Loading video...

Video Failed to Load

Go Home

طارق صاحب آپ کا کہنا تھا سی ڈی اے /رندھاوا صاحب حکومت سے بالاتر ہے۔شہر محسن نقوی/رندھاوا کا ہے اس میں شہباز شریف حکومت کا عمل دخل نہیں ہے۔ اگر اسلام آباد/سی ڈی اے محسن نقوی اوررندھاوا کا ہے تو پھر شہباز شریف کس دارلخلافہ کے وزیراعظم ہیں کہ...

22,349 views • 8 months ago •via X (Twitter)

0 Comments

No comments available

Comments from the original post will appear here

Related Videos

خدا بیوروکریٹ/سی ڈی اے چیرمین محمد علی رندھاوا صاحب کو لمبی عمر دے لیکن اگر یہ ایک دو سال مزید چیرمین سی ڈی اے رہے تو یہ پورے اسلام آباد کو گنجا اور درختوں سے پاک صاف بلکہ برباد کر کے جائیں گے۔ ماحول دشمنی ان کے دور میں عروج پر ہے۔ شہر بدترین حالت میں ہے اور رندھاوا صاف کلہاڑی اٹھا کر جنگل کاٹنے نکل جاتے ہیں۔ پہلے ہم شکایت کرتے تھے کہ وزیرداخلہ/سی ڈی اے چیرمین/بابوز باہر سے آتے ہیں لہذا اس شہر کی صفائی، خوبصورتی یا ترقی سے کوئی کام نہیں ہوتا۔ رندھاوا صاحب کا پتہ چلا وہ تو یہیں کے ہیں۔ ان سے بہتر تو وہ چیرمین تھے جو یہاں کے نہیں تھے کہ انہوں نے وہ بربادی نہیں کی جو رندھاوا صاحب کے دور میں ہورہی ہے۔ وزیرداخلہ محسن نقوی سے بھی شدید گلہ ہے کہ ان کے سی ڈی اے معاملات سنبھالنے کے بعد یہاں جنگل اور درختوں کی تباہی زیادہ ہورہی ہے اور وہ ان افسران کو پروٹیکٹ کررہے ہیں جو شہر کی خوبصورتی کو تباہ کررہے ہیں۔ وزیراعظم شہباز شریف سے تو ہرگز گلہ نہیں کہ وہ تو پہلے لاہور میں اس طرح کے کام کر کے سموگ کے حوالے کر آئے تھے۔ ان کے نزدیک جنگل درخت اہم نہیں سریا سمینٹ اہم ہے۔ ماحولیات کے وزیر مصدق ملک صاحب تو امریکہ سے آئے تھے جہاں ہر طرف درخت ہی درخت ہیں وہ کہاں غائب ہیں۔ ان کا کام صرف ٹی وی شوز پر سیاسی شوز کرنا اور اپنے باس کی کرسی کا دفاع ہے؟ ان کا کیا جاب ہے کہ ماحول تباہ کیا جارہا یا جس طرح سی ڈی اے اسلام آباد کا ماحول تباہ کررہا ہے اس میں ان کی حمایت شامل ہے ؟ سینٹر شیری رحمن صاحبہ /ممبران کمیٹی کہاں غائب ہیں جو سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے ماحول کی چیرمین ہیں۔انہیں ہمارے خوبصورت شہر کی چیرمین سی ڈی اے کے ہاتھوں مسلسل بربادی نظر نہیں آرہی ؟ افسوس ہے یہ سب جنہوں نے ان درختوں شہر اور ماحول کی حفاظت کرنی تھی وہ اب اس کی بربادی میں شریک ہیں۔ خوبصورت شہر برباد ہورہا ہے اور ہر طرف خاموشی کا راج ہے۔ بابوز اور حاکم مل کر برباد اسے کررہے ہیں۔ یہ اس شہر کے ساتھ ظلم کررہے ہیں۔ Shehbaz Sharif Mohsin Naqvi Khawaja M. Asif Khawaja Saad Rafique Capital Development Authority - CDA, Islamabad SenatorSherryRehman Dr. Musadik Malik Maryam Nawaz Sharif Prime Minister's Office Muhammad Ali Randhawa Dr. Tariq Fazal Ch. Dr. Sharmila Sahibah Faruqui (Phd) s.i Shazia Atta Marri Nafisa Shah

