正在加载视频...

视频加载失败

عمر نظیر کشمیری 🔥🔥 مجھے ایک کشمیری باپ ملا جو ہماری تحریک کے سخت خلاف تھا وہ مجھے کہتا ہے جب میں گھر جاتا ہوں تو میرے اپنے بچے مجھے لعن طعن کرتے ہیں کہ بابا آپ غلط ساہیڈ پر کھڑے ہو یہ تحریک ہمارے مستقبل کے لیے ہے

11,224 次观看 • 3 个月前 •via X (Twitter)

0 条评论

暂无评论

原始帖子的评论将显示在这里

相关视频

🚨مجھے قتل کیا گیا تو اسرائیل ذمہ دار ہو گا،امریکی صحافی اینا کیسپرین🚨 میں خودکشی کرنے والی نہیں ہوں، اور اگر مجھے کچھ ہوتا ہے تو یہ کوئی حادثہ نہیں ہو گا۔ میں اسے صرف ریکارڈ پر رکھ رہی ہوں، میں صرف یہ چاہتی ہوں کہ یہ ریکارڈ پر ہو۔ میں ان کے اہداف میں سے ایک ہوں، اور میں ان کی نفرت کا خیرمقدم کرتی ہوں کیونکہ میرے خیال میں وہ جو کچھ کرتے ہیں، وہ نفرت انگیز ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ وہ جس چیز کے لیے کور فراہم کرتے ہیں، وہ تاریخ میں انسانی تاریخ کی بدترین نسل کشی میں سے ایک کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔ میں ریاست ہائے متحدہ امریکہ میں رہتی ہوں، میں ایک امریکی ہوں، مجھے امریکی ہونے پر فخر ہے، میں اسرائیلی نہیں ہوں۔ کتابوں میں ایسا کوئی قانون نہیں ہے، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہو کہ مجھے کسی بھی شکل میں اسرائیل کی حمایت کرنی ہے۔ درحقیقت جب تک اسرائیل فلسطینیوں کے خلاف اپنی نسل کشی جاری رکھے گا، میں بے خوف ہو کر ان کے خلاف سچ بیان کرنا جاری رکھوں گی۔ میں کبھی بھی اسرائیلی سرزمین پر قدم نہیں رکھوں گی کیونکہ میں اس ملک کو صرف ایک خطرہ سمجھتی ہوں۔ میں اسرائیل کی حکومت کو صرف فلسطینی عوام کے لیے خطرہ نہیں سمجھتی ہوں، بلکہ اس پورے خطے کے لیے، مشرق وسطیٰ کا خطے کے لیے خطرہ سمجھتی ہوں۔ اب ان کے پاس صرف ایک ہی چیز رہ گئی ہے کہ وہ مجھے ڈرانے کی کوشش کریں، وہ مجھے کہتے ہیں کہ وہ مجھے قتل کرنے جا رہے ہیں، وہ یقین کر لیں کہ میں ان سے ڈرنے والی نہیں ہوں۔ وہ کچھ غلط یا برا کرتے ہیں تو فوری طور پر اس شخص پر سام دشمن اور یہودی مخالف جذبات رکھنے والے شخص کا الزام لگاتے ہیں جو ان کے برے کاموں پر ان پر تنقید کر رہا ہے لیکن وِکٹم کارڈ (Victim Card) کی میعاد اب ختم ہو چکی ہے۔ اسرائیل اس وقت نسل کشی کر رہا ہے جیسا کہ ہم بول رہے ہیں، وہ فتح میں مصروف ہیں، وہ زمین چوری کر رہے ہیں، نہ صرف غزہ کی پٹی، نہ صرف مغربی کنارے، بلکہ وہ شام کے بشار الاسد کے حصے کے ساتھ الحاق کر رہے ہیں۔ بینجمن نیتن یاہو بلند آواز میں کہہ رہے ہیں کہ یہ اسرائیل کے عظیم منصوبے کا حصہ ہے۔ کیا اب ہمیں آپ کے ذہن کے بارے میں یہ جاننے کے لیے مزید ثبوت چاہیے کہ آپ برے لوگ ہیں؟ Ana Kasparian #Israel #USA #Palesti̇ne #PalestinisGenocide

