Загрузка видео...

Не удалось загрузить видео

На главную

عجیب احتیاج داشتم تو بازی‌های تیم ملا لیدر تماشاچیا باشم :( علی بیرانوند کصمامانت کی*ر پادشاهی‌خواها تو کصخوارت

50,989 просмотров • 2 месяцев назад •via X (Twitter)

Комментарии: 0

Нет доступных комментариев

Здесь появятся комментарии из оригинального поста

Похожие видео

عادل فردوسی‌پور، مجری و گزارشگر فوتبال در لایو فوتبال ۳۶۰ و در پاسخ به حملات وحید شمسایی، سرمربی تیم ملی فوتسال، حسین طاهری، مداح علی خامنه‌ای و مهدی حسن‌آبادی، آخوند حکومتی گفت: «دین و ایمان برای شما نیست.» فردوسی‌پور هفته گذشته، در انتقاد به رفتار وحید شمسایی در مسابقات همبستگی اسلامی که در عربستان سعودی برگزار شد، گفت: «در مسابقاتی که اسم همبستگی کشورهای اسلامی را یدک می‌کشد، یعنی شیعه و سنی در کنار هم. آن هم در عربستان سعودی حرکت وحید شمسایی و بازیکنان تیم ملی فوتسال که مچ دستشان را گرفتند و به تماشاگران نشان دادند، درست بود؟ در راستای وحدت بود یا تفرقه؟» در واکنش، وحید شمسایی، سرمربی تیم ملی فوتسال گفت: «فردوسی‌پور حتماً ذهن خودش منحرف است که دنبال تفرقه‌افکنی است. او پشت تریبون خودش نشسته و هر اراجیفی می‌خواهد می‌گوید. ما همه برادر و برابر هستیم ولی من وجودش را دارم و تا ابدالدهر پای اعتقاداتم هستم، نیازی هم ندارم به امثال این آدم خودم را نشان دهم.» در حمایت از شمسایی، حسن طاهری، مداح علی خامنه‌ای، در یک مراسم مذهبی به عادل فردوسی‌پور حمله کرد. پس از آن مهدی حسن‌آبادی، آخوند حکومتی، با ادبیاتی توهین‌آمیز به تهیه‌کننده فوتبال۳۶۰ تاخت: «نهایت تخصص تو مستطیل سبز است. تو چی از دین و ولایت می‌فهمی؟ چرا وقتی بازیکنان تیم ملی سرود جمهوری اسلامی را نمی‌خواندند «خفه‌خون» گرفته بودی؟» بازی‌های همبستگی کشورهای اسلامی دو هفته پیش به میزبانی ریاض، پایتخت عربستان سعودی آغاز شد. از جنجالی‌ترین و سوال برانگیزترین اتفاق‌های این مسابقات تا کنون حرکت دستی بود که وحید شمسایی سرمربی تیم ملی فوتسال در پایان همه بازی‌های تیم ملی ایران انجام داد؛ او مچ دست راستش را می‌گرفت و در اشاره به واقعه «غدیرخم» به تماشاگران نشان می‌داد.

ایران اینترنشنال ورزشی

25,498 просмотров • 8 месяцев назад

پیپلز پارٹی، جو خود کو ایک بہت بڑی جمہوری پارٹی کہتی ہے، آج کس منہ سے جمہوریت کی بات کرے گی۔ 1973ء کا آئین ذوالفقار علی بھٹو کا ایک عظیم تحفہ تھا، اور آج اس کے نواسے نے اسی آئین کا جنازہ نکال دیا۔ آج وہ کس منہ سے ملک میں ڈیموکریسی، قانون اور آئین کی بات کرے گا، کس منہ سے عوام کے حقوق کی بات کرے گا۔میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ ذوالفقار علی بھٹو کے پاس تو دو تہائی اکثریت تھی، اور صرف ایک چھوٹی سی اپوزیشن تھی۔ اس کے باوجود بھٹو نے تمام اپوزیشن کو ساتھ ملا کر کنسنسس پیدا کیا اور تمام مختلف سیاسی نقطہ نظر رکھنے والے لوگوں کو ساتھ لے کر قوم کو سب سے بڑا آئینی دستاویز تحفے میں دیا۔اب میں بلاول بھٹو صاحب سے پوچھنا چاہتا ہوں، آپ نے کیا کیا؟ آپ کی پارٹی نے تو 1973ء کے آئین کی روح کا قتل کیا ہے۔ آپ کی پارٹی نے اپنے نانا کی جو عظیم کنٹریبیوشن دی، آج اس کنٹریبیوشن کو خاک میں ملا دیا۔ آج اگر ذوالفقار علی بھٹو زندہ ہوتے تو کیا کہتے۔

Asad Qaiser

35,450 просмотров • 9 месяцев назад

سچ سامنے آنے میں دیر لگتی لیکن اندھیر نہیں🚨 وزیراعلی علی امین گنڈاپور کے دور میں سینٹر مرزا آفریدی کو سینٹ کا ٹکٹ جب ملا تو میرے سمیت تمام باقی تمام ورکرز نے رج کر مرزا آفریدی اور علی امین گنڈا پور کو تنقید کا نشانہ بنایا !! جب مجھے کسی نے حلفاً اس بات کی تصدیق کردی کہ مرزا آفریدی کو ٹکٹ عمران خان نے دیا ہے تو میں خاموش ہوگیا اور عمران خان کے فیصلے کے ساتھ چھپ کرکے ایگری کرتے ہوئے مرزا آفریدی کو سپورٹ کرنے پر نکل آیا !! جب علی امین گنڈا پور مرزا آفریدی کے لاہور رہاشگاہ پر پہنچا قافلہ لیکر تو پھر بھی سب نے تنقید کی میں نے بھی کی لیکن آج سہیل آفریدی بطور وزیر اعلی مرزا آفریدی کے گھر کیوں گئے؟؟؟ کسی کے پاس ہے اسکا جواب؟؟؟ اگر وہ غدار ہے تو سہیل آفریدی غداروں سے ملیں گے ؟؟ بالکل نہیں ،،، ہم اس وقت غلط تھے اپنی غلطی ماننا ظرف کے لوگوں کا کام ہے غلطی مان کر مرزا آفریدی کے اچھے کام کو ایپرشئیٹ کرے !! ٹویٹ پڑھنے کا شکریہ 🙏

Mohammad Shehzad Khan

41,739 просмотров • 7 месяцев назад