Rauf Klasra

61,670 views • 9 months ago

ایک دور میں پنجاب میں مشہور تھا کہ بیوروکریٹس وزیراعلی شہباز شریف صاحب سے ڈرتے اور دبکتے تھے۔ افسر شہباز شریف کے ساتھ پوسٹنگ لینے سے گھبراتے تھے۔ اور پھر فلک نے حیران کن نظارہ دیکھا۔ وہی بات کہ وقت بدلتے دیر نہیں لگتی آج وہی ماضی کا دبنگ وزیراعلی اب وزیراعظم شہباز شریف صاحب ایک بیس گریڈ کے بیوروکریٹ سے دب گئے ہیں۔ گردش ہے زمانے کی۔ ایک چالیس سال سے سیاستدان جو تین چار دفعہ پنجاب کا خود ساختہ دبنگ وزیراعلی رہا ہو اور تقریبا چار سال سے مسلسل دوسری دفعہ وزیراعظم شہباز شریف پر ایک بیس گریڈ کا بابو چیرمین سی ڈی اے رندھاوا صاحب بھاری پڑ جائے وہاں اکیلا رپورٹر کیا توپ چلا سکتا ہے؟ وجہ پڑھ لیں۔ طارق عزیز کو اسلام آباد میں بہترین سیاسی رپورٹر مانا جاتا ہے اور اوپر تک تعلقات ہیں۔ کل رات گئے الیزم/سینٹورس کے سامنے سی ڈی اے کی نالائقیوں اور شہر کی بربادی پر بات ہونے لگی تو کہنے لگے رئوف صاحب آپ ٹائم ضائع کررہے ہیں۔ چیرمین سی ڈی اے رندھاوا وزیراعظم شہباز شریف تک کو خاطر میں نہیں لاتے۔ طارق کہنے لگا جہاں وزیراعظم تک کے پر جلتے ہیں وہاں آپ اس شہر کے جنگل، درخت اور سبزہ کب تک بچا سکتے ہیں یا شہر کے لیے لڑ سکتے ہیں۔۔؟ ساتھ میں ایک اور قابل اور ایکسلوسو اسٹوریز کے ماہر صحافی سہیل اقبال بھٹی بھی موجود تھے۔ ان کا کہنا تھا اسلام آباد کی صفائی کا انتظام اگر مریم نواز صاحبہ کی صاف ستھرا ٹیم کو دیا جائے تو وہ شہر کو صاف ستھرا رکھ سکیں گے۔ سی ڈی اے چیرمین کی ترجیح نہ جنگل ہیں نہ درخت نہ سبزہ نہ صفائی۔وہ تین چار ارب روپے سے کم پراجیکٹ میں ہاتھ نہیں ڈالتے۔ وہ اپنی انرجی شہر کو صاف ستھرا رکھنے پر ضائع نہیں کرتے۔ وہ بڑے کاموں کے لیے پیدا ہوئے ہیں اور شہر کو اچھا اور صاف ستھرا رکھنا انہیں بڑا کام نہیں لگتا۔ ویسے کیا دوبئی، استنبول، بارسلونہ، پرتگال، برلن، ناروے، اوسلو، پیرس بھی اتنے گندے ہیں جتنا یہ شہر رندھاوا صاحب نے بنا دیا ہے۔۔کیا یہ کسی ملک کا دارلخلافہ ایسا ہے ؟ Capital Development Authority - CDA, Islamabad Muhammad Ali Randhawa Shehbaz Sharif Mohsin Naqvi SenatorSherryRehman Palwasha Khan Dr. Tariq Fazal Ch. Dr. Musadik Malik Prime Minister's Office Ministry of Finance, Government of Pakistan Ahsan Iqbal Sohail Iqbal Bhatti Tariq Aziz Maryam Nawaz Sharif Government of Punjab Azma Zahid Bokhari Attaullah Tarar Khawaja M. Asif

