Video yükleniyor...

Video Yüklenemedi

Ana Sayfaya Dön

فضل امین آفریدی کو رہا کرو تعلیمی ادارے کے طلبہ کا مطالبہ طلبہ کا کہنا ہے کہ فضل امین آفریدی کو صرف اس لیے لاپتہ کیا گیا کیونکہ وہ مظلوموں کی آواز بلند کر رہا تھا۔ ایک استاد ایک لکھاری اور ایک باشعور نوجوان کو خاموش کرانے کی یہ...

10,643 görüntüleme • 1 yıl önce •via X (Twitter)

6 Yorum

DR joker profil fotoğrafı
DR joker1 yıl önce

اگر صرف پاکستان کے سٹوڈنٹس باہر گھروں سے نکلنا شروع کر دیں تو پاکستان کے حالات بہتر ہوں جائے گا اور کرپٹ حکمرانوں سے نجات حاصل ہو جائے گا

Saboot profil fotoğrafı
Saboot1 yıl önce

🔥پاکستان کا حقیقی وزیراعظم عمران احمد خان نیازی ہے جو نوے فیصد پاکستانیوں کے دلوں میں بستا ہے✊🏽اعلان ختم ہوا! #محسن_پاکستان_عمران_خان_رہاکرو @MoeedNj @ImranRiazKhan @SHABAZGIL @sayedzbukhari @PTIUAE @PTIsaudiaarabia @PTISaudia786 @PTIAbuDhabi @PTIOfficialUSA @PTIofficial @InsafPK @iPiansRTs @OfficialDGISPR @OSPSF @IntelPk_ @Defence_PK99 @ForumStrategic @PESS_Official @PakArmyDept @DGPR_PAF @dgprPaknavy @HamidMirPAK @asmashirazi @KlasraRauf @AajKamranKhan @WaseemBadami @najamsethi @Haroonn_natamam @pasha_samina @HassanNisar @TalatHussain12 @javeednusrat @ImranKhanPTI @AAliZardari @NawazSharifMNS @MaryamNSharif @BBhuttoZardari @MohsinnaqviC42 @ICT_Police @OfficialDPRPP @sufisal @soldierspeaks @SyedAHussain15 @WajSKhan @worqas @CMShehbaz

Ahmad Ali profil fotoğrafı
Ahmad Ali1 yıl önce

#ReleaseFazalAmin

Ahmad Ali profil fotoğrafı
Ahmad Ali1 yıl önce

@amnesty

Ahmad Ali profil fotoğrafı
Ahmad Ali1 yıl önce

@HRCPakistan

mik94936@gmail.com profil fotoğrafı
[email protected]1 yıl önce

BANANA REPUBLIC OF MILITARY MAFIA'S 76 YEARS RAJ MUST STOP NOW. HAKKI AZADI OF PHENOMENON OF IMRANKHANPTI MUST BE HONOURED. HE IS THE ONLY PAKISTANI LEADER WHO HAS86+% OF AWAM MANDATED AND SUPPORT. CITIZENS ARREST ROUGE ASIM MUNIR AND REINSTATE IMRANKHANPTI GOVERNMENT

Benzer Videolar

اسلامیہ کالج پشاور میں طلباء کے حقوق کے لیے آواز اٹھانے پر انصاف اسٹوڈنٹس فیڈریشن اسلامیہ کالج کے خلاف کالج کے ایچ او ڈی کی جانب سے ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ ایف آئی آر میں کسی فرد کا نام لکھنے کے بجائے "ISF Terrorists" لکھا گیا ہے، یعنی ایک باقاعدہ طلبہ تنظیم کو دہشت گرد قرار دیا گیا۔ انصاف اسٹوڈنٹس فیڈریشن پاکستان کی ایک بڑی طلبہ تنظیم ہے۔ خیبرپختونخوا کے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی، ہمارے پارلیمانی لیڈر اور وزیرِ تعلیم بھی اسی طلبہ تنظیم سے سیاسی سفر کا آغاز کر چکے ہیں۔ آج اپنی ہی حکومت میں ایک تعلیمی ادارے کا ذمہ دار شخص طلباء کو دبانے کے لیے سرعام انصاف اسٹوڈنٹس فیڈریشن کو دہشت گرد قرار دے رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق ایچ او ڈی صاحب کی جانب سے یہ پیغام بھی دیا گیا ہے کہ وہ طاقت کے زور پر یہ سب کر رہے ہیں اور انہیں کوئی کچھ نہیں کہہ سکتا۔ ہم اپنے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی صاحب اور مینا خان آفریدی صاحب سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ اپنے آئی ایس ایف کے ان نوجوانوں کا ساتھ دیں، معاملے کا فوری نوٹس لیں اور طلباء کے ساتھ ہونے والی اس ناانصافی کا ازالہ کریں۔

