Loading video...

Video Failed to Load

Go Home

طوفانی موسم تھا اور فوڈ پانڈا کا ایک رائیڈر سڑک کنارے کھڑا ہوا تھا۔ ایک گاڑی والے نے اسے کہا کے گاڑی میں آۓ گا؟ تو اس فوڈ پانڈا ڈلیوری ڈائیور نے کہا کے میری فکر نہ کرو مجھے راستے میں ایک کبوتر ملا ہے اسے سنبھال لو ورنہ...

115,245 views • 8 months ago •via X (Twitter)

0 Comments

No comments available

Comments from the original post will appear here

Related Videos

🚨امریکی CIA نے القاعدہ تک کیسے رسائی حاصل کی؟🚨 جان کریاکو کو القاعدہ کے چار ارکان کے ایک کافی شاپ میں روزانہ ملنے کی اطلاع ملی۔ اس نے عربی حلیے میں روزانہ وہاں جانا شروع کر دیا۔ پھر ان میں سے ایک عربی سے اس کا کیسے رابطہ ہوا؟ یہ سنسنی خیز کہانی سنیے: میں پاکستان میں تھا۔ مجھے ایک اطلاع ملی تھی کہ القاعدہ کے درمیانی سطح کے چند جنگجو روزانہ صبح دس بجے ایک کافی شاپ میں ملاقات کرتے تھے۔ میری عربی اس وقت بالکل درست اور فصیح تھی۔ میں نے آپریشنل وجوہات کی بنا پر ایک گھنی داڑھی رکھی ہوئی تھی۔ انٹرویو کرنے والے نے پوچھا : کیا میں آپ کی کچھ عربی سن سکتا ہوں؟ جان کریاکو نے جواب دیا : ہاں۔ "آپ سے مل کر خوشی ہوئی۔" بسم اللہ الرحمن الرحیم الحمد للہ رب العالمین الرحمن الرحیم" میں نے ایک عربی اخبار خریدا اور کافی شاپ میں جا کر بیٹھ گیا، اور واقعی دس بجے وہ چاروں آ گئے۔ ان میں سے ایک نے میری طرف دیکھا، میں نے بھی اس کی طرف دیکھا، اور بس، ہماری نظریں ملیں۔ میں نے یہ ایک ہفتہ کیا۔ دوسرے ہفتے میں وہاں کافی پی رہا تھا، عربی اخبار کے ساتھ بیٹھا ہوا، اور وہ شخص جس نے پچھلے ہفتے میری طرف دیکھا تھا، اس نے سر ہلایا۔ تو میں نے بھی سر ہلایا، بس اتنا ہی —— کوئی اور بات چیت نہیں ہوئی۔ تیسرے ہفتے میں اب اس کے لیے باقاعدہ ایک شناسا انسان بن چکا تھا، وہ مجھے پہچانتا تھا۔ ایک دن اس نے مجھ سے کہا: "السلام علیکم" میں نے کہا: "وعلیکم السلام" — تم پر بھی سلامتی ہو۔ ایک دن وہ اکیلا آیا، تو میں نے کہا: "تفضل، براہ مہربانی بیٹھ جائیں۔ میرے ساتھ بیٹھیں، اس میں کوئی معنی نہیں کہ آپ اکیلے بیٹھیں اور میں اکیلے بیٹھوں۔" تو وہ بیٹھ گیا، ہم بات کرنے لگے، اور میں نے اس سے پوچھا کہ آپ پاکستان میں کب سے ہیں؟ اس نے کہا: میں پانچ سال سے یہاں ہوں۔ میں افغانستان میں تھا، میں نے امریکیوں کے خلاف جہاد کیا تھا۔ میں نے کہا: اوہ، وہ تو جہنم کی طرح رہا ہو گا۔ اس نے کہا: اوہ تورابورا کی بمباری تو وحشیانہ اور خوفناک تھی۔ میں نے کہا: اور آپ کا خاندان کیسا ہے؟ اس نے کہا: میری بیوی، بیٹا اور بیٹی قاہرہ میں ہیں۔ میں نے کبھی اپنے بیٹے سے ملاقات نہیں کی — وہ میری روانگی کے فوراً بعد پیدا ہوا تھا جب میں جہاد کے لیے گیا تھا۔ میں نے کہا: مجھے بہت افسوس ہے۔ اس نے کہا: ہاں، میں تنہا ہوں، اور میں گھر جانا چاہتا ہوں۔ اور ہم نے یہ رابطہ جاری رکھا۔ آخر کار ایک دن میں نے اس سے کہا: چلو، میں آپ کو ڈنر پر لے جاتا ہوں۔ کافی شاپ سے باہر چلیں۔ حقیقت یہ تھی کہ میں نہیں چاہتا تھا کہ اس کا کوئی دوست آ کر ہمیں دیکھ لے۔ تو ہم ایک ریسٹورنٹ میں ڈنر کے لیے گئے، اور میں نے کہا: سنیں، ایک چیز ہے جس میں میں نے آپ سے سچ نہیں بولا۔ میں لبنانی نہیں ہوں۔ دراصل، میں امریکی ہوں۔ کیا آپ اس سے ٹھیک ہیں؟ اس نے کہا: مجھے لگتا ہے ہاں۔ میں نے کہا: دراصل، میں سی آئی اے کا افسر ہوں۔ اس نے کہا: ٹھیک ہے۔ (وہ چیختا ہوا بھاگا نہیں، نہ ہی بندوق نکالی — کچھ نہیں کیا) اس نے پوچھا: آپ مجھے کیوں ملنا چاہتے ہیں؟ آپ مجھ سے بات کیوں کرنا چاہتے ہیں؟ میں نے کہا: دراصل، آپ کے پاس ایک چیز تک رسائی ہے جو میں چاہتا ہوں جو بہت مخصوص تھی۔ میں نے اسے بتا دیا کہ کیا چاہیے؟ اس نے کہا: اور آپ میرے لیے کیا کریں گے؟ میں نے کہا: آپ کے دل کی جو بھی خواہش ہو۔ اس نے کہا: میں گھر جانا چاہتا ہوں۔ میں نے کہا: میں یہ کر سکتا ہوں۔ (اور معلومات؟ ہاں، میں نے مخصوص معلومات چاہی تھیں جو میں نہیں بتاؤں گا۔) ورنہ میں جیل چلا جاؤں گا۔ تو ہم نے اس کے لیے پاسپورٹ کا بندوبست کیا، میں نے اس کے لیے فرسٹ کلاس ٹکٹ خریدا، اور اسے ایئرپورٹ تک چھوڑنے گیا، کچھ نقد رقم دی تاکہ وہ دوبارہ زندگی کی شروعات کر سکے۔ اور روانگی سے پہلے میں نے پوچھا: میں آپ سے ایک بات پوچھنا چاہتا ہوں — آپ مجھے یہ معلومات دینے پر کیوں رضامند ہوئے؟ میں تو غالباً آپ کا دشمن ہوں۔ اس نے کہا: میں یہاں پانچ سال سے ہوں، اور آپ پہلے شخص ہیں جس نے کبھی مجھ سے میرے خاندان کے بارے میں پوچھا۔ تو میں نے کہا: تم بہت خوش نصیب ہو، پھر میں اس سے کبھی نہیں ملا۔ یہی ہمارا کام ہے۔ John Kiriakou #CIA #JohnKiriakou #alQaeda #USA #Pakistan