Rauf Klasra

133,028 views • 8 months ago

پچھلے چھ ماہ میں چیرمین سی ڈی اے رندھاوا نے40 ارب کے پلاٹس بیچے/خرچ کیے اور شہر کی حالت دیکھ لیں۔ یہ آج 25 جنوری بلیو ایریا کا ویڈیو کلپ ہے وزیراعظم شہباز شریف،محسن نقوی، شیری رحمن،احسن اقبال،ڈاکٹر مصدق ملک اور ممبران پارلیمنٹ جیسی ایلیٹ کے لیے ہے جو ذمہ داریاں پوری کرنے میں بری طرح ناکام ہوئے ہیں۔ آپ لوگ شاید ہنستے ہوں کیا سی ڈی اے کے پیچھے پڑ گیا ہے۔ لیکن اس کا مقصد آپ کو بتانا ہے بیوروکریٹ کام کرنے کو تیار نہیں خصوصا جو ایشوز عوام کو ہرٹ کرتے ہیں۔ ایک ماہ پہلے بھی یہ ویڈیو بنائی تھی۔ سی ڈی اے کے پاس 18000 افسران/ملازم ہیں۔اربوں کا بجٹ ہے۔ابھی چیرمین رندھاوا صاحب نے پہلے پچھلے سال جولائی میں 17 ارب کے پلاٹس بیچے وہ خرچ ہوگئے تو پچھلے ماہ 24 ارب کے مزید بیچے۔چھ ماہ میں چالیس ارب خرچ اور شہر کی حالت دیکھ لیں۔ پیسہ کہاں جارہا ہے؟ نہ وزیراعظم کو پرواہ ہے نہ محسن نقوی کسی کو خاطر میں لاتا ہے، بابوز نے انی مچائی ہوئی ہے اور پھر خواجہ آصف کہتے ہیں بیوروکریٹس پرتگال میں جائیدادیں بنا رہے ہیں۔ پھر ہم بے شرمی سے بیرون ملک پہنچ جاتے ہیں کہ اس ملک میں سرمایہ لگائیں۔ اس نالائق اور کرپٹ بیوروکریسی کے یہ کام دیکھ کر کون یہاں ڈالرز لائے گا؟ جنہوں نے پہلے اربوں کا سرمایہ لگا رکھا ہے ان کو دی گئی سہولتیں زرا ملاحظہ فرما لیں۔ ان بابوز پتہ ہے ان سے کوئی پوچھ گچھ نہیں کرسکتا اس لیے وہ شہر کو تباہ کررہے ہیں۔ رندھاوا صاحب کوعلم ہے کسی نے احد چیمہ کا کیا بگاڑ لیا کہ آج وہ دو سال نیب میں رہنے کے بعد الٹا آج وزیر ہے۔ Capital Development Authority - CDA, Islamabad Muhammad Ali Randhawa Shehbaz Sharif SenatorSherryRehman Palwasha Khan Ahsan Iqbal Senator Mushtaq Ahmad Khan | سینیٹر مشتاق احمد خان Mushahid Hussain Sayed Dr. Musadik Malik Mohsin Naqvi Sohail Iqbal Bhatti Zahid Gishkori @

