Video yükleniyor...

Video Yüklenemedi

Ana Sayfaya Dön

فیلڈ مارشل جس ایمرجنسی کو اپنا سب سے بڑا ہتھیار سمجھ رہا ہے وہ ایک وبال اور ایک جال ہے جس میں فیلڈ مارشل پھنس جائے گا، ایمرجنسی اگر لگی تو پی ٹی آئی والے 3,4 مہینے تنگ ہوں گے اس کے بعد بیٹھ کے تماشا دیکھیں گے کیونکہ...

61,478 görüntüleme • 13 saat önce •via X (Twitter)

10 Yorum

Fahad 🇵🇰 profil fotoğrafı
Fahad 🇵🇰13 saat önce

حکومت نہ رہے تو بیٹھ کر ملک برباد ہونے کا تماشا دیکھو گے؟ اتنی غلیظ اور غدارانہ سوچ صرف تمہارے ٹولے کی ہو سکتی ہے ( ویسے اگر تمہاری حکومت نہ ہو تو پاکستان خوشحالی اور امن ہو جائے گا) فوج کے خلاف بی ایل اے کی گھٹیا زبان بولتے ہو اور قبائل کی آڑ لے کر ٹی ٹی پی سے ریاست کو بلیک میل کرتے ہو تم کوئی سیاسی جماعت نہیں ہو، تم پاکستان کے خلاف لڑنے والے دہشت گردوں کا سیاسی ونگ ہو

Basit khan profil fotoğrafı
Basit khan13 saat önce

عمران خان صاحب کے دور میں بہت امن تھا سکون تھا دہشت گردی نہیں تھی قبائلی علاقوں میں بہت زیادہ امن تھا تب یہ بندہ ہر وقت جلسے جلوس احتجاج کرتا تھا اب یہ بندہ کافی عرصے سے نظر نہیں آرہا ہے

Urdu Alfaz 🇵🇰 profil fotoğrafı
Urdu Alfaz 🇵🇰13 saat önce

تو پھر وقت سے پہلے کیوں یہ باتیں آشکار کر رہے ہو ؟؟؟؟؟؟ بے وقوف کو بے وقوفی کرنے دو 🤔🍳

SoHaiL PK♥️ profil fotoğrafı
SoHaiL PK♥️10 saat önce

چاروں ک*** اکٹھے بیٹھے ہوئے ہیں ان کو کوئی پانچواں انسان منہ نہیں لگاتا یہ اپس میں بیٹھ کر چوتیوں کو یوتھیے اور یوتھیے کو چوتیے بناتے رہتے ہیں

Azmat Suleman profil fotoğrafı
Azmat Suleman11 saat önce

Banchudo ka tulah aik say barh kr aik kuti maa k bachay

Mhazzah profil fotoğrafı
Mhazzah12 saat önce

آپ لوگوں کو شرم آنی چاہیے، اتنے ہی اگر آپ لوگ ہر چیز سے واقف ہیں اور لوگوں کے فضولیات کی طرف دھکیل رہے ہیں، اتنے ہی فلاسفر ہیں تو بھائی آپ لوگ پاکستان آکر لیڈ کرو۔۔خدارا لوگوں کو منفی سوچ میں مت دھکیلو، بہتر ہوتا کہ مثبت کردار ادا کرتے۔

Tahira Salman profil fotoğrafı
Tahira Salman11 saat önce

Brilliantly explained!!👏

Mahrook Baloch profil fotoğrafı
Mahrook Baloch13 saat önce

ٹی ٹی پی پلس پی ٹی آئی دونوں پہ لع نت کل جہانوں کی لع نت۔۔۔۔۔

جہانزیب کھوکھر profil fotoğrafı
جہانزیب کھوکھر13 saat önce

دنیا میں کسی بھی ملک میں اگر انصاف کا ترازو بگڑ جائے تو سمجھو تلوار ظالم کے حکم کے تابع ہو جاتی ہے اور یہ سب اِس وقت پاکستان میں ہو رہا ہے

Ch Asim Guliana profil fotoğrafı
Ch Asim Guliana13 saat önce

یہ اتنے بے شرم ہیں پاکستان سے بھاگ آۓ اور لوگوں کو کہہ رہے کہ اپنے بچوں کو باھر نکالو انقلاب کے لیے

Benzer Videolar

بریکنگ نیوز 🚨شہباز گل کا تہلکہ خیز انکشاف۔ ملٹری اسٹیبلشمنٹ اور فضل الرحمان کی پس پردہ، خفیہ گیم کو کھل کر ایکسپوز کردیا۔ کیسے دونوں ملکر پی ٹی آئی کے ساتھ کھیل رہے ہیں، ساری تفصیلات بتا دی 🔥🔥 اب جو باتیں پی ٹی آئی کو کرنی چاہیے تھیں، وہ فضل الرحمٰن کر رہے ہیں۔ تو ہوگا کیا ایوینچولی (eventually)؟ اللّٰه نہ کرے ایسا ہو، لیکن ہوگا کیا؟ وہ کرنا کیا چاہتے ہیں؟ کہ خیبر پختونخوا میں جو عوام عمران خان کی پاپولیرٹی ہے، اس میں سے ایک بڑا حصہ کاٹ کے فضل الرحمٰن کو دے دیا جائے۔ فضل الرحمٰن ظاہر ہے ایسی باتیں کرکے پاپولر ہوں گے۔ کیا فضل الرحمٰن ان پر عمل بھی کریں گے؟ انہوں نے ساری عمر نہیں کیا تو اب وہ کیا کریں گے؟ انسانوں کا ماضی دیکھنا پڑتا ہے نا۔ ایک بندہ جس نے ساری عمر جنرلز کے ساتھ مل کے سیاست کی ہے، وہ اب بیچارہ کیا الگ سیاست کرے گا؟ تو بنیادی طور اسٹبلیشمنٹ کی طرف سے فضل الرحمٰن صاحب کو ایک لیڈر بنا کے پیش کیا جا رہا ہے۔ اس میں ہماری نالائقی ہے، جنرلز کی سپورٹ ہے اور وہ تتّے بیان دے رہے ہیں، اس سے آگے وہ کچھ نہیں کریں گے۔ حالانکہ اصل بات تو سٹریٹ موومنٹ ہے، جس میں وہ اپنے جو ورکرز ہیں، مدرسے کے بچے ہیں، دوسرے جن کو ہمیشہ لے کر وہ آتے ہیں، انہوں نے ان کو کال دینی تھی، یہ جو کچھ بھی ہو رہا ہے۔ وہ وہ کبھی نہیں دیں گے، صرف تتّے بیان دیں گے۔ کیونکہ یہ ایک پراپر، بہت ہی ویل آرکسٹریٹڈ اپروچ ہے جو جنرلز استعمال کر رہے ہیں۔

