Video yükleniyor...

Video Yüklenemedi

Ana Sayfaya Dön

فیض حمید زندگی کا سب سے بڑا جوا بھی ہار گئے۔ علی وارثی، نیا دور ۔۔۔۔۔۔۔۔ اس کو یقین نہیں آ رہا تھا۔ یہ دو لوگ؟ ان دونوں کو تو وہ کبھوں کا شکست دے چکا تھا۔ نواز شریف؟ اسے تو 2017 میں 'کھڈے لائن' لگا دیا تھا۔ 10...

77,725 görüntüleme • 2 yıl önce •via X (Twitter)

11 Yorum

Romail 🪖🇵🇰💯 profil fotoğrafı
Romail 🪖🇵🇰💯2 yıl önce

واہ کمال کر دیا بھائی، ان سب کی چالوں پر اللہ تعالیٰ کی اک تدبیر نے بازی کیا پلٹی کہ سب کو تھوکا چاٹنا پڑا۔ اللہ تعالیٰ کا کرم ہوا اور حافظ عاصم منیر صاحب ہمارے ملک کے چیف بنے، اللہ اپنے حفظ و امان میں رکھے آمین یارب العالمین 🤞🇵🇰😍🥰👍

𝐈𝐦𝐫𝐚𝐧 𝐇𝐚𝐛𝐢𝐛 profil fotoğrafı
𝐈𝐦𝐫𝐚𝐧 𝐇𝐚𝐛𝐢𝐛2 yıl önce

بے شک بے شک آمین 🙏

M.A. Shahzad | القدس فی العیون profil fotoğrafı
M.A. Shahzad | القدس فی العیون2 yıl önce

اللہ سب سے بڑا منصوبہ ساز ہے۔ اللہ اکبر۔ اور انسان تو۔۔ سامان سو برس کا، پل کی خبر نہیں۔

Shaista Awan profil fotoğrafı
Shaista Awan2 yıl önce

Man proposes God disposes !!!!

𝐈𝐦𝐫𝐚𝐧 𝐇𝐚𝐛𝐢𝐛 profil fotoğrafı
𝐈𝐦𝐫𝐚𝐧 𝐇𝐚𝐛𝐢𝐛2 yıl önce

Indeed 🙏

Dr angina profil fotoğrafı
Dr angina2 yıl önce

آپکی سب باتوں سےاتفاق۔۔ لیکن پنجاب اسمبلی کےاسپیکرملک احمدخان کیوں یہ کھ رھاھےکہ جنرل ر باجوہ آرمی چیف کی پوسٹ کی ایکسٹینشن نھی چاھتےتھے۔۔۔۔۔؟حالانکہ موجودہCOASکی مقرری کےکچھ دن پھلے یہ ھی صاحب موجودہ وزیر دفاع کے ساتھ نواز شریف کےلیےلنڈن م جنرل ر باجوہ کا پیغام لیکر گئے تھے۔۔

𝐈𝐦𝐫𝐚𝐧 𝐇𝐚𝐛𝐢𝐛 profil fotoğrafı
𝐈𝐦𝐫𝐚𝐧 𝐇𝐚𝐛𝐢𝐛2 yıl önce

باجوہ سب سے جھوٹ بول کر ڈبل ٹرپل گیم کھیل رہا تھا آخری وقت میں جو پیغام لیکر گۓ تھے وہ یہی کہ یا تو فیض کو بناؤ چیف یا پھر ساحر شمشاد کو۔ ورنہ مارشل لأ لگ سکتا ہے کچھ باتیں زیادہ حساس ہوتی ہیں جو پبلک میں نہیں کی جا سکتیں اسی لیے ملک احمد خاں صاحب بھی مکمل بات نہیں کرتے

میاں جی 🐅🐅🐅 پکا لیگی profil fotoğrafı
میاں جی 🐅🐅🐅 پکا لیگی2 yıl önce

👌

Ubaid Khan profil fotoğrafı
Ubaid Khan2 yıl önce

الحمدللہ

ظہیر خان profil fotoğrafı
ظہیر خان2 yıl önce

ویسے اس تحریر سے ایک بات واضح ہوتی ہے کہ جیسا کرو گے ویسا بھرنا بھی پڑ سکتا ہے

𝐈𝐦𝐫𝐚𝐧 𝐇𝐚𝐛𝐢𝐛 profil fotoğrafı
𝐈𝐦𝐫𝐚𝐧 𝐇𝐚𝐛𝐢𝐛2 yıl önce

جو دوسروں کے لیے گڑھا کھودتے ہیں وہ خود بھی اسی گھڑے میں گر سکتے ہیں

Benzer Videolar

نواز شریف فیض حمید کے معاملے پر بھی خاموش ہیں کیونکہ اگر یہ حقیقت کھل گئی کہ نواز شریف لندن کیسے پہنچے تو یہ بات بھی کھل جائے گی کہ اس کے پیچھے بھی فیض تھا۔ حامد میر بات جب کھلے گی تو یہ بات بھی کھلے گی کہ فیض حمید آرمی چیف بننا چاہتا تھا وہ عاصم منیر کو ناپسند کرتا تھا اس نے ایک صحافی کے ذریعے شہباز شریف کو پیغام پہنچایا تھا کہ میری نوازشریف سے ملاقات کروائے میں عمران خان اور تحریک انصاف کو دیوار سے لگا دوں گا لیکن اس وقت نواز شریف عاصم منیر سے ڈیل کر چکا تھا نو مئی بھی فیض حمید نے اسی لیے کروایا تھا تاکہ نواز شریف کو خوش کر سکے۔ یہ جرنیل دو منہ والے سانپ ہوتے ہیں ادھر فیض حمید عمران خان کو دھوکا دے رہا تھا دوسری طرف وہ نواز شریف کے پلیٹس کی جعلی رپورٹ تیار کر کے اس فرار کروا رہا تھا تاکہ نواز شریف سے اپنے لیے حمایت حاصل کر سکے اور اگر آج کوئی یہ کہتا ہے کہ نو مئی عمران خان کے کہنے پر فیض حمید نے کیا تو وہ جھوٹ بولتا ہے منافقت کرتا ہے حقیقت کبھی نہیں چھپتی ایک دن سب کے سامنے آ جاتی ہے ۔

