正在加载视频...

视频加载失败

فیصل آباد میں سلیکون چپ فیکٹری کا آغاز ملکی تاریخ کا سب سے بڑا ٹیکنالوجی ! انقلاب فیصل آباد میں سلیکون چپ فیکٹری کے قیام کا آغاز پاکستان کی صنعتی اور تکنیکی تاریخ میں ایک سنگ میل قرار دیا جا رہا ہے۔ یہ منصوبہ ایسے وقت میں شروع ہوا...

10,923 次观看 • 8 个月前 •via X (Twitter)

0 条评论

暂无评论

原始帖子的评论将显示在这里

相关视频

وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف نے آج اسلام آباد میں منعقدہ انڈس راس روبوٹکس اینڈ اٹانومس سسٹمز ایکسپو کی تقریب میں شرکت کی اور خطاب کیا۔تقریب میں چیف آف آرمی سٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، وفاقی وزراء اور دیگر نے بھی شرکت کی۔ وزیراعظم نے کہا کہ انڈس راس روبوٹکس اینڈ اٹانومس سسٹمز ایکسپو میں شرکت میرے لئے باعث مسرت ہے،اس سے ٹیکنالوجی کے شعبے میں صف اول کا کردار ادا کرنے کے حوالے سے پاکستان کے عزم کی عکاسی ہوتی ہے،یہ نمائش اور اس طرح کے اقدامات پاکستان کو 21ویں صدی کی جدید ٹیکنالوجی میں صف اول کا ملک بنائیں گے۔وزیراعظم نے کہا کہ رواں سال کے اوائل میں پاکستان نے انڈس اے آئی سمٹ کی بھی میزبانی کی جس سے مصنوعی ذہانت کے دور میں پاکستان کے سفر کو آگے بڑھانے کے لیےحکومتی نمائندوں، ٹیکنالوجی لیڈرز اور محققین کاروباری افراد کو مل بیٹھنے کا موقع ملا،آج انڈس راس ایکسپو سے اس وژن کو عملی شکل دینے کا موقع حاصل ہوا ہے کہ کس طرح جدت کو فعال سلوشنز میں تبدیل کریں، روبوٹکس اور ڈرونز کی جدت سے معیشت مضبوط سلامتی بہتر اور عوام کی زندگی آسان ہوگی،اس جہت نے اکیڈمیا، انڈسٹری، سٹارٹ اپس اور پالیسی سازوں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کیا ہے۔ وزیراعظم نے گفتگو جاری رکھتے ہوئے کہا کہ میرے بچپن میں ٹیکنالوجی کی جدت بلیک اینڈ وائٹ ٹیلی ویژن کی آمد تھی اور خاندان کے تمام افراد’’اچے برج لاہور دے‘‘ جیسی پاکستان ٹیلی ویژن کی کلاسک نشریات کو مل کر دیکھتے تھے لیکن آج دنیا ٹیکنالوجی کے میدان میں بہت آگے بڑھ گئی ہے اور ہم تاریخ کے ایک غیر معمولی دور میں ہیں ،زرعی پیداوار کے لیے پانی اور دیگر بنیادی عوامل کی ضرورت،موسمیاتی تبدیلی اور دیگر چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال انتہائی اہمیت کا حامل ہے،آج ٹیکنالوجی کی جدید شکل ہمارے سامنے موجود ہے،آج مشینیں محسوس کر کے تیزی سے فیصلے اور ان پر عمل درآمد کرتی ہیں جو کبھی خواب لگتا تھا آج حقیقت بن کر ہمارے سامنے موجود ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ فخریہ طور پر کہتا ہوں کہ پاکستان نے دفاع اور سکیورٹی کے