‏زہـــرہ لیــاقت

15,195 görüntüleme • 1 ay önce

کیا دہشتگردی ختم ہوگئی؟آپ اور ہم جس صوبے سے تعلق رکھتے ہیں، پورے طول و عرض پر آپ نظر ڈال لیں، کہیں پر امن ہے؟ اور صرف بدامنی کی بات نہیں کر رہا، بدامنی اس حد تک بڑھ گئی ہے کہ حکومتی رِٹ ختم ہو رہی ہے، پولیس کا چین آف کمانڈ ٹوٹ گیا ہے۔ لکی مروت میں، بنوں میں، ٹانک میں پولیس جو ہے، وہ آزاد ہو گئی ہے اور اس نے اپنی امن کمیٹیاں بنا لی ہیں، اور وہ وردی بھی نہیں پہن رہے، اور کانسٹیبل جو ہے، وہ خود اپنا نظام اپنے ہاتھ میں لیے ہوئے ہیں۔ نہ کوئی ڈی پی او کا آرڈر چلتا ہے، نہ کوئی ڈی آئی جی کا آرڈر چلتا ہے، نہ کوئی آئی جی کا آرڈر چلتا ہے۔ پرسوں ترسوں ہمارے بنوں کے ڈی آئی جی کی جو سیکیورٹی ہے، وہ ایک کانسٹیبل نے کِلوز کی ہے۔ ایک کانسٹیبل نے آرڈر دیا کہ سب یہ ڈیوٹی چھوڑ دو، آ جاؤ واپس۔ یہ حالت ہے! اب اس حالت میں ہم زندگی گزار رہے ہیں۔ کب تک ہم یہ زندگی اس طرح گزارتے رہیں گے؟ اور کہہ رہے ہیں کہ ہم ٹھیک کریں گے، ہم لڑیں گے۔ وہ ایک چڑیا ہے، وہ کہتا ہے: بلوچستان کےلئے تو ایک تھانیدار کی مار ہے۔ بس ،، تمہارے تھانیداروں کا کیا حشر کر دیا۔ تمہارے تھانوں کا کیا حشر کر دیا؟ کچھ تو حقائق کی طرف جاؤ۔ تو جب ہم حقائق کی طرف جائیں گے تو پھر ہم اس کے بعد مشاورت تو ہونا ہے۔ اب شہباز شریف بیچارہ وزیر اعظم ہے، پوری دنیا میں جاتا ہے، اور اگر وہ قابلِ قبول ہوگا تو آرمی چیف کو ساتھ لے کر جائے گا، ورنہ پھر اس کو کوئی ہاتھ بھی نہیں ملائے گا۔ بھئی، تم باہر جاؤ، تمہیں کوئی عزت دے، ہم اس کو پاکستان کی عزت کہیں گے، لیکن آپ کے ملک کے اندر کی سرزمین خون سے سرخ ہے اور تم باہر دنیا میں ریڈ کارپٹس کو انجوائے کر رہے ہو، کوئی احساس نہیں آپ کو؟ اسی سے گزارہ کر رہے ہو، کہ فلاں ملک پر آپ اتر رہے ہیں، ریڈ کارپٹس پر جا رہے ہیں، آپ کا استقبال ہو رہا ہے، بادشاہ آپ کا استقبال کر رہے ہیں۔ یہ ساری چیزیں ہیں۔ ہاں، کوئی جائز کام ہے، اگر آپ نے سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدہ کیا، جمعیت اس کو سپورٹ کرتی ہے۔ اگر اس پر ترکی شامل ہو گیا، ہم سپورٹ کرتے ہیں۔ جمعیت علماء اسلام کا منشور ہے: ایک اسلامی بلاک کا قیام۔ اگر اور اسلامی ممالک اس میں شامل ہوتے ہیں، اور یہ درحقیقت اس طرف ایک قدم ہے کہ اسلامی دنیا امریکہ پر اپنا انحصار ختم کرے، اور باہم یہ اپنی قوت کو مجتمع کرے، تو اگر کوئی ایسی بات ہوتی ہے تو ہم نے تو اختلاف نہیں کیا۔ اختلاف برائے اختلاف نہیں ہو رہا، ورنہ ہم یہاں بھی اختلاف کرتے ہیں۔ تو آپ کیوں جا رہے ہیں؟ آپ تو نمائندے نہیں ہیں پاکستان کے، آپ کی حکومت تو جعلی ہے اور واقعی جعلی ہے، اس میں بھی کوئی شک نہیں۔ اور پھر اقلیت حکومت کر رہی ہے۔ پیپلز پارٹی حکومت کا حصہ نہیں ہے، صرف آئینی عہدے لئے ہوئے ہیں ۔ گلگت میں الیکشن ہے، ایک دوسرے کے خلاف بول رہے ہیں، مقابلہ ہے ان کا۔ کشمیر میں الیکشن ہے، ایک دوسرے کے خلاف بول رہے ہیں، بھرپور بول رہے ہیں۔ اور اسمبلی میں آ کر بیٹھتے ہیں تو پہلے اختلاف کرتے ہیں، پھر جب ووٹ کا وقت آتا ہے،،،،،،،،،،،،،،، اس قسم کی ایک سیاست ہے جو ملک کے اندر چل رہی ہے۔ قائد جمعیت مولانا فضل الرحمٰن کا پشاور میں خطاب

Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan

14,573 görüntüleme • 1 ay önce

پچھلے ایک دو ہفتے میں جو کچھ بھی خیبر پختونخوا میں ہوا، ایک وزیر صوبائی جو ہیں عبدالشکور صاحب وہ اغوا ہوئے، آج تک ان کا نہیں پتہ۔ ایک ایم این اے ہیں وہ بھی اغوا ہوئے، ان کا آج تک نہیں پتہ۔ کچھ کو کوشش کی گئی ایم پی ایز کو تشدد ہوا, فائرنگ ہوئی اور بجائے اس کے کہ ان کی طرف سے ایف آئی آر کرتی انہی پہ ایف آئی آر کاٹی گئی تو یہ ساری چیزیں شہباز شریف جیسا بندہ تو نہیں کر سکتا۔ ایک وزیراعظم جو ہے اس کی تو شہباز شریف کی تو اتنی ہمت نہیں ہے کہ وہ صوبائی وزیر کو اغوا کروائے۔ تو جب معاملات وفاق کے اندر سیاستدانوں کے ہاتھ میں نہیں ہے اور اس چیز سے پیپلز پارٹی بھی اچھی طرح آگاہ ہے جو ایک اتحادی جماعت ہے تو پھر آپ کیسے توقع کر سکتے ہیں کہ خیبر پختونخوا کے جو عوام ہیں وہ چپ کر کے گھروں میں بیٹھ جائیں جبکہ وہ جانتے ہیں کہ ان کی تقریر کا فیصلہ اس ملک کا نام نہاد وزیراعظم نہیں کرے گا، اس ملک کی نام نہاد پارلیمنٹ نہیں کرے گی اس ان کی تقدیر کا فیصلہ اس کے ہاتھ میں ہے جس کے ایک ہاتھ میں کے پی کے کے عوام کی تقدیر کا فیصلہ ہے اور دوسرے ہاتھ میں بندوق ہے۔