Amir Khan Chamkani ISF

14,739 görüntüleme • 22 gün önce

شعور کوئی مادہ نہیں جسے قید کیا جا سکے، نہ ہی یہ کوئی خیال ہے جو جذبات کی نذر ہو جائے۔ شعور ایک طاقت ہے، یہ وہ سرچشمہ جو ظلم کو چیلنج کرتا ہے اور ناانصافی کے ایوانوں کو ہلا کر رکھ دیتا ہے۔ یہ صرف ایک انفرادی احساس نہیں بلکہ ایک اجتماعی آگاہی ہے، ایک ایسی جدوجہد جو قوموں کی تقدیر بدل دیتی ہے۔ آج بلوچ یکجہتی کمیٹی (BYC) اسی شعور کا استعارہ بن چکی ہے ۔ایک ایسی امید کی کرن جو ہر بلوچ کے دل میں روشن ہے۔ بی وائی سی کی قیادت کو خاموش کرنے کی کوششیں، جو ریاست کی جانب سے کی جا رہی ہیں، ایک دن خود ریاستی اداروں کے لیے پچھتاوے کا باعث بنیں گی۔ کیونکہ وہ ماہرنگ شاہ جی، بیبرگ، بیبو، گلزادی اور دیگر قائدین کو محض افراد سمجھ کر قید کر رہے ہیں، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ وہ اب ایک نظریہ بن چکے ہیں ، وہ خود تحریک کی صورت اختیار کرچکے ہیں بلوچستان آج بول رہا ہے۔ ظلم کے خلاف ہر بلوچ، چاہے وہ عمر رسیدہ ہو یا نوجوان، اپنی آواز بلند کر چکا ہے۔ وہ لوگ جن کے گھرانے اس جبر کا براہ راست شکار نہ تھے، صرف بی وائی سی کی قیادت کو سڑکوں پر دیکھ کر متحرک ہوئے، آج وہ خود اس حقیقت سے آشنا ہو چکے ہیں کہ سب سے بڑا قانون شکن خود ریاست ہے۔ جو کچھ عوام کے ساتھ ہو رہا ہے، وہ محض سیکیورٹی کے نام پر نہیں، بلکہ ایک منظم دہشتگردی ہے ۔ ایک خوف پھیلانے کی کوشش۔ بلوچستان نہ کبھی خاموش تھا، نہ کبھی ہوگا۔ ہر نئے جبر کے ساتھ ہمارے حوصلے مزید بلند ہوں گے، ہمارے اعصاب مزید مضبوط ہوں گے، اور ہم اپنی جدوجہد کو نئے زاویوں سے جاری رکھیں گے۔ #NoToPakistanTyranny

