Video wird geladen...

Video konnte nicht geladen werden

Zur Startseite

🚨عادل راجہ کی بڑی خبر : لازمی نوٹ ⚠️اس خبر کو پڑھنے سے پہلے آپ نے اپنا احتجاج کسی صورت نہیں روکنا بلکہ اسے برھائیں تاکہ پوری دنیا کو مزید پیفام جائے کہ یہاں سب اچھا نہیں ہے جب تک فوج عمران خان کے علاج کو public نہ کرے...

105,137 Aufrufe • vor 6 Monaten •via X (Twitter)

0 Kommentare

Keine Kommentare verfügbar

Kommentare vom Original-Post werden hier angezeigt

Ähnliche Videos

جنرل عاصم منیر کے ریٹائر ہونے سے پورا ادارہ ریٹائر نہیں ہو جائے گا۔عاصم منیر کے ریٹائر ہونے سے افواج پاکستان کے ادارے کو ذرہ سا بھی فرق نہیں پڑے گا پاکستان کا ادارہ وہیں کھڑا رہے گا۔ صرف یہ ہو گا کہ ملک کے وسیع تر مفاد میں ایک مثبت تبدیلی ضرور آئے گی جس سے سیاست کے آگے چلنے کی راہ ہموار ہو گی ۔ عاصم منیرcontroversial کردار ہیں۔جسکی وجہ سے سب کچھ رکا ہوا ہے۔جنرل عاصم منیر ایک شخص ہے جنکا پاکستان کی فوج کے اوپر قبضہ ہے پاکستان کی فوج کے سات لاکھ افسر اور جوانوں نے عاصم منیر کو ووٹ دے کر الیکٹ نہیں کیا،کہ آپ کہیں یہ اسٹیبلشمنٹ کے نمائندے ہیں۔انھیں نواز شریف نے اپنی سیاست کی وجہ سے پرموٹ کر کے بیٹھایاہے۔ یہ عمران خان کو مسلسل ایک شخص کے طور پر پیش کر رہے ہیں جبکہ عمران خان تو پاکستان کے کروڑوں لوگوں کے دل کی آواز ہے۔عمران خان کو لوگ اپنی سوچ کا ترجمان سمجھتے ہیں عمران خان ایک قوم کی آواز ہے وہ انکی سوچ اور انکے جذبات کا ترجمان ہے۔دوسری طرف عاصم منیر اگر عزت سے ریٹائر ہو کر چلا جاتا ہے تو اگلے دن فوج میں کسی کو اسکی فکر نہیں ہو گی پاکستان کی فوج اسی طرح کھڑی رہے گی۔ ڈاکٹر معید پیرزادہ 🔥

Rodium-A

22,929 Aufrufe • vor 1 Jahr

عمران خان کے ساتھ جو ہو رہا ہے، اس کے قانونی حقوق سے انکار کیا جا رہا ہے۔ جب میاں نواز شریف صاحب جیل میں تھے اور پلیٹلیٹس کے حوالے سے ان کو مسئلہ ہوا، تو عمران خان نے ہمیں بلایا۔ میں وہاں موجود تھا، شاہ محمود قریشی، پرویز خٹک، پرویز الہی اور کچھ اور لوگ بھی موجود تھے۔ عمران خان نے ہم سب سے مشاورت کی اور ہم سب نے فیصلہ کیا کہ میاں صاحب کے جو کیسز ہیں، عدالتیں انہیں دیکھ رہی ہیں اور جو فیصلہ کرنا ہے، وہ عدالت کرے گی، لیکن ہم کسی کے ساتھ ذاتیات پر نہیں جائیں گے۔پھر ڈاکٹر یاسمین راشد صاحبہ نے بھی کہا کہ پلیٹلیٹس جتنے گر گئے ہیں، اس سے مسئلہ ہو سکتا ہے۔ عمران خان نے بہت بڑا پن دکھایا کہ میاں صاحب کو علاج کی سہولت دی جائے، چاہے وہ پاکستان میں علاج کروائیں یا ملک سے باہر۔ اور آج کی صورت حال یہ ہے کہ پہلے عمران خان کی رپورٹس کو چھپایا گیا، اور جب رپورٹس سامنے آئیں تو یہ جتنے بھی وزرا ہیں، عوام کے نمائندے، وہ اس طرح نہیں ہیں جس طرح کمشنر راولپنڈی نے انکشاف کیا تھا کہ جی ٹی روڈ کے اراکین کے حوالے سے یہ ناجائز تنخواہیں اور مراعات لے رہے ہیں۔میں واضح کرنا چاہتا ہوں کہ عمران خان کی صحت کے حوالے سے ہم کسی قسم کا کمپرومائز نہیں کریں گے۔ جیسا کہ ان کی فیملی کہتی ہے، ان کے علاج کی سہولیات آئندہ 24 گھنٹوں کے اندر بحال کی جائیں.