Rodium-A

21,802 görüntüleme • 8 ay önce

یہ پچھلے سال کی اس کی ویڈیو ہے تب یہ ٹک ٹاکر کافی زیادہ وائرل ہو رہا تھا اور یہ لائیو میچ کھیلا کرتا تھا ٹک ٹاک پہ لوگوں کے ساتھ اور اس کی ویڈیو کافی وائرل ہوتی تھی اور یہ خود کو عمران خان سے بڑا لیڈر سمجھنے لگا ایک دن اس کے ساتھ ہم باتیں کر رہے تھے تو اس نے عمران خان کے اوپر وہ باتیں کی جو میں سوچ نہیں سکتی تھی مدہ بہت لمبا تھا لیکن اس کی زبانی خود سنیں کہ یہ عمران خان کو کیا کہہ رہا ہے مطلب اس کو عمران خان سے زیادہ پتہ ہے۔۔ میں نے دوبارہ اس بندے کو کبھی اہمیت نہیں دی پھر یہ کافی چالاک بھی تھا اس نے ایک واٹس ایپ گروپ بنایا جس میں اس نے مجھے بھی ایڈ کیا اور اس نے ہم سب کو کہا اب میری ٹیم ہیں ٹیم الادین میں نے کہا ہم کسی کی ٹیم نہیں ہم صرف عمران خان کی ٹیم ہے ہم عمران خان کی بات کیا کریں گے اور اس پر میرے ساتھ سب لوگوں نے اتفاق کیا لیکن اس نے نہ کیا اور پھر بہت سارے لوگ وہ واٹس ایپ گروپ چھوڑ کے چلے گئے جس میں میں بھی شامل تھی اور میں نے اس کو ہمیشہ دیکھا یہ کرتا کیا ہے اس نے بہت جھوٹ بولے اس کو ہر وہ کام کرنے اور ہر ایک وہ چیز بولنے کی اجازت تھی جو ہر نئے انے والے بندے کو ہوتی ہے جس کو ہیرو بنایا جاتا ہے پھر اس کو پتہ چلا کہ ٹویٹر بھی کوئی چیز ہوتی ہے پھر یہ پچھلے سال ٹویٹر پہ پہنچا اور دیکھتے ہی دیکھتے کوئی شخص جب اتنا وائرل ہو جاتا ہے تو اپ خود سمجھیں کہ اس کے پیچھے کیا ہوتا ہے اور ہماری قوم ٹھہری معصوم جس کے فالور زیادہ ہوئے نہیں بس اسی کے ساتھ تصویریں لینے نکل پڑے وہ پتلو ہو یا وہ پھر کوئی جنت مرزا ا یا کوئی ڈکی بھائی ہو یا کوئی اور شروع میں یہ بھی ٹوٹے دل اور عاشقی والی ویڈیو ہی بناتا تھا۔۔جو کے اس کا ذاتی معاملہ ہے۔ اس نے بہت سارے ایسے لوگوں کو سپورٹ کی جس کو نہیں کرنا چاہیے تھا اس کو سمجھ اگئی تھی کہ ٹک ٹاک کا الگوریدم وہی چیزیں اٹھاتا ہے جو ٹاپ ٹرینڈنگ ہو اسے ان چیزوں سے کبھی مقصد نہیں ہوا تھا کہ کیا ضروری ہے کیا اہم اور پھر اہستہ اہستہ اس کو ہمارے ہی پی ٹی ائی افیشلز کے کچھ لوگوں نے انٹروڈکشن دیا اس کو عزت دی پھر اچانک سے اس کے ابو کو اٹھا لیا گیا جو کہ مجھے سچ نہیں لگتا کیونکہ پھر اگلے ہی دن یہ ائی ایس ائی کو للکار رہا تھا اور پھر ان کا ابو چھوٹ بھی گیا جو کہ اچھی بات ہوئی اس کے بعد یہ پی ٹی ائی افیشل میں بیٹھے ہوئے چند لوگوں کی مدد سے زیادہ ہی وائرل ہوگیا۔۔ اب اس نے یہ جتنے بھی پروگرام کیے ہیں اس نے بہت سنگین جرم کیا عمران خان کی تصویر نہ لگا کر پی ٹی ائی کے جھنڈے نہ لہرا کر اب یہ اس مدے پر پہنچ چکا ہے کہ یہ اپنی کوئی ہیومن رائٹس کے ارگنائز شن بنا رہا ہے یہ سب کرنے کے لیے اس نے عمران خان کا نام استعمال کیا اس نے پی ٹی ائی کے لوگوں کے جذبات سے کھیلا اور یہ تمام اس کے فالورز جو اس کو ملے ہیں وہ عمران خان کے نام پر ملے ہیں لیکن اس کا ایجنڈا کچھ زیادہ ہی بڑا ہے یاد رہے یہ اس کے الفاظ اس وقت کے ہیں جب خان صاحب جیل میں تھے یہ اس وقت بھی لوگوں کو یہ کہتا تھا کہ ہمیں عمران خان پر ٹرسٹ نہیں کرنا چاہیے تھا جو ہم نے کیا