PTI

57,109 görüntüleme • 6 gün önce

آج ان چار صوبوں کو توڑ کر ٹکڑوں میں تقسیم کیا جا رہا ہے،جب فوج کی حکومت تھی انہی چار صوبوں کو ایک صوبہ مغربی پاکستان بنا کر ون یونٹ لگا دیا تھا،وہ بھی ہماری فوج کی سوچ تھی اور آج صوبوں کو توڑ کر تقسیم کرنا بھی اسی فوج کی سوچ ہے،خواہ مخواہ ایک "کاکے" کو آگے کردیا ہے۔ جب چاہیں پورے مغربی پاکستان کو ایک صوبہ بنا دیں اور جب چاہیں چار صوبوں کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیں، جہاں ہر فیصلے کے پیچھے اسٹیبلشمنٹ کے اپنے عزائم ہوں وہاں کوئی قومی مفاد نہیں ہوتا۔ ہم نے اس ملک میں رہنا ہے تو خیرخواہی کی بنیاد پر اپنے ضمیر کی بات کرتے ہیں،ہم اپنی بھلائی اسی میں دیکھتے ہیں اور آپ کی بھی خیرخواہی اسی میں دیکھتے ہیں،مگر ان کا مزاج بن گیا ہے کہ ان کو خوشامدگروں کی زبان اچھی لگتی ہے۔ لیکن ہم ملک کو اسٹیبلشمنٹ کی ملکیت نہیں مانتے،یہ ملک ہمارا ہے،ہم اس کے شہری ہیں،اور ریاست عوام کے بغیر کچھ نہیں ہے۔ ہم اصولاً کسی یونٹ بنانے کے خلاف نہیں،دوسرے ملکوں میں بھی یونٹس بنتے ہیں لیکن وقت اور ماحول کو بھی دیکھنا چاہئے۔ ہم نے فاٹا کو صوبے میں انضمام کے وقت بھی کہا تھا یہ فاٹا کے عوام کے سیاسی مستقبل کا مسئلہ ہے، لہٰذا فاٹا کے عوام سے پوچھ لیا جائے لیکن آپ نے ان پر انضمام تھوپ دیا، آج اس کا کیا حشر ہے؟ اس وقت باجوہ صاحب تھے، جو مجھے کہتے تھے کہ آپ کیوں اس کی مخالفت کرتے ہیں؟ یہ تو ہمارے لیے ضروری ہے اور جب میں نے ان کو جوابات دئے تو چند روز کے بعد مجھے ایک امریکی افسر گھر آ کر ملا، اور اس نے کہا کہ آپ کیوں فاٹا انضمام کی مخالفت کرتے ہیں؟ یہ تو ضروری اور لازمی ہے۔ آج ہمارا جنرل خود مجھے کہتا ہے کہ فاٹا انضمام کا فیصلہ غلط تھا۔ جب چاہو لوگوں کے سیاسی مستقبل کو داؤ پر لگا دو اور پھر جب چاہو طریقہ بدل دو، آپ کا فیصلہ جو آج ناگزیر ہے،کل آپ کا وہ فیصلہ غلط ثابت ہوتا ہے،کسی ایک فیصلے کی مثال بھی نہیں ملتی جس کے نتائج قوم کی حفاظت میں سامنے آئے ہوں۔ یہ وہ ساری چیزیں ہیں جس پر ڈیبیٹ ہونی چاہئے یک طرفہ فیصلہ مسلط نہ کریں،یہ عوام کا ملک ہے، یہاں عوام نے رہنا ہے،عوام کا مستقبل اس سے وابستہ ہے۔ صوبوں کی تقسیم کے پیچھے کیا مفادات ہیں؟ نمبر ایک، صوبوں کے اندر جو معدنی ذخائر ہیں، آئین کی اٹھارویں ترمیم کے تحت صوبے اس کے مالک ہیں، صوبوں کے بچے اس کے مالک ہیں، اور یہ چیز انہیں مرکز میں ہضم نہیں ہو رہی ہے۔ دوسری چیز کہ این ایف سی ایوارڈ، قومی محصولات کا جو حصہ صوبوں کو ملتا ہے، وہ اب ستاون فیصد تک پہنچ گیا ہے، اور آئین کہتا ہے کہ اضافہ ہو سکتا ہے، کم ہی نہیں ہو سکتا،یہ بھی ان کو ہضم نہیں ہو رہا۔ اب صوبے تقسیم کرو تاکہ یہ لوگ ازسرِنو معدنیات اور این ایف سی ایوارڈ کے فیصلے پھر سے کریں۔ ہم صوبوں کو طاقتور دیکھنا چاہتے ہیں اور یہ لوگ سب کو کمزور کرنا چاہتے ہیں اس حوالے سے سیاسی جماعتوں کو بھی اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ پیپلز پارٹی بات تو کرتی ہے، لیکن وہ صرف سندھ کی حد تک کرتی ہے۔اصولی طور پر بات کریں۔ مسلم لیگ خاموشی اختیار کیے ہوئے ہے، مرکز میں حکومت مسلم لیگ نون کی ہے، اور اتنے بڑے قومی سطح کے معاملات کاکے کے حوالے ہیں جس کی حیثیت ایک ذاتی ملازم سے ذیادہ اہم نہیں ہے،وہ کابینہ کا ممبر ہے۔ اسلام آباد ٹیریٹری کے لیے دو کمیٹیاں بنی ہوئی ہیں۔ ایک کمیٹی میں بھی کاکا جی، دوسرے میں بھی کاکا جی، ایک کی رپورٹ کچھ، دوسری کی رپورٹ کچھ اس میں تضادات ہیں تو پاکستان ہم ان کے حوالے نہیں کرسکتے، یہ قوم کی چیز ہے، قوم کی امانت ہے اسکا فیصلہ بھی عوام نے کرنا ہے۔

