Video wird geladen...

Video konnte nicht geladen werden

Zur Startseite

عاصم منیر عالمی طاقتوں کا اتنا بڑا خدمت گذار نکلا ۔ یہ عالمی اسٹیبلشمنٹ کی ایسی خدمت کر رہا ہے کہ باقی سارے ملٹری چیف ملکر بھی نہیں کر سکے ۔ عاصم منیر سے ذیادہ ان چار سالوں میں نیتن یاہو اور مودی کی خدمت کسی نے نہیں کی۔...

17,404 Aufrufe • vor 2 Monaten •via X (Twitter)

0 Kommentare

Keine Kommentare verfügbar

Kommentare vom Original-Post werden hier angezeigt

Ähnliche Videos

دلچسپ۔۔۔۔۔۔ راولپنڈی کے حلقہ PP-19 سے منتخب پاکستان تحریکِ انصاف کے رکنِ پنجاب اسمبلی تنویر اسلم راجہ کا تعلق باغ، آزاد کشمیر سے ہے۔ وہ مہاجرِ کشمیری نہیں بلکہ آزاد کشمیر کے مستقل رہائشی ہیں اور ان کے پاس آزاد کشمیر اور پاکستان، دونوں کی شہریت موجود ہے، پنجاب اسمبلی میں اپنی تقریر کے دوران انہوں نے خود بتایا کہ ان کا ووٹ پنجاب میں بھی ہے اور آزاد کشمیر میں بھی، وہ پنجاب سے الیکشن لڑ کر رکنِ اسمبلی منتخب ہوئے۔ اب سوال یہ ہے اگر آزاد کشمیر کا ایک رہائشی پاکستان میں ووٹ ڈال سکتا ہے، الیکشن لڑ سکتا ہے اور صوبائی اسمبلی کا رکن منتخب ہو سکتا ہے، جس پر پنجاب کے لوگوں کو کوئی اعتراض نہیں تو پھر پاکستان میں مقیم مہاجرینِ کشمیر کو آزاد کشمیر کے انتخابات میں ووٹ ڈالنے کے حق پر اعتراض کیوں کیا جاتا ہے؟ نوٹ: تنویر اسلم راجہ نے پنجاب اسمبلی میں اپنی تقریر کی وضاحت کرتے ہوئے بتایا مسلہ ووٹ کا نہیں بلکہ ووٹوں کے کم تناسب پر پاکستان سے منتخب ہوکر آزاد کشمیر اسمبلی کا ممبر منتخب ہونا ہے، پنجاب کی کوئی نشست آزاد کشمیر میں نہیں اسی طرح آزاد کشمیر اسمبلی کی کسی نشست پر پاکستان میں کیسے ووٹنگ ہوسکتی ہے۔

Shabbir Dar

21,505 Aufrufe • vor 2 Monaten

جے کے ایل ایف کا امان کہتا ہے تمہارے پاس صرف ایک آپشن ہے ہمارے قدموں میں سرنڈر کرو۔ پھر کہتا ہے "وطن یا کفن"۔ سرنڈر کی بات پھر کسی دن رکھ چھوڑتے ہیں آج "وطن یا کفن" پر بات کر لیتے ہیں۔ جموں و کشمیر کے چھوٹے سے ٹکڑے کو 24 اکتوبر 1947 کو آزادی ملی جسے آج آزاد کشمیر کہا جاتا ہے۔ 24 اکتوبر 1947 سے لیکر آج تک پاکستان اور بھارت کشمیر کو لیکر آپس میں پانچ جنگیں لڑ چکے لیکن پاکستان نے آج تک بھارت کو آزاد کشمیر کا ایک انچ نہیں لینے دیا۔ آج حیرانگی اس بات کی ہے کہ "وطن یا کفن" کی باتیں وہ کر رہے جن کا جدوجہد آزادیِ جموں و کشمیر سے چٹکی بھر سندور جتنا تعلق بھی نہیں۔ پاکستان تو اقوام متحدہ کی قرارداد پر آج بھی کار بند ہے کہ خطہ کشمیر کا فیصلہ کشمیریوں کی امنگوں کیمطابق ہو گا۔ اگر مقبوضہ کشمیر کے ڈیڑھ کروڑ اور آزاد کشمیر کے 22 لاکھ کشمیری خود مختار کشمیر چاہتے ہیں تو پاکستان کو کوئی انکار نہیں بلکہ پاکستان نے تو اسی لئے آج تک آزاد کشمیر کی حیثیت الگ ریاست کے طور پر برقرار رکھی ہوئی ہے جس کا اپنا صدر، اپنا وزیراعظم، اپنی اسمبلی، اپنی کابینہ اپنی ہائیکورٹ و سپریم کورٹ ہے۔ لیکن کیا "وطن یا کفن" کا فیصلہ صرف JKLF کے سرخے کریں گے؟ کیا "وطن یا کفن" کا فیصلہ صرف کالعدم عوامی جوائنٹ ایکشن کمیٹی والے کریں گے؟ نہیں جناب یہ فیصلہ ڈیڑھ کروڑ آبادی والا مقبوضہ کشمیر بھی کرے گا جو بقول کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی اور JKLF سرخے مہاجر ہیں اور ہمارا ان سے کوئی تعلق نہیں۔ اگر JKLF کے سرخوں کو اتنا ہی زور سے "وطن یا کفن" آیا ہوا ہے تو یہ مقبوضہ کشمیر میں جا کر وہاں "وطن یا کفن" خود مختار کشمیر کا راگ کیوں نہیں الاپتے؟ کیونکہ جب تک مقبوضہ کشمیر نہیں چاہے گا تب تک تو JKLF کے سرخے ٹانگیں اوپر کر کے ہاتھوں کے بل بھی چلنا شروع کر دیں تب بھی آزاد کشمیر کی خود مختار وطن کے نام کی باگ ڈور تو انکے ہاتھوں نہیں تھمائی جا سکتی۔ ہاں مجھے اتنا ضرور یقین ہے کہ JKLF کے سرخے اس خود مختار چورن کو لیکر مقبوضہ کشمیر میں جا کر "وطن یا کفن" کی آواز لگائیں تو "کفن" ضرور ملے گا یا وہ بھی پتہ نہیں نصیب ہوگا یا نہیں۔