Sara Mir

33,141 görüntüleme • 9 ay önce

ملک میں جو خود کو ووٹ کو عزت دو کا سب سے بڑا چیمپئن سمجھتا ہے، اس کی حکومت ہے۔ پنجاب میں ان کی بیٹی کی حکومت ہے۔ آج صبح پنجاب میں ہمارا اپوزیشن لیڈر بات کر رہا تھا کہ اس وقت بھی میرے گھر کے سامنے پولیس کھڑی ہے۔ پنجاب میں اگر آپ کا تعلق اپوزیشن سے ہے تو آپ اپنے گھر میں بھی رہائش نہیں رکھ سکتے۔اس وقت نہ کوئی قانون ہے اور نہ ہی آئین، صرف ظلم اور جبر ہے۔ اور جب ظلم حد سے بڑھ جائے تو جہاد لازم ہو جاتا ہے۔ جہاد صرف تلوار اٹھانے کا نام نہیں، جدوجہد سے بھی کیا جاتا ہے، اور یہی جدوجہد ہم پر اس وقت لازم ہے۔عمران خان اس وقت جرأت اور ہمت کے ساتھ اپنا مقدمہ لڑ رہا ہے۔ جب 1992 کا ورلڈ کپ ہو رہا تھا تو وہ ایک کمزور ٹیم تھی، لیکن اللہ نے عمران خان کو عزت دینی تھی۔ پھر جب شوکت خانم ہسپتال بن رہا تھا تو میں خود اس مہم کا حصہ تھا۔ ہم نے پوسٹر لگائے، چندہ اکٹھا کیا۔ ہمیں بھی یہ ناممکن نظر آتا تھا، لیکن اللہ نے عمران خان کے خواب کو پورا کیا۔

Asad Qaiser

15,982 görüntüleme • 8 ay önce

آپ کو 9 مئی والے واقعات یاد ہوں گے نا ڈرتے ہیں کہیں ایسا موقع پھر نہ آ جائے اس میں میں ایک سوال کرتا ہوں آپ سبھی ساتھیوں سے خاص کر جو سمجھتے ہیں کور کمانڈر کا گھر آپ کا گھر نہیں ہے وہ میرا گھر ہے کور کمانڈر کا گھر ایسے کھلا کیوں تھا کہ لوگ چلے گئے آپ جواب دیں نا اس سے کیوں نہیں پوچھا گیا کہ کور کمانڈر صاحب آپ... کور کمانڈر کا گھر تو... نہیں دیکھیں جب عوام کا ایک سمندر آ جاتا ہے نا تو پھر اس کو روکا نہیں جا سکتا نہیں ہم... گولیاں تو نہیں چلاتے نا ہماری اپنی ایک فیصلہ ہو رہا ہے سچ یہ ہے اگر 9 مئی کے لوگوں کا یہ وہ ہے آپ رات پوچھیں سوچیں وہ بھی سوچیں آپ کو بھی پتہ ہے آپ کا یہ دل بھی مانتا ہے میرا بھی مانتا ہے اس 8 فروری کو الیکشن عمران کی پارٹی... 25 کروڑ انسانوں کو شہباز شریف اور ان کے متحدہ فوجیوں، سپاہیوں اور مجھ جیسے بیکار لوگوں نے سپورٹ کیا 25 کروڑ انسانوں کے خلاف دہشت گردی کی 9 مئی میں آپ نے 10 سال جیل دیے تو میں پوچھتا ہوں سپریم کورٹ ایک پارٹی سے اس کا نشان چھینتی ہے اس کی پارٹی کے لیڈر کو کہیں بھی کاغذات نامزدگی داخل ہونے نہیں دیے گئے تمام لوگوں کی یہ جو کے پی کے کی بات کر رہا ہے 200 نشانوں پر لوگوں نے انتخاب لڑا کہیں گائے تھی کہیں گھوڑا تھا کہیں گدھا تھا ووٹ انہوں نے دیے جیت لیے آسمان سے میں عمران خان کا، میں اس کا مخالف تھا لیکن جب وہ جیت چکا ہے اور آپ بائے فورس اس کو وہ کریں گے یہ تو پاکستان کی بنیادیں ہلا دے گا قائد حزب اختلاف محمود خان اچکزئی

Tehreek-e-Tahafuz-e-Ayin-e-Pakistan

16,902 görüntüleme • 2 ay önce

یہ ارب پتی سردار تھا۔ اربوں روپیہ رائلٹی سوئی گیس کے نام پر یہ حکومت پاکستان سے لیتا تھا۔۔ اس کو پرائیویٹ جہاز دیے جاتے تھے۔۔ مگر اس کے اپنے علاقے میں سوئی گیس نہیں تھی کیونکہ نواب کو یہ پسند نہیں تھا کہ اس کے گھر میں گیس ہو اور سارے گاؤں کے گھروں میں بھی گیس ہو۔۔ اور یہ بات اس کو پروپگینڈا کرنے میں بھی مدد دیتی تھی کہ پاکستان ہمیں لوٹ رہا ہے دیکھیں پورے پاکستان کو سوئی گیس جاتی ہے اور سوئی میں گیس نہیں ہے ‌‌ ۔۔ یہ کمینہ یہ نہیں بتاتا تھا کہ اس نے خود منع کیا ہوا ہے کہ میرے گاؤں کو گیس نہیں دی جائے گی۔ اس نے اپنی ہی قوم کے لاکھوں لوگوں کو مار کر نکال دیا تھا اور ان کی زمینوں پر قبضہ کیا ہوا تھا۔‌ سرفراز بگٹی جو اج وزیراعلی ہے اس کا پورا خاندان بلوچستان سے نکال کر پنجاب میں خوار ہوتا تھا۔ مشرف نے صرف یہ کیا تھا کہ ان دربدر بلوچوں کو واپس لے جا کر ڈیرہ بگٹی میں اباد کر دیا۔‌ اس بات پر ناراض ہو کر اکبر بگٹی نے بغاوت کر دی۔ اور خودکشی کر لی اور ہمارے کئی جوان شہید کر دیے۔‌ اب لوگ اس کو ہیرو بنا کر پیش کرتے ہیں۔ اپ خود بکٹی قبیلے سے پوچھیں کہ یہ کتنا کمینہ اور ح**** تھا۔۔ بلوچستان کو ان سرداروں نے لوٹا ہے اور پتھر کے دور میں رکھتے تھے۔۔ جیسے پیپلز پارٹی اندرون سندھ کو پتھر کے دور میں رکھتی ہے ۔ ان نوابوں اور وڈیروں کا ایک ہی طریقہ واردات ہے۔