Maulana Fazl-ur-Rehman

33,970 görüntüleme • 29 gün önce

مجھے بھی بہت آفرز دی گئیں کہ تمہیں ایم این اے بنا دیں گے تمہیں وزیر بنا دیں گے تم کیا چاہتے ہو یہ پاکستان کا جھنڈا ہمیشہ رہے گا عمران خان ہمیشہ نہیں رہے گا اس سے پہلے بھی جو آئے وہ بھی چلے گئے تم شخصیت پرستی چھوڑ دو تم پاکستان کو دیکھو فوج ہمیشہ رہے گی، یہ (ملٹری اسٹیبلشمنٹ) اس طرح کی باتیں ہر ایک کو کرتے ہیں انہوں نے بہت کوشش کی کہ کسی طرح میں ان کی باتوں میں آ جاؤں لیکن مجھے پتہ ہے کہ یہ لوگوں کو صرف اور صرف خریدتے ہیں، بازار میں جس کی قیمت لگ جائے تو اس کی کوئی حیثیت نہیں رہتی یہ ہمیشہ سے عمران خان نے ہمیں سمجھایا ہے اور سکھایا ہوا تھا، میں نے ایک نظریہ کی وجہ سے سیاست شروع کی اور آج اللہ کا شکر ہے کہ اسی نظریہ پر کھڑا ہوں چاہے جلا وطنی میں ہوں جتنی بھی مشکلات گزری ہیں لیکن جب عمران خان کو دیکھتا ہوں کہ ایک ہزار اکتیس دن ہو گئے ہیں وہ شخص جو پاکستان کا سب سے مقبول ترین لیڈر ہے تمام مسلمان امہ انہیں چاہتی ہیں ان کے لیے دعائیں کرتی ہیں وہ اتنی مصیبت میں ہیں قید تنہائی کاٹ رہے ہیں بجلی نہیں ہوتی ٹیلیویژن نہیں ہوتا خبروں تک رسائی نہیں ہے لوگوں سے نہیں ملنے دیا جا رہا انہیں آنکھ کی تکلیف ہے گند میں مکھیاں مچھروں میں وہ رہ رہے ہیں لیکن ٹوٹ نہیں رہے عاصم منیر کی جو یزیدیت ہے اس کے آگے وہ سر نہیں جھکا رہے تو یہ ہمیں حوصلہ دیتی ہے، میری خیبر پختونخواہ کے تمام ایم پی ایز سے گزارش ہے کہ خدا کے لیے عمران خان کے نام پر تمہیں ووٹ پڑے ہیں تم ایم پی اے بن گئے ہو وزیر بن گئے ہو اور اللہ نے عزت دی ہے تو یہ آپس کی چھوٹی چھوٹی لڑائیوں کو چھوڑ کر آپ سب کو چاہیے کہ ایک ایجنڈے پہ آئیں اور وہ ہے عمران خان کی رہائی۔ #FascismUnderAsimLaw #PakistanUnderMartialLaw

Qasim Khan Suri

46,872 görüntüleme • 4 ay önce

پاکستان کے دانشور عمران خان کی رہائی سے اتنے خوفزدہ کیوں ہیں؟ اور لوگوں کو کیوں ڈرا رہے ہیں کہ عمران خان باہر آ گیا تو یہ ہو جائے وہ ہو ئے گا؟ سیاستدان آپس میں بیٹھ جائیں ورنہ مارشل لاء آ جائے گا؟ ایک بندہ جو اپنے کو بہت بڑا صحافی کہلواتا ہے وہ سابق وزیر اعظم عمران خان کے پاس ایک بہت بڑا ٹھیکہ لے کر آیا اور کہا کہ خان صاحب آپ نے ایک مہربانی کرنی ہے یہ ٹھیکہ فلاں ملک اور چلانی کمپنی کے ساتھ کرنا ہے عمران خان نے چیک کروایا تو وہ دو نمبر کام نکلا اور خان صاحب نے صحافی کو اللہ حافظ کہہ کر رخصت کر دیا، ایک اور صحافی آیا اور عمران خان سے کہا کہ یہ ایک سوسائٹی ہے اس کا این او سی چاہیئے، عمران خان نے چیک کروایا تو اس میں دو نمبری تھی خان صاحب نے کہا اللہ حافظ، ایک اور صحافی آیا کہ یہ ایک سوسائٹی ہے اس کی این او سی ہے عمران خان نے چیک کروایا تو دو نمبر تھی خان صاحب نے اللہ حافظ کر دیا، بہت سارے صحافیوں کو غیر ملکی دوروں کی عادت پڑی ہوئی تھی جو ایک ایک سال میں 4٫5 غیر ملکی دورے کرتے ہیں وہ عمران خان نے بند کروا دیئے لفافہ کسی کو ملتا نہیں تھا سرکاری دفاتر میں کسی کا ناجائز کام ہوتا نہیں تھا صحافیوں کو مفت کھانے سے لیکر ہر مفتے کی عادت پڑی ہوئی تھی جو عمران خان کے دور میں رک گئی، یہ چھوٹی چھوٹی چیزوں کے لیے بک جاتے ہیں اس لیے عمران خان کا باہر آنا ان کے ذاتی مفاد میں نہیں ہے۔ #FascismUnderAsimLaw #PakistanUnderMartialLaw

Qasim Khan Suri

29,604 görüntüleme • 1 ay önce

اقوام متحدہ میں اسرائیل کے مندوب نے پی ٹی آئی کی زبان بولی ہے ، آپ کو ماننا پڑے گا کہ ہم نے جو نشاندہی کی تھی وہ اب درست ثابت ہورہی ہے، اسرائیل امریکہ اور مغرب کے ہاتھوں کا ایک خنجر ہے جس نے فلسطین کی پیٹھ پر گھونپ کر مقدس سر زمین پر قبضہ کیا،بیت المقدس پہ قبضہ کیا اور عالمی قوتیں ایک ناجائز ملک کا تحفظ کر رہی ہیں، اسرائیل وہ ملک ہے جو قیام پاکستان کے ایک سال بعد 1948 میں وجود میں آیا،جس کے پہلے وزیراعظم نے خارجہ پالیسی پر پہلا پالیسی بیان دیا کہ اسرائیل کی خارجہ پالیسی کا اساس اور اس کا بنیادی ہدف دنیا میں ایک نو زائدہ مسلم ریاست (پاکستان) کا خاتمہ ہوگا،اسرائیل اپنے قیام کے بعد اپنی زندگی کا آغاز پاکستان کے خاتمے کے اہداف سے کرتا ہے اور پاکستان میں لوگ اسرائیل کو تسلیم کرنے کی مہم جوئی کر رہے ہیں،یہ وہ غلامانہ ذہنیت ہے جس کے خلاف ہم میدان عمل میں ہیں، یہ وہ جنگ ہے جو ہم لڑ رہے ہیں،یہ تہذیب کی جنگ ہے اور اس کے پیچھے سیاسی جنگ ہے، پھر اس کے پیچھے اقتصادی جنگ ہے۔اور ہم انشاءاللہ اسرائیل اور اس کے ایجنٹوں کا ہر محاذ پر راستہ روکیں گے۔

