Загрузка видео...

Не удалось загрузить видео

На главную

ضلع کرک کے گاؤں لتمبر میں گرلز ڈگری کالج ڈھائی سال سے تیار ہے لیکن خیبرپختونخوا حکومت اسکو شروع کرنے میں تاحال ناکام ہے۔ حالانکہ صوبائی وزیر مینا خان آفریدی نے گزشتہ سال جولائی میں کالج 1 ماہ میں شروع کرنے کی یقینی دہانی کرائی تھی لیکن اس کے...

10,770 просмотров • 7 месяцев назад •via X (Twitter)

Комментарии: 0

Нет доступных комментариев

Здесь появятся комментарии из оригинального поста

Похожие видео

لاہور شہر کی خواتین طالبات سے جُڑی تین خبریں خاتون وزیراعلی مریم نواز کی حکومت خاموش تماشائی پنجاب کالج کا کیمپس 10 گلبرگ جہاں کالج کے گارڈ نے زیرتعلیم طالبہ کا مبینہ ریپ کیا ، میڈیا سمیت کوئی پنجاب کالج کا نام چلانے کو تیار نہیں ، کالج انتظامیہ نے معاملہ دبایا الٹا اسٹوڈنٹس کو احتجاج کرنے پر ڈرایا جارہا لیکن کالج کی طالبات نے آج بھرپور احتجاج کیا ہے ، پولیس نے ملزم گرفتار کیا ہے تاحال وہ بھی نجی کالج کہہ رہے ساتھ میں ملزم کی تفصیلات نہیں دی جارہیں اگر بااثر پنجاب کالج نہ ہوتا تو انتظامیہ پولیس اور میڈیا کا یہی رویہ ہوتا ؟ اب تک کالج کے اندر کی فوٹیج اور سی سی ٹی وی تک چل چکی ہوتی ادارے کا نام پر مریم نواز جائیں پنجاب کالج اور ادارہ سیل کروائیں ساتھ میں بتائیں ابھی تک ایف آئی أر کیوں نہیں ہوسکی ؟ دوسری خبر جیل روڈ پر واقع لاہور کالج فار ویمن یونیورسٹی کی ہے جہاں مرد عملے پر مسلسل خواتین اسٹوڈنٹس کا ہراساں کرنے کا الزام ہے ، طالبات نے آج احتجاج کیا ہے اور نعرے بازی بھی یہ سرکاری ادارہ ہے یہاں ہی پنجاب حکومت کچھ کرلے یا عورت کارڈ صرف پنجاب کی پہلی خاتون وزیراعلی تک ہی چلانا ہوتا ہے ؟ تیسری خبر پنجاب یونیورسٹی سے ہے جہاں رات ہاسٹل میں طالبہ نے مبینہ خودکشی کی ہے ، بتایا جا رہا لڑکی کسی کی طرف سے بلیک میلنگ کا شکار تھی اس نے اپنی زندگی کا خاتمہ کرلیا ہے یہ لاہور شہر کا حال ہے جہاں تاریخ کی پہلی “ خاتون وزیراعلی “ ہیں

