正在加载视频...

视频加载失败

طعنہ زنی جو کرتا ہو اصحاب و آل پر اسکا حشر بھی مرزا پلمبر کے ساتھ ہے✌️ ـــــــــــــــــــــ انا للّٰہ وانا الیہ راجعون شاعر ختم نبوتؐ شاعر صحابہؓ و اہل بیتؓ سید سلمان گیلانی صاحب انتقال کر گئے💔😭

14,769 次观看 • 6 个月前 •via X (Twitter)

0 条评论

暂无评论

原始帖子的评论将显示在这里

相关视频

مجھے کل پتا چلا کہ یوریا کھاد کی کمپنیوں پر پابندی لگائی گئی ہے۔ اس وقت کسان انتہائی پریشان ہیں، فصلوں کے لیے اس وقت کھادوں کی بہت ضرورت ہے۔ مجھے سمجھ نہیں آ رہی ہے کہ وفاقی حکومت کیوں خیبر پختونخوا کے عوام سے انتقام لے رہی ہے۔ کبھی سیکیورٹی کے نام پر سیکیورٹی آپ لوگوں سے سنبھالی نہیں جا رہی ہے، سیکیورٹی میں آپ نے کون سا ایکشن لیا ہے، اس وقت نیشنل ایکشن پلان پر کوئی عمل نہیں ہو رہا ہے، امن و امان کی صورتِ حال بد سے بدتر ہو رہی ہے۔ آپ روزگار کے مواقع ختم کر رہے ہیں۔ ابھی آپ کسان کو مار رہے ہیں تاکہ خیبر پختونخوا میں تھوڑا بہت رمک ہے، وہ بھی ختم ہو جائے۔ میں اس کی بھرپور مذمت کرتا ہوں اور اس پر اسمبلی اجلاس میں بات کروں گا۔ جو بھی اس پابندی کے ذمہ داران ہیں، وہ قوم کے دشمن ہیں، وہ زیادتی کر رہے ہیں، نفرتیں پیدا کر رہے ہیں۔ ہم نے ہر ممکن طریقے سے اس کا مقابلہ کرنا ہے، اس کے خلاف آواز اٹھانی ہے۔ اپنے کسان بھائیوں سے کہتا ہوں کہ میں آپ کے ساتھ ہوں، کل کے اسمبلی اجلاس میں اس معاملے کو اٹھاؤں گا۔

Asad Qaiser

20,433 次观看 • 10 天前

اس وقت پاکستان میں طاقت حق بن چکی ہے، اور ماحول ایسا بنا دیا گیا ہے کہ جس کی لاٹھی، اس کی بھینس۔ طاقتور اسٹیبلشمنٹ جو چاہتی ہے وہی ہو رہا ہے۔ جج خود فیصلے نہیں لکھ رہے، فیصلے لکھوائے جا رہے ہیں، ڈکٹیٹ ہو رہے ہیں، اور عدلیہ اپنی ساکھ اور استقلال کھو چکی ہے۔ پارلیمنٹ کے ذریعے عوام پر ظلم ہو رہا ہے، عدلیہ کے ذریعے ظلم ہو رہا ہے، پولیس کے ذریعے ظلم ہو رہا ہے۔ بے گناہوں کو قتل کیا جا رہا ہے، مبینہ پولیس مقابلے ہو رہے ہیں، اور یہ سب کچھ واضح طور پر اخبارات میں آ رہا ہے۔ پاکستان کے عوام بھی غیر متعلق کر دیے گئے ہیں، اور پاکستان کی پارلیمنٹ بھی غیر متعلق ہو چکی ہے۔ اب کوئی چیز اپنی جگہ پر باقی نہیں رہی۔ پاکستان میں جو کچھ نظر آ رہا ہے وہ کھنڈر ہیں۔ عدلیہ کی جو عمارتیں ہمیں پیچھے نظر آتی ہیں، وہ بھی اس وقت کھنڈر بن چکی ہیں۔ یہاں عادل نہیں ملتا، یہاں عدل و انصاف کا قتل ہو رہا ہے۔ پارلیمنٹ کے اندر پاکستان کے عوام کے حق میں قانون سازی نہیں ہوتی، بلکہ عوام کے حق پر ڈاکہ ڈالنے کے لیے اقدامات کیے جاتے ہیں۔ پولیس کیا کر رہی ہے، عدالتیں کیا کر رہی ہیں، بیوروکریسی کیا کر رہی ہے—سب آپ کے سامنے ہے۔ ایک طرف پاکستان کی ریاست اور اس کی سالمیت پر یلغار ہے، اور دوسری طرف بدترین مہنگائی ہے۔ پھر ایسے فیصلے کیے جا رہے ہیں جن سے عوام کو مزید تکلیف پہنچے۔ عمران خان صاحب کے ساتھ اس وقت پاکستان کے عوام کی نوّے فیصد اکثریت کھڑی ہے۔ جو بھی آج ان کا مخالف ہے، وہ دراصل انتہاکت واروں کے ساتھ کھڑا ہے۔ ہم سب ایک ہیں، اسی لیے ان کی پوری کوشش ہے کہ ہمیں مایوس کریں، ناامید کریں، اور لوگوں سے کہیں کہ آپ کچھ نہیں کر سکتے۔ لیکن حقیقت میں یہ ان کی بزدلی اور پریشانی کی علامت ہے۔ یہ لوگ ہار چکے ہیں، اور جو اپنے عوام سے لڑتے ہیں وہ کبھی جیت نہیں سکتے۔ پاکستان کے نظام پر عوام کا اعتماد مکمل طور پر ختم ہو چکا ہے، اور اس وقت پاکستان عوام کے بغیر چلایا جا رہا ہے۔ یہ لوگ دنیا میں جا کر جو فیصلے اور معاہدے کر رہے ہیں، ان کی دو ٹکے کی حیثیت بھی نہیں۔ پاکستان کے عوام انہیں قبول نہیں کرتے۔ ہم آج ہونے والے فیصلے کی سخت مذمت کرتے ہیں۔ یہ فیصلہ قابلِ مذمت ہے۔ آپ جانتے ہیں کہ جس طرح کے ٹرائل ہو رہے ہیں، جس طرح کی صورتحال بنائی جا رہی ہے—جنوری سے عمران خان صاحب کے کیسز ہائی کورٹ میں زیرِ التوا ہیں، ان کی سماعت نہیں ہو رہی۔ یہ پک اینڈ چوز کی صورتحال ہے، اپنی مرضی کے فیصلے کیے جا رہے ہیں۔ یہ سمجھتے ہیں کہ ایسے فیصلے انہیں بچا لیں گے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ استثنا لینے کے باوجود ان کا خوف ختم نہیں ہو رہا۔ ڈر کے سائے میں ایسے فیصلے کیے جا رہے ہیں۔ خدا نہ کرے کسی ملک پر بزدل، حقیر اور چھوٹے لوگ مسلط ہو جائیں۔ یہ لوگ پست ترین سطح پر جا کر مخالفت کرتے ہیں۔ ہم خداوندِ عبدالمطلب کے بارگاہ میں دعا کرتے ہیں کہ ہمیں ان ظالموں، بونوں اور حقیر لوگوں سے نجات عطا فرمائے۔ یہاں آئین کی بالادستی ہو، قانون کی حکمرانی ہو، اور پاکستان کے عوام کو انصاف اور ان کا حق ملے۔