اللہ کے بندے۔۔۔

68,212 görüntüleme • 1 ay önce

بھٹو کے شروع کیے نیوکلئیر پروگرام کو نواز شریف نے ایٹمی دھماکے کر کے پاکستان کو باضابطہ ایٹمی طاقت بنایا۔ عمران نیازی اس نیوکلئیر پروگرام کو ختم کرنا چاہتا تھا۔ نتن یاہو اور عمران نیازی کی یہ ویڈیوز سنیں۔ عمران نیازی کو 1989-90 میں گولڈ سمتھ فیملی کے زریعے انڈرکور اسی مقصد کے لیے کیا گیا تھا۔ کیونکہ اسرائیل اور مغربی ممالک کو شک تھا کہ پاکستان ایٹمی صلاحیت حاصل کر چکا ہے اور اس کو ختم کرنے کے لیے ہمیں اپنا ایسا مہرہ پاکستان کا حکمران چاہیے جو اس پروگرام کو رول بیک کرے۔ عمران نیازی میں وہ تمام صلاحتیں تھیں۔سلیبرٹی بھی تھا،اور بطور کرکٹر عوام میں مقبول بھی اور حد سے زیادہ آزاد خیال اور بدکار۔ 1980 کی دہائی کے آخر میں جمائما گولڈ سمتھ کی بہن جو کہ عمران نیازی کی گرل فرینڈ تھی اس کے زریعے عمران نیازی کو انگیج کیا گیا،لندن کے مشہور زمانہ ازابیل کلب میں موساد کے سٹیشن چیف کے ساتھ عمران نیازی کی ملاقاتیں ہونا شروع ہوئیں۔ لارڈ جیمز گولڈ سمتھ جو کہ عمران نیازی کا سسر تھا وہ برطانیہ میں"فرینڈز آف اسرائیل"نامی تنظیم کو سب سے زیادہ سالانہ ڈونیشن دینے والا برطانوی یہودی تھا۔ اس کے خاندان کو اسرائیل کی طرف سے یہ اہم زمہ داری دی گئی اور ان کی چھوٹی بیٹی جمائما کو عمران سے شادی کروا کر اس کی ہینڈلر بنا کر پاکستان بھیجا گیا۔ شوکت خانم کینسر ہسپتال کا آئیڈیا بھی موساد نے دیا تاکہ عمران کو بطور"سماجی کارکن"متعارف کروایا جائے۔ ہسپتال بننے کے بعد عمران نیازی اپنی عیاشیوں کی وجہ سے سیاست میں کامیاب نہیں ہوا تو جمائما طلاق لیکر برطانیہ چلی گئی۔ مگر عمران کو ہاتھ میں رکھا۔کہ شاید کبھی کامیاب ہو جائے۔ اور پھر 2011 میں جنرل پاشا جیسے ناعاقبت اندیشوں کی وجہ سے عمران نیازی پر فوج کی نظر پڑ گئی اور آگے کے حالات آپ کو پتا ہی ہیں۔ اگر عمران کو نا ہٹایا جاتا تو جنرل فیض کو آرمی چیف بنا کر اس نے آخرکار یہ پروگرام رول بیک کرنا تھا۔ (اسد آر چوہدری)

Asad R Chaudhry

14,229 görüntüleme • 1 yıl önce

اب یہ مسنگ پرسن ہو گیا ہے ہجرت بھائی کے لیے اواز اٹھائیں 🚨🥲🙏 زمان پارک یہ وہ وقت تھا جب سب عمران خان کو چھوڑ کر چلے گئے تھے یہ بہانہ بنا کر کہ ہمیں عمران خان نے جانے کا کہا ہے ۔ یہی دن تھا جب سب نے عمران خان کو اکیلا کر دیا تھاسوائے اس ایک شخص کے جو قرآن پاک اپنے ہاتھ میں اور اپنے ایک دوست کے ساتھ وہاں موجود تھا اس نے وہاں سب کو چیخ چیخ کر جانے سے روکا کہ اگر خان صاحب کو وہ لے گئے تو ہم انھیں واپس نہیں لے پائیں گے لیکن کسی نے اس کی بات نہیں سنی 😢 آج بھی یہ شخص اپنے لیڈر کی رہائی کے لئے بے حس پاکستانی قوم کو جگانے کی کوشش کر رہا ہے۔ اس نے فیصلہ سازوں کا ہر دروازہ کھٹکٹا کر دیکھ لیا کہ عمران خان کی رہائی مزاحمت کے بغیر ممکن نہیں ،اس نے ڈیڑھ سال صوابی میں دھرنا دیا اس کے بعد بہت سارے احتجاج کئے اب چار ماہ سے خوشحال گڑھ پر دھرنا دیا ہوا ہے۔ یہ شخص ہے حقیقی آزادی ٹائگرز کے سربراہ ہجرت کامران جن لوگوں نے عمران خان کو تب اکیلا چھوڑا وہی تین سال سے ساری مراعات مفادات لے رہے ہیں لیکن عمران خان کی رہائی پر کوشش تو درکنار رہائی کا نام بھی نہیں لے رہے ۔