Rauf Klasra

37,775 views • 8 months ago

ہمارے دوست وزیرداخلہ محسن نقوی صاحب کا یہ اعتراف کتنا خوفناک ہے اس کا اندازہ شاید کسی کو امریکہ ایران چکر میں نہیں ہوا۔ وہ سی ڈی اے کے وزیر انچارج ہوتے ہوئے کہہ رہے ہیں کہ مجھے بھی اس ادارے میں کام ہو تو دس لاکھ روپے (رشوت) دینی پڑے گی۔ نقوی صاحب دو سال سے اس ادارے کے سربراہ ہیں جس کے بارے کہہ رہے ہیں وہاں کرپشن کا ریٹ دس لاکھ ہے۔ وہ ادارہ جس میں وزیراعظم تک کو مداخلت کی اجازت نہیں ہے آپ وزیروں کو تو چھوڑ ہی دیں۔ نقوی صاحب دو سال سے اس سونے کی کان جیسے ادارے کے سیاہ و سفید کے مالک ہیں۔ وہ اپنے لاڈلے کمشنر لاہور محمد علی رندھاوا کو لائے اور اسلام آباد کا پہلے چیف کمشنر اور پھر سونے کی کان سی ڈی اے کا چیرمین لگا دیا اور وہ چیرمین خود کو نقوی صاحب کے علاوہ کسی کو جواب دہ نہیں سمجھتا تھا بلکہ اکثر قائمہ اجلاسوں میں ان کی رعونت اور تکبر کو سب نوٹ کرتے تھے۔ پچھلے سال جولائی میں سترہ ارب تو دسمبر میں چوبیس ارب کے پلاٹ بیچے گئے۔ مطلب چھ ماہ میں سی ڈی اے کے پاس چالیس ارب تھا۔ ہزاروں درخت کاٹے گئے، جنگل تباہ کیے گئے، غیرضروری اور ناقص فلائی اوور اور سڑکیں بنائ گئیں جو پہلی بارش پر ٹھس ہوئیں۔ ماحول تباہ کیا۔ پورے شہر کو ایک گریڈ بیس کے افسر نے تہس نہس کر دیا اور ابھی چند دن پہلے رندھاوا صاحب اور نقوی صاحب چین گئے اور وہاں سے فرمایا کہ اسلام آباد شنگھائی بنے گا۔ شنگھائی خاک بنتا الٹا آج وزیر صاحب فرما رہے ہیں وہ ان دو سالوں میں جب رندھاوا نقوی جوڑی اس ادارے کو چلا رہی تھی وہ کرپشن کا گڑھ بن چکا ہے۔ یہ نتیجہ نکلا ہے ایک گریڈ بیس کے افسر کو خوفناک اختیارات دینے کا۔ یہ دراصل رندھاوا صاحب کے خلاف چارج شیٹ ہے کیونکہ دو سال سے وہ سفید سیاہ کے مالک تھے۔ نقوی صاحب کو اپنی اس ناکامی کا ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے سی ڈی اے کی وزارت کا چارج چھوڑ دینا چاہئے۔ ان دو سالوں کا آڈٹ ہونا چاہیے کہ چالیس ارب کہاں خرچ ہوا۔ لاہور کا لاڈلا کنٹریکٹر کون تھا جسے سب اربوں کے کنٹریکٹ نصیب ہوئے۔ رندھاوا صاحب تو اپنے ساتھ درجن بھر ڈی ایم جی افسران ڈیپوٹیشن پر لائے تھے ان کی یہ کارگردگی تھی کہ ریٹ دس لاکھ روپے چل رہا ہے؟ افسوس اس بات کا ہے کہ جس گریڈ بیس کے افسر کے دور میں رشوت کا ریٹ دس لاکھ تک جا پہنچا ہے اسے نقوی صاحب نے ڈی جی پاسپورٹ لگا دیا ہے۔ دو سال بعد نقوی صاحب ہمیں پاسپورٹ آفس کا ریٹ بتا رہے ہوں گے کہ کام کرانا ہے تو دس لاکھ ریٹ ہے؟ اگر سی ڈی اے کا ریٹ آج دس لاکھ ہے تو رندھاوا صاحب کیسے کلئرنس لے کر ایک اور سونے کی کان کے مالک بنا دیے گئے ہیں۔ ؟ ان کے خلاف کیا کاروائی ہوئی جن کے دور میں بقول ریٹ دس لاکھ تک پہنچ گیا ہے؟ نقوی صاحب یہ آپ کی ناکامی ہے اور آپ کو اس کی ذمہ داری لینی چاہئے۔ مان لیں یہ آپ کے بس کا کام نہیں ہے۔ جب رندھاوا صاحب پورا شہر اجاڑ رہے تھے آپ ان کے محافظ بن کر کھڑے تھے حالانکہ جب وزیراعلی تھے تو بڑا آپ کی کارگردگی کا شور سنا تھا۔ پنجاب بارہ کروڑ کا صوبہ اور اسلام آباد پچیس لاکھ لیکن یہاں آپ ناکامی کا اعتراف کر رہے ہیں اور اب بتا رہے ہیں جس ادارے کو آپ نے دو سال ہیڈ کیا اس کا ریٹ دس لاکھ ہے۔ نقوی صاحب کے دس لاکھ ریٹ انکشاف سے اب آپ سب کو خواجہ آصف کی بات سمجھ آرہی ہے کہ پاکستان بیوروکریٹس بیرون ملک شہریت اور پرتگال میں دھڑا دھڑ جائیدادیں کیسے خرید رہے ہیں۔۔ 😎 Shehbaz Sharif Maryam Nawaz Sharif Mohsin Naqvi Capital Development Authority - CDA, Islamabad Sohail Muhammad Ali Randhawa Ahsan Iqbal Dr. Musadik Malik Junaid Akbar Barrister Gohar Khan Khawaja M. Asif Khawaja Saad Rafique Palwasha Khan Shazia Atta Marri SenatorSherryRehman Raja Khurram Nawaz Nabil Gabol Syed Agha Rafiullah Sher Afzal Khan Marwat Dr. Tariq Fazal Ch. Syed Naveed Qamar Hina Rabbani Khar Sana Ullah Khan Mastikhel