Maulana Fazl-ur-Rehman

202,645 görüntüleme • 3 yıl önce

بریکنگ نیوز 🚨عادل راجہ کا شاندار تجزیہ، علی آمین گنڈا کمینے اور انکے بھائی کی بڑی گیم ایکسپوز کردی، کھل کر سب بتادیا اور ساتھ ہی سہیل آفریدی کو اہم ترین باتیں بھی سمجھا دیں 🔥🔥 سہیل آفریدی کو فیصلہ کرنا ہے کہ اس نے علی امین گنڈاپور بننا ہے؟ میں آج یہ acknowledge کرتا ہوں، علی امین خان تمہیں پتہ ہونا چاہیے کہ میں نے تمہاری حمایت میں خان صاحب سے بھی بات کی تھی، تمہارے بارے میں جب background چیک مانگا گیا تھا کہ تمہاری ملاقاتیں ہوئی تھیں، فیصل نصیر جیل میں تم سے ملنے آیا تھا، فیصل واوڈا کو ساتھ لے کے آیا تھا اور تم نے خان صاحب کو جو ہے وہ دھوکہ دینے سے انکار کر دیا تھا، تو وہ بات مجھے بھی پتہ تھی اور خان صاحب کو بھی بتائی گئی تھی۔ اس وجہ سے تم سالے کو جو ہے وہ وزیر اعلیٰ لگایا تھا، اس لیے نہیں لگایا تھا کہ تم اربوں روپے کما لو اور تم principle کے اوپر جو ہے سودا کر لو اور تم دو ہزار چوبیس میں جس طرح بھاگے تھے، نو اضلاع cross کر کے تم بھاگ گئے اور اس کے بعد تمہارا بھائی آ کے یہاں پہ ڈرامے کرتا ہے اور کہتا ہے ہماری بڑی قربانیاں تو تم نے قربانیاں cash کی ہیں نا؟ تم نے قربانیاں دیں، جی ایم آئی سے تمہارے بھائی کا جو ہم جانتے نہیں ہیں کیپٹن نعمان امین کا کیا باتیں کرتے ہو تم لوگ؟ سالوں اگر واقعی تم نے قربانیاں دی تھیں تو اس کو cash نہ لیا ہوتا۔ تو سہیل آفریدی کے پاس ابھی choice ہے کہ وہ کیا علی امین گنڈاپور sweet boy two بنے گا یا وہ کھڑا ہو جائے گا۔ دیکھئے لوگ کہتے ہیں کہ ایک دن نہیں ایک دن آپ کا آگے جاتا ہے، اس کو روکا جاتا ہے تو ایک بہت بڑا issue بن جاتا ہے، international میڈیا اس کو pick ضرور کرے گا اگر یہ sustained احتجاج ہوگا، دھرنا ہوگا۔ اگر یہ convert ہو جائے گا آگے دھرنے کی طرف، پورا nationwide protest کے اندر اگر یہ convert ہو جاتا ہے تو international میڈیا اس کو اٹھا لیتا ہے اور تمام game اس وقت چل رہی ہے کہ امریکہ کا میڈیا اس معاملے کو نہ اٹھائے۔ اور دوسری طرف ظاہری بات ہے یمن والا معاملہ میں نے آپ کو بتا دیا کہ total game ساری وہاں پہ یہ ہے کہ عمران خان ان کو نظر نہ آ جائے جو missing peace ہے اس ساری game کے اندر، کہ عمران خان ایک ایسا peace ہے جو کہ تمام parties کو سامنے لا کے بٹھا سکتا ہے، محمد بن سلمان اس کو اپنا بھائی کہتا ہے، اس کے علاوہ ایران والے جو ہیں وہ علی خامنہ ای جو ہیں وہ ان کے ساتھ بہت زیادہ close تھے اور خان صاحب کے ساتھ بہت زیادہ close نہ تھی لیکن عزت کا رشتہ تھا دونوں کا آپس میں، عزت کا تعلق تھا اور ان کا بیٹا جو ہے ظاہری بات ہے وہ عمران خان سے ملے گا، بات کرے گا، اس کو عاصم منیر کو تو تنخواہ دیتے ہیں، عباس عراقچی سے ملا دیتے ہیں زیادہ سے زیادہ وہ ان کے اپنے صدر سے ملا دیتے ہیں، اصل power تو جو ہے وہ ان کے بیٹے کے پاس ہے تو وہ ملے گا عمران خان سے ملے گا اور کسی سے نہیں ملے گا۔ یہ بات اگر کہیں پہ ٹرمپ کے کان میں سمجھ آگئی، کہیں پڑ گئی تو آپ سوچیں کہ پھر اس کو یہ نہیں ہے کہ پاکستان میرے orders دیتا ہے نہیں دیتا، ان کو پاکستان سے کوئی لینا دینا نہیں ہے، پاکستان کو انہوں نے اس قابل کر دیا کہ پاکستان اپنی ٹانگوں کے اوپر کھڑے ہونے میں اس کو ages لگ سکتی ہیں اگر democracy آ جائے تو ان کے پاس تو ان سے نہیں چلے گا کام، یہ چھوٹے صوبے بنا کے صرف جو معاملات چلانا چاہتے ہیں، ان چھوٹے چھوٹے صوبوں کے بعد بھی حالات صرف مزید خراب ہوں گے، ethnic violence مزید بڑھے گا پاکستان میں اور دہشت گردی کے مزید واقعات ہوں گے، پاکستان کی economy مزید کمزور ہو گی۔ لوگ کہتے ہیں پاکستان میں اس فوج کا قبضہ ہے تبدیلی آ ہی نہیں سکتی، آ سکتی ہے انقلاب سے آ سکتی ہے، نظریاتی انقلاب پاکستان میں آ چکا ہے، زمینی انقلاب آتا تب ہی ہے جب لوگ بھوکے ہوتے ہیں اور یہ جس طرف جا رہے ہیں لوگوں کو بھوکا ہی کریں گے اور کوئی ان کے پاس جو ہے دوسرا option نہیں ہے، اسی لیے علیمہ آپا کی گرفتاری کی گئی ہے اور اب آپ سمجھیے کہ ستائیس ستمبر کتنا important ہے اور یہ کیوں ڈرے ہوئے بیٹھے ہیں ستائیس ستمبر سے، please try to understand this.