شعبے میں ملکی صلاحیتیں بڑھانے میں نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں،سلامتی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے،فیلڈ مارشل سیّد عاصم منیر کی قیادت میں مسلح افواج نے جدید ٹیکنالوجی اپنائی، سیمولیٹرز سو فیصد پاکستان میں تیار ہو رہے ہیں،ڈرونز کی 60 فیصد سے زائد مقامی تیاری حاصل کر لی گئی ہے، معرکہ حق میں مسلح افواج نے جدید آٹونومس سسٹمز اور سائبر سکیورٹی کے ذریعے سرحدوں کا دفاع کیا،معرکہ حق میں فیلڈ مارشل کی سربراہی میں ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابراور نیول چیف ایڈمرل نوید اشرف کی معاونت شاندار رہی اور ہماری مسلح افواج نے ملکی خود مختاری کے تحفظ کے لیے آہنی عزم کے مظاہرے کے ساتھ ساتھ ملکی صلاحیتوں،ٹیکنالوجی کی ترقی اور آپریشنل مہارت کا بھی بھرپور ثبوت دیا،دفاعی شعبے میں شاندار کامیابیاں مادر وطن کے قومی دفاع کا لازمی جزو ہیں، اس سے ہمارے سکیورٹی کا نظام مضبوط ہوگا، دفاع مزید ناقابل تسخیر ہو جائے گا اور اس سے ابھرتے اور مستقبل کے خطرات سے نمٹنے کے لیے صلاحیت میں اضافہ ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اپنی خودمختاری کے تحفظ اور دفاع کو مضبوط بنانے کے لئے جدید ٹیکنالوجی استعمال کرے گا،دفاع میں آٹونومس صلاحیتوں کی ترقی میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے۔انہوں نے کہا کہ ٹیکنالوجی کا انقلاب چند جدید معیشتوں،بڑی کارپوریشنز اور بڑے شہروں تک محدود نہیں رہنا چاہئے بلکہ سب کے لیے مساوی ترقی ہونی چاہئے، کسانوں کی حالت بہتر ہو،چھوٹے کاروبار فروغ پائیں،کاروبار کرنے والے خواتین کو سہولیات ملیں اور کمزور طبقات کو فائدہ پہنچے۔محفوظ اور شفاف آٹونومس سسٹمز کے لئے واضح قانون سازی اور اخلاقی فریم ورک بنانا چاہئے۔ وزیراعظم نے پاکستان میں روبوٹکس اور اٹانومس سسٹمز کی ترقی کے لئے سپارک اینڈ ایلیویٹ پروگرام کے آغاز کا اعلان کیا جس کے ذریعے پاکستان میں عالمی معیار کی ٹیکنالوجیز کے لیے تحقیق کو فروغ دیا جائے گا اس سے کاروبار کی ترقی اور ملازمتوں کے مواقع بڑھیں گے۔وزیراعظم نے 20 ملین ڈالر کا پاکستان وینچر فنڈ قائم کرنے کا بھی اعلان کیا ۔وزیر اعظم نے کہا کہ تحقیق کو عالمی معیار کی ٹیکنالوجی اور اعلیٰ روزگار میں بدلیں گے،دیگر ممالک کی ٹیکنالوجی کے محتاج نہیں بلکہ اپنی تقدیر خود لکھیں گےانتھک محنت سے آئندہ نسلوں کے لئے روشن اور خوشحال پاکستان بنائیں گے۔ تقریب میں آمد پر وزیراعظم کو جامع بریفنگ بھی دی گئی اور تقریب میں راس انڈس ایکسپو سے متعلق دستاویزی فلم بھی دکھائی گئی۔