Rauf Klasra

89,373 views • 5 months ago

🚨🚨 بریکینگ نیوز : صحافی شہزاد پراچہ صاحب کی بڑی خبر, شہباز شریف اور محسن نقوی میں ٹھن گئی.!!!🔥🔥🔥 وزیراعظم شہباز اور وزارت داخلہ محسن نقوی کے تعلقات بھی کشیدہ ہوگئے ہیں ۔اس مرتبہ وزیر اعظم شہباز شریف نے ایک تیر سے دو شکار کرنے کی کوشش کی مگر دیکھتے ہیں, رزلٹ کیا نکلتا ہے۔ جب سے محسن نقوی وزارت داخلہ ہیں, یہ پہلا موقع ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف نے وزارت داخلہ محسن نقوی کے ماتحت چیف کمیشنر اسلام آباد اور آئی جی اسلام آباد کو چودہ آگست والے دن بگّی استعمال کرنے پر نوٹس کیا ہے ۔ آپ ذہن میں رکھیں کہ اس معاملے پر محسن نقوی کی وضاحت کے باجود شہباز شریف نے نوٹس جاری کیا ہے, دوسری طرف حکومت نے اسی چیف کمیشنر اسلام آباد سے سپریم کورٹ کے عمران خان سے متعلق آرڈر پر نظرِ ثانی اپیل بھی کروادی ہے, ۔ بظاہر حکومت نے کوشش کی ہے کہ PTI والوں کا دھیان وزارت داخلہ کی طرف جائے ۔کہ انکی اجازت سے نظر ثانی اپیل دائر کی گئی ہے ۔ مگر میری اطلاعات کیمطابق ایسا نہیں ہے, وزیر داخلہ محسن نقوی جلد کوئی 28 جولائی والا سرپرائز دیں گے ۔ اسداللہ خان 🔥🔥🚨

Anisha KHAN

41,556 views • 1 month ago

یہ ایف الیون مرکز کی ویڈیو ہے۔ ویڈیو والے صاحب کہہ رہے ہیں کہ وہ گائوں چھوڑ کر اسلام آباد آئے تھے کہ یہاں اچھی لائف ہو گی اور بچوں کو پڑھائیں گے لیکن یہاں تو گائوں سے بھی بدتر حالات ہیں۔ سی ڈی اے افسران کو جواب طلبی کا کوئی ڈر نہیں کیونکہ ہمارے پرانے دوست محسن نقوی صاحب ان کے سرپرست ہیں اور آگے سے ان کے سرپرست بھی تگڑے ہیں جن سے وزیراعظم شہباز شریف تک بھی بات کرتے ہوئے احتیاط سے کام لیتے ہیں کیونکہ بقول میر تقی میر لے سانس بھی آہستہ کہ نازک ہے بہت کام آفاق کی اس کارگہ شیشہ گری کا دو سالوں میں شہباز شریف صاحب، محسن نقوی صاحب، اور محمد علی رندھاوا نے مل کر اسلام آباد کا یہ حشر نشر کر دیا ہے وہ آپ خود دیکھ لیں۔ شہر یکدم نہیں دھیرے دھیرے تباہ ہوتے ہیں۔ ذہن میں رہے جولائی 2025 میں رندھاوا اینڈ کمپنی نے سترہ ارب کے پلاٹ بیچے اور پھر وہ ختم ہوگئے تو بیس دسمبر کو دوبارہ چوبیس ارب کے بیچے۔ وہ چالیس اکتالیس ارب کہاں گئے، کہاں خرچ ہوئے کیونکہ شہر تو کچرا بنتا جارہا ہے ؟ اربوں کے ذکر سے خواجہ آصف کا ڈائیلاگ یاد آیا کہ آج کل پرتگال میں جائیدادیں بن رہی ہیں۔۔ یقینا حلال اور خون پسینے کی کمائی سے جائیدادیں بیرون ملک بن رہی ہیں۔۔ زرا شہر کے مرکز کی حالت دیکھ لیں۔ نالائقی اوپر سے شروع ہوکر نیچے تک راج کررہی ہے۔ 👎👎 Capital Development Authority - CDA, Islamabad Muhammad Ali Randhawa Shehbaz Sharif Prime Minister's Office Mohsin Naqvi Ahsan Iqbal Ishaq Dar SenatorSherryRehman Palwasha Khan Dr. Sharmila Sahibah Faruqui (Phd) s.i Sher Afzal Khan Marwat Junaid Akbar Bilal Azhar Kayani Shazia Atta Marri Hina Rabbani Khar Maryam Nawaz Sharif DC Islamabad Dr. Musadik Malik

