Загрузка видео...

Не удалось загрузить видео

На главную

طلباء کا احتجاج اسلام آباد پہنچ گیا، بلیو ایریا کے مناظر یہ مریم نواز کی پریس کانفرنس کا ردعمل ہے بجائے اُس بچی کے ساتھ کھڑا ہونے کے اس نے میڈیا سیٹھ کو بچانے کی کوشش کی

106,205 просмотров • 1 год назад •via X (Twitter)

Комментарии: 0

Нет доступных комментариев

Здесь появятся комментарии из оригинального поста

Похожие видео

#JusticeForIqra سرگودھا کی معصوم گھریلو ملازمہ اقراء پر بد ترین تشدد، 43جنوبی میں کہرام مچ گیا والدہ پر غشی کے دورے ۔ نواحی علاقہ 43جنوبی کی اقرا کے والد نے بتایا کہ بچی راولپنڈی اسلام آباد کے ایک تاجر عبد الرشید کے گھر ملازمہ تھی دو سال پہلے سے وہاں کام کرنے والی 15سالہ بچی کو محض چاکلیٹ گم ہونے کا الزام لگا کر تشدد کا نشانہ بنایا گیا اس کے سر ، بازوں ، ٹانگوں اور چہرے کو تیز دھار آلہ سے کاٹا گیا بازو ٹانگیں توڑی گئیں۔ باپ ثناء اللہ خود دو بچوں کے ساتھ منڈی بہت دن کے گاؤں میں ایک زمیندار کے گھر پر کام کرتا ہے غربت کے باعث اس نے اپنی بیٹی اقرا کو اسلام اباد میں ایک تاجر کے گھر پر چھوڑا لیکن ان ظالموں کی طرف سے اسے شدید تشدد کا نشانہ بنایا گیا جس کی وجہ سے بچی جان کی بازی ہار گئی ثنا اللہ کا مطالبہ ہے کہ وزیراعظم پاکستان اور وزیراعلی پنجاب محترمہ مریم نواز معاملہ کا نوٹس لیتے ہوئے ان ظالموں کے خلاف سخت سے سخت قانونی کاروائی عمل میں لائیں اور ان کی فوری گرفتاری بھی کی جائے غریب ثنا اللہ کا کہنا تھا کہ اسے معلوم نہیں تھا کہ اس طرح کا بہمانہ تشدد بھی کوئی انسان کر سکتا ہے اس کو بتانا تھا کہ بچی کو شدید اذیت دیتے ہوئے اس کے جسم پہ کٹ لگائے گئے جسے دیکھنا بھی اس کے لیے مشکل ہو رہا ہے اس کا بتانا تھا کہ پولیس کی طرف سے اسے راولپنڈی بلایا گیا جہاں پر ہسپتال میں اسی انکھوں کے سامنے اس کی لختہ جگر نے دم توڑ دیا لیکن یہ بے بس اور بیچارگی کے عالم میں اپنی بیٹی کی ڈیڈباڈی اٹھا کر سرگودھا اگیا ہے اس کا مطالبہ ہے کہ ملزمان کو گرفتار کیا جائے سرگودہ کے نواحی علاقہ 43 جنوبی میں بچی کی تدفین کا عمل جاری ہے

Shehr Bano Official

39,229 просмотров • 1 год назад

آج ہم کوئٹہ پریس کلب میں فیملیز کی جانب سے بی وائی سی کے رہنماؤں کے کیسز اور ڈاکٹر ماہرنگ بلوچ کی صحت کے حوالے سے پریس کانفرنس کرنا چاہتے تھے۔ لیکن آج صبح سے ہمیں پریس کلب کے سامنے کھڑا رکھا گیا اور کہا گیا کہ پہلے ڈی سی سے این او سی لے کر آئیں۔ حالانکہ ہمارے سامنے کئی دیگر فیملیز کو پریس کانفرنس کرنے کی اجازت دی گئی۔ جب ہم نے پوچھا کہ اُن سے این او سی کیوں نہیں مانگا جا رہا اور ہم سے کیوں، تو ہمیں جواب دیا گیا کہ “اوپر سے آرڈر ہے” کہ یہاں صرف اُن فیملیز کو پریس کانفرنس کی اجازت ہے جن کے بچے پہاڑوں پر گئے ہیں یا جن کا تعلق منشیات کے کیسز سے ہے۔ اس کے علاوہ مسنگ پرسنز کی فیملیز یا دیگر سیاسی جماعتوں کو اجازت نہیں دی جائے گی۔ مجبوراً ہم نے کوئٹہ پریس کلب کی سیڑھیوں کے سامنے بیٹھ کر اپنی پریس کانفرنس شروع کی۔ اسی دوران پولیس کی بھاری نفری وہاں پہنچ گئی اور صحافیوں کو باہر نکالنے کی کوشش کی گئی تاکہ وہ ہماری پریس کانفرنس کو ریکارڈ نہ کریں۔ بلوچستان میں نااہل حکومت کی وجہ سے حالات اس نہج پر پہنچ چکے ہیں کہ اب بولنے اور سوال کرنے کی بھی اجازت نہیں رہی #ReleaseBYCLeaderes