Prime Minister's Office

23,895 次观看 • 2 个月前

(پاکستان 🇵🇰 💪) یہ مولانا شیخ عمران حسین ہیں جنہوں نے 2004 میں ٹرینیڈاڈ میں دجال دی فالس مسیحا یا اینٹی کرائسٹ پر اپنے لیکچر کی وضاحت کی- (اس دلچسپ ویڈیو کے ٹرانسکرپٹ کا مکمّل اردو ترجمہ پیش کر رہا ہوں- اسے ضرور پڑھیں اور سنیں)- "اور میں آپ سے کہہ رہا ہوں، اگر آپ پیسوں کی دنیا کو دیکھیں تو آپ کو دیوار پر لکھا نظر آئے گا- بریٹن ووڈز معاہدہ ٹوٹ رہا ہے، یہ پہلے ہی ٹوٹ چکا ہے اور ایک نیا بین الاقوامی مالیاتی نظام قریب ہے، جس میں امریکی ڈالر غائب ہو جائے گا- اور جب امریکی ڈالر کریش ہو گا تو امریکی معیشت اس کے ساتھ کریش ہو جائے گی- میں آپ کو بتانا چاہتا ہوں کہ امریکہ پر 11 ستمبر کا حملہ 1914 کے موسم گرما کے دہشت گردانہ حملے سے غیر معمولی مماثلت رکھتا ہے- اور یہ کہ جو واقعات اب دنیا میں رونما ہو رہے ہیں، افغانستان پر حملہ، عراق پر حملہ، نئی امریکی سامراج جو دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے رہی ہے، ان سب کا مقصد ایک مشن ہے، اسرائیل کے ساتھ ایک بڑی جنگ کی راہ ہموار کرنا- اور اس بڑی جنگ کے نتیجے کے طور پر جو اسرائیل چھیڑنے جا رہا ہے، اسرائیل کی ریاست کا علاقہ ڈرامائی طور پر پھیلتا جا رہا ہے تاکہ اسرائیل کی مقدس سرزمین کی بائبل میں بتائی گئی سرحدوں کو گھیر لیا جا سکے- بائبل کہتی ہے، "مصر کے دریا سے لے کر دریائے فرات تک"، لیکن یہ سچ نہیں ہے۔ مصر کے دریا سے لے کر دریائے فرات تک مقدس سرزمین کا درحقیقت کوئی ذکر موجود نہیں ہے، یہ ایک گڑھا ہوا جھوٹ ہے- لیکن اب یہ بائبل میں موجود ہے، انہوں نے اسے زبردستی داخل کیا ہے۔ اور اس لیئے اسرائیل کو ایک بڑی جنگ چھیڑنی ہے، جس سے ریاست کے علاقے میں ڈرامائی طور پر توسیع ہو جائے گی، تاکہ اسرائیل نہر سویز کو کنٹرول کر لے- اور اسرائیل کل خلیج کے تیل کو کنٹرول کر لے گا- اور امریکی ڈالر پر ایک ساتھ حملہ آور ہو گا اور امریکی ڈالر گرتا جائے گا- اور جب یہ گرے گا تو کاغذی کرنسی کی پوری دنیا کو اپنے ساتھ لپیٹ لے گا- جب اسرائیل وہ بڑی جنگ چھیڑتا ہے، میں توقع کرتا ہوں کہ اسرائیل جنگ کے ایسے ہتھیار اتارے گا جو ہم نے پہلے کبھی نہیں دیکھے- اور اس کے اختتام پر اسرائیل دنیا میں ایک نئی حکمران ریاست کے طور پر امریکہ سے اقتدار سنبھال لے گا- لیکن، اسرائیل اس جنگ کو نہیں چھیڑ سکتا، کیوں کہ اب بھی راستے میں بہت خاص رکاوٹیں موجود ہیں- اور اب اپنی سوچ کی ٹوپی پہن لیجیئے- کہ وہ کونسی سب سے اہم رکاوٹ ہے، جو اب بھی اسرائیل کی ایک بڑی جنگ چھیڑنے کی راہ میں کھڑی ہے؟ اور یہ ہے پاکستان کے ایٹمی ہتھیاروں کی صلاحیت- اور اس کے ساتھ ایران کی میزائل صلاحیت بھی ہے- اور اس طرح، ہم اس وقت جتنے بھی ہنگاموں سے گزر رہے ہیں، دنیا کی بساط پر وہ تمام تدبیریں، جب اسرائیل وہ بڑی جنگ چھیڑتا ہے اور امریکہ کی جگہ دنیا میں ایک حکمران ریاست کے طور پر آتا ہے، پہلی حکمران ریاست برطانیہ تھی، دوسری حکمران ریاست امریکہ تھی، تیسرا اور آخری یہ دھوکے باز، اسرائیل کی ریاست ہوگی- اس لیئے میں آپ کو یہ تجویز کر رہا ہوں کہ اینٹی کرایسٹ یا دجال اب مرحلہ دوم مکمل کر چکے ہوں گے، ایک دن جو ایک مہینے کے برابر ہے، اور تیسرے مرحلے کا آغاز ہو گا، ایک دن جو ایک ہفتے کے برابر ہے، یعنی بہت کم مدت- یہ وہ وقت ہے جب دہشت گردی اپنے عروج پر ہے- انہوں نے اعلان کیا ہے کہ وہ ان تمام لوگوں کو قتل کرنا جاری رکھیں گے جو اسرائیل کی ریاست کے خلاف ہاتھ اٹھانے کی جرات کرتے ہیں۔ یہ دنیا کا سب سے بڑا دہشت گرد ہے- لیکن CNN آپ کو یہ کبھی نہیں بتائے گا۔ میری بات سننے کا شکریہ-