Rauf Klasra

52,844 views • 6 months ago

بریکنگ نیوز 🚨کیپٹن صفدر میدان میں آگیا، کھل کر محسن نقوی کے خلاف بیان دے ڈالا۔ اس دبنگ بیان پر ڈاکٹر شہباز گل کا کیپٹن صفدر کو خراج عقیدت پیش۔ جن مورچوں پر آپ نے جھنڈے گاڑے آپ کو بھی سلام 🔥🔥 کیپٹن صفدر بھی میدان میں آئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ محسن نقوی اپنا فیلر بتا رہے تھے کہ نظام بیٹھ چکا ہے تو نظام آپ چلانے والے ہیں۔ ان کے پاس اگر ڈاکٹر محبوب الحق کی طرح کا کوئی پلان ہے تو کابینہ میں ڈسکس کریں۔ میں نے دَبنگ وزیر داخلہ چوہدری نثار دیکھا، اس کے معیار کو محسن نقوی نہیں پہنچ سکتا۔ وزیر خزانہ میں نے اسحاق ڈار کو دیکھا، اس کے معیار کو بھی کوئی نہیں پہنچ سکتا۔ یہ باقی سب تو اسٹوڈنٹس ہیں۔ کیپٹن صاحب میں ویسے یہاں آپ کو بھی کریڈٹ دوں گا۔ جو جھنڈے اور جن مورچوں پر جھنڈے آپ نے گاڑے ہیں، جن مشکل مورچوں پر آپ نے لڑائی کی ہے دو بدو، مورچوں کے اندر بیٹھ کے بھی کی ہے، مورچوں کے باہر بھی کی ہے، مورچوں کے اوپر بھی کی ہے۔ کیپٹن رہے نا آپ آرمی میں، میں وہ بات کر رہا ہوں میرا غلط مطلب نہ لینا، تو جن مورچوں کے اوپر آپ نے جنگ کی ہے اور آپ نے اپنے جھنڈے اور ڈنڈے گاڑے ہیں، وہ بھی اور کوئی نہیں کرسکتا۔ آپ نے تو لمبی سروس کی نا؟ مجھے نہیں پتہ کتنے سال کی لیکن لمبی سروس کی۔ باقی بیچارے تو تھوڑی تھوڑی سروس کے بعد لوگوں سے گالیاں کھا رہے ہیں۔ انہیں لگ رہا ہے کہ انہوں نے مورچے فتح کیے ہیں لیکن ان سے مورچے فتح کوئی نہیں ہوئے جیسے مورچے آپ نے فتح کیے ہیں۔ تو صرف چوہدری نثار علی خان کا ہی کریڈٹ نہیں بنتا، یا اسحاق ڈار کا ہی کریڈٹ نہیں بنتا، کیپٹن صاحب آپ کا بھی بنتا ہے۔ جو کارنامہ آپ نے انجام دیا ہے، جو مشکل محاذ پر آپ لڑے ہیں، وہ کسی اور کی ہمت نہیں ہے۔

‏زہـــرہ لیــاقت

23,014 views • 1 month ago