Sara Mir

25,184 görüntüleme • 1 ay önce

عمران خان صاحب کو جب حکومت ملی، لوگ کہتے تھے کہ ملک کا بیڑا غرق کر دیا ہے، یہ نیا نیا بندہ ہے اور اس سے ملک سنبھالا نہیں جائے گا۔ لیکن وہ یہ بات بھول چکے تھے کہ جو ایماندار حکمران ہوتا ہے، اللہ تعالی اس کی دعا قبول کرتا ہے۔ پہلا وقت کچھ مشکل گزرا، پھر آہستہ آہستہ ملک تیزی سے ترقی کرنے لگا۔ میں نے اس کے دور میں جنرل اسٹور بنایا تھا، ڈبل اسٹوری جنرل اسٹور تھا اور میں پیٹی پیٹی چیزیں لانے لگا، یعنی کاروبار میں برکت پڑنے لگی۔ میں نے بھتیجے کو رکھا تھا، اس کو تنخواہ بھی دیتا تھا اور گھر کا سرکٹ بھی چلاتا تھا۔ ساتھ ایک پارٹ ٹائم جاب بھی کرتا تھا اور بڑا خوبصورت روزگار چل رہا تھا۔ اس کے دور میں پھر خواب دیکھنے شروع کیے کہ میں مکان بنانا چاہتا ہوں۔ اس کے دور میں 480 روپے کی سیمنٹ کی بوری لی تھی اور 130 روپے کلو سریا لیا تھا اور مکان بنایا تھا۔ مکمل مکان تیار کر کے اس میں اے سی لگوایا تھا۔ بچے میرے دن رات اے سی چلاتے تھے۔ اس کے دور میں، میں عمرے پر گیا تھا—غریب آدمی کا عمرہ کرنا اور مکان بنانا بڑا مشکل کام ہوتا تھا۔ میرے مسلمان بھائیو! اس کے دور میں خوشحالی دیکھی ہے، خواب پورے ہوتے دیکھے ہیں، مسلمانوں کو مضبوط ہوتے دیکھا ہے، اور غربت کا خاتمہ ہوتے دیکھا ہے۔ ایک ماڑے بندے کو صحت کارڈ مل جائے تو امیر اور غریب برابر ہو جاتے ہیں۔ غریبوں کے لیے لنگر خانے اور پناہ گاہیں کھولیں۔ لیکن یہ بات ان کو منظور نہیں تھی۔ وہ چاہتے تھے کہ ہمیں وہ حکمران چاہیے جو ہماری غلامی کرے۔ اس بندے نے شروع سے غلامی نہیں کی کیونکہ کلمہ ہمیں اس بات کی اجازت ہی نہیں دیتا کہ ہم غلامی کریں۔ تو انہوں نے حکم دیا کہ اس کی حکومت گرا دو۔ اس کے بعد ہم نے کیا نقصان دیکھا؟ وہ کہتا تھا کہ میں تو برداشت کر لوں گا لیکن تمہارے سے برداشت نہیں ہوگا اور وہ جیل کی سختیاں برداشت کر رہا ہے۔ دن بہ دن اس کا ایمان اور مضبوط ہو رہا ہے کیونکہ اس کا اللہ پر توکل ہے۔ لیکن ہمارے پاس برداشت ختم ہو گئی ہے۔ میری نوکری بھی چلی گئی، جنرل اسٹور بھی بند ہو گیا، ڈیرے والی زمین بھی چلی گئی اور ایک کیری ڈبہ لے کر اس پر مزدوری کر رہا ہوں۔ ڈرائیونگ لائسنس رینیو کرواتے وقت پہلے دو تین ہزار لگتا تھا، اب میں نے 10,000 روپیہ دیا ہے۔ گاڑی پاس کروانے کے لیے پہلے دو تین ہزار لگتا تھا، اب 20,000 روپیہ لگا ہے۔ پہلے ٹول پلازہ چھوٹی گاڑی کا 30 روپے تھا، اب 70 روپے ہے۔ میرے مسلمان بھائیو! ہمیں سب معلوم ہے، جو لوگ حکومت میں بیٹھے ہیں اور ان کو سپورٹ کرتے ہیں، انہیں بھی پتہ ہے کہ عمران خان حق پر ہے۔ لیکن وہ اس کو آنے نہیں دیتے کیونکہ وہ کہتا ہے کہ طاقتور کو قانون کے نیچے لاؤں گا، احتساب کروں گا، امیر اور غریب کے لیے قانون برابر کروں گا، اور عدالتیں انصاف دیں۔ یہ چیزیں تبھی ممکن ہیں جب عوامی طاقت آئے گی۔ عوامی طاقت اس کے پاس ہے، لیکن ہم بزدل ہیں، ہم ڈرپوک ہیں۔ اس کا اللہ پر توکل پورا ہے لیکن ہمارا توکل نہیں ہے۔ ہمیں مولویوں نے غلط راستے پر لگا دیا ہے—لنگر بانٹنے ہیں، سبیلیں لگانی ہیں، محفلیں کرانی ہیں، لیکن مقصدِ حسین ہم بھول چکے ہیں۔ پیغامِ حسین یہ ہے کہ ظالم کے خلاف جدوجہد کی جائے۔ ہمارے امام حسین نے اپنا سب کچھ قربان کر دیا لیکن ظالم کی بیعت نہیں کی۔ میرے مسلمان بھائیو! پیغامِ حسین یہی ہے۔ اور عمران خان کو اس پر عمل کرتے ہوئے دیکھا ہے، ہمیں بھی اس پر عمل کرنا پڑے گا اور حق بات بولنی پڑے گی۔ پاکستان زندہ باد! حرف باحرف سچ