Sabiha Baloch

22,164 görüntüleme • 1 yıl önce

اسلام آباد: جمعیت علماء اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کی غیر ملکی میڈیا کے نمائندہ گان سے ملاقات مسئلہ فلسطین کے حوالے سے قائد اعظم کا جو موقف قیام پاکستان سے پہلے تھا وہی موقف اب بھی ہے ۔ مولانا فضل الرحمان قائد اعظم نے اقوام متحدہ کی تجویز کو مسترد کیا اور امریکی صدر کو خط لکھا کہ فلسطین کو دو ریاستی تصور کے ساتھ قبول نہیں کرسکتے ۔مولانا فضل الرحمان فلسطین کی سرزمین کو تقسیم نہیں کیا جا سکتا ۔ مولانا فضل الرحمان اسرائیل اور فلسطینی حالت جنگ میں ہیں جنگ میں کوئی بھی اقدام کیا جاسکتا ہے ۔ مولانا فضل الرحمان امریکہ برطانیہ براہ راست فلسطین میں اپنی فوجیں لے آیا ہے ۔ مولانا فضل الرحمان حماس کے مجاہدین کے ساتھ جنگ نہیں بلکہ براہ راست غزہ شہر پر حملے کیے جا رہے ہیں ۔ مولانا فضل الرحمان ہسپتالوں سکولوں پر حملے ہو رہے ہیں ۔ مولانا فضل الرحمان اسرائیلی کو جنگی مجرم قرار دے جنگی جرائم کا مرتکب قرار دے ۔ مولانا فضل الرحمان قضیہ فلسطین کے براہ راست فریق فلسطینی ہیں ان کے بغیر کوئی حل ممکن نہیں ۔ مولانا فضل الرحمان مسلم اُمّہ اپنے بھائیوں کے ساتھ اس طرح نہیں کھڑے جس طرح مغربی دنیا اسرائیل کے ساتھ کھڑے ہیں ۔ مولانا فضل الرحمان آج انسانیت کا قتل ہورہا ہے ۔بچوں بوڑھوں اور خواتین کو قتل کیا جا رہا ہے کیا اس کے بعد بھی انسانی حقوق کا علمبردار کہا جائے گا ۔ مولانا فضل الرحمان کیا ان کو یاد نہیں کہ نازنیوں نے ان کا کیسے قتل عام کیا کیا اس کا بدلہ فلسطینیوں سے لیا جائے گا ۔ مولانا فضل الرحمان اسرائیل کو تسلیم کرنے کا خواب بکھر گیا اب دنیا کو سوچنا ہوگا ایک اور زاویہ سے ۔ مولانا فضل الرحمان اسرائیل اس خطے میں فرعون کے جانشین ہیں ،موسی کے جانشین فلسطینی ہیں ۔ مولانا فضل الرحمان ہم نے مطالبہ کیا کہ او اوئی سی کا سربراہی اجلاس بلایا جائے ۔ مولانا فضل الرحمان سعودی عرب نے اجلاس طلب کیا ان کا شکر گذار ہوں ۔ مولانا فضل الرحمان فلسطینی قیادت کا بھی مطالبہ تھا کہ او آئی سی کا اجلاس بلایا جائے ۔ مولانا فضل الرحمان اس میں حماس کے نمائندوں کو دعوت دی جائے ان کے بغیر یہ اجلاس نامکمل ہے ۔ مولانا فضل الرحمان جے یو آئی کا اوّل روز سے موقف فلسطینیوں کی حمایت کا رہا ہے ۔ مولانا فضل الرحمان پشاور کوئٹہ اور کراچی میں بڑے جلسے کئے ۔ مولانا فضل الرحمان امریکہ میں برطانیہ فرانس یورپ میں مظاہرے ہوئے ہیں ۔ مولانا فضل الرحمان ان کو بھی عوام کا احترام کرنا ہوگا ورنہ جمہوریت کی بات چھوڑ دیں ۔ مولانا فضل الرحمان اگر بند کمروں میں فیصلے کرنے ہیں تو پھر عوام کی کوئی حیثیت نہیں ۔ مولانا فضل الرحمان انڈیا کی میڈیا پر تعجب ہے کہ ان کو اتنی تکلیف کیوں ہے ایسا لگتا ہے کہ ہم نے اب پر حملہ کیا ہے ۔ مولانا فضل الرحمان اگر اپنی سرزمین کو حاصل کرنے کی جدوجہد دہشت گردی ہے تو پھ گاندھی جی کی جدوجہد کو کیا نام دیں گے ۔ مولانا فضل الرحمان کیا یہ حق فلسطین کو نہیں دیں گے جن کے زمین پر قبضہ ہے ؟ مولانا فضل الرحمان فلسطین فلسطینیوں کا ہے اور رہے گا ۔ مولانا فضل الرحمان تحرکیوں میں اتار چڑھاؤ آتا رہے گا ۔ مولانا فضل الرحمان ہم جو حق اپنے لئے جائز سمجھتے ہیں وہ فلسطینیوں اور افغانوں کے لئے بھی جائز سمجھتے ہیں ۔ مولانا فضل الرحمان جو آزادی کی جنگ لڑتا ہے کاج اس کو دہشت گرد کہا جاتا ہے ؟ مولانا فضل الرحمان پاکستان نے اقوام متحدہ میں جو موقف اختیار کیا ہے اس کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں ۔ مولانا فضل الرحمان ہم سیاسی لوگ ہیں جو موقف فلسطین کے حوالے سے الیکشن سے پہلے ہے وہی الیکشن کے بعد بھی ہوگا ۔ مولانا فضل الرحمان نگران وزیر اعظم نے جو دو ریاستی تصور پیش کیا وہ قائد اعظم کے تصور کی نفی ہے ۔ مولانا فضل الرحمان فلسطین نے پاکستان کے موقف کو جراتمندانہ کہا اور کہا کہ وہ قیادت کرے ۔ مولانا فضل الرحمان برطانیہ سپر طاقت تھا امریکہ نے اس کی جگہ لینی تھی ۔اقوام متحدہ کا دفتر امریکہ میں تھا ۔ مولانا فضل الرحمان پاکستان نے اس وقت بھی فلسطینیوں کے حق میں آواز اٹھائی اور قیام پاکستان کے بعد ۔ مولانا فضل الرحمان حماس کے حوالے سے کمزور پہلو کو تلاش کیا جارہا ہے کیا اس کا سیاسی پہلو نہیں۔ مولانا فضل الرحمان اسلامی دنیا کے اسرائیل کو تسلیم کرنے کی صورت میں مزاحمتی تحریک کے ختم ہونے کا تصور ختم ہوگیا ۔ مولانا فضل الرحمان اگر امریکہ وزیر خارجہ ان کی حمایت کو کھلم کھلا آتا ئے تو کیا ہمارا حق نہیں کہ ہم ان کی حمایت کریں ۔ مولانا فضل الرحمان کارگل پر حملہ کیا تو کیا دنیا سے پوچھا تھا یہ سیکرٹ ہوتا ہے ۔ مولانا فضل الرحمان دنیا کو یہ میسج چلا گیا کہ فیصلہ فلسطینی کریں گے کسی اور کو یہ حق نہیں۔ مولانا فضل الرحمان

Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan

40,212 görüntüleme • 2 yıl önce

“جب کوئی نوجوان ریاست سے سوال کرتا ہے تو وہ لاپتہ کر دیا جاتا ہے۔" اسلام آباد کے نوجوان اور انسانی حقوق کے کارکن سلیمان سہیل چند روز سے پراسرار طور پر لاپتہ ہیں۔ عوام کے بنیادی حقوق کے لیے آواز اٹھانے والے ایک اور باضمیر نوجوان کی آواز خاموش کروانے کی یہ گھٹیا حرکت انتہائی قابلِ مذمت ہے۔ سلیمان سہیل کی پراسرار گمشدگی صرف ایک فرد کا معاملہ نہیں، بلکہ یہ ملک کے آئین، آزادیِ اظہارِ رائے اور ہر باضمیر شہری کے بنیادی حقوق پر راست حملہ ہے۔ جو نوجوان کل تک ہزاروں مستحقین کو کھانا کھلانے اور معاشرے کی خدمت میں پیش پیش تھا، آج اسے ریاست سے سوال کرنے کی پاداش میں خاموش کروانے کی کوشش کی جا رہی ہے؛ لیکن تاریخ گواہ ہے کہ جبری گمشدگیوں اور خوف کی فضا قائم کرنے سے نہ تو سوالات دم توڑتے ہیں اور نہ ہی عوام کی آواز کو ہمیشہ کے لیے دبایا جا سکتا ہے۔ سلیمان سہیل کو فوری اور بلا تاخیر بازیاب کیا جائے، کیونکہ یہ خاموشی آئندہ کسی بھی سچ بولنے والے کا مقدر بن سکتی ہے۔