Senator Allama Raja Nasir

29,309 次观看 • 8 个月前

🚨🚨 بریکینگ نیوز : خان صاحب کے دل دہلا دینے والے الفاظ.!!!😭😭😭 ایک چیز ڈاکٹرز خان صاحب کو بار بار کہہ رہے تھے کہ یہ آپ نہ بولیں, ۔ اس سے آپکا بلڈ پریشر بڑھتا ہے ۔ یہ لائن عظمیٰ خان صاحبہ پریس کانفرنس میں بتاتے ہوئے خود بھی آبدیدہ ہوگئی تھیں ۔ خان صاحب کے وہ الفاظ یہ تھے کہ " میرے ساتھ ظلم ہو رہا ہے, یہ مجھ ٹارچر کر رہے ہیں ۔ یہ مجھے قید تنہائی میں رکھ کر اذیت دے ریے ہیں, یہ انسان نہیں ہے ۔ایسا کوئی سلوک انسانوں کیساتھ نہیں کیا جاتا ۔ یہ انسان نہیں ہے, باہر بتاؤ لوگوں کو ۔ قوم کو بتاؤ کہ میرے ساتھ ظلم ہو رہا ہے ۔ مجھے اذیت میں رکھا جا رہا ہے ۔ اس اذیت کیوجہ سے سٹریس بڑھتا ہے, اور سٹریس کیوجہ سے بلڈ پریشر بڑھتا ہے ۔ یہ باہر جاکر لوگوں کو بتاؤ ۔ اور خان صاحب وہاں پر بار بار مرسی کے بارے میں بتاتے رہے کہ, ۔ مرسی کو بھی ایسے ہی مارا گیا تھا ۔ اسکو بھی پراپر پلان کرکے مارا گیا تھا, خان صاحب نے کئی بار وہاں پر مرسی کا ذکر کیا ۔ اور آخری وقت بھی بار بار خان صاحب یہ کہتے رہے کہ مجھے قید تنہائی میں رکھا گیا ہے, بہت اذیت دی جا رہی ہے ۔ میں بہت تکلیف میں ہوں۔" یہ وہ الفاظ تھے, جو خان صاحب بار بار عظمیٰ خان کیساتھ دوہراتے رہے ۔ اور عظمیٰ خان صاحبہ انکو دلاسہ دیتی رہی کہ آپ بے فکر ہو جائیں۔ ہم آپکو شفاء ہسپتال لیکر جارہے ہیں ۔ وہاں آپکا علاج ہوگا, سید ذیشان عزیز 💔💔😭😭

Anisha KHAN

59,863 次观看 • 5 天前

سر تو کٹ گیا مگر,دستار سلامت ہے۔ ہندوستانی فوج کو تگنی کا ناچ نچانے والے اور مزاحمت کے علمبردار شیر دل کمانڈر فاروق 💔 انا للّٰہ وانا الیہ راجعون، وہ زخمی حالت میں راولپنڈی لائے گئے تین ہسپتالوں نے ان کو لینے سے انکار کیا اور راجہ بازار ڈی ایچ کیو ہسپتال لاتے ہوئے وہ جام شہادت نوش فرما گئے۔ دنیا میں زخمیوں اور قیدیوں کے حقوق ہیں،دین اسلام نے بھی ان کے حقوق کو اجاگر کیا،یو این او کے چارٹر کا بھی مطالعہ کیجئے تو انسانی حقوق کا خیال رکھا گیا ،ہم لوگ اسرائیل کے ظلم وستم میں یہ بھی گنواتے ہیں کہ انہوں نے زخمیوں کو بھی علاج سے محروم کیا تو اپنے بھی عملاً انہی صیہونیوں کے نقش قدم پہ ہی ہیں،ابھی ایک پروپگینڈا برگیڈ نکلے گی اور طرح طرح کے الزامات لگائے گی۔یہ ظلم و ستم کرنے والوں کا بھی عبرتناک انجام ہوگا۔(کمانڈر صاحب کی داماد نے اطلاع دی کہ تین ہسپتالوں نے نہیں لیا جب یہاں پہنچے تو وفات پاچکے تھے پھر ڈی ایچ کیو میں پٹیاں وغیرہ کروا کر ابھی کچھ دیر پہلے راولاکوٹ کی جانب روانہ ہوگئے)۔ #KashmirBleeds #StandWithKashmir #StopKillingCiviliansInPOJK

