافیا کا ہاتھ ہے۔ شوگر کے بہت سارے نقصانات ہیں جن میں انسولین کی کارکردگی خراب کر کے شوگر کی بیماری پیدا کرتی ہے، جسم اور پیٹ پر تیزی سے چربی جمع کرتی ہے جبکہ جگر پر چربی جما کر اسے متاثر کرتی ہے۔ ​ماہرین کے مطابق بلڈ پریشر اور شریانوں کی سوزش بڑھاتی ہے اور خون میں شوگر اچانک بڑھا کر تیزی سے گراتی ہے۔ علاوہ ازیں دانتوں میں کیڑا اور کیویٹی پیدا کرتی ہے اور جھریوں اور دانوں کا باعث بنتی ہے۔ ​بہترین متبادل: گڑ، خالص شہد، کھجور، اور اسٹیویا (Stevia) ہے۔

Malik Ramzan Isra

30,232 views • 12 days ago

پی ٹی آئی کے باجوڑ سے رکن اسمبلی ڈاکٹر حمیدالرحمن کا بڑا دعوی ہفتے کے روز ضلع باجوڑ کی تحصیل خار میں سکیورٹی فورسز سپانسر لوگوں نے دہشتگردوں کی موجودگی کی بنا پر ایک گاؤں پر چھاپا مارا اور وہاں پر چادر اور چار دیواری کے تقدس کو پامال کیا اور اس چھوٹے بچے کو اپنی ماں کی گود میں شہید کر دیا اس کے ساتھ ساتھ اس گاؤں کے جتنے گھر تھے ان سب میں جتنا کچھ موجود تھا اسے مال غنیمت کے نام پر لے گئے جس میں سونا نقدی اور کپڑے بھی شامل ہیں اس کی تمام تفصیل بھی موجود ہے سید باچا کے گھر سے دو تولے سونا اور 72 ہزار روپے لے گئے فضل حیات کے گھر سے ایک لاکھ روپے ساتھ لے گئے اور اس کے ساتھ ساتھ گھروں سے کپڑے بھی لے گئے اس کے بعد اہداف بھی حاصل نہیں کیے گئے وہاں لوگوں نے احتجاج کیا اور مطالبہ کیا کہ ان لوگوں کے خلاف انکوائری ہو کیونکہ یہ ایک بار نہیں ہوا روزانہ کی بنیاد پر ان علاقوں میں سیکیورٹی فورسز کے ادارے اور اہلکار مختلف شکلوں میں اور مختلف کپڑوں میں چادر اور چار دیواری کا تقدس پامال کرتے ہیں اس کے علاوہ ہمارے علاقے چھوٹے ماموند میں مختلف علاقے ہیں جہاں روزانہ لاشیں اٹھانا معمول ہے اس پورے ایوان کو پتہ ہے کہ جون 2025 میں باجوڑ میں آپریشن کیا گیا علاقے کلیئر کیے گئے لوگ بھی گھر ہوئے خیموں میں جا کے رہے لیکن اس کے باوجود کلیر علاقوں میں آپریشن کر رہے ہیں اور تلاشی لے رہے ہیں اور ماٹر گولی فائر کر رہے ہیں اس کا کیا مطلب ہوا؟ ایک سال میں ابھی تک وہ علاقہ کلیئر نہیں ہو سکا رکن اسمبلی ڈاکٹر حمید الرحمن

Muhammad Faheem

11,320 views • 5 months ago