PTI

23,012 görüntüleme • 19 gün önce

لاہور: سربراہ جےیوآئی مولانا فضل الرحمان کا جےیوآئی پنجاب کے جنرل کونسل سے خطاب ہمیں اخلاقی اور فکری بنیاد پر ایک قوم رہنے دو ہمیں جبر کی بنیاد پر ایک قوم نہیں بنایا جاسکتا، مولانا فضل الرحمان اسٹیبلشمنٹ سن لے یہ فضل الرحمن کی بھی آواز ہے اور ہماری جماعت کی بھی آواز ہے، مولانا فضل الرحمان ہم ایک ادارے کی بالادستی کو تسلیم نہیں کرتے، اپنی حدود میں رہو، مولانا فضل الرحمان گاؤں گاؤں اور دیہات میں جاکر لوگوں کو اپنے پسندیدہ لوگوں کو ووٹ دینے پر مجبور کیا جاتا ہے، مولانا فضل الرحمان میری جماعت کو کہا جاتا ہے کہ فلاں امیدوار کو ہمارے حق میں بٹھاؤ، مولانا فضل الرحمان ہمارے امیدواروں سے پیسے مانگے جاتے ہیں اگر ہم نے ثبوت پیش کئے تو آپ کے لیے کوئی جائے پناہ نہیں بچے گی، مولانا فضل الرحمان خدانخواستہ میں اس ملک کو بنگال کے حالات کی طرف جاتا دیکھ رہا ہوں، مولانا فضل الرحمان پارلیمنٹ کی حیثیت ایک نمائشی ادارے کی ہے، مولانا فضل الرحمان جمہوریت اپنا مقدمہ ہار رہا ہے،مولانا فضل الرحمان ہم جمہوریت کو کفر قرار دینے والوں سے ہم لڑرہے ہیں لیکن ہمیں دیوار سے لگایا جارہا ہے، مولانا فضل الرحمان اگر دھاندلیوں سے پارلیمنٹ بنتی رہے گی تو پارلیمنٹ اپنی اہمیت کھو بیٹھے گی، مولانا فضل الرحمان ہم نے جمہوریت کے مفہوم کا تعین اکابر علماء کرام کے مشورے سے کیا ہے، مولانا فضل الرحمان ہمیں جمہوریت کے مطابق تسلسل سے چلنے کیوں نہیں دیا جارہا، مولانا فضل الرحمان چیف جسٹس نے اپنے فیصلے میں جو کچھ کہا ہے وہ بدنیتی پر مبنی ہے،مولانا فضل الرحمان قرآن و سنت کی وہ تعبیرات جو مغرب کے لیے قابل قبول ہوں اس کا سہارا لیا جارہا ہے، مولانا فضل الرحمان مختلف مکاتب فکر کے علماء کرام کو خطوط لکھ کر آراء لینا بدنیتی پر مبنی ہے، مولانا فضل الرحمان پ پارلیمنٹ اپنی مرضی سے لایا جارہا ہے تاکہ پارلیمنٹ مغرب کے مفادات کا تحفظ کرے، مولانا فضل الرحمان حکمرانوں سے توقع مت رکھیں یہ اپنے مرنے سے پہلے اپنی غیرت دفن کرچکے ہیں، مولانا فضل الرحمان امریکا افغانستان اور فلسطین میں اپنے کردار کے بعد کس منہ سے انسانی حقوق کی بات کرتا ہے، مولانا فضل الرحمان امریکا کو معلوم ہے کہ یہی لوگ ہمارے لیے مشکل پیدا کرسکتے ہیں، مولانا فضل الرحمان ہم صرف پارلیمنٹ میں نہیں پارلیمنٹ سے باہر بھی مشکلات پیدا کرسکتے ہیں، مولانا فضل الرحمان ہمارا منشور ہے کہ ہم محکوم لوگوں کی آواز بنتے ہیں، مولانا فضل الرحمان میں نے شہباز شریف سے کہا کہ اپوزیشن میں آ جاؤ کہیں ہماری تحریک کا نشانہ آپ نہ بن جائیں، مولانا فضل الرحمان ہمارے ساتھ دھاندلی سیاسی جماعتوں نے نہیں بلکہ اسٹیبلشمنٹ نے کی ہے، مولانا فضل الرحمان بہت سی پارٹیوں کو میدان کی جلدی ہے لیکن آپ کو پتہ ہے کہ میدان ہمارا ہوتا ہے۔ مولانا فضل الرحمان

Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan

18,594 görüntüleme • 2 yıl önce

آپ نے ہمارے نصاب کو بھی جائز تسلیم کیا، آپ نے ہمارے مدارس کے نظم و نسق کو بھی جائز تسلیم کیا، آپ نے ہمارے مالیاتی نظام کو بھی جائز تسلیم کیا، پھر اس وقت سے لے کر آج تک مدارس کی رجسٹریشن کیوں نہیں ہو رہی؟ مدارس کے اکاؤنٹس کیوں بند ہیں؟اس کا معنیٰ یہ ہے کہ آپ مسئلے کا حل نہیں چاہتے۔ آپ کسی طرح چاہتے ہیں کہ مدارس اشتعال میں آئیں، سڑکوں پر آئیں، نوجوان کو اشتعال ملے، وہ بندوق کی طرف جائے، اور پھر ریاست بندوق کی طاقت کو طاقت کے ساتھ مارنے کے لیے اپنے لیے ایک جواز مہیا کر سکے۔ سو، ہم نے آپ کو یہ جواز مہیا نہیں کیا۔ ہم نے اس ملک کو پُرامن ملک بنانے کی کوشش کی۔ تاہم ایک گروہ ضرور ہے جو پہاڑوں میں چلا گیا، جو بندوق لے کر کھڑا ہو گیا، لیکن وہ بندوق اٹھا کر جب افغان_ستان جا رہا تھا تو آپ نے افغانس_تان جانے کے لیے اس کا راستہ روکا؟ آپ امریکہ کے اتحادی بھی بنے، آپ نے ہوائی اڈے بھی دیے، فضائیں بھی ان کو دیں، یہاں سے جہاز بھی اڑتے تھے، ان فضاؤں سے گزر کر وہاں پر بمباری بھی کرتے تھے، اور دوسری طرف اس جنگ میں شریک ہونے کے لیے پاکستانی مجاہد بھی جا رہا تھا، اور تم بھی اس کو تھپکی دے رہے تھے کہ آپ مجاہد ہیں۔ پھر انہی حالات میں ان کے ساتھ مصالحت کرنے کے لیے میں نہیں گیا ہوں، ان کے ساتھ مفاہمت کرنے کے لیے میں نے افغانستان کا سفر نہیں کیا۔ میں نے دو ملکوں کے درمیان معاملات ٹھیک کرنے کے لیے سفر کیا، لیکن طال_بان کے ساتھ بات کرنے کے لیے میرے ملک کے آئی ایس آئی کے چیف گئے ہیں، اور اس نے وہاں پر ان سے کیا باتیں کی ہیں، کچھ مجھے معلوم بھی ہے۔ سو اگر ان دہشت گردوں کو کوئی حوصلہ دلانے کا عمل ہے، وہ بھی آپ کے صفوں میں مل رہا ہے، ہمارے صفوں میں تو وہ ہم سے ناراض ہیں۔ آپ اپنے شہداء کی بات کرتے ہیں، مجھے سکھاتے ہو کہ شہید کس کو کہتے ہیں؟ مجھے سکھاتے ہو کہ شہید کا مقام کیا ہے؟ میں قرآن و سنت کا ایک طالب علم ہوں، میں شہید کے مقام کو جانتا ہوں، شہید کیا ہوتا ہے؟ جو شہید اپنے وطن کے لیے قربانی دیتا ہے، اس کی قدر و منزلت کو میں جانتا ہوں۔ آپ مجھے اس کی قدر و منزلت نہ سمجھائیں۔ قائد جمعیت مولانا فضل الرحمٰن کا اسلام آباد میں وکلاء کنونشن سے خطاب #قائدانقلاب_مولانا #سیاسی_چوکیدار #مولانا_سے_معافی_مانگ #شہداء_صرف_بہانہ #لشکر_نہیں_امن

Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan

15,065 görüntüleme • 2 ay önce

آج ہم پر معاشی دباؤ ہے، پاکستان کو معاشی بحران کا شکار بنایا جا رہا ہے، ہماری اسٹیبلشمنٹ بھی اگر چاہتی ہے کہ ملک کو طاقتور اور توانا بنائے ان کو بھی بلیک میل کیا جا رہا ہے، ہماری فوج کو بلیک میل کیا جا رہا ہے، ہماری بیوروکریسی کو بلیک میل کیا جا رہا ہے، ان کو اپنی ڈگر پر لانے اور ان کی خواہشات کے مطابق پاکستان کی ریاست کو تشکیل دینے کے لیے ان کا ہم پہ دباؤ بڑھ رہا ہے، پاکستان کی معاشی استاد یہ کسی حادثے کی بنیاد پر نہیں! گزشتہ چار پانچ سالوں میں اور آپ کے صوبے میں گزشتہ آٹھ دس سالوں سے ایک ایجنڈے کے تحت یہاں ایسی حکومتیں قائم کی گئی کہ پاکستان کو مذہب سے بھی دور کر دے، پاکستان کی تہذیب کو بھی تباہ کر دے، پشتون تہذیب کو زمین بوس کر دے اور ان کی معیشت کا خاتمہ کر کے پاکستان کے وجود کو ختم کردیں! ہم نے ان قوتوں کا مقابلہ میدان میں کیا ہے، ہم نے وطن کو بچایا ہے۔ مولانا فضل الرحمان/ پشاور میں خطاب Maulana Fazl-ur-Rehman #Peshawar_JUI_Ka

Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan

21,276 görüntüleme • 2 yıl önce

ہم جس حال میں خیبر پختونخوا میں حکومت کر رہے ہیں، کوئی ہمیں حکومت کرنے کے لیے چھوڑ بھی نہیں رہا . صوبے کے چیف منسٹر کو اپنے لیڈر سے ملاقات نہیں کرنے دیا جا رہا۔ جیل مینوئل کے مطابق کسی بھی قیدی سے ملاقات کو نہیں روکا جا سکتا۔ جیل مینوئل کے مطابق کسی بھی قیدی سے ملاقات کی جا سکتی ہے۔ عمران خان اس ملک کے وزیر اعظم رہے ہیں اور ایک منتخب چیف منسٹر اس سے ملاقات نہیں کر سکتا۔ کیا پاکستان کسی ضابطے اور اصول پر چلتا ہے نہیں، یہ صرف ڈھنڈے سے چلتا ہے۔ ظلم اور ڈھنڈے کا یہ نظام ہمیں کسی صورت منظور نہیں ہے۔ اس ملک میں اگر ہم نے رہنا ہے تو قانون اور آئین کے تحت رہنا ہے۔ یہ جو ظلم ہو رہا ہے، یہ صرف عمران خان کے ساتھ نہیں ہو رہا، عوام کے ساتھ ہو رہا ہے۔ عوام سے ان کے ووٹ کا حق چھینا گیا، یہ فیصلہ عوام نے نہیں کرنا ہے کہ ہم نے کس کو ووٹ دینا ہے۔ ووٹ ڈالنے والے سے ووٹ گننے والا اہم ہے۔ اگر کسی ممبر عوامی نمائندے کو معلوم ہو کہ اس کے ووٹ کی کوئی اہمیت نہیں، تو کیا وہ آپ کی بات مانے گا۔ عوام کے پاس ووٹ کا حق ہے تو آپ کا نمائندہ آپ کی قدر کرتا ہے۔ ابھی جو ہری پور ضمنی انتخابات میں ہوا ہے، ووٹ کسی اور کو پڑا اور رکن کوئی بن گیا۔ فارم 45 کے مطابق سب کچھ ٹھیک ہے، لیکن کمپیوٹر پر بیٹھا آدمی اپنی مرضی کا ڈیٹا فیڈ کر رہا ہے۔ کس قسم کی عدالت، کس قسم کی الیکشن کمیشن، عدالتوں کو انتظامیہ کے ماتحت کیا گیا ۔

Asad Qaiser

16,009 görüntüleme • 8 ay önce

ایک پاکستانی کی شہریت مشکوک کیسے ہو سکتی ہے؟ یہ صرف یارزمان ولد پائندہ خان کا مسئلہ نہیں، بلکہ ایک ایسے پاکستانی خاندان کی شناخت کا مسئلہ ہے جس کی جڑیں نسلوں سے اس وطن کی مٹی میں پیوست ہیں۔ یارزمان کا تعلق ضلع باجوڑ، تحصیل سلارزئی، علاقہ برسدین ٹی بستہ سے ہے۔ وہ روزگار کی تلاش میں راولپنڈی اور اسلام آباد میں مزدوری کر رہا تھا کہ اس دوران اس کا شناختی کارڈ چوری ہو گیا۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ اب اسے حراست میں لے کر بغیر مکمل تحقیقات کے ڈیپورٹ کرنے کی بات کی جا رہی ہے۔ سوال یہ ہے کہ ایک ایسے شخص کی شہریت کو کیسے مشکوک بنایا جا سکتا ہے جس کے پاکستانی ہونے کی گواہی صرف کاغذات نہیں بلکہ اس کے گاؤں، علاقے اور پوری قوم کے لوگ دیتے ہیں؟ برسدین کا بچہ بچہ، بزرگ، نوجوان، مرد اور خواتین اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ یارزمان ولد پائندہ خان اور اس کا خاندان نسلوں سے پاکستانی شہری ہیں۔ اگر کسی کا شناختی کارڈ چوری ہو جائے تو کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ اس کی شہریت بھی چھین لی جائے؟ کیا بغیر مکمل تحقیقات کے کسی محنت کش کو اپنے وطن سے محروم کرنا انصاف کہلائے گا؟ یہ صرف ایک فرد کے ساتھ زیادتی نہیں ہوگی بلکہ ایک پورے خاندان کی شناخت، عزت اور مستقبل کو داؤ پر لگانے کے مترادف ہوگا۔ ریاستی اداروں سے گزارش ہے کہ جلد بازی میں کوئی فیصلہ کرنے کے بجائے اس معاملے کی مکمل، شفاف اور غیر جانبدار تحقیقات کی جائیں۔ ویڈیو میں علاقے کے معتبر افراد اور مقامی باشندے بھی یارزمان کی پاکستانی شہریت کی تصدیق کر رہے ہیں۔ لہٰذا متعلقہ حکام سے پرزور مطالبہ ہے کہ کسی بھی قسم کی کارروائی سے قبل تمام حقائق کا جائزہ لیا جائے اور ایک محنت کش پاکستانی شہری کو انصاف فراہم کیا جائے۔ ایک پاکستانی کی شناخت صرف ایک کارڈ نہیں، بلکہ اس کی پوری زندگی، اس کا خاندان، اس کی تاریخ اور اس کے وطن سے وابستگی ہوتی ہے۔ انصاف کا تقاضا ہے کہ یارزمان ولد پائندہ خان کو سنا جائے، اس کی مکمل تحقیقات کی جائیں اور اسے اس کا جائز حق دیا جائے۔ Mohsin Naqvi Sohail Afridi Chief Secretary Khyber Pakhtunkhwa KP Police Government of KP