مہ جبیں 🍁

71,504 次观看 • 27 天前

کل 5 اگست کو پورے پاکستان میں ہمارے لیڈر عمران خان نے تحریک شروع کرنے کا اعلان کیا ہے، 5 تاریخ کے احتجاج کے لیے ہماری تیاری مکمل ہے.صوبائی تنظیم مختلف جگہوں پر احتجاج کرے گی، ہماری تحریک پُرامن ہے اور قانون و آئین کے اندر رہتے ہوئے ہماری جدوجہد ہے.عمران خان کی 5 اگست کو گرفتاری ہوئی تھی اور اس 5 اگست کو ہم یومِ سیاہ کے طور پر منا رہے ہیں.5 اگست وہ دن ہے جس دن عمران خان کو غیر قانونی طور پر گرفتار کیا گیا تھا.عمران خان وہ لیڈر ہے جس نے ملک کے وقار میں اضافہ کیا، ورلڈ کپ جیتا،عمران خان ملک کا مقبول لیڈر ہے، سابق وزیرِ اعظم رہا ہے، اس کے قانونی حقوق سلب کیے گئے ہیں.اگر عمران خان کے خلاف کوئی ثبوت ہیں تو اوپن کورٹ میں ٹرائل کریں، میرٹ کے مطابق.26ویں آئینی ترمیم کے بعد عدالتیں عملاً ایگزیکٹو کے ماتحت ہو گئی ہیں.عدالتوں کی کوئی حیثیت نہیں رہی، عدالتیں برائے نام رہ گئی ہیں.ہم قانون کے مطابق ٹرائل چاہتے ہیں،قانون کے مطابق اگر آپ جیل میں ہوں اور ایک سال تک آپ کے ٹرائل میں کچھ ثابت نہ ہو تو آپ ضمانت کے حقدار ہیں.قومی اسمبلی، سینیٹ اور پنجاب اسمبلی کے حزبِ اختلاف سمیت ہمارے 14 ممبرانِ اسمبلی کو نااہل کیا گیا.جج بھی سرکاری، گواہ بھی سرکاری اور شہادتیں بھی سرکاری،ہم چاہتے ہیں کہ ان تمام کیسز کا ہائی کورٹ میں اوپن میڈیا ٹرائل ہو، ہم سمجھتے ہیں کہ کوئی معاشرہ عدل و انصاف کے بغیر نہیں چل سکتا.ہم ججز سے مطالبہ کرتے ہیں کہ میرٹ کے مطابق فیصلے کریں اور اوپن میڈیا ٹرائل کریں.ابھی تو فیصلے اوپر سے آتے ہیں اور بہت افسوس ہے کہ ہماری عدلیہ کمپرومائز ہو چکی ہے.چیف جسٹس صاحب کیا آپ کو محسوس نہیں ہو رہا کہ اس وقت عدلیہ کمپرومائز ہو چکی ہے.لوگوں کا اعتماد عدلیہ سے ختم ہو چکا ہے.اب کسی کے ساتھ ظلم ہوتا ہے تو وہ خود کو عدالت بنا کر فیصلہ کرتا ہے.ہم مختلف آپشنز پر غور کر رہے ہیں، پارلیمنٹ بے توقیر ہو چکی ہے.اگر پارلیمنٹ میں کوئی ممبر تقریر میں کوئی لفظ ایسا بولتا تو اسپیکر اسے حذف کرتا.اب اسمبلی کا ایک سرکاری ملازم ممبرانِ اسمبلی کی تقریر کے الفاظ کو حذف کرتا ہے، اسپیکر کا کردار اتنا کمزور ہو چکا ہے.پارٹی فیصلہ کرے گی کہ موجودہ پارلیمانی نظام کا حصہ رہنا ہے یا نہیں.چیف جسٹس سے مطالبہ کرتے ہیں کہ اسلام آباد ہائی کورٹ میں عمران خان، بشریٰ بی بی سمیت ہماری قیادت کے تمام زیرِ التوا کیسز کی میرٹ پر کارروائی کروائیں.9 مئی پر جوڈیشل کمیشن بنایا جائے، جو بھی ذمہ دار ہو، اسے سزا دی جائے.صوبائی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ کسی بھی فوجی آپریشن کی اجازت نہ دی جائے.عمران خان نے بھی کسی قسم کے فوجی آپریشن کو رد کر دیا ہے،امید ہے عمران خان کے احکامات پر عمل کیا جائے گا.ہمیں یہاں کاروبار کا موقع دو، ہمیں افغانستان کے ساتھ تجارت کا موقع دو، ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ افغانستان کے ساتھ جو تجارتی راستے کھولے گئے تھے، انہیں دوبارہ کھولا جائے.ہم 5 تاریخ کے احتجاج میں پاکستان، پاکستان تحریکِ انصاف اور سفید امن کے جھنڈے کے ساتھ شرکت کریں گے.

Asad Qaiser

10,805 次观看 • 1 年前

بتاؤ! کس کا حکم ہے کہ تم ہمیں عذاب دو، جواب دو ہمارے ایک ایک زخم کا ہمیں حساب دو، جواب دو #گولی_کیوں_چلائی جب قوم انقلاب کی طرف گامزن ہوتی ہے تو اُس کے ادیب، شعرا اور موسیقار، بُلند افکار سے ایک سحر نو کا جادو بڑی خوبصورتی سے ہوا میں بکھیرتے ہیں جسکی خوشبو ہر دل میں اتر جاتی ہے۔ میں نے عمران خان کی تحریک میں یہ دیکھا کہ سب سے پہلے موسیقاروں نے گیت گائے، ادیبوں نے لکھنا شروع کیا، اور معروف مزاح نگاروں کی تخالیق سامنے آئی ہیں۔ فنون لطیفہ میں ایک نئی سیاسی جہد کی بنیاد پڑ گئی ہے۔ انور مقصود صاحب اپنے طنز اور مزاح سے پاکستان کے ظالمانہ غمگین ماحول میں تبسم بکھیرتے رہے ہیں، ان پر بھی جبر کیا گیا۔ اگر بس چلتا تو معین اختر کو قبر میں نوٹس دے دیا جاتا۔ انقلابی شاعر احمد فرحاد پر بھی ظلم و ستم ہوا، اور اب ابھرتے ہوئے شاعر افکار علوی سے بھی زباں بندی کے افیڈیوٹ پر دستخط لے لیئے گئے ہیں۔ مگرم اِس نوجوان کیا کہ دیا جو آگ لگ گئی؟ بتاؤ! کس کا حکم ہے کہ تم ہمیں عذاب دو، جواب دو ہمارے ایک ایک زخم کا ہمیں حساب دو، جواب دو جو لاپتہ کیے، جیتے ہیں یا مر گئے، کہاں کیئے، جواب دو بہت بڑی قطار ہے، پکار ہے، جواب دو جواب دو ہمارے دیس میں علوم دینے کے اصول کس نے طئے کیئے کہ اِس طرف تو اصلحہ اور اُس طرف کتاب دو، جواب دو حریف دیس کا غلام کون ہے نمک حرام کون ہے ہمار صبر ختم ہے مزید مت سراب دو، جواب دو ہمیں بھی ٹھن گئی تو پھر، ہماری چیخ دھاڑ بن گئی تو پھر سو بہتری اِس ہی میں ہے کہ تشنہ لب کو آب دو، جواب دو لہو لہو تو ہو چکے ہو، سرخ رو تو ہو مرو، سو لڑ پڑو حریف کو بھلے جو تم بصورتِ حباب دو، جواب دو (افکار علوی) 👇پوری نظم سنیں اور پھر زباں بندی کا حلف نامہ ملاختہ ہو۔ شرم و حیا سے عاری، حکومتِ جاری۔