ℕ𝕚𝕟𝕚 𝕄𝕒𝕝𝕚𝕜 (ℙ𝕋𝕀)

11,804 görüntüleme • 4 gün önce

آپ کے میسج کا شکریہ۔ ویسے تو میں اس طرح کے ٹویٹس کا جواب دینا ضروری نہیں سمجھتا، لیکن چونکہ معاملہ ایک بچی کا ہے اس لیے چند باتیں واضح کرنا چاہتا ہوں۔ سب سے پہلے، اس بچی کی مکمل حوصلہ افزائی کی گئی تھی اور آج بھی ہم اپنی اس بات پر قائم ہیں کہ اُس نے بہت خوبصورت سنایا۔ لیکن یہ ایک ایڈلٹس (Adults) سنگنگ کمپٹیشن تھا، جبکہ ہر جگہ بچوں اور بڑوں کے مقابلے الگ الگ ہوتے ہیں۔ مزید یہ کہ جن 32 کنٹسٹنٹس کے نام فائنل ہوئے تھے 44 افراد میں سے ، اُن میں اس بچی کا نام شامل نہیں تھا، بعد میں اُسے فرمائشی موقع دیا گیا۔ اب اگر پہلے سے منتخب کنٹسٹنٹس کو سائیڈ پر رکھ کر کسی اور کو آگے لایا جاتا تو یہ باقی لوگوں کے ساتھ ناانصافی ہوتی۔ جہاں تک ان دو افراد کا بار بار ذکر کیا جا رہا ہے کہ انہیں کیوں ہٹایا گیا، تو حقیقت یہ ہے کہ کسی کو “ہٹایا” نہیں گیا تھا۔ بیک اینڈ پر کافی مسائل چل رہے تھے، جن میں ایک ہوسٹ کا کنیکشن مسلسل اَن اسٹیبل تھا۔ اسپیس بیچ میں ایک مرتبہ گری بھی اور دوبارہ کنیکٹ ہوئی، جس کی وجہ سے کافی لوگوں کو مسائل پیش آئے۔ اسی لیے صرف یہ گزارش کی گئی کہ ہوسٹنگ وہ شخص سنبھال لے جس کا نیٹ ورک زیادہ مستحکم ہو تاکہ کمپٹیشن متاثر نہ ہو۔ لیکن اس فیصلے پر بھی غیر ضروری اعتراضات کیے گئے۔ اس کے بعد جو زبان اور الفاظ استعمال کیے گئے، اگر وہ یہاں شیئر کیے جائیں تو وہ خود ایک نامناسب چیز ہوگی۔ آپ ان افراد سے حلفاً خود بھی پوچھ سکتے ہیں۔ انہی میں سے ایک شخص نے یہ تجویز دی کہ بچی کو کم نمبر دے کر اگلے راؤنڈ سے باہر کر دیا جائے، جو کہ بچی کے ساتھ سراسر زیادتی ہوتی۔ اسی لیے یہ فیصلہ کیا گیا کہ بچی کی دل آزاری نہیں کی جائے گی، نہ اسے جان بوجھ کر کم نمبر دیے جائیں گے۔ اُسے مکمل عزت کے ساتھ ایونٹ کے آخر تک سننے کا موقع دیا گیا اور آئندہ اگر Kids Competition ہوا تو اُسے ضرور شامل کیا جائے گا۔ مزید یہ کہ ابتدا سے فیصلہ یہ تھا کہ اسپیکرز پر صرف ججز اور سنگرز موجود ہوں گے اور فیصلہ بھی صرف ججز ہی کریں گے۔ لیکن اس کے باوجود دیگر افراد کی رائے اور فیصلے لینے کی کوشش کی گئی، جو کہ باقی سنگرز اور کنٹسٹنٹس کے ساتھ سراسر ناانصافی تھی، کیونکہ جب ججز موجود تھے تو پھر باہر کے لوگوں کی رائے کو فیصلے پر اثر انداز کرنا درست نہیں تھا۔ جہاں تک انعام کی بات ہے، تو پہلے راؤنڈ کے اختتام پر ہم نے خصوصی طور پر اسی بچی کے لیے انعام کا اعلان بھی کیا، اور ان شاء اللہ وہ اس تک پہنچایا بھی جائے گا۔ اصول صرف یہ ہے کہ ہر بات کے دو رخ ہوتے ہیں، لیکن اکثر لوگوں تک صرف وہی بات پہنچتی ہے جو کسی کے اپنے مفاد میں ہو۔ بہرحال، ہم سب کا احترام کرتے ہیں اور آپ سب کو آئندہ اسپیسز میں بھی خوش آمدید کہتے ہیں۔ بہت شکریہ ❤️۔ اور اس بچے کی آواز بھی بہت اچھی ہے اگلے راونڈ میں اسے بھی شامل کیا جائے گا !