Zahid Jan

25,417 görüntüleme • 1 ay önce

اسلام آباد : صدر مملکت کے بیان پر سربراہ جےیوآئی مولانا فضل الرحمان کا ردعمل الیکشن کی تاریخ دینا صدر مملکت کا اختیار نہیں ہے۔ مولانا فضل الرحمان اگر صدر کا اختیار ہے بھی تو اس کا استعمال بدنیتی پر مبنی ہے۔ مولانا فضل الرحمان صدر مملکت ایک پارٹی کی نمائندگی کر رہے ہیں اور وہ جانبدار صدر ہیں۔ مولانا فضل الرحمان الیکشن کمیشن صدر کے کسی حکم یا تجویز کو ماننے کا پابند نہیں ہے، وہ خود ایک ادارہ ہے۔ مولانا فضل الرحمان صدر نے ایک ایسی عدالت سے رجوع کرنے کی تجویز دی ہے جو عدالت عمران خان اور پی ٹی آئی کو سپورٹ کر رہی ہے۔ مولانا فضل الرحمان صدر کی گیند عدلیہ کی طرف پھینکی ہے، عدلیہ نے صدر کی طرف۔ مولانا فضل الرحمان ایک دوسرے کی طرف گیند پھینکتے پھینکتے ناظرین کہتے ہیں کہ گول نہیں ہوا جی۔ مولانا فضل الرحمان صدر ملکی نظام میں خوامخواہ کا بھونچال لانے کی کوشش کی ہے۔ مولانا فضل الرحمان اس لاحاصل بحث سے انتخابی معاملات کو متاثر کرنےکی کوشش کی گئی ہے۔ مولانا فضل الرحمان کون سی قوتیں صدر کو سپورٹ کر رہی ہیں؟ جو ملک میں سیاسی عدم استحکام چاہتی ہیں؟ مولانا فضل الرحمان پاکستان کی سیاست میں یہ روش ٹھیک نہیں ہے ۔ مولانا فضل الرحمان یہ اداروں کو الجھانے کی ایک کوشش تو ہے لیکن کامیابی نہیں ہوگی۔ مولانا فضل الرحمان صدر کی اوقات کا بھی پتہ ہے، وہ خود بونس پر چل رہے ہیں ۔ مولانا فضل الرحمان مدت پوری ہونے پر نئے آنے تک صدر اپنی اوقات میں رہیں، مولانا فضل الرحمان انتخابات کی تاریخ کا اختیار نہ عدلیہ کو دیتے ہیں، نہ صدر کو اور نہ وزیر اعظم کو، یہ اختیار الیکشن کمیشن کا ہے ۔ مولانا فضل الرحمان نواز شریف اکیس اکتوبر کو وطن واپس آنے کا اعلان کرچکے ہیں، ہم ان کو ویلکم کریں گے۔ مولانا فضل الرحمان سندھ میں ابھی تک کسی بھی جماعت اتحاد نہیں ہوا ۔ مولانا فضل الرحمان سندھ میں کچھ جماعتوں کے ساتھ رابطے چل رہے ہیں، پیپلز پارٹی کے ساتھ کوئی رابطہ نہیں ہے۔ مولانا فضل الرحمان محمد میاں سومرو ملاقات کے لئے آئے تھے، ان کی جے یو آئی میں شمولیت پر کوئی بات نہیں ہوئی۔ مولانا فضل الرحمان

Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan

46,973 görüntüleme • 3 yıl önce