Dr. Arif Alvi

183,721 次观看 • 1 年前

عمران ریاض (عرف ٹارزن) کا یہ دعویٰ بالکل بے بنیاد اور مضحکہ خیز ہے کہ آزاد کشمیر میں جو قتل و غارت اور کریک ڈاؤن ہوا، اس کا ذمہ دار عاصم منیر نہیں بلکہ بلاول بھٹو ہے۔ وہ یہ بھی کہتا ہے کہ "ایک ادارہ ریاست نہیں ہوتا"۔ سوال یہ ہے کہ اس ٹارزن کی بات ماننے والی آڈینس کون سی ہے؟ کیا باقی سب لوگ بھی اس کے سننے والوں جتنے سادہ لوح یا “خر دماغ” ہیں کہ اس کی یہ گھڑی ہوئی کہانی مان لیں؟ اگر عاصم منیر نے نہیں کروایا تو پھر کس نے کروایا؟ جن کی مرضی کے بغیر پتہ بھی نہیں ہل سکتا، (بقول ان فرعونوں کے) کوئی کیسے مان لے کہ یہ سب کچھ عاصم خنزیر نہیں کروا رہا؟ اس طرح ذمہ داری ایک سیاسی شخصیت پر ڈال کر اصل طاقت کو بچانا ہی “باریک واردات” کہلاتا ہے۔ تم جھوٹے ہو عمران ریاض! اس کے علاوہ، جب بھی کوئی اس سے سخت سوال کرتا ہے تو عمران ریاض اپنے کرائے کے غنڈے بھیج کر لوگوں کو دھمکیاں دیتا ہے، جیسے چاند صاحب کو دی گئی ہیں۔ میرے ساتھ بھی یہ کئی بار ہوا ہے۔ انگلینڈ منتقل ہونے کے باوجود اب بھی اسے یہی لگتا ہے کہ وہ اپنے پرانے گوالمنڈی والے محلے میں بیٹھا ہوا ہے، جہاں طاقت اور دھمکیوں سے سب کچھ چلایا جا سکتا ہے۔ پہلے ٹارزن کہتا تھا کہ عادل راجہ ایک "چندہ خور گدھ" ہے اور “اگر کسی نے کورٹ کے کیس کے لیے پیسے دیے تو لڑائی ہو جائے گی"۔ اب اگر عادل راجہ کے پروگرام پر کوئی آئے اور اس ٹارزن تک خبر پہنچ جائے اور اس کا اختیار ہو، تو اسے بھی دھمکیاں دلواتا ہے! لعنت تم پر ٹارزن بے غیرت! جو لوگوں کے جائز راستے روکتا ہے، اللہ کا قہر نازل ہو ایسے شخص پر۔ یہ گھٹیا ٹارزن تو اپنے وردی والے مالکوں کے کہنے پر راجہ صاحب (Adil Raja) کے پیچھے 2022 سے پڑا ہوا ہے اور راستے میں رکاوٹ بننے کی کوشش کر رہا ہے۔ اسے کیا لگتا ہے کہ ہمیں خبر نہیں؟ ہمیں تو یہاں تک پتا ہے کہ اغوا ہونے کے بعد اس نے کتنے چانٹے کھائے ہوئے ہیں۔ پھر بھی لوگ پوچھتے ہیں کہ عمران ریاض کے اتنے خلاف کیوں ہیں آپ۔

Sabine Kayani || سبین کیانی ||

14,067 次观看 • 27 天前

عمران ریاض صاحب، حامد میر صاحب، اقرار الحسن، فہیم صاحب، سلیم صافی صاحب، تمام صحافی حضرات، انسانی حقوق کے علمبرداروں، انسانیت کی آواز بننے والے کارکنوں، سیاسی و سماجی کارکنوں، نوجوانوں اور قوم کے تمام باشعور لوگوں! یہ میرے سنٹرل کرم، چمکنی کے اُن غریب اور بے گناہ پہاڑی لوگوں کی صدائیں ہیں، جو کل ڈرون حملے میں اپنے پیاروں کی لاشوں کے سامنے چیخ چیخ کر رو رہے ہے۔ 💔😭 یہ صرف ایک علاقے کا درد نہیں، یہ انسانیت کا درد ہے۔ اُن ماؤں، بہنوں، بچوں اور خاندانوں کی چیخیں ہیں جنہوں نے اپنے پیاروں کو اپنی آنکھوں کے سامنے کھو دیا۔ یقین کریں، انسان تو کیا، ایک بے زبان جانور بھی اُس درد کو محسوس کر سکتا ہے۔ خدارا! سیاسی وابستگی، اختلاف اور ذاتی مفادات سے بالاتر ہو کر صرف انسانیت کے نام پر ہماری آواز بنیں۔ ہمارے ان بے گناہ لوگوں کے لیے آواز اٹھائیں۔ ان کی چیخیں دنیا تک پہنچائیں۔ ویڈیو دیکھیں، پھر خود فیصلہ کریں کہ یہ درد کتنا گہرا ہے۔ 💔😭 #کرم #انسانیت #انسانی_حقوق