M.Tayyab Tarar🎖

12,700 görüntüleme • 3 ay önce

ڈوب کے مر جانا چاہیے کہ انڈونیشیا کا صدر کہتا ہے کہ ہم اپنی بورڈ آف پیس کی ممبرشپ کو سسپینڈ کر رہے ہیں، لیکن پاکستان ابھی تک اس بورڈ آف پیس میں بیٹھا ہوا ہے، کیوں بیٹھے ہوئے ہو؟ ​کیونکہ وہی بورڈ آف پیس تو ہم لا رہے ہیں ایران کے اوپر، وہی بورڈ آف پیس تو ایرانیوں کا، ہمارے مسلمان بھائیوں کا خون بہا رہے ہیں، لیکن ہم ادھر بے شرمی کے ساتھ بیٹھے ہوئے ہیں، شہباز شریف صاحب پتا نہیں کس کے آلہ کار بنے ہوئے ہیں۔ ​اس طرح مزید نہیں چلے گا، اپنی فارن پالیسی، اور میں آپ کو یہ بھی بتاؤں کہ جب ایران کے اندر یہ سب کچھ ہو رہا تھا اور پارلیمنٹ میں اس پہ ڈیبیٹ ہو رہی تھی تو پچاس بندے پارلیمنٹ کے اندر نہیں بیٹھے ہوئے تھے، پچاس بندے، اقبال آفریدی نے کل کورم پوائنٹ آؤٹ کیا، بندہ ہی نہیں تھا کوئی، لیکن مزے کی بات یہ ہے زبیر بھائی کہ اس سے ایک دن پہلے یہی ہاؤس ایک میسٹیریس (mysterious) طریقے سے ممبران آ جاتے ہیں۔ ​ہاؤس کے ایجنڈے کے اوپر کوئی چیز نہیں ہے، پھر ایک ممبر حکومت کا کھڑا ہو جاتا ہے، وہ کہتا ہے یہ ہم نیب ترمیمی بل لے کے آ رہے ہیں، اور پھر سارے اس کو دو منٹ میں اس طرح وہ پاس ہو جاتا ہے، اور وہ نیب کے چیئرمین کا آخری دن تھا ایز اے ٹینیور (tenure) اس کو مزید ایکسٹینشن (extension)، پورے ملک کو انہوں نے ایکسٹینشنز پہ ڈالا ہوا ہے، پورے ملک کو، اس ملک میں کون ہے جس کو ایکسٹینشن نہیں ملی ہوئی؟ ​ہر ایک ملک میں، میں کہتا ہوں یہ حکومت، یہ ریاست، عمران خان کی میڈیکل رپورٹ سے لے کر افغانستان سے لے کر ایران کے ساتھ، ہر ایک چیز کو خفیہ رکھا گیا ہے۔ ترجمان تحریک تحفظ آئین پاکستان اخونزادہ حسین احمد یوسفزئی

Tehreek-e-Tahafuz-e-Ayin-e-Pakistan

15,765 görüntüleme • 5 ay önce

ارب پتی جاگیردار مزاریوں کا یہ غریب چیلا اور اسد نام کا یہ چوٹھے درجے کا صحافی پھر اپنی اوقات بھول گیا ہے۔ یہ اب ایک ایسے آدمی کے بارے میں جھوٹی بک بک کر رہا ہے جسے پورا پاکستان اسکی شکل، آواز، نام اور اس کے گانوں کی وجہ سے جانتا ہے۔ Asad Ali Toor آج اسے سٹپٹایا ہئوا دیکھ کر مجھے یہ اچھی طرح سمجھ آ گئی ہےکہ اسے ریاست نے کیوں سبق سکھایا تھا اور کیوں لوگ اس غلیظ فطرت آدمی سے اتنی نفرت کرتے ہیں۔ اس لیے کہ ایسے جھوٹے اور منافق لوگ اپنی کرتوتوں کی وجہ سے ہی نقصان اٹھاتے ہیں۔ اپنے طبقے کا غدار یہ وہ بے غیرت ہے جو مڈل کلاس کا ایک صحافی ہو کر بھی مزاریوں جیسے جاگیرداروں کی چمچہ گیری کرتا ہے اور ان کی شہہ پرخود کو ایک گھٹیا سا باغی سمجھتا ہے۔ میں تو اس فراڈیے کو صرف ترس کے قابل سمجھتا ہوں جو میرے جیسے پاکستان کی تاریخ کے سب سے مقبول سنگرز میں سے ایک کے بارے میں مکمل غلط بکواس کر رہا ہے۔ اسے چاہیے کہ یہ سوشل میڈیا پر لائیو مائیک لے کر سب سے پہلے اپنے دادکے اور نانکے خاندان میں ہی چلا جائے اور ہر ایک سے یہ پوچھے کہ وہ جواد احمد کو جانتے ہیں یا نہیں۔ مگر یہ ایسا کبھی نہیں کرے گا کیونکہ جھوٹ کے پائوں نہیں ہوتے پر میں اس کے بارے میں یہ ضرور بتا سکتا ہوں کہ جس جگہ یہ رہتا ہے وہاں دو گلیاں چھوڑکر اس کے محلے والے بھی اسے نہیں جانتے۔ کم ظرفی اورجھوٹ بولنے کی بھی کوئی حد ہوتی ہے۔ میں نے اپنا کیریر 26 سال پہلے شروع کیا تھا مگر میں نے 2003 کے بعد سوشل ورک اور فلاحی کاموں اور پھر سیاست کی وجہ سے پاکستان میں کوئی البم نہیں نکالا پھر بھی میرے بہت سے طاقتور گانے اس وقت سے لے کر اب تک پوری دو نسلوں کو یاد ہیں۔ پھر بھی 2026 میں آج بھی جب پاکستان میں 18 سال بعد بسنت ہوئی تو میرا گانا "اچیاں مجاجاں والی" ہی انسٹاگرام، فیس بک اور ٹک ٹاک وغیرہ کی ٹرینڈنگ میں نمبر 1 پر تھا اور ہر چھت پر وہی بج رہا تھا۔ یہ تو میڈیا کا آدمی ہے مگر کیا اس جاہل کو اتنا بھی پتا نہیں؟ کیا اسے پتا نہیں کہ میں ایک نہیں بلکہ تین صدارتی ایوارڈز پانے والا پاکستان کا واحد آرٹسٹ ہوں؟ یہ یو ٹیوب پر پیسے بنانے کے لیے کس حد تک گر سکتا ہے وہ اس وڈیو میں صاف دکھائی دے رہا ہے کہ یہ میرے جیسے ایک سوشلسٹ انقلابی آدمی کی سیاست کو نقصان پہنچانے کی ناکام کوشش کر رہا ہے جو اس ملک کے مڈل کلاس اور غریب لوگوں کو اس ملک کا حاکم بنانا چاہتا ہے اور اس کئے لیے ہر قسم کی ذاتی قربانی کر رہا ہے۔ میں اپنی ذات پر کچھ بھی برداشت کر لیتا ہوں مگر صرف پاکستان نہیں بلکہ دنیا کے تمام مڈل کلاس اور غریب عام لوگوں کے لیے اپنی صاف شفاف سوشلسٹ سیاست پر جھوٹ بول کر اسے نقصان پہنچانے کو برداشت نہیں کر سکتا۔ جو بھی اس پر بات کرے گا وہ میرے سے اپنی اصل اوقات کے بارے میں سنے گا تاکہ آئندہ اسے ایسا جھوٹا گھٹیا پن کرنے کی ہمت نہ ہو۔ مگر مجھے پتا ہے کہ یہ بیچارہ مجبور ہے۔ اگر عمران کی طرفداری کرنے پر PTI والے اسے ویوز نہ دیں تو یوٹیوب پر اس کی روزی روٹی بند ہو جائے۔

