Загрузка видео...
Не удалось загрузить видео
کیسا با برکت دور تھا اور کیسا زوال آمادہ وقت ہے۔نعتیں کیا تھیں گویا ایک سیل جذب تھا جو کہیں اندر ہی بہا چلا جاتا تھا۔نعت سنتے تو کہیں کھو جاتے اور تصور ہی تصور میں کئی جہانوں کی سیر کر آتے۔نعت پکے اور پورے شاعر لکھتے اور لگتا... show more
305,001 просмотров • 1 год назад •via X (Twitter)
Комментарии: 9

میں نے ابھی بھی پہلی نعت پوری سنی ہے اور سکون محسوس ہوا ہے اور دوسرے کلپ کو ایک سیکنڈ بھی سن نا سکا۔

جس معاشرے میں زندگی کا ہر شعبہ اور ادارہ گراوٹ کا شکار ہو تو پھر ایسے نتائج ہی نکلتے ہیں۔اللہ انہیں ہدایت دے نعتوں کا کیا حال کرکے رکھ دیا ہے۔

آجکل لوگ عقل سے عاری ہیں۔ تب کی نعت میں الفاظ کے چناؤ میں بھی احتیاط برتی جاتی تھی۔ کہ کہیں کوئی ایسا الفاظ نہ استعمال نہ کیا جاۓ تو رحمت العالمین کے شایان شان نہ ہو۔ آج کل جو منہ میں آتا ہے عشق کے نام پر لکھ دیتے ہیں۔ جہاں آواز اونچی نہ رکھنے کا حکم ہے۔ وہاں کم الفاظ نہیں دیکھتے کیا بول اور لکھ رہے ہیں

پرانی نعت کے انداز میں تقدس اور احترام اور محفلِ نعت میں وجد آ جاتا تھا اب تو تماشہ بنا دیا گیا ہے

آج بھی مظفر وارثی مرحوم اور جنید جمشید مرحوم کی نعتیں سنیں تو اللہ اور رسول اللہ ﷺ کی محبت محسوس ھوتی ھے ❤️

پہلے نعت پڑھی جاتی تھی دلی محبت کے ساتھ جسکی تاثیر پڑھنے والا اور سننے والا دونوں محسوس کرتے تھے۔ اب نعت پڑھی جاتی ہے واہ واہ کروانے کے لیے اور پیسے اکھٹے کرنے کے لیے۔ آج کل نام نہاد نعت خانوں اور گانا گانے والوں میں کوئی فرق نہیں۔ میوزک تو اب نعت کا حصہ بن گیا ہے۔ نعوذ بااللہ

بہت شاندار نعت پڑھی اور لکھی جاتی تھیں یہ اویس قادری کی نعت کہ بعد ے یہ سلسلہ شروع ہوا اور آج اسکی بہت بگڑی شکل سامنے آرہی ہے

نعت کو مذاق بنا کے رکھ دیا ہے ان پروفیشنل اداکاروں نے۔میرے بس میں ہو تو یہی لوگ اصل میں پہ توہین رسالت کا مقدمہ درج کیے جانے لائق ہیں۔ بدبخت

ہم اس دور سے تعلق رکھتے ہیں جب نعت خواں خود بھی صاحب عمل ہوتے تھے حیاء دار ہوتے تھے ۔ اور سب سے بڑا کمال نعتیہ اشعار اعلی ترین الفاظ پر مبنی ہوتے۔ وحید ظفر ، سہروردی ، مظفر وارثی