Amir Khan Chamkani ISF

646,530 次观看 • 1 天前

آپ سے ایک تعلق رہا ہے لہذا کوشش کی ہے تلخی نہ ہو لیکن کیاکریں جواب دینا پڑے گا۔ مجھے چینل میں آئے صرف دو تین ماہ آئے ہوئے تھے۔ کون سا چینل دو ماہ میں ریٹنگز پر نکالتا ہے؟شاید آپ کو کبھی نکالا گیا ہو۔ آفتاب اقبال صاحب کا کلپ شئیر کررہا ہوں سن لیں کس وجہ سے نکالا گیا تھا۔ آپ کو جھوٹا ثابت کرنے کے لیے یہ کافی ہے۔ آپ کی اس وقت کیا حیثیت تھی کہ میں آپ کو فون کرتا کہ مجھے جنرل نکال رہے ہیں اور آپ میری مدد کرو اور مل کر بتائوں گا؟ اچھا لطیفہ گھڑ لیا ہے۔ جہاں تک ارشد شریف کی بات ہے آپ نے جو ارشد اور اس کی فیملی پر بدزبانی ٹوئٹر پر کی ہوئی ہے اور ا سکی بیوی کے بارے میں جو کچھ فرمایا تھا اس کے بعد بھی آپ ارشد کے وارث ہیں؟ آپ کو کسی نے بتایا تھا کہ آپ کے بارے گیلا تیتر والی ویڈیو ارشد شریف نے بنوائی تھی لہذا آپ کی تو ارشد اور اس کی بیوی سے سخت دشمنی چل رہی تھی۔ ارشد کے آپ کے بارے خیالات کو مجھ سے بہتر کون جانتا ہے۔ میں تو الٹا اس کو آپ کے حوالے سے بہت ٹھنڈا کرتا رہتا تھا ورنہ وہ بھی آپ کا بھی وہ وہی حشر کرتا جو اس نے ایک اور صاحب کا گوادر میں کیا تھا جب اس نے بھی آپ کی طرح ارشد اور اس کی بیوی کے بارے بدزبانی کی تھی۔ آپ کب سے ارشد کے سگے بن گئے ؟ اپنے گندے ٹوئٹس یاد ہیں جو ارشد/بیوی پر آپ نے کیے تھے؟ جب آپ اور چند آپ جیسے دیگر ارشد کے سارے دشمن اس کے گرد اچانک اکٹھے ہوئے تھے اور وہ بھولا/سادہ انسان آپ لوگوں کے چکر میں آیا تو میں نے اسے میسج بھیجا تھا کہ ان تین چاروں سے بچنا یہ سب تمہارے پرانے دشمن ہیں۔ انہیں تمہارے ساتھ پلانٹ کیا جا رہا ہے ۔ یہ تمہارے سابقہ دشمن/اب جعلی ہمدرد تمہیں گھیر کر شکاریوں کے سامنے ڈالیں گے۔ وہ میسجز آج بھی میرے پاس موجود ہیں۔ ارشد کے لہو کو آپ جسیوں نے بیچا ہے۔ ڈالرز کمائے ہیں۔اس کی لاش کو بیچا ہے۔ میں نے ایک دوست کی جان بچانے کی ہر ممکن کوشش کی تھی جس کے گواہ موجود ہیں۔ اسے بتایا تھا یہ سب تمہارے پرانے دشمن تمہیں مروانے کے لیے بھیجے گئے ہیں۔ہم دیہاتی لوگ دوستوں کو بانس پر چڑھا کر نہیں مرواتے۔ مطلب آپ جیسا بندہ کیسے ارشد کا دوست یا خیرخواہ ہوسکتا تھا جو اس کے بارے ٹوئٹر پر مسلسل بدزبانی کرتا رہا ہو اور اس کی بیوی کی کردار کشی کرتا رہا ہو ؟حیرانی ہے آج آپ ارشد کی قبر کے وارث بن بیٹھے ہیں جو واہ واہ کر کے اسے مققل گاہ تک لے گئے تھے۔ آپ لوگ اتنے بے رحم ہیں کہ اپنے بدلے لینے کے لیے ارشد کے جعلی ہمدرد بن گئے۔اس کے پانچ بچوں پر بھی رحم نہیں کیا۔ جہاں تک بار بار جواب کی بات ہے آپ کو نے میرے ٹوئٹ پر لکھا تھا جس پر میں نے آپ کو اہمیت دے کر جواب دیا اور آپ چھت سے جا لگے۔ میں نے آپ کو کبھی آپ کے کسی ٹوئٹ پر نہیں لکھا ۔ اب آفتاب اقبال زرا سنیں جھوٹ کون بول رہا ہے۔ آپ فرما رہے ہیں ریٹنگز کی وجہ سے نکالا گیا تھا۔ افتاب صاحب کو سنیں کیون نکالا گیا۔ ویسے اگر مجھے رینٹنگز پر نکالا جارہا تھا تو آپ کو میری فکر کیوں لاحق ہوگئی تھی۔ یہ میرا اور آفس کا ایشو تھا۔ بہرحال آفتاب اقبال کا کلپ سنیں اور اپنے جھوٹ پر کچھ شرمندگی ہونے کی کوشش کریں 😎