Asad Qaiser

15,139 Aufrufe • vor 6 Monaten

صحافی: مولانا صاحب آپ نے تقریر میں غزہ کا ذکر کیا فلسطین کا ذکر بھی کیا اور آپ نے کہا کہ یہ جو بالائے طاق رکھ کے آواز ہونی چاہیے، آپ سمجھتے ہیں کہ جو بڑے ممالک ہیں اسلامی ممالک ہیں سعودی عرب ہے پاکستان ہے ترکی ہے ان سب کو بڑی توانا طریقے سے آواز اٹھانی چاہیے پلیٹ فارم کی شکل میں تاکہ یہ ظلم و بربریت کا خاتمہ ہوسکے مولانا: ہم نے تو یہاں تک تجویز دی ہے کہ اسلامی امت کی اسی حوالے سے ایک تنظیم ہونی چاہیے اور اس تنظیم کی قیادت سعودی عرب کرے کہ مرکز اسلام کی نگرانی وہ کر رہے ہیں مرکز اسلام کی خدمت وہ کر رہے ہیں تو مکہ اور مدینہ دونوں مسلمانوں کے مراکز ہیں اسلام کے مراکز ہیں اور جن کی خدمت کی ذمہ داری جو ہے اس وقت خادم الحرمین الشریفین کے ذمے ہے تو یہ مقام ان کا ہے کہ وہ اسلامی دنیا کی قیادت کریں اس حوالے سے اور اس کو منظم کریں، اسی نظم کے ساتھ اور اسی وحدت کے ساتھ ہم دشمن سے دفاع کر سکیں گے مسلمانوں کا دفاع کر سکیں گے ان سے ان کے بشر حقوق کا دفاع کر سکیں گے ورنہ اسی طریقے سے دنیا ہمارا کھیلے گی کیا ہوا کیا گزرے افغانستان کے اوپر، کیا گزری عراق کے اوپر، کیا گزری لیبیا کے اوپر، کیا گزری شام کے اوپر اور اس وقت سعودی عرب اور یمن کے درمیان جو صورتحال ہے اس پر بھی اسلامی دنیا یقیناً پریشان ہے اور یہ حق ہے اس کا اور اس وقت جو فلسطینیوں پہ گزر رہی ہے حد کر دی ہے کہ کس طریقے سے یہ لوگ آئندہ انسان کی بات کریں گے یا انسانی حق کی بات کریں گے، تو یہ ضروری ہے کہ اسلامی دنیا کی طرف انہوں نے متوجہ کیا ہے اور ہم رابطہ عالمی اسلامی کے اور خادم الحرمین الشریفین کے اور ان کے ولی عہد کے شکر گزار ہیں جنہوں نے اس اقدام سے امت کو اس اہم مقصد کی طرف متوجہ کیا۔ صحافی: مولانا صاحب کچھ ممالک نے اسرائیل کو اسلامی ممالک نے اسرائیل کو تسلیم کیا ہوا ہے تو آپ سمجھتے ہیں پاکستان پر بھی دباؤ ہو رہا ہے تو اس ساری صورتحال میں کیا لائحہ عمل ہو سکتا ہے کہ یو این تو اس پہ خاموش ہے امریکہ اس کا ساتھ دے رہا ہے تو کس طرح اسلامی ممالک اسرائیل کو روک سکیں گے؟ مولانا: اسلامی ممالک کی وحدت اور ایک موقف کے اوپر مجتمع ہونا، آج ایک موقف ہے سب کا کہ اسرائیل جو ہے وہ قابض ہے اور اس کا تسلط ہے اور فلسطینی جو ہے وہ آزادی کی جنگ لڑ رہے ہیں لہذا اسرائیل کو تسلیم کرنا یہ مسئلہ نہیں ہے بلکہ فلسطین کی آزادی یہ مسئلہ ہے مسلمانوں کا اور مسلمانوں کو اصل مسئلے کی طرف متوجہ ہونا چاہیے، ہمیں ایک غیر ضروری موقف کی طرف لے جایا جا رہا ہے جس میں خالصتاً یا اسرائیل کا مفاد ہے یا مغربی دنیا اور امریکہ کا مفاد ہے مسلمان کا مفاد کہاں گیا امت مسلمہ کا مفاد کہا گیا اور مسجد اقصیٰ کا حق کہاں چلا گیا جس پر مسلمانوں کا حق ہے پھر فلسطین جو ہے وہ ارض فلسطین مسلمانوں کی سرزمین ہے فلسطینیوں کی سرزمین ہے ان کی آزادی کا جو بنیادی سوال ہے جو 75 سال سے زندہ ہے کیا اس مقصد کو بھی ہم حاصل کریں گے یا نہیں کریں گے یہ بڑا بنیادی سوال ہے جی۔

Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan

13,145 Aufrufe • vor 2 Jahren

اب آپ ناراض کس بات پر ہوئے ہیں؟ کہ میں نے کہا: "ہم لشکر نہیں بنائیں گے۔" آپ قبائل سے جگہ جگہ کہہ رہے ہیں کہ تم لشکر بناؤ اور لڑو۔ ہم نے کہا: "نہیں، یہ عوام کی ذمہ داری نہیں ہے۔" اس کے لیے آپ ہیں۔ آپ ہی بھرتی ہوتے ہیں، آپ ہی پیٹیاں باندھتے ہیں۔ لیکن پھر بھی پاکستان کے عوام نے آپ کو اخلاقی طور پر سپورٹ کیا ہے۔ آپ عوام کو جنگ میں جھونکنا چاہتے ہیں۔ تو پھر میں بتانا چاہتا ہوں کہ مشرقی پاکستان میں تم نے عوام سے کہا تھا کہ تم لشکر بناؤ۔ تو البدر بنا، الشمس بنا۔ اس نے پاکستانی فوج کے شانہ بشانہ لڑائی لڑی۔ آج بھی وہ دشمنی برقرار ہے یا نہیں؟ عوامی لیگ اور جماعتِ اسلامی کی آج بھی برقرار ہے۔ آج بھی جماعتِ اسلامی کے لوگوں کو پھانسیاں نہیں دی گئیں؟ تو تم ہماری قوم اور عام آدمی کو اس طرح کی دشمنیوں میں الجھانا چاہتے ہو؟ اور میں کیوں لشکر بناؤں؟ میری صوبائی حکومت، خواہ میرے اختلاف ہی کیوں نہ ہوں، وہ آپ سے کہتی ہے کہ ہم خود پولیس کو استعمال کر کے جنگ لڑ سکتے ہیں، فوج سائیڈ پر ہو جائے۔ تو آپ صوبائی حکومت کی طاقت کو استعمال کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں، اور آپ عام آدمی کو کہہ رہے ہیں کہ لشکر بناؤ۔ پہلے صوبائی حکومت کی پیشکش کو تو قبول کرو۔ اور نتیجہ یہ نکلا ہے، کہ بنوں میں چند مہینوں کے اندر اندر کتنی دفعہ چھاؤنی پر حملے ہوئے۔ وہ اندر داخل ہو گئے۔ ابھی حال ہی میں کتنے تھانوں پر انہوں نے قبضے کیے۔ کئی کئی دن تک قابض رہے۔ اور بالآخر پولیس نے اعلان کر دیا کہ: "اب ہم آپریشن میں فوج کے ساتھ نہیں لڑیں گے، ہم خود لڑیں گے، اپنے افسروں کا حکم نہیں مانیں گے۔" لہٰذا چین آف کمانڈ ٹوٹ چکا ہے۔ اور میرے بنوں کا سپاہی اپنے ڈی پی او کا حکم نہیں مانتا، اپنے ڈی آئی جی کا حکم نہیں مانتا، اپنے آئی جی پی کا حکم نہیں مانتا۔ اس کے بعد لکی مروت میں وہاں کی پولیس نے باقاعدہ اعلان کر دیا کہ: "ہم اپنی کمیٹی بنائیں گے، ہم اپنے طور پر لڑیں گے، ہم فوج کا سہارا لینے کے لیے تیار نہیں، نہ ان کے شانہ بشانہ لڑنے کے لیے تیار ہیں۔" وہ نہ ڈی پی او کو مانتے ہیں، نہ ڈی آئی جی کو، نہ آئی جی کو، اور ابھی چار دن ہوئے ہیں، چار دن، ٹانک میں پولیس ایک مسجد میں جمع ہوئی، ڈی پی او کو بھی ساتھ لائے۔ سب نے قرآنِ کریم پر ہاتھ رکھا کہ: "ہم فوج کے شانہ بشانہ نہیں لڑیں گے، اور اگر ہمارا سپاہی شہید ہوا تو کسی فوجی کو اپنے جنازے میں شریک ہونے کی اجازت بھی نہیں دیں گے۔ یہاں تک حالات پہنچ گئے ہیں۔ اب کیا رہ گیا؟ ڈیرہ اسماعیل خان رہ گیا، کرک رہ گیا، کوہاٹ رہ گیا۔ اب اس حالت تک ملک کو کس نے پہنچایا ہے؟ کیا یہ فضل الرحمٰن نے پہنچایا ہے؟ تمہاری اپنی فورسز تم پر اعتماد نہیں کر رہیں۔ تمہاری پالیسیوں سے مایوس ہو چکی ہیں۔ تو کبھی اپنے گریبان میں بھی جھانکو۔ اب تم فرشتے تو نہیں ہو کہ معصوم ہو، تم غلطی نہیں کرتے؟ دیکھیں! میرے مضمون کو سمجھو، میرے مضمون کو پڑھو، میرے لفافے کو نہ دیکھو،میں کیا کہنا چاہتا ہوں؟ اول سے لے کر آخر تک قوم کو میری تقریر سناؤ۔ اس میں توہین کی کون سی بات ہے؟ بے توقیری کی کون سی بات ہے؟ ہاں، میں نے آپ کو اپنی ذمہ داریوں کا احساس دلایا ہے، آپ کو اپنے دائرۂ کار کا احساس دلایا ہے، آپ کو اپنے دائرۂ اختیار کا احساس دلایا ہے کہ اپنے حدود میں رہو۔ تمہاری ساری توانائیاں پاکستان کے اوپر اپنی سیاسی گرفت مضبوط کرنے میں صرف ہو رہی ہیں۔ اور آج بھی جو تم نے شہداء کا مسئلہ اٹھایا ہے، تم اپنے ملک میں سیاسی تسلط اور سیاسی گرفت کو مضبوط بنانے کے لیے شہداء کے خون کو بطور ایندھن استعمال کرنے کی کوشش کر رہے ہو۔ اپنے جرائم کو چھپانے کے لیے شہداء کے پیچھے چھپتے ہو۔ ہم آپ سے کوئی جنگ نہیں لڑ رہے۔ ہم آپ کی پالیسیوں سے اختلاف کر رہے ہیں۔ میرے دلائل کا جواب دلائل سے دیجیے۔ کہتے ہیں: "معافی مانگنی ہے۔" میں نے مانگنی ہے یا تم نے مانگنی ہے؟ غلطی تم نے کی ہے۔ ہم تو رسول اللہ ﷺ کے اس ارشاد پر عمل کرتے ہیں: سَلُوا اللهَ الْعَافِيَةَ، وَلَا تَتَمَنَّوْا لِقَاءَ الْعَدُوِّ اللہ سے عافیت مانگا کرو، دشمن کا سامنا کرنے کی تمنا نہ کیا کرو۔ لیکن اگر مقدر میں ہے اور مقابلہ ہو گیا، پھر ڈٹ جاؤ۔ یہ اصول ہے۔ میں اپنی فوج کو دشمن نہیں کہہ رہا۔ میں اپنی فوج کو پاکستان کی فوج کہتا ہوں۔ اور جب میں پاکستانی ہوں تو فوج بھی پاکستانی فوج میری ہوئی۔ میں اپنی فوج کو اپنی فوج سمجھتا ہوں۔ لیکن جب آپ اپنے دائرۂ اختیار سے تجاوز کریں گے.... کسی کو اپنے عمل کا حساب کیا دیتے سوال سارے غلط تھے، جواب کیا دیتے قائد جمعیت مولانا فضل الرحمٰن کا اسلام آباد میں وکلاء کنونشن سے خطاب #قائدانقلاب_مولانا #سیاسی_چوکیدار #مولانا_سے_معافی_مانگ #شہداء_صرف_بہانہ #لشکر_نہیں_امن

Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan

36,286 Aufrufe • vor 28 Tagen

میں آج اس بات پر بہت افسوس کرتا ہوں کہ کل عمران خان کی بہن علیمہ خان کے گھر کی چادر و چار دیواری کے تقدس کی پامالی کی گئی۔علیمہ خان کے بیٹے، جس کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں، کو اغوا کیا گیا۔علیمہ خان کے بیٹے کی پی ٹی آئی کے کسی بھی ایونٹ میں کوئی تصویر تک نہیں ہے۔جس طرح اسے اغوا کیا گیا، اس سے پتہ چلتا ہے کہ اس ملک میں ریاست ماں کے جیسی نہیں ہے۔ظلم و جبر کا نظام ہے، اس ملک میں قانون کا کوئی احترام نہیں ہے۔عدالتوں میں وہ سکت نہیں رہی کہ شہریوں کو محفوظ رکھ سکیں۔آج علیمہ خان کے دوسرے بیٹے شیرشاہ کو اغوا کیا گیا۔میں مریم نواز سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ جس طرح پنجاب پولیس کر رہی ہے یہ آپ کی ذمہ داری ہے۔اتنا ظلم کریں، جتنا کل کو برداشت کر سکیں۔ہم نے تو ہمیشہ اصول کی سیاست کی ہے، ہم ہمیشہ قانون کے احترام کی بات کرتے ہیں۔اب تمام راستے اور حدود کراس کر دی گئی ہیں۔چیف جسٹس آف پاکستان سے مطالبہ کرتے ہیں کہ عدلیہ ہمیں میرٹ کے مطابق انصاف دے۔جو 8 دنوں کا ریمانڈ دیا گیا ہے، کس بنیاد پر دیا گیا ہے۔واضح ہو گیا ہے کہ یہ سب کچھ حکومت کی ایما پر ہو رہا ہے۔حکومت نے عدالت پر اثر انداز ہو کر سب کچھ کیا ہے۔پنجاب کی فاشسٹ حکومت کے خلاف ہر فورم پر آواز اٹھائیں گے۔اسمبلی میں بھی آواز اٹھائیں گے، آپ کے حربوں سے ڈرنے والے نہیں ہیں۔ہم اپنی تحریک کو آگے بڑھائیں گے اور ظلم کی تاریک رات جلد ختم ہوگی۔

Asad Qaiser

36,456 Aufrufe • vor 1 Jahr

ہم جس حال میں خیبر پختونخوا میں حکومت کر رہے ہیں، کوئی ہمیں حکومت کرنے کے لیے چھوڑ بھی نہیں رہا . صوبے کے چیف منسٹر کو اپنے لیڈر سے ملاقات نہیں کرنے دیا جا رہا۔ جیل مینوئل کے مطابق کسی بھی قیدی سے ملاقات کو نہیں روکا جا سکتا۔ جیل مینوئل کے مطابق کسی بھی قیدی سے ملاقات کی جا سکتی ہے۔ عمران خان اس ملک کے وزیر اعظم رہے ہیں اور ایک منتخب چیف منسٹر اس سے ملاقات نہیں کر سکتا۔ کیا پاکستان کسی ضابطے اور اصول پر چلتا ہے نہیں، یہ صرف ڈھنڈے سے چلتا ہے۔ ظلم اور ڈھنڈے کا یہ نظام ہمیں کسی صورت منظور نہیں ہے۔ اس ملک میں اگر ہم نے رہنا ہے تو قانون اور آئین کے تحت رہنا ہے۔ یہ جو ظلم ہو رہا ہے، یہ صرف عمران خان کے ساتھ نہیں ہو رہا، عوام کے ساتھ ہو رہا ہے۔ عوام سے ان کے ووٹ کا حق چھینا گیا، یہ فیصلہ عوام نے نہیں کرنا ہے کہ ہم نے کس کو ووٹ دینا ہے۔ ووٹ ڈالنے والے سے ووٹ گننے والا اہم ہے۔ اگر کسی ممبر عوامی نمائندے کو معلوم ہو کہ اس کے ووٹ کی کوئی اہمیت نہیں، تو کیا وہ آپ کی بات مانے گا۔ عوام کے پاس ووٹ کا حق ہے تو آپ کا نمائندہ آپ کی قدر کرتا ہے۔ ابھی جو ہری پور ضمنی انتخابات میں ہوا ہے، ووٹ کسی اور کو پڑا اور رکن کوئی بن گیا۔ فارم 45 کے مطابق سب کچھ ٹھیک ہے، لیکن کمپیوٹر پر بیٹھا آدمی اپنی مرضی کا ڈیٹا فیڈ کر رہا ہے۔ کس قسم کی عدالت، کس قسم کی الیکشن کمیشن، عدالتوں کو انتظامیہ کے ماتحت کیا گیا ۔