‏زہـــرہ لیــاقت

46,430 görüntüleme • 16 gün önce

(پاکستان 🇵🇰 💪) یہ مولانا شیخ عمران حسین ہیں جنہوں نے 2004 میں ٹرینیڈاڈ میں دجال دی فالس مسیحا یا اینٹی کرائسٹ پر اپنے لیکچر کی وضاحت کی- (اس دلچسپ ویڈیو کے ٹرانسکرپٹ کا مکمّل اردو ترجمہ پیش کر رہا ہوں- اسے ضرور پڑھیں اور سنیں)- "اور میں آپ سے کہہ رہا ہوں، اگر آپ پیسوں کی دنیا کو دیکھیں تو آپ کو دیوار پر لکھا نظر آئے گا- بریٹن ووڈز معاہدہ ٹوٹ رہا ہے، یہ پہلے ہی ٹوٹ چکا ہے اور ایک نیا بین الاقوامی مالیاتی نظام قریب ہے، جس میں امریکی ڈالر غائب ہو جائے گا- اور جب امریکی ڈالر کریش ہو گا تو امریکی معیشت اس کے ساتھ کریش ہو جائے گی- میں آپ کو بتانا چاہتا ہوں کہ امریکہ پر 11 ستمبر کا حملہ 1914 کے موسم گرما کے دہشت گردانہ حملے سے غیر معمولی مماثلت رکھتا ہے- اور یہ کہ جو واقعات اب دنیا میں رونما ہو رہے ہیں، افغانستان پر حملہ، عراق پر حملہ، نئی امریکی سامراج جو دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے رہی ہے، ان سب کا مقصد ایک مشن ہے، اسرائیل کے ساتھ ایک بڑی جنگ کی راہ ہموار کرنا- اور اس بڑی جنگ کے نتیجے کے طور پر جو اسرائیل چھیڑنے جا رہا ہے، اسرائیل کی ریاست کا علاقہ ڈرامائی طور پر پھیلتا جا رہا ہے تاکہ اسرائیل کی مقدس سرزمین کی بائبل میں بتائی گئی سرحدوں کو گھیر لیا جا سکے- بائبل کہتی ہے، "مصر کے دریا سے لے کر دریائے فرات تک"، لیکن یہ سچ نہیں ہے۔ مصر کے دریا سے لے کر دریائے فرات تک مقدس سرزمین کا درحقیقت کوئی ذکر موجود نہیں ہے، یہ ایک گڑھا ہوا جھوٹ ہے- لیکن اب یہ بائبل میں موجود ہے، انہوں نے اسے زبردستی داخل کیا ہے۔ اور اس لیئے اسرائیل کو ایک بڑی جنگ چھیڑنی ہے، جس سے ریاست کے علاقے میں ڈرامائی طور پر توسیع ہو جائے گی، تاکہ اسرائیل نہر سویز کو کنٹرول کر لے- اور اسرائیل کل خلیج کے تیل کو کنٹرول کر لے گا- اور امریکی ڈالر پر ایک ساتھ حملہ آور ہو گا اور امریکی ڈالر گرتا جائے گا- اور جب یہ گرے گا تو کاغذی کرنسی کی پوری دنیا کو اپنے ساتھ لپیٹ لے گا- جب اسرائیل وہ بڑی جنگ چھیڑتا ہے، میں توقع کرتا ہوں کہ اسرائیل جنگ کے ایسے ہتھیار اتارے گا جو ہم نے پہلے کبھی نہیں دیکھے- اور اس کے اختتام پر اسرائیل دنیا میں ایک نئی حکمران ریاست کے طور پر امریکہ سے اقتدار سنبھال لے گا- لیکن، اسرائیل اس جنگ کو نہیں چھیڑ سکتا، کیوں کہ اب بھی راستے میں بہت خاص رکاوٹیں موجود ہیں- اور اب اپنی سوچ کی ٹوپی پہن لیجیئے- کہ وہ کونسی سب سے اہم رکاوٹ ہے، جو اب بھی اسرائیل کی ایک بڑی جنگ چھیڑنے کی راہ میں کھڑی ہے؟ اور یہ ہے پاکستان کے ایٹمی ہتھیاروں کی صلاحیت- اور اس کے ساتھ ایران کی میزائل صلاحیت بھی ہے- اور اس طرح، ہم اس وقت جتنے بھی ہنگاموں سے گزر رہے ہیں، دنیا کی بساط پر وہ تمام تدبیریں، جب اسرائیل وہ بڑی جنگ چھیڑتا ہے اور امریکہ کی جگہ دنیا میں ایک حکمران ریاست کے طور پر آتا ہے، پہلی حکمران ریاست برطانیہ تھی، دوسری حکمران ریاست امریکہ تھی، تیسرا اور آخری یہ دھوکے باز، اسرائیل کی ریاست ہوگی- اس لیئے میں آپ کو یہ تجویز کر رہا ہوں کہ اینٹی کرایسٹ یا دجال اب مرحلہ دوم مکمل کر چکے ہوں گے، ایک دن جو ایک مہینے کے برابر ہے، اور تیسرے مرحلے کا آغاز ہو گا، ایک دن جو ایک ہفتے کے برابر ہے، یعنی بہت کم مدت- یہ وہ وقت ہے جب دہشت گردی اپنے عروج پر ہے- انہوں نے اعلان کیا ہے کہ وہ ان تمام لوگوں کو قتل کرنا جاری رکھیں گے جو اسرائیل کی ریاست کے خلاف ہاتھ اٹھانے کی جرات کرتے ہیں۔ یہ دنیا کا سب سے بڑا دہشت گرد ہے- لیکن CNN آپ کو یہ کبھی نہیں بتائے گا۔ میری بات سننے کا شکریہ-

