Video wird geladen...

Video konnte nicht geladen werden

Zur Startseite

عید کےتینوں دن گزر گئے۔ چوتھا دن بھی گزر گیا، لیکن پورے کراچی شہر میں بھٹو کی باقیات بکھری پڑی ہیں جس سے تعفن پھیل رہا ہے۔ بھولڑو سرکار اب بینظیر انکم سپورٹ پہ پالےہوئے حرامخوروں سے تعریفی پراپگینڈہ کروانےکے بجائے بھٹو کی باقیات اٹھانے پر توجہ دے۔ شکریہ

12,405 Aufrufe • vor 3 Monaten •via X (Twitter)

0 Kommentare

Keine Kommentare verfügbar

Kommentare vom Original-Post werden hier angezeigt

Ähnliche Videos

دس دن گزر چکے ہیں، مگر گل پلازہ کی آگ اب بھی کراچی کے ضمیر کو جلا رہی ہے۔سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 73 میتوں کی تصدیق ہو چکی ہے، مگر ملبے سے اب بھی انسانی باقیات نکل رہی ہیں۔ 55 خاندانوں نے ڈی این اے نمونے جمع کرائے ہیں، جن کی مدد سے اب تک صرف 23 میتوں کی شناخت ہو سکی ہے، جبکہ 60 سے زائد افراد اب بھی لاپتہ ہیں۔ نامعلوم افراد کے خلاف غفلت، لاپروائی اور قتل بالسبب کا مقدمہ درج کیا جا چکا ہے۔اس تمام انسانی المیے کے باوجود کراچی کی بڑی سیاسی جماعتیں ایک دوسرے پر الزام تراشی میں مصروف ہیں، جبکہ اصل سوال—آگ کیوں لگی اور ریسکیو میں تاخیر کیوں ہوئی—ابھی تک بے جواب ہے۔آج کے On My Radar میں معروف سماجی کارکن ظفر عباس نے موقع پر موجود حقائق، ریسکیو کی ناکامیوں اور متاثرہ خاندانوں کی بے بسی کو بے نقاب کر کے اس گفتگو کو محض سیاسی بحث سے نکال کر ایک انسانی المیے کی شکل دی، جس سے اس وی لاگ کی سچائی، وزن اور اثر کئی گنا بڑھ گیا ہے

Kamran Khan

14,245 Aufrufe • vor 7 Monaten

یہ کراچی کے میئر ہیں، جو واٹر بورڈ (KWSB) کے چیئرمین بھی ہیں۔ شاہراہ بھٹو سے گزرنے والی گاڑیوں کی گنتی تو انہیں بالکل معلوم ہے، مگر عید سے صرف ایک دن پہلے پورا #کراچی پانی کی ایک بوند کو ترس رہا ہے، اس کی کوئی فکر نہیں نیز کراچی میں پانی کی کمی کا الزام وہ وفاق پر لگا رہے ہیں لیکن یہ بھول گئے کہ 22 سال سے تاخیر کا شکار K-IV پروجیکٹ پر ورلڈ بینک نے جو اعتراض لگا کر کام روک دیا ہے، وہ بھی پیپلز پارٹی کی ہی حکومت کے دور میں شروع کیا گیا augmentation کا کام تھا۔ مگر انہیں جھوٹ بولتے ذرا سی شرم نہیں آرہی۔ شہر کو ضرورت سے 50 فیصد کم پانی میسر ہے اور اس کا بھی آدھا حصہ غیر قانونی ہائیڈرنٹس کے ذریعے چوری ہو جاتا ہے یا ٹینکر مافیا کے پاس چلا جاتا ہے۔ کوئی ان سے پوچھے کہ حکومت کس کی ہے؟ پانی کی چوری کسے روکنی تھی؟ لوگ مجبوراً ٹینکروں سے مہنگا پانی خرید کر گھروں میں بھرواتے ہیں، کیونکہ واٹر بورڈ کی بچھائی گئی پانی کی لائنوں میں سے پچاس فیصد شہر کو ایک قطرہ پانی بھی نہیں ملتا۔ یہ وہی میئر اور واٹر بورڈ چیئرمین ہیں جنہوں نے نہ ٹینکر مافیا کو روکا، نہ اس سادے سے حل پر عمل درآمد کروا سکے کہ: کراچی کی اصل ضرورت 1200 MGD ہے، جبکہ دستیاب پانی صرف 550 MGD ہے۔ اگر پورے شہر میں ایک دن چھوڑ کر (alternate days) منصفانہ طور پر پانی سپلائی کیا جائے تو ہر گھر تک ایک دن چھوڑ کر پانی ضرور پہنچ سکتا ہے۔ مگر ایسا ہوا تو ٹینکر مافیا کا کاروبار ختم ہو جائے گا، اور یہ کون نہیں چاہتا؟ آگے عوام خود سمجھدار ہے۔

Amber Danish

10,444 Aufrufe • vor 3 Monaten