Amir H. Qureshi

13,333 次观看 • 6 个月前

پاکستان نے ہمیشہ دنیا کو حیران کیا ھے۔ دنیا میں SLBM آبدوز سے دشمن کو ایٹمی میزائل نشانہ بنانے کی صلاحیت صرف چھ ممالک کے پاس تھی اب الحمداللہ پاکستان یہ طاقت حاصل کر چکا ھے۔ کچھ عرصہ قبل امریکی صدر ٹرمپ نے دنیا کو باور کروایا تھا کہ پاکستان ذیر ذمیں اٹیمی تجربات کر رہا ہے۔ پاکستان نےسمندر کی گہراییون سے فائر ہونے والے بابر تھری کا کامیاب تجرب کر کےجنوبی ایشیا میں جنگ کے پورے تصور کو بدل کر رکھ دیا ہے، یہ کوئی عام ہتھیار نہیں بلکہ پاکستان کی اسٹریٹیجک سوچ کا مرکزی ستون ہے، ایسا ہتھیار جسکی طاقت شور میں نہیں بلکہ خاموشی میں چھپی ہے، اور جس کا خوف حملے میں نہیں بلکہ اس کے جواب کے یقین میں ہے۔ بابر-3 ایک سب میرین لانچڈ کروز میزائل ہے، یعنی یہ زمین یا فضا سے نہیں بلکہ سمندر کی گہرائیوں میں موجود آبدوز سے فائر ہوتا ہے، جہاں دشمن کی آنکھ، ریڈار اور سیٹلائٹ سب بے بس ہو جاتے ہیں، دشمن کو نہ آبدوز کی جگہ معلوم ہوتی ہے، نہ اس لمحے کا علم ہوتا ہے جب حملہ ہوگا، اور نہ ہی اس سمت کا اندازہ ہوتا ہے جہاں سے تباہی آئے گی، یہی غیر یقینی کیفیت دشمن کے لیے سب سے بڑا ڈر ہے۔ دفاعی ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ آبدوز سے فائر ہونے والا نیوکلیئر میزائل کسی بھی ملک کی سب سے محفوظ اور مؤثر جوابی طاقت ہوتا ہے، کیونکہ دشمن زمینی اڈوں، فضائی بیسز اور میزائل سائٹس کو تو نشانہ بنانے کا منصوبہ بنا سکتا ہے، مگر سمندر کی تہہ میں چھپی آبدوز کو نہ ختم کر سکتا ہے اور نہ روک سکتا ہے۔ بابر-3 کی رینج تقریباً 450 کلومیٹر بتائی جاتی ہے، یہ کم بلندی پر پرواز کرتا ہے، ریڈار سے بچنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور نیوکلیئر وارہیڈ لے جانے کے قابل ہے، لیکن اس کی اصل خطرناکی اس کے دھماکے میں نہیں بلکہ اس حقیقت میں ہے کہ دشمن کبھی یہ یقین نہیں کر سکتا کہ پاکستان کا جوابی وار ختم ہو چکا ہے۔ اگر دشمن پہلا حملہ کرتا ہے اور یہ سمجھ لیتا ہے کہ اس نے پاکستان کی طاقت کو مفلوج کر دیا ہے، تو یہی وہ لمحہ ہوتا ہے جہاں وہ سب سے بڑی غلطی کرتا ہے، کیونکہ بابر-3 کی موجودگی اس سوچ کو دفن کر دیتی ہے اور یہ واضح کر دیتی ہے کہ پاکستان حملے کے بعد بھی جواب دینے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے، اسی صلاحیت کو فوجی زبان میں سیکنڈ اسٹرائیک کیپیبلٹی کہا جاتا ہے، دنیا کے تھنک ٹینکس اور دفاعی تجزیہ کار تسلیم کرتے ہیں کہ یہی صلاحیت کسی بھی ریاست کو ناقابلِ شکست ڈیٹرنس فراہم کرتی ہے۔ دشمن ممالک کے میڈیا اور دفاعی حلقے کھل کر لکھتے ہیں کہ پاکستان نے بابر-3 کے ذریعے اپنی نیوکلیئر ڈیٹرنس کو مکمل کر لیا ہے، کیونکہ اب اس کے پاس زمین، فضا اور سمندر تینوں سطحوں پر جوابی طاقت موجود ہے، اور یہی توازن جنگ کو روکنے کی سب سے بڑی ضمانت بنتا ہے۔ سادہ الفاظ میں بابر-3 حملہ کرنے کا ہتھیار نہیں بلکہ دشمن کو حملے سے باز رکھنے کا اعلان ہے، یہ ایک خاموش پیغام ہے کہ جنگ شروع کرنا شاید آسان ہو، مگر اس کا انجام دشمن کے اختیار میں نہیں ہوگا، اور یہی وہ حقیقت ہے جس نے بابر-3 کو دنیا کی نظر میں خطرناک، سنجیدہ اور فیصلہ کن ہتھیار بنا دیا ہے۔ #پاکستان_زندہ_باد🇵🇰

چوہدری شاہد محمود

21,855 次观看 • 8 个月前

اس وقت خطے میں جس ملک کے پاس جوہری ہتھیار ہیں وہ پاکستان ہے۔ اس کے پاس تقریباً 160 سے 170 جوہری میزائل ہیں اور یہ تقریباً 2750 کلومیٹر تک مار کرنے والے میزائلوں سے بھی لیس ہے، جس کا مطلب ہے کہ وہ اسرائیل کو نشانہ بنا سکتا ہے۔ ​اب کیا اسرائیل ایسے ہتھیاروں کی موجودگی سے خوشی، سکون اور اطمینان محسوس کرتا ہے؟ بالکل بھی نہیں! اگر اسرائیل ابھی غزہ کی جنگ میں کامیاب ہو جاتا ہے اور ایران کو حملوں کا نشانہ بناتا ہے تو یہ پاکستان کو بھی نشانہ بنا سکتا ہے، یا اگر وہ ایسا نہ کر سکے تو وہ یقینی طور پر پاکستان پر بہت زیادہ دباؤ ڈالے گا، یہاں تک کہ ملک کو تقسیم کر کے اور انتشار پیدا کر کے؛ دہشت گرد گروہوں کے ہاتھوں میں ہتھیاروں کے جانے کے بہانے سے پاکستان کے خلاف کارروائی کر سکتا ہے۔ ​اسرائیل نے بار بار یہ جملہ دہرایا ہے کہ پاکستان کے جوہری ہتھیار ایک خطرہ ہیں کیونکہ وہ غلط ہاتھوں میں جا سکتے ہیں۔ اب یہ ہتھیار غلط ہاتھوں میں کیسے جا سکتے ہیں؟ جب ملک میں انتشار اور عدم استحکام پیدا ہو جائے گا۔ تو پھر امریکہ آئے گا اور کہے گا: 'تم اب سو حصوں میں بٹ چکے ہو، آؤ ہمیں یہ ہتھیار دے دو تاکہ دنیا میں انتشار نہ پھیلے'۔ میرے خیال میں آخر کار ایک ایسا منصوبہ زیرِ عمل ہے جس کا مقصد پاکستان کو جوہری ہتھیاروں سے محروم اور خالی کرنا ہے تاکہ اسرائیل خطے پر غلبہ اور تسلط برقرار رکھ سکے۔ ​وضاح خنفر (اردن کے فلسطینی نژاد صحافی)