Political Prism

14,113 Aufrufe • vor 2 Monaten

🚨 "پاکستان کا آرمی چیف جنرل عاصم منیر اب پاکستان پر مکمل قبضہ کرنے جا رہا ھے، خود کو"فیلڈ مارشل" بنا لینے کے بعد بھی طاقت، اختیار اور اقتدار کی ہوس ختم نہیں ہو رہی۔ اب عاصم منیر نے ایک نیا قدم اٹھایا ہے، پورے پاکستان کی پولیس فورس کو "ایک ہی سیکیورٹی کمانڈ" کے تحت فوج کے ماتحت کر دیا جائے گا! ۔NDTV کے مطابق اداروں کے درمیان"بہتر ہم آہنگی" کا بہانہ اصل میں یہ فوجی آمریت کی طرف ایک اور بڑا قدم ہے۔ عاصم منیر نے پہلے ہی پاکستان کے تمام اداروں، انٹیلی جنس ایجنسیوں اور آئین پر قبضہ کر لیا ھے۔ اب باقی بچا تھا صرف پولیس کا ادارہ اور وہ بھی تاریخ کے بدترین ڈکٹیٹر کے ہاتھ میں آ رہا ہے۔ آئندہ بجٹ میں عاصم منیر فوج اور دفاعی بجٹ کیلئے مزید کھربوں روپے کی ڈیمانڈ کر رہا ھے جبکہ عوام بھوکے مر رہے ہیں۔ بلوچستان، خیبر پختونخوا اور سندھ میں بغاوت بڑھ رہی ہے، عوام تعلیم ترقی اور روزگار چاہتے ہیں مگر عاصم منیر صرف طاقت اور کنٹرول چاہتا ھے۔ اب سوال یہ نہیں رہا کہ پاکستان کون چلا رہا ھے؟ اب سوال یہ ہے کہ عاصم منیر کے قبضے سے باہر کوئی ادارہ باقی ہے بھی یا نہیں؟ پاکستان اب مکمل طور پر فوجی آمریت کی شکنجے میں ھے

پری زاد

39,796 Aufrufe • vor 2 Monaten

🚨 جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی آخر آزاد کشمیر کو کس سمت لے جانا چاہتی ہے؟ کیا وہ مقبوضہ جموں و کشمیر کی صورتحال سے کوئی سبق نہیں لیتے، جہاں لوگ آج بھی بنیادی حقوق، روزگار، سیاسی آزادیوں اور معمول کی زندگی کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں؟ اس ویڈیو کو غور سے سنیے، جہاں محبوبہ مفتی خود آزاد کشمیر اور مقبوضہ جموں و کشمیر کا موازنہ کرتے ہوئے چند تلخ حقائق بیان کر رہی ہیں۔ جب مقبوضہ کشمیر کی ایک معروف سیاسی رہنما زمینی حقائق کا اعتراف کر رہی ہیں، تو ہمیں بھی جذبات کے بجائے حقائق کی بنیاد پر گفتگو کرنی چاہیے۔ آزاد کشمیر میں عوام کو تعلیم، کاروبار، اظہارِ رائے، سیاسی سرگرمیوں اور سماجی ترقی کے وہ مواقع حاصل ہیں جو مقبوضہ کشمیر میں محدود یا شدید دباؤ کا شکار ہیں۔ مسائل اپنی جگہ موجود ہیں، مگر ان کا حل انتشار، محاذ آرائی اور عدم استحکام نہیں بلکہ تعمیری مکالمہ اور ترقی پر مبنی سوچ ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ مجموعی طور پر آزاد کشمیر کے عوام تعلیمی، سماجی، سیاسی اور معاشی اعتبار سے مقبوضہ کشمیر کے مقابلے میں بہتر پوزیشن میں ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا آذاد کشمیریوں کو اس استحکام کو مزید مضبوط بنانا چاہیئے یا اسے کمزور کرنے کی کوشش کرنی چاہیئے؟ #AJK #AzadKashmir

Kashmir Urdu | کشمیر اردو

442,627 Aufrufe • vor 2 Monaten