Amir H. Qureshi

13,333 görüntüleme • 6 ay önce

شکریہ کراچی میں دو دن سے کراچی میں ہوں۔ فہیم خان اور ہماری تنظیم کے عہدیداروں نے بڑی خدمت کی۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ مجھے خوشی ہوئی جس طرح سندھ میں ہمارے وزیراعلیٰ کا استقبال ہوا، سندھ کی عوام نے جس طرح اتنی محبت کا اظہار کیا اور جس طرح ہماری پارٹی یہاں پر آرگنائز ہو گئی ہے۔ ہمارے جتنے عہدیدار ہیں، حلیم عادل شیخ صوبائی صدر یا دیگر جو بھی عہدیدار ہیں، اُنہوں نے بڑی محنت کی۔ خاص طور پر یہ دو دن جو میں یہاں رہا، ہمارے پارٹی کے اراکینِ صوبائی اسمبلی اور تنظیمی عہدیداروں، سب کے ساتھ میٹنگز ہوئیں۔ تو یہاں سندھ میں پارٹی، ماشاءاللہ، بہت مضبوط اور آرگنائز ہے۔ پی ٹی آئی یہاں کی سب سے مقبول پارٹی ہے، کراچی کی سب سے مقبول پارٹی پی ٹی آئی ہے، اور سندھ میں جو پذیرائی ملی تو سندھ میں بھی پی ٹی آئی سب سے مقبول ہے۔ مجھے امید ہے، ان شاء اللہ، جب بھی انتخابات ہوں گے، سندھ میں آئندہ حکومت پاکستان تحریک انصاف کی ہوگی۔ یہاں ہم نے تمام مسائل کو ڈسکس کیا، خاص طور پر سردار عطا اللہ مینگل صاحب کی برسی پر ہم لوگ آئے تھے۔ وہاں کافی لوگوں سے ملاقاتیں ہوئیں۔ ہم نے پاکستانی عوام کی ترجمانی کرنی ہے۔ جو اس کے مسائل ہیں، مہنگائی ہے، لاقانونیت ہے، لوڈشیڈنگ ہے یا انسانی حقوق کی بدترین پامالی ہے، اس کے حوالے سے، ان شاء اللہ، ہم نے جدوجہد کو آگے بڑھانا ہے۔ کراچی ایک ایسا شہر ہے کہ یہاں سے تحریک اٹھتی ہے تو پھر پورے پاکستان میں چھا جاتی ہے۔ ہمارے سندھ میں بہت پوٹینشل ہے، خاص طور پر کراچی میں بہت پوٹینشل ہے۔ مجھے امید ہے کہ پی ٹی آئی جو بھی تحریک چلائے گی، سندھ اور خاص طور پر کراچی کا اس میں بڑا حصہ ہوگا۔ عمران خان کے جو یہاں سپاہی ہیں، جو عمران خان سے محبت کرتے ہیں، سندھ میں عوام اور عمران خان آئندہ حکومت بنائیں گے۔ یہاں جو رائج سسٹم ہے، جو کرپشن کا سسٹم ہے، لوٹ کھسوٹ ہے، اقرباء پروری ہے، تو ایک نئے پاکستان کی بنیاد، ان شاء اللہ، سندھ سے رکھیں گے۔ پاکستان زندہ باد

Asad Qaiser

14,762 görüntüleme • 23 gün önce

پاکستان نے اس وقت جو ایران امریکہ کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کیا ہے اور اس کے جو دنیا میں مثبت اثرات مرتب ہوئے ہیں، پاکستان کے اندر ان کو ہمیں سمیٹنا چاہیے، حکومت کو بھی چاہیے کہ وہ اس طرز عمل کو اس کے مفادات کو سمیٹے، لیکن جہاں وہ باہر سے کما رہے ہیں پاکستان کے اندر اس کو گنوا رہے ہیں، یہاں حکومت کی ان کامیابیوں کے عوام پر کوئی اثرات مرتب نہیں ہو رہے ہیں۔ یہاں امن و امان نہیں ہے اور خیبر پختونخوا، بلوچستان میں تو پہلے ہی امن و امان نہیں تھا، سندھ کے لوگ ڈاکوں کے ہاتھوں محکوم نظر آ رہے ہیں، لیکن اگر کشمیر کی بھی ایسی صورت حال بنتی ہے تو جہاں فوج کو یا بارڈرز پہ ہونا چاہیے یا بیرکوں پہ ہونا چاہیے آج وہ پاکستان کے صحراؤں میں پھیلے ہوئے ہیں، پاکستان کے پہاڑوں میں پھیلے ہوئے ہیں، ان کے فوجی شہید ہو رہے ہیں، اور اس مشکل میں ریاست پھنسی ہوئی ہے کہ اس مشکل وقت میں انہیں قومی یکجہتی کی ضرورت ہے۔ اگر ان حالات میں بھی حکومت کی طرف سے ایسے بیانات آئے کہ جس سے قوم تقسیم ہو، جس سے اپوزیشن کو سخت سے ردعمل دینا پڑے تو پھر میں نہیں سمجھتا کہ یہ ملک کی یکجہتی کے لیے کوئی کردار ہوگا، بلکہ ملک کو تقسیم کرنے کا سبب بنے گا۔ بہت زیادہ اشتعال ہے ملک کے اندر، ہم نے پرسوں چارسدہ میں جلسہ کیا، ہم نے اس سے پہلے پشین میں جلسہ کیا، لاکھوں لوگ وہاں اکٹھے ہوئے، بہت ہی کامیاب اجتماعات، پبلک نے اتفاق کیا اور یہ وہ میدان ہے کہ اگر ایک سیاسی جماعت پبلک میں اترتی ہے اور تاحد نظر انسانوں کا سمندر اکٹھا کرتی ہے یہ ایک وہ سیاسی جنگ ہے کہ جہاں قوم کا مورال بلند ہوتا ہے اور آپ کے کارکنوں کا مورال بلند ہوتا ہے، امن پسندوں کا مورال بلند ہوتا ہے، اور مسلح قوتوں کا مورال گر جاتا ہے، تو میرے خیال میں ہم جس محاذ پر کام کر رہے ہیں، میں تو سمجھتا ہوں کہ ہمیں پبلک کی طرف سے زبردست قسم کا ایک مثبت ردعمل ملا ہے، کیا وہ ردعمل حکومتی پارٹی کو بھی مل سکتا ہے؟ میرے خیال میں اس وقت ان کے لئے وہ حالات نہیں ہیں۔ آپ کو وہ حالات بنانے ہوں گے، کہ ہم یکجہتی کا اظہار کریں۔ قائد جمعیۃ مولانا فضل الرحمٰن کا پارلیمنٹ ہاوس میں خطاب

Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan

10,165 görüntüleme • 3 ay önce

ذرا سوچیے! تعلقات کی جو نوعیت اور تعلقات میں کشیدگی کی جو نوعیت آج حکومتی پارٹیوں اور پی ٹی آئی کے درمیان نظر آ رہی ہے یہ کوئی میرے لیے آج پہلا منظر نہیں ہے، خواجہ آصف صاحب میرے محترم ہیں، میرے بڑے ہیں، مجھ سے عمر میں بھی بڑے ہیں، میں احترام کرتا ہوں یہ سب کچھ خوب جانتے ہیں، پرویز اشرف صاحب بیٹھے ہوئے ہیں، میرے لیے قابل احترام ہیں یہ سارے مناظر انہوں نے دیکھے ہیں، جو کشیدگی کی نوعیت اور ایک دوسرے کے خلاف روئیوں کی جو انتہا پسندی ہے یہ مناظر ہم نے مسلم لیگ اور پیپلز پارٹی کی بیچ میں نہیں دیکھے تھے، میاں نواز شریف اور بینظیر بھٹو کے درمیان ہم نے نہیں دیکھے تھے، آج ہم انہی مناظر کو دوبارہ دوسرے شکل میں دہرا رہے ہیں، میں ان روئیوں کے حق میں نہیں ہوں، میں حجم کے مطابق رد عمل دینے کے حق ہوں، اگر عمل چیونٹی کے برابر ہے تو رد عمل چیونٹی کے برابر ہونا چاہیے، لیکن ہم ہیں کہ عمل چیونٹی کے برابر اور رد عمل ہاتھی کے برابر ہوتا ہے۔ مسائل کو اس کے اپنے خاص حدود کے اندر ہمیں سوچنا چاہیے، اپوزیشن کی جماعتیں بیٹھی ہیں، محمود خان اچکزئی ہمارے لیڈر آف دی اپوزیشن ہے، مجھ سے انہیں ووٹ نہیں مانگا لیکن میں نے ان کو سپورٹ کیا ہے اور میں آج بھی یہ سوچتا ہوں کہ جس طرح پرائم منسٹر صاحب نے خطاب کیا اور اس میں انہوں نے میثاق جمہوریت کی بات کی، پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ کے درمیان دوریاں اور تلخ رویوں کی ایک تاریخ وہ میثاق جمہوریت پر جا کر ختم ہوئی، میں اس کا سگنیچری نہیں ہوں، غالباً عمران خان بھی اس کے سگنیچری نہیں ہیں، لیکن بعد کے جو سیمینارز ہوئے، آل پارٹیز ہوئے، ان کے جو اعلامیے سامنے آئے اس پہ ہم سب کی تائید اس کو حاصل ہوئی اور آج ایک متفقہ دستاویز ہے، ہم نے جو عہد کیا تھا، ہم نے جو میثاق کیا تھا کہ ہم اختلاف رائے کریں گے، جو حکومت کر رہی ہے اُس کو حکومت کرنے دیجیے، ملکی معاملات میں ہم تعاون کی ضرورت ہوگی تو وہ بھی کریں گے، ایک دوسرے کے حکومتوں کو گرائیں گے نہیں، اور اگر میں بڑی وضاحت کے ساتھ اس سے بھی اچھے واضح الفاظ کے ساتھ عرض کروں کہ اپوزیشن اپوزیشن کرے گی لیکن وہ اسٹیبلشمنٹ کے لئے سہولت کار نہیں بنے گی، وہ اسٹیبلشمنٹ کے لئے حکومت پر پریشر نہیں ڈالے گی، وہ اس کے لئے ہنگامے نہیں کھڑا کرے گی تاکہ وہ پھر حکومت کو منیج کر سکے، آج وہ ساری چیزیں بگڑ گئی، دوبارہ معاملات خراب کر دئیے گئے۔ میں تو آج بھی کہتا ہوں کہ عمران خان کو باہر آنے دیں، سیاست میں اگر ان کی گرفتاری کی وجہ سے تلخی ہے ہمیں ملک کی بہتری کے لئے اور ملک کے اندر مجموعی طور پر ایک برادرانہ اور ہم آہنگی کی فضاء پیدا کرنے کے لئے ایک شخص کی قربانی کوئی مسئلہ نہیں ہے، آجائیں باہر میدان میں سیاست کرتے ہیں، مجھے لوگ پوچھتے ہیں آپ عمران خان پر بہت تنقید کرتے تھے آج کل کیوں نہیں کر رہے؟ میں نے کہا یہ میرا مزاج نہیں مانتا کہ میرا مخالف جیل میں ہو اس کے ہاتھ پاؤں بندھے ہو اور میں کھل کر ان پر تنقید کرتا رہوں، او وہ بھی باہر آئیں گے، وہ بھی بات کریں گے، ہم بھی بات کریں گے۔ کوئی ایسا مسئلہ نہیں ہے۔ آداب کے اندر کریں گے، یہی تعلقات میں حزب اختلاف اور حکومت کے بھی چاہتا ہوں، میثاق جمہوریت کی طرف آئیں ہم دوبارہ چلیں، اور اس کے لیے یقیناً اپوزیشن کو بھی مشورہ کرنا ہوگا وزیراعظم نے اگر کوئی بات کی ہے لیکن کچھ تو معاملات کے حل کے لیے ہمیں بتایا جائے کہ پاکستان کہاں کھڑا ہے؟ اور آپ لوگ کیا کر رہے ہیں؟ اگر آپ کو یہ خطرہ ہے کہ ان کیمرہ میٹنگ ہوگی اور پی ٹی آئی والے کوئی ہنگامہ کریں گے میں اس فلور پر پی ٹی آئی والوں کی زمہ داری خود لیتا ہوں وہ کوئی ہنگامہ نہیں کریں گے۔ اسپیکر کے سوال پر کہ مولانا صاحب آپ کتنے بولیں گے؟ مولانا صاحب کا جواب: بولنے پر تو حضرت اتنے درد ہیں کہ ہر درد کے لیے گھنٹہ چاہیے۔ اور اب جب آپ کے اوپر ایک بوجھ آگیا ہے، ایک دباؤ آگیا تو مجھے آپ کے درد کا بھی احساس ہے، مجھے یہ بھی معلوم ہے کہ یہ درد آپ کا اکیلا نہیں ہے، یہ درد کہیں سے آ جاتا ہے۔ امیر جےیوآئی مولانا فضل الرحمان کا پارلیمنٹ میں خطاب #MaulanaInParliament

Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan

10,699 görüntüleme • 3 ay önce