Taha

22,039 次观看 • 6 个月前

پاکستان: اسلامی دنیا کی سب سے بڑی فضائی طاقت پاکستان نے اسلامی ممالک میں سب سے بڑی فضائی طاقت کا اعزاز حاصل کر لیا، جس کا فلیٹ تقریباً 1434 طیاروں پر مشتمل ہے۔ اس جدید اور متنوع فلیٹ میں لڑاکا طیارے، ٹرانسپورٹ طیارے اور معاون طیارے شامل ہیں۔ پاکستان نہ صرف جدید ترین لڑاکا طیارے خود تیار کرتا ہے بلکہ ان طیاروں کو فوجی مقاصد کے ساتھ بین الاقوامی امدادی مشنوں میں بھی استعمال کرتا ہے۔ عالمی سطح پر پاکستان کا شمار دنیا کے ساتویں بڑے ائیر فلیٹ رکھنے والے ممالک میں ہوتا ہے، جو ہماری تکنیکی مہارت اور دفاعی قوت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ انشاء اللہ بہت جلد 17-PX JF اور J-35 کی ففتھ جنریش ورژن اسے جنوبی ایشیا کی پہلی ان طیاروں سے لیس طاقت میں بدل دے گی یہ کامیابی پاکستان کی فضائی ہوائی فورس (PAF) کے ماہرین اور تکنیکی عملے کی انتھک محنت کا نتیجہ ہے، جو ملکی دفاع کو مضبوط تر بنانے کے لیے دن رات کام کرتے ہیں۔ پاکستان کا یہ کارنامہ قوم کے لیے باعث فخر اور سلامتی کا ضامن ہے۔ پاک فضائیہ زندہ آباد