Umar Daraz Gondal

232,308 просмотров • 1 год назад

یہ میری بیٹی ہے۔ الحمدللہ اس نے حال ہی میں میٹرک کا امتحان کامیابی سے پاس کیا ہے۔ یہ بہت نیک، شریف اور فرمانبردار بچی ہے۔ اس کے والد گزشتہ دو سال سے روزگار کے سلسلے میں پردیس میں ہیں، اس لیے گھر کی تمام ذمہ داریاں میرے کندھوں پر ہیں۔ میٹرک کے امتحان کے بعد اس کا زیادہ وقت موبائل اور ٹک ٹاک ویڈیوز بنانے میں گزرنے لگا۔ ایک ماں ہونے کے ناطے مجھے فکر تھی کہ کہیں اس کی توجہ تعلیم سے نہ ہٹ جائے۔ اسی لیے میں نے فیصلہ کیا کہ اسے ایسے ماحول میں رکھا جائے جہاں وہ اپنی پوری توجہ پڑھائی پر دے سکے اور اپنے مستقبل کو بہتر بنا سکے۔ اسی مقصد کے لیے میں نے اسے کالج میں داخل کروانے اور ہاسٹل میں رکھنے کا فیصلہ کیا۔ اس سلسلے میں میں نے اپنے آفس کے باس سے بات کی۔ اللہ انہیں جزائے خیر دے، انہوں نے نہ صرف میری بیٹی کا کالج میں داخلہ کروانے میں مدد کی بلکہ ہاسٹل میں رہائش کا انتظام بھی کروا دیا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس کی تعلیم، ہاسٹل اور دیگر ضروری اخراجات کی فکر نہ کروں۔ ہاسٹل میں ان کا بیٹا بھی رہتا ہے، جو ایک اچھا اور بااخلاق لڑکا ہے، اور وہ بھی میری بیٹی کا خیال رکھے گا۔ میں اپنے باس کی اس مہربانی اور تعاون کو کبھی فراموش نہیں کر سکتی۔ اللہ تعالیٰ ایسے نیک دل انسانوں کو ہمیشہ خوش رکھے، کیونکہ آج کے دور میں دوسروں کے لیے اتنا کرنا ہر کسی کے بس کی بات نہیں۔ میری دعا ہے کہ میری بیٹی اپنی تعلیم پر پوری توجہ دے، محنت کرے اور زندگی میں بڑی کامیابیاں حاصل کرے۔

Nadia Malik🍁

22,552 просмотров • 2 месяцев назад

محترمہ مشعال یوسفزئی نے یہ جھوٹ پہلے بھی پھیلایا تھا کہ وہ اسلامیہ کالج پشاور کی پہلی خاتون صدر سٹوڈنٹ یونین رہی ہیں اور بعدازاں یکے بعد دیگرے وہ تین بار منتخب ہوئی ہیں۔ موصوفہ 2013 سے 2018 میں وہاں کی طالبہ تھیں اسلامیہ کالج پشاور میں کوئی سٹوڈنٹ یونین ہے ہی نہیں۔ موصوفہ وہاں ایک ہال جس نام خیبریونین ہال ہے اس کی سٹوڈنٹ صدر رہی ہیں۔ یہ یونین کا کام غیر نصابی سرگرمیوں کا انعقاد کراتا ہے۔ اس کے علاوہ کچھ ذاتی باتوں کا علم بھی میں رکھتا ہوں جو موصوفہ کالج ہاسٹل میں کیا کرتی تھیں۔ کس طرح وہاں چند لڑکیوں کے ساتھ مل کر موصوفہ نئی آنے والی لڑکیوں کو اپنے کمرے میں بلا کر کیا کیا کرواتی تھی ریگنگ کے نام پر اور کس نام سے ہاسٹل اور کالج میں مشہور تھیں وہ ذرا نامناسب حرکات اور القابات ہیں لہذا میں فی الحال کیلئے اس کو بیان نہیں کروں گا۔ البتہ موصوفہ ایک اور جھول سے کام لیتی ہیں کہ میں نے سو سالہ تاریخ رکھنے والے اسلامیہ کالج پشاور سے قانون کی ڈگری حاصل کی ہے یہ بھی جھوٹ ہے کیونکہ اسلامیہ کالج یونیورسٹی اور اسلامیہ کالج پشاور دو مختلف سیٹ اپ ہیں۔ جس اسلامیہ یونیورسٹی سے انہوں نے لاء کی ڈگری کی وہ 18 سال پہلے بنا ہے۔ وضاحت: یہ تمام تفصیل مشعال کے ساتھ ہی اسی ٹینیور میں مگر اس سے جونیئر رہنے والے طالبعلم کی جانب سے ہی تفصیلات ملیں ہیں جن کا نام فی الحال بتانا مناسب نہیں کیونکہ وہ اب ایک نامور نوجوان ایکٹویسٹ اور صحافی ہیں۔

Azeem Butt

19,989 просмотров • 7 месяцев назад