Asad Qaiser

16,009 Aufrufe • vor 7 Monaten

ہم کل کی پریس کانفرنس کا جواب دینے نہیں بیٹھے وہ ایک افسوسناک اضطرابی گفتگو تھی اس میں کوئی ایسا بیانیہ نہیں تھا جس کا جواب دیا جائے محض الزامات تھے ہم آپ کو اس کا جواب نہیں دینگے صرف اتنا کہیں گے پاکستان کی عوام کو مت دھتکارو، پاکستان کی عوام عمران خان اور پی ٹی آئی کے ساتھ کھڑی ہے۔ عمران خان سیکیورٹی تھریٹ نہیں عمران خان نے اس ملک کو جوڑ کے رکھا ہوا ہے پاکستان کے کروڑوں نوجوان عمران خان کی وجہ سے اس بیانیے کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں جو پاکستان کی ریڑھ کی ہڈی ہے۔ نسل پرستی فرقہ واریت صوبائیت جیسے تمام بیانیوں کو رد کرکے عمران خان پاکستان کے بیانیے کے ساتھ کھڑا ہے عمران خان جو ایک قومی لیڈر ہے اس کو سیکیورٹی تھریٹ کہا گیا جو کہ ایک مضحکہ خیز بات ہے اور پہلی بار یہ بات نہیں ہوئی۔ 1990 میں میں اصغر خان کا وکیل تھا جس نے اس وقت کے ڈی جی آئی ایس آئی اور آرمی چیف کے خلاف مقدمہ لڑا اس کا موقف تھا کہ انہوں نے انتخابات میں مداخلت کی جس کی وجہ سے ہمارے عسکری اداروں کا امیج خراب ہوا ہے۔ سولہ سال مقدمہ چلا اس وقت کی ڈی جی آئی ایس آئی اسد درانی نے ایک ایفی ڈیوٹ فائل کیا جس میں تسلیم کیا کہ ہم نے مداخلت کی ہم نہیں چاہتے تھے بینظیر وزیراعظم بنے پیپلز پارٹی کا وجود باقی رہے ہم نے فیصلہ کیا تھا کہ بینظیر بھٹو اور پیپلز پارٹی نیشنل سیکیورٹی تھریٹ ہیں۔ بار بار انہوں نے فیصلے کیے کہ عوام کا کوئی مقبول لیڈر سیکیورٹی تھریٹ ہے جس کو منظر سے ہٹانا ضروری ہے لیکن ایسا ممکن نہیں پاکستان کی عوام باشعور ہے ان کے دلوں سے آپ ان کے لیڈر کو نہیں ہٹا سکتے پاکستان کے عوام جانتے ہیں ان کی خاطر کون سیاست کررہا ہے، کون ہے جو عہدے سے بے نیاز ان کے حقوق کی خاطر لڑ رہا ہے۔اس بدلتے ہوئے معاشی نظام میں جب تک عوامی مفاد کو مدنظر رکھ کر فیصلے نہیں ہونگے تو کچھ بھی نہیں ہوگا۔ جب تک پاکستان کی عوام کی مرضی پاکستان کے ایوانوں میں پاکستان کے وزیراعظم ہاؤس میں نہیں گونجے گی تب تک فلاح ممکن نہیں ہے۔ آپ نے سولہ سیٹوں والی پارٹی کو پاکستان کی حکومت دے کر کہا یہ عوامی فلاح کے منصوبے بنائیں گے یہ ممکن ہی نہیں ہے۔ جھوٹ اور فریب کے اس نظام کو پاکستان کے عوام کبھی بھی تسلیم نہیں کریں گے سلمان اکرم راجہ

𝐼𝓂𝓇𝒶𝓃 𝐿𝒶𝓁𝒾𝓀𝒶

64,970 Aufrufe • vor 8 Monaten