اکرم راعی Akram Raee

135,697 views • 6 months ago

تیسری جماعت کے طالب علم، جو میناب کے پرائمری اسکول پر امریکی فضائی حملے میں شہید ہوا، کی والدہ نے کہا: ’’میں نے اس کے لیے رات کا کھانا تیار کیا اور جب وہ کھا رہا تھا تو اس نے کہا: ’امی، آپ کے بنائے ہوئے کھانے کا ذائقہ جنت جیسا ہے۔‘ میں نے کہا: ’بیٹے، یہ کیوں کہہ رہے ہو؟ تم نے پہلے کبھی ایسا نہیں کہا۔‘ تقریباً آدھی رات کے قریب اس نے اپنے اردگرد تکیے لگائے اور اپنے بھائی کے ساتھ بیٹھ گیا۔ اس نے کہا: ’بھائی، کھیلیں۔ میں ایران ہوں اور تم امریکہ۔ بندوقوں اور ٹینکوں کے ساتھ کھیلیں۔‘ وہ دونوں کھیلنے لگے۔ اس نے کہا: ’دیکھو، ایران جیت گیا؟ بھائی، ایران جیت گیا۔ میں ایران تھا اور جیت گیا۔‘ میرا بیٹا کہہ رہا تھا کہ ایران فاتح ہوا۔ یہ سب کچھ اس رات اسے کسی اندرونی جذبے سے ملا تھا۔ اس نے یہ سب اپنے شہادت سے ایک رات پہلے کیا۔ اس رات اس نے نماز بھی پڑھی اور قرآن بھی پڑھا۔ صبح میں اس نے کہا: ’امی، میری تصویر لے لو۔‘ یہ بچہ ایک فرشتہ تھا۔ وہ کہا کرتا تھا: ’میرا نام میکائیل ہے۔ میکائیل کا مطلب ہے خدا کا فرشتہ۔ اگر کسی کی کوئی خواہش ہو تو مجھے بتاؤ تاکہ میں پوری کر سکوں۔‘ خدا نے بھی اسے پسند کیا اور اپنے پاس بلا لیا۔ یہ بالکل سچ ہے، جیسا میں نے بیان کیا۔ یہ بے رحم امریکہ ہی تھا جس نے اس اسکول پر میزائل داغا، جہاں کچھ مشتبہ نہیں تھا۔ میں نے خود میناب میں چار سال گزارے ہیں۔ وہ صرف ہمارے بچوں کو مارنا چاہتے تھے۔

Mehwish Qamas Khan

32,682 views • 6 months ago