Video yükleniyor...
Video Yüklenemedi
غلطی پر معذرت بہت اچھی روائت ہے 👍
379,827 görüntüleme • 3 yıl önce •via X (Twitter)
10 Yorum

Damage has been done and apology is of no use and the state should book him for spreading fake news.

میں نے ان کا کلپ دیکھا تھا جسمیں شاہد مسعود صاحب بڑے فخریہ انداز میں دعوا کیاتھا کہ پاکستان نے ترکی میں وہ سامان بھیجا ہے جو ترکی نے سندھ میں سیلاب زدگان کیلۓ ارسال کیا تھا۔مگر اپنی غلطی اور معافی کو بہت گول مول کرکے بیان کیاہے۔ جھوٹ ویسے بھی گناہ ہے مگر صحافیو کیلۓ کبیرہ گناہ ہے

جو "غلطی" پوری دنیا میں آپ کے ملک کا تماشہ بنادے اسے بلنڈر کہتے ہیں۔ یہ لیول ہے آپ لوگوں کی "صحافت" کا کہ ایک یوتھڑ لونڈے کی بکواس کو بنا تحقیق کے "بریکنگ نیوز" بناکے رپورٹ کردیا اور پوپلے منہ سے بول دیا کہ غلطی ہوگئ تھی۔🙄🖐

لیکن جو بادشاہ کی بیٹی گھر سے بھاگ گٸی تھی کون ثابت کرے گا کہ نہیں بھاگی تھی اس نے جو دشمن پڑوسی ملک کو مواد دینا تھا وہ دے دیا پوری دنیا میں جگ ہنساٸی ھوگٸی کیا یہ جہاں بیٹھا ھے اسکو تھوڑی تحقیق نہیں کر لینی چاھیے تھی؟ اس نقصان کا مداوا ھے اسکے پاس ؟ یہ دھرتی اسکی ماں نہیں تھی ؟

بلاشبہ اچھی روایت ہے ، لیکن میر صاحب ۔ یہ اس کی غلطی نہیں بلکہ جانتے بوجھتے پراپیگنڈہ تھا اس شخص کو احساس ہونا چاہیے تھا کہ اس کی غیر ذمہ داری کا نقصان پوری قوم کو بھگتنا پڑے گا۔انڈین میڈیا نے اس کا پراپیگنڈہ تو دکھایا کیا اب اس کی معذرت دکھائے گا ؟ اس کو سزا ملنی چاہیے

یہ بار بار معذرت کرنے والے خود کشی کیوں نہیں کر لیتے.ان کو پتہ ھی نہیں چلتا کہ ان کی بے تکی بکواس سے ملک کتی سبکی ھوتی ھےانڈین چینلز نے اس معذرت والی خبر کو 1000 مرتبہ چلایا میڈیا کو خو د کوئی ایسا نظام بنانا چاھیے کہ بار بار معذرت کرنے والوں کو پانچ دس سال کے لیئے off air کر دے

عمر چیمہ نے چند دن پہلے اپنے ویلوگ میں بتایا تھا کہ جب تک جھوٹ پوری دنیا میں پھیل چکا ہو تو شائد سچ ابھی جوتے پہن رہا ہوتا۔ اس جھوٹ پر بہت سارے پاکستانی ایمان لا چکے لہٰذا اب یہ ہومیو پیتھک معذرت پاس ہی رکھیں

Ghalati? Is this professional journalism? @Shahidmasooddr shared a fake video in his programme without verifying it first. You also posted the same video on Twitter. "Senior Sahaifs" are in race of spreading fake news & targeted propaganda.

یہ شخص روزانہ کوئی نہ کوئی جھوٹ بولتا ہے ۔یہ پہلی دفعہ ایسا ہوا کہ سخت ٹرولنگ کے بعد اپنا جھوٹ واپس لے رہا ہے ۔۔اور یہ بھی ممکن کہ وہ شخص بھی اس کا بندہ ہو ۔میڈیا صحافی کم اور بھانڈ زیادہ ہے

ڈھبر دوس کوٹھے کا دلال صحافی نما کسی کا بھی شلوار قمیص نکال کر اور پھر معافی ۔یہ کونسی قسم ھے صحافت کا۔