Rauf Klasra

270,321 次观看 • 3 个月前

آج ایک بار پھر سرزمین فلسطین پر صہیونی قوتوں نے ظلم کے پہاڑ توڑے ہیں، پانچ ہزار کے قریب چھوٹے بچے، ہماری مائیں اور بہنیں شہید ہوئی ہیں، ملبوں کے نیچے اب بھی دبی ہوئی ہیں، وہی ملبے ہی ان کی قبرستان بنے ہوئے ہیں، یہ بزدل کا کام ہوا کرتا ہے جو چھوٹے بچوں ،عورتوں، پرامن شہریوں پر بمباری کرتا ہے۔ جرات ہے تو پھر میدان میں کیوں نہیں آتے،لوگ بڑے بڑے فلسفوں میں جاڑ رہے ہیں، بحث کر رہے ہیں، جدلیات لڑا رہے ہیں، ہم تو صاف بات کرتے ہیں، المُسْلِمُ أَخُو المُسْلِمِ لاَ يَظْلِمُهُ وَلاَ يُسْلِمُهُ، مسلمان مسلمان کا بھائی ہے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے نہ خود اس کے اوپر ظلم کرتا ہے اور نہ کسی کے ظلم کے لیے اس کو سپرد کرتا ہے۔ اہل فلسطین ہمارے بھائی ہیں اور آج پوری امت مسلمہ پر فرض بنتا ہے کہ وہ اپنے بھائیوں کے ساتھ کھڑے ہو جائیں، جانی مالی قربانی ہو ،اخلاقی ،سیاسی حمایت ہو اور آج خدا خدا کر کے اسلامی تنظیم کانفرنس کا سربراہی اجلاس بھی ہو رہا ہے، میں آپ کی اجازت سے انہیں یہ پیغام دینا چاہتا ہوں کہ آج امت مسلمہ اکٹھی ہے خیال رکھو کمزور موقف مت دکھانا! اگر امریکہ اور مغربی دنیا اپنے بحری بیڑے لا کر صہیونی قوتوں کی حمایت کر سکتا ہے، ان کے ساتھ شانہ بشانہ لڑنے کے لیے آسکتا ہے تو پھر مسلمان برادری کو کیا سانپ سونگھ گیا ہے کہ وہ اپنے گھروں میں صرف رونے کے لیے ہے اور میدان میں نکلنے کے لیے نہیں ہیں۔ اگر افغانستان کے محاذ پر ہمارے بھائیوں پر تکلیف آئی ہم شانہ بشانہ کھڑے رہے، آج اگر فلسطین کے مسلمانوں پر ایک مشکل گھڑی آئی ہے، پوری دنیا کے مسلمانوں کا فرض ہے کہ ان کے شانہ بشانہ کھڑے ہو جائیں ۔ جمعیت علماء اسلام نے پشاور ، کوئٹہ ،کراچی میں جلسہ کیا۔آج آپ کے اس اجتماع سے بھی جو تائید مل رہی ہے، میں اسے معمولی تائید نہیں سمجھتا۔ مسلمان امت کیا چاہتی ہے؟ اسلامی قیادت نے مسلمانوں کے جذبات کو دیکھنا ہے۔ خود امریکہ میں وہاں کے عوام نے اس ظلم کے خلاف مظاہرے کئے ہیں، برطانیہ،فرانس میں مظاہرے ہوئے ہیں اور اپنی حکومتوں پہ تنقید کی ہے جو کچھ آج ہو رہا ہے وہ دنیا کے عوام کی رائے کے مطابق نہیں ہو رہا۔ ہم اسلامی تنظیم کانفرنس سے امید رکھتے ہیں کہ وہ جرات مندانہ موقف لے اور براہ راست اپنے بھائیوں کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑے ہونے کا اعلان کریں۔ میں نے کبھی کسی کی پرواہ نہیں کی۔ وطن عزیز اور اس پر بسنے والے پاکستانیوں کی نمائندگی کرتے ہوئے میں فلسطین کے حماس قیادت کو ملنے ے گیا اور میں نے ان کی قیادت کو واضح طور پر کہا کہ پاکستان کا بچہ بچہ آپ کے شانہ بشانہ کھڑا ہے۔ انہوں نے بھی بڑے وضاحت کے ساتھ کہا کہ پوری دنیا میں ہماری سب سے بڑی امید پاکستان ہے، کہ پاکستان اسلامی دنیا کی واحد ایٹمی قوت ہے، اور پاکستان نے اقوام متحدہ میں جو جرات مندانہ موقف دیا ہے ہم دل و جان سے اس کی قدر کرتے ہیں، لیکن ضرورت اس امر کی ہے کہ ہمارے بچوں کے اوپر بمباری کا سلسلہ بند کر دیا جائے، یہ جنگ کا حصہ نہیں ہوا کرتے، یہ اسلام ، شریعت اسلامیہ کا اخلاق ہے کہ جنگ میں بچوں کا قتل ،عورتوں ،بوڑھوں پہ ہاتھ اٹھانا جرم ہے، یہاں تک کہ ان کی کلیساؤں میں اور عبادت خانوں میں بیٹھے ہوئے عبادت میں مصروف راہبوں کو بھی مت چھیڑنا، ان کے مال مویشی کو بھی نہیں چھیڑنا، ان کے باغات کو تباہ نہیں کرنا، ان کے فصلوں کو تباہ نہیں کرنا، یہ جنگ کے وہ عظیم الشان اصول ہیں جو دین اسلام نے دئے ہیں۔ جس طرح صہیونی قوم کہتی ہے کہ ہمارے لیے بچوں کو بھی قتل کرنا جائز ہے، عورتوں کو بھی قتل کرنا جائز ہے، انسانیت کا قتل، میں سوچتا ہوں کہاں ہے وہ انسانی حقوق کی تنظیمیں، آج اگر ہم یہاں پر جلسے میں ایک سخت لفظ کہہ دے پوری دنیا کی مغربی دنیا ان کے این جی اوز ان کے انسانی حقوق کی تنظیمیں وہ ہمارے پیچھے پڑ جاتی ہے یہ بڑے شدت پسند ہیں۔آتنگ واد ہیں۔

