Video wird geladen...

Video konnte nicht geladen werden

Zur Startseite

عدالت کا حکم سمجھ سے بالاتر ہے۔ سڑک بند کرنا سیاسی جماعتوں کا پہلا کام ہوتا ہے۔ ریڈ زون سے باہر کسی جگہ کا تعین کیا جا سکتا تھا اور حکومت کو بھی کوئی واضح ہدایت نہیں دی ہے، سلیم صافی Saleem Safi

57,283 Aufrufe • vor 10 Tagen •via X (Twitter)

1 Kommentare

Profilbild von Sher
Shervor 10 Tagen

@SaleemKhanSafi Ya tatu lafafa zinda hy gandu

Ähnliche Videos

ابھی اسلام آباد میں چند روز بعد کچھ جماعتوں نے مظاہروں کا اعلان کیا ہے؟پورے اسلام آباد کو کنٹینروں سے بھر دیا گیا ہے،پاکستان کے دارالخلافہ کا تصور دنیا بھر میں کیا جا رہا ہے؟ اور ہم ہیں کہ کسی کو بھی احتجاج کرنے کا حق نہیں دینا، اظہارِ رائے کا حق نہیں دینا۔ اور پھر جب لوگوں کی آواز بند کر دیتے ہیں اور وہ دیوار سے جا کر لگ جاتے ہیں تو پھر زبان کے بجائے ہاتھ استعمال کرتے ہیں، تو پھر ان کو باغی کہا جاتا ہے،ملک کے لیے باغی تو آپ خود بنا رہے ہیں۔ کشمیر کے اندر تو کسی کے پاس بندوق نہیں ہے، ان کو بھی لاشیں دی جا رہی ہیں،تین مہینے سے لوگ بیٹھے ہوئے ہیں، اور ان کے ساتھ کیے گئے وعدے اور وہ مطالبات جو تسلیم کیے جا چکے ہیں، حکومت وہ واپس لے چکی ہے۔اور ہر ایک پر الزام ہے، کوئی را کا ایجنٹ بن جاتا ہے، تو کوئی افغانستان کا ایجنٹ بن جاتا ہے، تو کوئی ایران کا ایجنٹ بن جاتا ہے۔ کیا صرف یہی پاکستانی رہ گئے ہیں؟ جس طرح خوارج صرف اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہیں،اسی طریقے سے ہمارے طاقتور لوگ بھی اپنے آپ کو پاکستانی کہتے ہیں اور اپنے علاوہ کسی کو پاکستانی نہیں سمجھتے ہیں۔ یہ رویے ناقابلِ برداشت ہوتے جا رہے ہیں، اور اس پر حکومت کو غور کرنا چاہیے۔

Maulana Fazl-ur-Rehman

29,947 Aufrufe • vor 3 Tagen

ہم جس حال میں خیبر پختونخوا میں حکومت کر رہے ہیں، کوئی ہمیں حکومت کرنے کے لیے چھوڑ بھی نہیں رہا . صوبے کے چیف منسٹر کو اپنے لیڈر سے ملاقات نہیں کرنے دیا جا رہا۔ جیل مینوئل کے مطابق کسی بھی قیدی سے ملاقات کو نہیں روکا جا سکتا۔ جیل مینوئل کے مطابق کسی بھی قیدی سے ملاقات کی جا سکتی ہے۔ عمران خان اس ملک کے وزیر اعظم رہے ہیں اور ایک منتخب چیف منسٹر اس سے ملاقات نہیں کر سکتا۔ کیا پاکستان کسی ضابطے اور اصول پر چلتا ہے نہیں، یہ صرف ڈھنڈے سے چلتا ہے۔ ظلم اور ڈھنڈے کا یہ نظام ہمیں کسی صورت منظور نہیں ہے۔ اس ملک میں اگر ہم نے رہنا ہے تو قانون اور آئین کے تحت رہنا ہے۔ یہ جو ظلم ہو رہا ہے، یہ صرف عمران خان کے ساتھ نہیں ہو رہا، عوام کے ساتھ ہو رہا ہے۔ عوام سے ان کے ووٹ کا حق چھینا گیا، یہ فیصلہ عوام نے نہیں کرنا ہے کہ ہم نے کس کو ووٹ دینا ہے۔ ووٹ ڈالنے والے سے ووٹ گننے والا اہم ہے۔ اگر کسی ممبر عوامی نمائندے کو معلوم ہو کہ اس کے ووٹ کی کوئی اہمیت نہیں، تو کیا وہ آپ کی بات مانے گا۔ عوام کے پاس ووٹ کا حق ہے تو آپ کا نمائندہ آپ کی قدر کرتا ہے۔ ابھی جو ہری پور ضمنی انتخابات میں ہوا ہے، ووٹ کسی اور کو پڑا اور رکن کوئی بن گیا۔ فارم 45 کے مطابق سب کچھ ٹھیک ہے، لیکن کمپیوٹر پر بیٹھا آدمی اپنی مرضی کا ڈیٹا فیڈ کر رہا ہے۔ کس قسم کی عدالت، کس قسم کی الیکشن کمیشن، عدالتوں کو انتظامیہ کے ماتحت کیا گیا ۔

Asad Qaiser

16,009 Aufrufe • vor 8 Monaten