Video wird geladen...

Video konnte nicht geladen werden

Zur Startseite

فیتہ کاٹنے کے لئے بھی نجانے کتنے لاکھ کا بل بنایا گیا ہوگا لیکن فیتہ بھی خود کٹ گیا کیونکہ فیتے کو کارٹن ٹیپ سے دونوں اعتراف لگایا گیا تھا سہیل آفریدی قینچی چلاتا رہ گیا ۔۔۔😅

76,133 Aufrufe • vor 2 Monaten •via X (Twitter)

0 Kommentare

Keine Kommentare verfügbar

Kommentare vom Original-Post werden hier angezeigt

Ähnliche Videos

اڈیالہ کے باہر بدترین ظلم و جبر کا منظر جاری ہے جہاں علیمہ خان ڈاکٹر عظمی اور نورین آپا کو تاحال گرفتار کر لیا گیا ہے اور ان کی بدترین تذلیل کی گئی ہے سب سے پہلے کارکنوں کو دوسری سمت سے پولیس بھیج کر منتشر کیا گیا اور بے دریغ لاٹھیاں برسائی گئیں اس کے باوجود کارکنوں نے گورکھپور ناکے کی جانب سے آنے والی پولیس کا بھرپور اور جرات مندانہ مقابلہ کیا اس کے بعد سادہ لباس میں ملبوس افراد نے کارکنوں کو گرفتار کرنا شروع کیا اور جب یہ ہتھکنڈہ بھی ناکام ہو گیا تو واٹر کینن کا استعمال کیا گیا حالانکہ وہاں کم سن بچے موجود تھے آپ نے خود دیکھا کہ ڈاکٹر عظمی کے نواسے اور نواسیاں بھی وہیں موجود تھے مگر ان معصوم بچوں تک کا کوئی لحاظ نہ رکھا گیا اور ان پر بھی زہریلا پانی برسایا گیا کئی بچے اس پانی کی زد میں آ گئے اس کے بعد تینوں بہنوں کو گرفتار کر لیا گیا ایم این اے شاہد خٹک کو بھی حراست میں لے لیا گیا اور اس وقت متعدد افراد پابند سلاسل ہیں عثمان جوڑا بھی گرفتار ہے جو چند روز قبل قید و بند کی صعوبتیں جھیل کر رہا ہوا تھا مگر ظلم و ستم کی یہ انتہا بھی ان کے لیے کافی نہ تھی جب ان کا دل نہ بھرا تو علیمہ خان نورین آپا اور ڈاکٹر عظمی پر براہ راست واٹر کینن سے حملہ کیا گیا جس پر کارکنوں نے چاروں طرف حصار بنا لیا اور عمران خان کی بہنوں کو بھیگنے سے بچایا لیکن اس تمام جبر کے باوجود بہادر علیمہ خان ان تمام ظالم قوتوں کے سامنے سیسہ پلائی دیوار بن گئی

Agha Sheikh Sarwar

38,603 Aufrufe • vor 8 Monaten

#JusticeForIqra سرگودھا کی معصوم گھریلو ملازمہ اقراء پر بد ترین تشدد، 43جنوبی میں کہرام مچ گیا والدہ پر غشی کے دورے ۔ نواحی علاقہ 43جنوبی کی اقرا کے والد نے بتایا کہ بچی راولپنڈی اسلام آباد کے ایک تاجر عبد الرشید کے گھر ملازمہ تھی دو سال پہلے سے وہاں کام کرنے والی 15سالہ بچی کو محض چاکلیٹ گم ہونے کا الزام لگا کر تشدد کا نشانہ بنایا گیا اس کے سر ، بازوں ، ٹانگوں اور چہرے کو تیز دھار آلہ سے کاٹا گیا بازو ٹانگیں توڑی گئیں۔ باپ ثناء اللہ خود دو بچوں کے ساتھ منڈی بہت دن کے گاؤں میں ایک زمیندار کے گھر پر کام کرتا ہے غربت کے باعث اس نے اپنی بیٹی اقرا کو اسلام اباد میں ایک تاجر کے گھر پر چھوڑا لیکن ان ظالموں کی طرف سے اسے شدید تشدد کا نشانہ بنایا گیا جس کی وجہ سے بچی جان کی بازی ہار گئی ثنا اللہ کا مطالبہ ہے کہ وزیراعظم پاکستان اور وزیراعلی پنجاب محترمہ مریم نواز معاملہ کا نوٹس لیتے ہوئے ان ظالموں کے خلاف سخت سے سخت قانونی کاروائی عمل میں لائیں اور ان کی فوری گرفتاری بھی کی جائے غریب ثنا اللہ کا کہنا تھا کہ اسے معلوم نہیں تھا کہ اس طرح کا بہمانہ تشدد بھی کوئی انسان کر سکتا ہے اس کو بتانا تھا کہ بچی کو شدید اذیت دیتے ہوئے اس کے جسم پہ کٹ لگائے گئے جسے دیکھنا بھی اس کے لیے مشکل ہو رہا ہے اس کا بتانا تھا کہ پولیس کی طرف سے اسے راولپنڈی بلایا گیا جہاں پر ہسپتال میں اسی انکھوں کے سامنے اس کی لختہ جگر نے دم توڑ دیا لیکن یہ بے بس اور بیچارگی کے عالم میں اپنی بیٹی کی ڈیڈباڈی اٹھا کر سرگودھا اگیا ہے اس کا مطالبہ ہے کہ ملزمان کو گرفتار کیا جائے سرگودہ کے نواحی علاقہ 43 جنوبی میں بچی کی تدفین کا عمل جاری ہے

Shehr Bano Official

39,229 Aufrufe • vor 1 Jahr