Loading video...

Video Failed to Load

Go Home

عمر دراز ایک ابھرتا ہوۓ بہترین صحافی ہیں لاجک اور میرٹ پر بات کرتے ہیں اس کلپ میں عمر دراز نے انتہائی لاجک سے ن لیگ کے صحافیوں کو لاجواب کیا لیکن افتخار فتنہ جیسے صحافی جو آج تک گند بیچتے رہے شریفوں اور جرنیلوں کے اشاروں پر ناچتے...

17,556 views • 4 months ago •via X (Twitter)

0 Comments

No comments available

Comments from the original post will appear here

Related Videos

فخر الرحمن صاحب کے خلاف درج ایف آئی آر کے مطابق اس میں نہ تو 'اسلام آباد پوسٹ' نامی کسی اکاؤنٹ کا ذکر ہے اور نہ ہی اس سے جڑا کوئی الزام۔ جب بنیاد ہی سرے سے موجود نہیں، تو پھر 'اعترافِ جرم' کا کیسا؟ اگر صورتحال کا بغور جائزہ لیا جائے فخر صاحب کیخلاف ایک باقاعدہ منظم مہم شروع کی گئی، گرفتاری کے فوراً بعد پہلی پوسٹ 'مارخور' نامی اکاؤنٹ سے منظرِ عام پر آتی ہے، جس کے بعد وہ مخصوص صحافی میدان میں اترتے ہیں جو آج کل ریاستی بیانیے کے ہمنوا ہیں۔ ان لوگوں نے کسی تحقیق یا تصدیق کی زحمت کیے بغیر مواد کو 'کاپی پیسٹ' کیا اور فخر صاحب کو ملک دشمن ثابت کرنے کی دوڑ میں لگ گئے۔ اس کے بعد ن لیگ اور مقتدر حلقوں کے سوشل میڈیا ٹرولز، بشمول نیشا پومی جیسے اکاؤنٹس نے محاذ سنبھالا اور جھوٹے پراپیگنڈے کے ذریعے اپنی 'نوکری حلال' کرنے کی کوشش کی۔ ملک دشمنی کے فتوے بانٹنے والے ان فکری اپاہجوں کو کیا معلوم کہ فخر الرحمن جیسے صحافی ان گمنام ہینڈلز سے کہیں زیادہ محبِ وطن ہیں۔ آخر ایک صحافی اپنی آزادی اور تحفظ کو خطرے میں ڈال کر اگر حق کی بات کرتا ہے، تو اس میں اس کا کیا ذاتی مفاد ہو سکتا ہے؟ حق گوئی ہی تو اصل حب الوطنی ہے، کیونکہ جو شخص نظام کی خامیوں پر خاموش رہنے کے بجائے آئینہ دکھاتا ہے، وہ دراصل اس مٹی کی اصلاح چاہتا ہے۔ افسوس ان پراپیگنڈا عناصر پر نہیں جو کل کو صحافیوں پر ایٹمی اثاثوں کی چوری جیسا الزام بھی لگا دیں گے، گلہ تو ان 'اپنوں' سے ہے جو اس بیانیے کو تقویت دیتے ہیں۔اس سے زیادہ شرمناک صورتحال اور کیا ہوسکتی ہے کہ ایک صحافی، دوسرے صحافی پر ملک دشمنی جیسے سنگین الزامات کو بغیر تحقیق اور شواہد کے انڈورس کرے؟ آخر ایسی کیا مجبوری آن پڑی ہے؟

Waseem Malik

21,504 views • 5 months ago