Video wird geladen...

Video konnte nicht geladen werden

Zur Startseite

عبایا اور نقاب اکثر کیا جاتا ہے

451,733 Aufrufe • vor 3 Monaten •via X (Twitter)

0 Kommentare

Keine Kommentare verfügbar

Kommentare vom Original-Post werden hier angezeigt

Ähnliche Videos

اورنگی ٹاوّن میں عوام کے ہاتھوں ہلاک ہونے والے ڈکیت ساجد زرین خان کے والد صاحب کا بیان سوشل میڈیا میں گردش کر رہا ہے کہ میرے بیٹے نے غلط کام کیا تو اسے اس کی سزا دینی چاہئے تھی مگر جلانا یا مارنا کسی کا حق نہیں تھا۔ ہم کراچی والے آپ کا دکھ سمجھ سکتے ہیں۔ اور محسوس کر سکتے ہیں کہ جوان بیٹا کھونے کے بعد والدین کس کرب اور تکلیف سے گزرتے ہیں۔ لیکن کبھی آپ نے یہ نہیں دیکھا آپ کا بیٹا کس شان سے ٹک ٹاک میں انگلیاں گھما گھما کر نچاتا تھا۔ کیا آپ نے کبھی نہیں دیکھا کہ نوکری نا ہونے کے باجود شادیوں اور محفلیوں میں نوٹوں کی برسات کی جاتی تھی۔ کیا آپ کا بیٹا دیگر سماجی اور قانونی جرائم میں ملوث نہیں تھا۔ کیا جن محنت کش اور نوکری پیشہ افراد کو لوٹا جاتا ہے کیا ان کے پاس حرام کی کمائی ہوتی ہے۔ کیا جن سے موبائل موٹرسائیکل چھینے اور مزاہمت کرنے پر ان کے گھر کا چراغ بجھا دیا جاتا ہے ان کے اہلخانہ کو کسی قسم کا دکھ نہیں ہوتا۔ ہم آپ کے غم میں برابر کے شریک ہیں۔ مگر آپ کا بیان بھی ان ڈمپرز مافیاز کے سرغنہ جیسا ہے کہ ہم روز کچلتے رہیں گے۔ اور دو چار لاکھ روپے معاوضہ دے کر لواحقین کو چپ کروا دیں گے۔ مگر ہمارے ڈمپرز نا جلاوّ وہ انسانی جانوں سے قیمتی ہے۔ کراچی ایسی جگہ ہے جہاں چاروں صوبوں کی عکاسی ہوتی ہے۔ یہاں ہر رنگ، نسل اور بھانت بھانت کی زبانیں بولنے والے پائے جاتے ہیں نا تو کراچی اور کراچی والوں نے نفرت اور تعصب کی آگ لگائی نا ہی لسانیت کو فروغ دیا۔ اگر شہر میں قانون کی رٹ قائم اور قانون نافذ کرنے والے ادارے ایماندداری سے اپنا کام سرانجام دیں تو شہر میں چوری ، ڈکیتی اور لوٹ مار کو بہت حد تک کنٹرول کرنے میں معاون ہوسکتا ہے۔ (اس تحریر کو کاپی پیسٹ کیاگیاہے)

RahilaMujahid

44,711 Aufrufe • vor 6 Monaten