Jawad Ahmad

28,731 görüntüleme • 5 ay önce

میں کیا کہوں؟ پھر وہی عمران خان، کہتے کہتے ہم تھک گئے۔ آج تک اس کی ملاقات پر پابندی ہے! خطرناک؟ جب وہ خطرناک تھا تو پھر آپ نے اسے اپنا وزیرِاعظم کیوں بنایا؟ اور اب یہ غلطی کر رہے ہیں۔ جتنے دن آپ اسے رکھیں گے، اس کی پاپولرٹی آسمان تک پہنچ گئی ہے۔ ​جب عمران نے استعفیٰ دیا تھا یا عدم اعتماد (No-confidence) کی تحریک آئی تھی، تب پارٹی چھوڑنے پر تیار لیڈرز کا گراف نیچے آ گیا تھا۔ پھر خدا بھلا کرے ہمارے دوستوں کا، شہباز شریف اور ان کے دوسرے ساتھی کا؛ ان کو حکمرانی کا بڑا شوق تھا، انہوں نے حکمرانی لمبی کر دی اور عمران خان کی پاپولرٹی واپس بحال ہو گئی۔ ​اب جتنا اسے تنگ کیا جائے گا... آج انتخابات کروا لیں، کسی کو اچھا لگے یا برا، عمران خان پورے پاکستان کو سویپ (Sweep) کر جائے گا۔ پورا پاکستان! وہ بیمار ہے، قیدی ہے، اس کا مطالبہ بھی اتنا بڑا نہیں ہے۔ آپ اسے رات کو پمز ہسپتال لے آتے ہیں؛ وہ خود یا اس کی بہنیں کہتی ہیں کہ فلاں ہسپتال لے جاؤ، تو کسی کو بتائے بغیر لے جائیں، یہ پریشر کم ہو جائے گا۔ بہنیں ملنا چاہتی ہیں، کوئی دوست یا بچے ملنا چاہتے ہیں، بس یہ سختیاں لگی ہوئی ہیں۔ ​انہوں نے کوشش کی کہ وہ شریف آدمی ٹوٹ جائے، لیکن اگر ٹوٹ جاتا تو پتا نہیں کیا ہو جاتا! وہ نہیں ٹوٹا۔ جب نہیں ٹوٹا، تو اب مہربانی کریں اور اس سے بات کریں۔ "مائنس عمران خان" کا فارمولا کوئی قبول نہیں کرے گا۔ یا پھر دوسرا راستہ وہی ہے جو آپ لوگوں نے بھٹو کے ساتھ اپنایا تھا۔ بھٹو غریب ۱۲ مہینے جیل میں رہا، ملاقات کے لیے کم لوگ ملتے تھے، آپ نے جا کر اسے پھانسی چڑھا دیا۔ اب وہ، اس کی بیٹی، اس کا ایک بیٹا، وہ ایک مزارِ شہدا بن گیا جو سندھ کے تمام پیروں سے اوپر چلا گیا۔ اگر عمران خان کے ساتھ بھی یہی رویہ رکھنا ہے، تو پھر پاکستان کو خدا ہی خیر کرے۔ پاکستان، اس گھر کو آگ لگ گئی گھر کے چراغ سے۔ ​میں اپنے دوستوں سے اپیل کرتا ہوں، یہاں بھی اور اپنے بلوچ بھائیوں سے بھی، کہ مہربانی کریں، آئیں بھائی بندی کی طرح اس صوبے کو چلائیں، گزارا کریں۔ سرفراز، میں کیا کروں؟ مجھے دکھ ہوتا ہے اس کا نام لیتے ہوئے بھی۔ سب کچھ بک رہا ہے؛ نوکریاں بک رہی ہیں، پوسٹیں بک رہی ہیں، پتا نہیں اور کیا کیا بک رہا ہے۔ کہتے ہیں "مجھے وہاں لگا دو، اس کے کروڑ لے لو"، اور پھر ہم ایسے... قائد حزب اختلاف محمود خان اچکزئی

Tehreek-e-Tahafuz-e-Ayin-e-Pakistan

50,743 görüntüleme • 2 ay önce