Maulana Fazl-ur-Rehman

78,009 次观看 • 2 年前

خیبرپختونخوا صوبائی اسمبلی کے ایک ممبر، جو ضلع دیر سے تعلق رکھتے ہیں، ذرا ان کی تقریر سنیے۔ وہ کہہ رہے ہیں کہ مجھے اپنے ایس پی نے کہا کہ لشکر بناؤ اور دہشت گردوں سے لڑو۔ میں وزیرستان کے پڑوس میں ہوں، بنوں کے پڑوس میں ہوں، لکی مروت کے پڑوس میں ہوں، ٹانک میں ہوں، ڈیرہ اسماعیل خان میں ہوں۔ وہاں قوموں کو نہیں کہا جا رہا کہ لشکر بناؤ؟ اور پھر انہی لشکروں کو لڑایا گیا، اور بعد میں ہماری وہ قومیں، وہ برادریاں، جو معتبر برادریاں ہیں، انہی دہشت گردوں کے ساتھ بیٹھ کر جرگے کرنے پر مجبور ہو گئیں۔ جن کو آپ ملک دشمن کہتے ہیں، جن کو آپ خوارج کہتے ہیں، جن کے خلاف آپ جنگ لڑ رہے ہیں، جب عام لوگ ان کے ساتھ نبرد آزما ہوئے تو وہ اتنے مجبور ہو گئے کہ بالآخر انہیں ان کے ساتھ جرگے کرنے پڑے۔ اس ملک کے اندر آپ دیکھ رہے ہیں، ہمارے ناک کے نیچے سب کچھ ہو رہا ہے۔ اور جب بنگال میں جنگ چھڑ گئی تھی تو وہاں لشکر نہیں بنے؟ جماعتِ اسلامی کے البدر اور الشمس بھی لشکر تھے، جو عوام کی صفوں سے اٹھے ہوئے نوجوان تھے، اور آپ کے ملک کی فوج کے ساتھ شانہ بشانہ لڑ رہے تھے۔ لیکن آپ تو سرنڈر کر کے آ گئے، ترانوے ہزار لوگوں کو قیدی بنوا دیا۔ پھر ذوالفقار علی بھٹو نے انہیں رہا کروایا، وہ واپس آئے۔ اور آج بھی، جب تک حسینہ واجد کی حکومت رہی، عوامی لیگ کی حکومت رہی، جماعتِ اسلامی کے لوگوں کو پھانسیاں نہیں ملیں؟ یہ ہوتا ہے جب آپ عوامی لشکر نکالتے ہیں، اور فوج کہتی ہے کہ تم نکلو، تم نکلو۔ پھر وہ دشمنیاں نسلوں تک چلتی ہیں۔ اور دو تین سال پہلے تک بھی جماعتِ اسلامی کے لوگوں کو وہاں پھانسیاں دی جاتی رہیں۔ کس پاداش میں؟ کیونکہ فوج تو آ گئی، تو یہاں بھی فوج چلی جائے گی، فوج نہیں ہوگی، کوئی اور آ جائے گا، ایک یونٹ جائے گا، دوسرا یونٹ آ جائے گا، لیکن مقامی آبادی تو وہی رہے گی۔ اور یہ بھی تو مقامی آبادی کے وہی لوگ ہیں۔ تو میں ان پہلوؤں کو سامنے رکھ کر بات کرتا ہوں۔ میں کسی کے خلاف بات نہیں کر رہا ہوتا۔ ان چیزوں پر گفتگو ہونی چاہیے، ان پر مکالمہ ہونا چاہیے۔ یہ جو حکومتی نظریات ہیں، اور اس قسم کے فلسفے ہمارے اوپر تھوپتے ہیں، ان کے مقابلے میں میرا ایک مکالمہ ہے، میرا ایک مؤقف ہے۔ میں کسی کے خلاف نہیں بول رہا، لیکن ایک نظریے، ایک طرزِ عمل، ایک حکمتِ عملی کو اپنی دلیل کے ساتھ کاؤنٹر کر رہا ہوں۔ تو دلیل کے ساتھ دلیل میں بات کرو، کردار کشی کیوں کرتے ہو؟ میں راستے بند نہیں کرتا۔ میں نے اب بھی کسی کا راستہ بند نہیں کیا۔ میرا راستہ بند کیا گیا ہے۔ مجھے بند گلی کی طرف دھکیلنے کی کوشش کی جا رہی ہے، تو مجھے دفاع پر مجبور کیا جا رہا ہے، اور اس وقت میں اپنے دفاع کی جنگ لڑ رہا ہوں۔ سوشل میڈیا پر بھی اگر کوئی جنگ ہے تو وہ ایک دفاع کی جنگ ہے۔ پھر مجھ پر تنقید کا نشانہ بنائیں، کسی مسئلے پر مکالمہ شروع کریں، گالیاں کیوں دیتے ہو؟ تم نے جن لوگوں سے میرے خلاف بیان دلوائے، یہ کرائے کے باکو، یہ جو بولتے رہے ہیں، یہ سارے کے سارے جس زبان سے بولتے رہے ہیں، میری حب الوطنی کو مشکوک بنانا، اس وطن کے ساتھ میری وفاداری کو مشکوک بنانا، میری جماعت کی قربانیوں کو مشکوک بنانا، یہ ساری چیزیں... آج تک میں آپ پر اعتماد کرتا ہوں، لیکن اس کے جواب میں آپ مجھ پر اعتماد نہیں کر رہے۔ آپ میرے مدارس کی رجسٹریشن بحال نہیں کر رہے، آپ میرے مدارس کے اکاؤنٹس بحال نہیں کر رہے۔ تو تعاون، معاونت، یہ تو عربی الفاظ ہیں، اور ان میں دو طرفہ تعلق کا تصور ہوتا ہے۔ یہاں ایک طرفہ طور پر ہم آپ پر اعتماد کر رہے ہیں، ہم آپ کے ملک کا دفاع بھی کر رہے ہیں، ہم آپ کے شہداء کا احترام بھی کر رہے ہیں، اور آپ کی طرف سے مسلسل شکوک و شبہات، کبھی کردار کشی، کبھی کچھ اور۔ تو ہم تو ایک پگڈنڈی پر سفر کر رہے ہیں۔ ادھر جاتے ہیں تو بھی موت، اُدھر جاتے ہیں تو بھی موت۔ ایک طرف جان کا خطرہ، دوسری طرف سیاسی موت کا خطرہ۔ تو اس پگڈنڈی میں جمعیت علمائے اسلام سیاست کر رہی ہے، لیکن بڑی خود اعتمادی کے ساتھ کر رہی ہے۔ اور میں پوری پبلک کا، آپ کی وساطت سے پوری دنیا کے عوام، بالخصوص پاکستان کے عوام کا شکر گزار ہوں کہ نوّے فیصد آبادی نے ہمارے اس مؤقف کی حمایت کی، ہماری حوصلہ افزائی کی۔ قائد جمعیت مولانا فضل الرحمٰن مدظلہ کی صحافی آصف نثار سے گفتگو

Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan

20,781 次观看 • 29 天前

میں، بطور ممبر لیگل ٹیم سابق وزیراعظم عمران خان ، یہ واضح کرنا چاہتا ہوں کہ ہم نے عمران خان صاحب کی جانب سے سپریم کورٹ اور ہائی کورٹس میں متعدد آئینی و قانونی درخواستیں دائر کرنی ہیں۔ اسی سلسلے میں کل دوسری مرتبہ اڈیالہ جیل پہنچا تاکہ عمران خان صاحب کے قانونی دستاویزات ، وکالت نامہ اور پاور آف اٹارنی پر دستخط حاصل کیے جا سکیں، جو کسی بھی پٹیشن کے دائر کرنے کے لیے ناگزیر قانونی تقاضا ہے اور اس کے بغیر کوئی بھی درخواست اپیل برائے سماعت مقرر نہیں کی جاتی۔ مگر جیل انتظامیہ کی جانب سے ان قانونی دستاویزات پر عمران خان صاحب سے دستخط کروانے کی اجازت نہیں دی گئی، جس سے نہ صرف قانونی عمل میں رکاوٹ پیدا کی جا رہی ہے بلکہ عمران خان صاحب کے بنیادی حقِ رسائی برائے انصاف (Access to Justice) کو بھی سلب کیا جا رہا ہے۔ یہ قابلِ تشویش ہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے حالیہ احکامات کے خلاف ہمیں سپریم کورٹ میں اپیل دائر کرنے کے لیے بھی ضروری قانونی تقاضے پورے کرنے سے روکا جا رہا ہے تا کہ نہ کیس کی سماعت ہو گی اور نہ عمران خان صاحب کے ساتھ ہونے والی نا انصافی سامنے آئے گی۔ یہ طرزِ عمل دانستہ طور پر پٹیشنز کو مؤخر اور غیر مؤثر بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے تاکہ مقررہ مدت گزر جانے کے بعد انہیں زائد المیعاد (time-barred) قرار دے کر سماعت سے ہی محروم کر دیا جائے۔ کل جیل حکام نے پہلے نام نوٹ کر کے انتظار کروایا اور بعد ازاں وقت گزارنے کے بعد صاف انکار کر دیا، جو بدنیتی پر مبنی تاخیری حربہ ہے۔ یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ جب بھی عمران خان صاحب کے مقدمات کو میرٹ پر اپیلٹ فورم پر سنا گیا، جیسے کہ سائفر کیس، عدت کیس اور توشہ خانہ کیس، ان میں عدالتی نا انصافی عیاں ہوئی اور سزائیں ختم ہوئیں ۔ یہی وجہ ہے کہ یہ کوشش کی جا رہی ہے کہ نئی پٹیشنز دائر ہی نہ ہونے دی جائیں۔ ہم نے سپریم کورٹ میں میڈیکل بنیادوں پر بھی رجوع کرنا تھا، تاہم اس ضمن میں بھی رکاوٹیں کھڑی کی جا رہی ہیں۔ بحیثیت وکیل، میں عمران خان صاحب کے تمام قانونی امور کی کوآرڈینیشن، مینجمنٹ اور فالو اپ کا ذمہ دار ہوں اور لیڈنگ کونسلز کو سہولت فراہم کرنا میری پیشہ ورانہ ذمہ داری ہے، لیکن موجودہ صورتحال میں یہ تمام امور غیر معمولی رکاوٹوں کا شکار ہیں۔ قانونی دستاویزات پر دستخط نہ کروانے کا واحد مقصد یہ ہے کہ کوئی بھی اپیل یا آئینی درخواست بروقت دائر نہ ہو سکے اور یوں عمران خان صاحب کو انصاف تک مؤثر رسائی سے محروم رکھا جائے، جو کہ نہ صرف آئین بلکہ قانون کی روح کے بھی منافی ہے

Khalid Yousaf Chaudry

42,620 次观看 • 4 个月前

میڈیا پر سرفراز مسوری اپنے ترجمانوں کے ساتھ بیٹھ کر بڑے بڑے دعوے کرتا ہے اور حکومت کی طرف سے ٹوئٹر اکاؤنٹس کے ذریعے دروغ گوئی و دھوکے کا سہارا لیا جاتا ہے جبکہ روزانہ کی بنیاد پر حکومتی ارکان میڈیا پر دعویٰ کرتے ہیں کہ بلوچستان کے حالات مکمل کنٹرول میں ہیں اور ایک ایک انچ پر ریاستی رٹ قائم ہے، آج بلوچستان کے جیوانی علاقے میں کوسٹ گارڈ ہیڈ کوارٹر پر خودکش دھماکے کی اطلاعات ملیں تو فوراً ریاستی اکاؤنٹس نے دعویٰ کیا کہ حملہ ناکام بنا دیا گیا اور چار حملہ آور مار دیے گئے لیکن حملہ آوروں نے ویڈیو اپ لوڈ کر دی جس میں واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے کہ پورا کوسٹ گارڈ ہیڈ کوارٹر زمین بوس ہو گیا ہے اور حملہ آور بھی صرف ایک تھا، اطلاعات ملی ہیں کہ حملے کی ذمہ داری بلوچ لبریشن آرمی نے قبول کر لی ہے جبکہ ابتدائی اطلاعات کے مطابق 30 کوسٹ گارڈ اہلکار مارے گئے، سوچنے کی بات یہ ہے کہ بلوچستان کے حوالے سے کس قدر جھوٹ بولا جا رہا ہے اور حقائق کو کس طرح چھپایا جا رہا ہے، کہاں ہیں وہ سرفراز مسوری اور حکومتی ارکان جو بڑے بڑے دعوے کرتے ہیں، دلچسپ بات یہ ہے کہ حملہ آوروں نے زمہ داری بھی قبول کر لی اور ویڈیو بھی اپ لوڈ کر دی لیکن سیکورٹی فورسز اور بلوچستان حکومت کی طرف سے ابھی تک کوئی پریس ریلیز جاری نہیں ہوئی بلکہ ریاستی سوشل میڈیا ہینڈلز کے ذریعے صرف حملہ ناکام ہونے کے دعوے کیے جا رہے ہیں۔ باقی مجھے آج تک پتہ نہیں چلا کہ پاکستان میں حملہ ناکام یا کامیاب کرنے کا کرائٹیریا کیا ہے ؟

Zorakh Baloch

28,775 次观看 • 1 个月前