AK.47🦅

29,734 次观看 • 1 年前

ارب پتی جاگیردار مزاریوں کا یہ غریب چیلا اور اسد نام کا یہ چوٹھے درجے کا صحافی پھر اپنی اوقات بھول گیا ہے۔ یہ اب ایک ایسے آدمی کے بارے میں جھوٹی بک بک کر رہا ہے جسے پورا پاکستان اسکی شکل، آواز، نام اور اس کے گانوں کی وجہ سے جانتا ہے۔ Asad Ali Toor آج اسے سٹپٹایا ہئوا دیکھ کر مجھے یہ اچھی طرح سمجھ آ گئی ہےکہ اسے ریاست نے کیوں سبق سکھایا تھا اور کیوں لوگ اس غلیظ فطرت آدمی سے اتنی نفرت کرتے ہیں۔ اس لیے کہ ایسے جھوٹے اور منافق لوگ اپنی کرتوتوں کی وجہ سے ہی نقصان اٹھاتے ہیں۔ اپنے طبقے کا غدار یہ وہ بے غیرت ہے جو مڈل کلاس کا ایک صحافی ہو کر بھی مزاریوں جیسے جاگیرداروں کی چمچہ گیری کرتا ہے اور ان کی شہہ پرخود کو ایک گھٹیا سا باغی سمجھتا ہے۔ میں تو اس فراڈیے کو صرف ترس کے قابل سمجھتا ہوں جو میرے جیسے پاکستان کی تاریخ کے سب سے مقبول سنگرز میں سے ایک کے بارے میں مکمل غلط بکواس کر رہا ہے۔ اسے چاہیے کہ یہ سوشل میڈیا پر لائیو مائیک لے کر سب سے پہلے اپنے دادکے اور نانکے خاندان میں ہی چلا جائے اور ہر ایک سے یہ پوچھے کہ وہ جواد احمد کو جانتے ہیں یا نہیں۔ مگر یہ ایسا کبھی نہیں کرے گا کیونکہ جھوٹ کے پائوں نہیں ہوتے پر میں اس کے بارے میں یہ ضرور بتا سکتا ہوں کہ جس جگہ یہ رہتا ہے وہاں دو گلیاں چھوڑکر اس کے محلے والے بھی اسے نہیں جانتے۔ کم ظرفی اورجھوٹ بولنے کی بھی کوئی حد ہوتی ہے۔ میں نے اپنا کیریر 26 سال پہلے شروع کیا تھا مگر میں نے 2003 کے بعد سوشل ورک اور فلاحی کاموں اور پھر سیاست کی وجہ سے پاکستان میں کوئی البم نہیں نکالا پھر بھی میرے بہت سے طاقتور گانے اس وقت سے لے کر اب تک پوری دو نسلوں کو یاد ہیں۔ پھر بھی 2026 میں آج بھی جب پاکستان میں 18 سال بعد بسنت ہوئی تو میرا گانا "اچیاں مجاجاں والی" ہی انسٹاگرام، فیس بک اور ٹک ٹاک وغیرہ کی ٹرینڈنگ میں نمبر 1 پر تھا اور ہر چھت پر وہی بج رہا تھا۔ یہ تو میڈیا کا آدمی ہے مگر کیا اس جاہل کو اتنا بھی پتا نہیں؟ کیا اسے پتا نہیں کہ میں ایک نہیں بلکہ تین صدارتی ایوارڈز پانے والا پاکستان کا واحد آرٹسٹ ہوں؟ یہ یو ٹیوب پر پیسے بنانے کے لیے کس حد تک گر سکتا ہے وہ اس وڈیو میں صاف دکھائی دے رہا ہے کہ یہ میرے جیسے ایک سوشلسٹ انقلابی آدمی کی سیاست کو نقصان پہنچانے کی ناکام کوشش کر رہا ہے جو اس ملک کے مڈل کلاس اور غریب لوگوں کو اس ملک کا حاکم بنانا چاہتا ہے اور اس کئے لیے ہر قسم کی ذاتی قربانی کر رہا ہے۔ میں اپنی ذات پر کچھ بھی برداشت کر لیتا ہوں مگر صرف پاکستان نہیں بلکہ دنیا کے تمام مڈل کلاس اور غریب عام لوگوں کے لیے اپنی صاف شفاف سوشلسٹ سیاست پر جھوٹ بول کر اسے نقصان پہنچانے کو برداشت نہیں کر سکتا۔ جو بھی اس پر بات کرے گا وہ میرے سے اپنی اصل اوقات کے بارے میں سنے گا تاکہ آئندہ اسے ایسا جھوٹا گھٹیا پن کرنے کی ہمت نہ ہو۔ مگر مجھے پتا ہے کہ یہ بیچارہ مجبور ہے۔ اگر عمران کی طرفداری کرنے پر PTI والے اسے ویوز نہ دیں تو یوٹیوب پر اس کی روزی روٹی بند ہو جائے۔

Jawad Ahmad

28,733 次观看 • 6 个月前