اکرم راعی Akram Raee

147,050 次观看 • 5 个月前

میں آپ کو بتانا چاہتا ہوں... جب متحدہ مجلسِ عمل نے 2002 میں وزیراعظم کا الیکشن لڑنے کا فیصلہ کیا، تو جنرل مشرف صاحب نے مجھے بلایا اور مجھے کہا کہ آپ دستبردار ہو جائیں، آپ الیکشن نہیں لڑیں گے۔ تو میں نے کہا کہ میں کیوں نہیں لڑوں گا؟ کیا میرا آئین رکاوٹ ہے؟ کیا کوئی قانون رکاوٹ ہے؟ کیا میں پاکستان کا شہری نہیں ہوں؟ انہوں نے بڑے صاف الفاظ میں کہا، صاف الفاظ میں کہ آپ کو امریکہ اور مغرب قبول نہیں کر رہے۔ آپ بتائیں! جب میرے ملک کی اسٹیبلشمنٹ کی سوچ یہ ہو کہ کوئی شخص پاکستان کے عوام کا نمائندہ ہزار بار بننے کے قابل ہو، لیکن اگر وہ امریکہ اور یورپ کے لیے قبول نہیں ہے تو وہ پاکستان کا وزیراعظم نہیں بن سکتا۔ اور پھر جب میں نے کہا کہ کیا اسی کا نام آزادی ہے؟ تو مجھے کہنے لگا کہ مولانا آپ بار بار کہتے ہیں ہم غلام ہیں، ہم غلام ہیں، ہم آزاد نہیں ہیں، تو آپ اس حقیقت کو تسلیم کر لیں نا کہ ہم غلام ہیں اور غلامی حقیقت ہے۔ نعرے مت لگاؤ ذرا صبر کرو، بات تو سن لو میری۔ جب مجھے کہا گیا کہ آپ اس کو تسلیم کر لیں کہ ہم غلام ہیں، تو میں نے کہا کہ میں تسلیم کرتا ہوں کہ ہم غلام ہیں۔ لیکن اب آگے دو راستے ہیں: پہلا راستہ اس غلامی کو قبول کر لینا اور ان قوتوں کے سامنے سرِ تسلیم خم کر لینا۔ یہ آپ کے آباؤ اجداد کا درس ہے جو آپ کو پڑھایا گیا ہے۔ دوسرا راستہ ان قوتوں کے خلاف، اس غلامی کے خلاف آزادی کا علم بلند کرنا اور آزادی کے لیے میدان میں اترنا ہے۔ یہ میرے آباؤ اجداد اور اسلاف کا درس ہے جو مجھے پڑھایا گیا ہے۔ تجھے اپنے آباؤ اجداد اور اسلاف کا راستہ مبارک، مجھے اپنے اکابر اور اسلاف کا راستہ مبارک۔ میں اس غلامی کے خلاف لڑوں گا اور آخری دم تک لڑوں گا۔ #عوام_مولانا_کے_سنگ #حق_کی_آواز_جمعیت #نکے_دا_پروپیگنڈا #شہدابہانہ_خزانہ_نشانہ #ذخائر_کے_چور

Ihsan Ullah Khan 🇵🇰

29,018 次观看 • 1 个月前

میں اپنی ورچوئل کلاس روم میں تھی اپنے ورچوئل طلبہ کے ساتھ۔ وہ لنچ کے لیے لاگ آؤٹ کر رہے تھےاور میں یہیں بیٹھی تھی کہ اچانک راہداری میں کچھ شور سنائی دیا۔ میں باہر نکلی تو دیکھا کہ چند پانچویں جماعت کے بچے کھڑے ہیں، وہ نماز پڑھنے کے لیے جگہ تلاش کر رہے تھے، رمضان کا مہینہ ہے،وہ مسلمان ہیں، اپنے دین پر عمل کرتے ہیں اور انہیں نماز ادا کرنے کے لیے ایک جگہ درکار تھی۔ انہوں نے پوچھا کہ کیا وہ میرے کمرے میں آکر نماز پڑھ سکتے ہیں؟ میں نے اس سے پہلے کبھی ان بچوں کو نماز پڑھتے نہیں دیکھا تھا۔ مجھے معلوم تھا کہ وہ پڑھتے ہیں، عموماً اسکول میں کسی اور جگہ پر، لیکن آج وہ ٹیچر موجود نہیں تھے، کونسلر۔ انہوں نے پوچھا کہ کیا وہ یہاں آ سکتے ہیں؟ انہیں معلوم تھا کہ میرے پاس اس وقت کوئی طالب علم نہیں ہے۔ انہوں نے مجھ سے کہا کہ آپ چاہیں تو یہیں رہ سکتی ہیں۔ میں اپنی میز پر بیٹھی رہی اور میں نے ان چار معصوم بچوں کو دیکھا۔ وہاں کوئی بڑا موجود نہیں تھا جو انہیں مجبور کر رہا ہو، جیسا کہ اکثر مذہب کے بارے میں سمجھا جاتا ہے۔ کوئی انہیں ہدایات نہیں دے رہا تھا، نہ کوئی رہنمائی کر رہا تھا، نہ بتا رہا تھا کہ کیا کرنا ہے۔ لیکن منظر بے حد خوبصورت تھا۔ ان چاروں کی ایک ہم آہنگی تھی۔ انہیں بخوبی معلوم تھا کہ کیا کرنا ہے، ہاتھوں کی حرکات، جسم کی ادائیں، کھڑے ہونا، بیٹھنا، رکوع کرنا، سجدہ کرنا۔ سب کچھ مکمل سنجیدگی اور ترتیب کے ساتھ۔ یہ منظر دیکھنا ناقابل بیان تھا۔ میں اپنی ڈیسک پر بیٹھی رہی اور میری آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔ جب وہ نماز سے فارغ ہوئے تو میں اپنے آنسو پونچھ رہی تھی۔ انہوں نے مجھے دیکھا اور پوچھا، "کیا ہوا؟" میں نے کہا، "مجھے تم پر فخر ہے، مجھے تم سب پر بہت فخر ہے۔" وہ میرے پاس آئے۔ ہم نے ایک دوسرے کو گلے لگایا اور وہ لمحہ بہت خاص تھا۔ واقعی، پانچویں جماعت کے بچے کا یہ ایمان کہ وہ خود ذمہ داری لے کر وقت پر نماز ادا کرے، جو اس پر فرض ہے، یہ دیکھنا بہت خوبصورت تھا اور مجھے اپنے بچوں پر بہت فخر ہے ایک غیر مسلم ٹیچر کا بیان

شبانہ شوکت

49,603 次观看 • 6 个月前