Nadia Baloch

32,315 просмотров • 5 месяцев назад

آج اسلام آباد پریس کلب کے سامنے بلوچ یکجہتی کمیٹی کے رہنماؤں ڈاکٹر مہرنگ بلوچ، شاہ جی، بیبگر اور دیگر اسیر کارکنان کی بازیابی کے لیے ان کے لواحقین کی جانب سے احتجاجی کیمپ لگایا گیا، جس میں ان کی باحفاظت رہائی کا مطالبہ کیا گیا۔ بلوچستان کی عدالتوں، حکومت، اور میڈیا سے مایوس ہو کر، خواتین، بزرگ مائیں، اور معصوم بچے سینکڑوں میل کا سفر طے کر کے اسلام آباد پہنچے اس امید کے ساتھ کہ شاید ریاست کے دارالحکومت میں، جہاں اعلیٰ عدلیہ، حکمران، اور میڈیا سب موجود ہیں، ان کی آواز سنی جائے گی۔ مگر ایک بار پھر نہ صرف ان کے مطالبات کو نظرانداز کیا گیا، بلکہ ان کا آئینی حقِ احتجاج بھی چھین لیا جارہا ہے۔ پہلے پولیس اہلکاروں نے احتجاجی کیمپ کے ٹینٹ اور اسپیکر تک ضبط کر لیے۔ بزرگ خواتین اور بچے بارش اور خراب موسم کے باوجود کھلے آسمان تلے بیٹھے رہے، اب جبکہ پولیس کی بھاری نفری کی موجودگی نے مظاہرین کو گرفتاری اور ممکنہ کریک ڈاؤن کے خدشات میں مبتلا کر دیا ہے۔ ریاست کی یہی طاقت پر مبنی پالیسیاں آج بلوچستان کو جلا رہی ہیں۔ انصاف کے مطالبے پر سنجیدہ ردعمل دینے کے بجائے، اگر ریاست بزرگ ماؤں اور بہنوں کو اسلام آباد کی سڑکوں پر گھسیٹے گی، تو یہ نہ صرف ظلم ہوگا بلکہ ایک اور شرمناک باب رقم کیا جائے گا۔ #ReleaseBYCLeaders

Sammi Deen Baloch

18,209 просмотров • 1 год назад

اسلام آباد کی تیز بارشوں اور سیلابی ریلوں کے بیچ، شہرِ اقتدار کی سڑکوں پر بلوچ مائیں اور جبری گمشدہ افراد کے لواحقین مسلسل دھرنے پر بیٹھے ہیں۔ نہ انہیں خیمہ لگانے کی اجازت ہے، نہ سر پر کوئی چھت یا سائبان۔ اسلام آباد پریس کلب کی دیوار سے محض چند قدم کے فاصلے پر یہ احتجاج جاری ہے، مگر صحافیوں کو بھی قریب آنے اور ان کے درد کو دنیا تک پہنچانے کی اجازت نہیں دی جاتی۔ یہ سب کچھ صرف امید اور حوصلے کے سہارے جاری ہے۔ تعداد میں یہ لواحقین چاہے کم ہیں، مگر ان کا وجود اور استقامت ہزاروں آوازوں سے زیادہ طاقتور ہے۔ گزشتہ48 دنوں سے وہ اسلام آباد کی سڑکوں پر ڈٹے ہوئے ہیں۔ دھمکیوں، رکاوٹوں اور ہر طرح کی مشکلات کے باوجود ان کا احتجاج جاری ہے۔ ان ماؤں اور بہنوں کے حوصلے اس ریاست اور اس کے حکمرانوں کے لیے کھلا چیلنج اور شرم کا مقام ہیں۔ یہ اس حقیقت کا اعلان ہیں کہ طاقت، دھوپ، بارش اور ظلم بھی ان کے عزم کو شکست نہیں دے سکے۔ یہ وہ زوردار طمانچہ ہیں جو اس گمان کو توڑ دیتا ہے کہ ان ماؤں کے حوصلے جھکائے جا سکتے ہیں۔ #ReleaseBYCLeaders

Sammi Deen Baloch

145,159 просмотров • 11 месяцев назад

ڈاکٹر ماہ رنگ اور بلوچ یکجہتی کمیٹی کی دیگر قیادت کے لواحقین کے ہمراہ جبری گمشدگی کے شکار افراد کے لواحقین گزشتہ دو دنوں سے اسلام آباد پریس کلب کے سامنے پُرامن احتجاج پر بیٹھے ہیں۔ افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ریاست نے ان مظلوم ماؤں اور معصوم بچوں کی بات سننے یا ان کے مسئلے کے حل کے بجائے، انہیں شدید بارش میں ایک عارضی شیلٹر یا کیمپ لگانے کی اجازت تک نہیں دی۔ یہ بلوچ مائیں اور بچے ہزاروں کلومیٹر کا سفر طے کر کے کوئٹہ سے اسلام آباد اس امید پر آئے کہ شاید ان کی آواز سنی جائے گی۔ مگر بدقسمتی سے، ریاست نے ان کی فریاد سننے کے بجائے انہیں خراب موسم اور تیز بارش کے باوجود کھلے آسمان تلے بیٹھنے پر مجبور کر دیا ہے۔ گزشتہ دو دنوں سے یہ خواتین اور بچے شدید خراب موسم کے باوجود صبر و استقامت کے ساتھ احتجاج پر بیٹھے ہیں، مگر ریاستی بے حسی اپنی جگہ قائم ہے۔ ہم تمام انسان دوست افراد، سول سوسائٹی، اور بلوچ قوم سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ ان مظلوموں کی آواز بنیں، اس ناانصافی کے خلاف آواز اٹھائیں، اور ان ماؤں اور بچوں کی اس پرامن جدوجہد میں ان کا ساتھ دیں۔

Mahrang Baloch

19,552 просмотров • 1 год назад