Loading video...

Video Failed to Load

Go Home

قفس اُداس ہے یارو صبا سے کُچھ تو کہو.... کیا خوبصورت آواز ہے بابا جی کی ♥️ جتنی بار سنا ہے بوریت نہیں ہوئی... ایک بار سن کر کمنٹ ضرور کیجیے گا ..... گُلوں میں رَنگ بَھرے ، بادِ نَو بہار چلے چلے بھی آؤ ، کہ گُلشن کا...

50,387 views • 1 year ago •via X (Twitter)

10 Comments

Tahir Liaqat's profile picture
Tahir Liaqat1 year ago

یا خوبصورت الفاظ ہیں، دل کو چھو لینے والے! ♥️ فیض صاحب کے کلام کی بات ہی الگ ہے، ہر مصرعے میں ایک الگ دنیا چھپی ہوئی ہے۔ بار بار سنو یا پڑھو، دل کبھی نہیں بھرے گا... اگر ابھی تک اس کلام کو پوری توجہ سے نہیں سنا، تو ضرور وقت نکال کر سنیے گا

اردو ورثہ's profile picture
اردو ورثہ1 year ago

جی آپ نے درست کہا فیض احمد فیض کا لاجواب کلام ہے

mehmood ahmad's profile picture
mehmood ahmad1 year ago

ہوا جو تیر نظر نیم کش تو کیا حاصل مزہ تو جب ہے کہ سینے کے آر پار چلے مہندر سنگھ بیدی

عدنان عارف's profile picture
عدنان عارف1 year ago

گہری چوٹ لگی ہو تو آواز میں خودبخود درد پیدا ہو جاتا ہے

اردو ورثہ's profile picture
اردو ورثہ1 year ago

جی ایسا ہی ہے کبھی کبھی اس طرح بھی ہوتا ہے وہ درد زبان اور لہجے میں آ جاتا ہے

sajjad shah's profile picture
sajjad shah1 year ago

ان کی جیت کا جشن ہے شہر میں چپ رہو ہونگے بدنام گر زمانے کو پتہ مری وجہ ہار چلے

Sabreena's profile picture
Sabreena1 year ago

واہ باباجی تو چھا گئے 👏👏👏

Imran Khan's profile picture
Imran Khan1 year ago

کمال جی کیا کہنے

Wassim Ahmmed's profile picture
Wassim Ahmmed1 year ago

Bohat bohat khoob Sir

Aliya khan's profile picture
Aliya khan1 year ago

Kia awaz hy wah

Related Videos

بھلے دنوں کی بات ہے بھلی سی ایک شکل تھی نہ یہ کہ حسن تام ہو نہ دیکھنے میں عام سی نہ یہ کہ وہ چلے تو کہکشاں سی رہ گزر لگے مگر وہ ساتھ ہو تو پھر بھلا بھلا سفر لگے کوئی بھی رت ہو اس کی چھب فضا کا رنگ روپ تھی وہ گرمیوں کی چھاؤں تھی وہ سردیوں کی دھوپ تھی نہ مدتوں جدا رہے نہ ساتھ صبح و شام ہو نہ رشتۂ وفا پہ ضد نہ یہ کہ اذن عام ہو نہ ایسی خوش لباسیاں کہ سادگی گلہ کرے نہ اتنی بے تکلفی کہ آئنہ حیا کرے نہ اختلاط میں وہ رم کہ بد مزہ ہوں خواہشیں نہ اس قدر سپردگی کہ زچ کریں نوازشیں نہ عاشقی جنون کی کہ زندگی عذاب ہو نہ اس قدر کٹھور پن کہ دوستی خراب ہو کبھی تو بات بھی خفی کبھی سکوت بھی سخن کبھی تو کشت زعفراں کبھی اداسیوں کا بن سنا ہے ایک عمر ہے معاملات دل کی بھی وصال جاں فزا تو کیا فراق جاں گسل کی بھی سو ایک روز کیا ہوا وفا پہ بحث چھڑ گئی میں عشق کو امر کہوں وہ میری ضد سے چڑ گئی میں عشق کا اسیر تھا وہ عشق کو قفس کہے کہ عمر بھر کے ساتھ کو وہ بد تر از ہوس کہے شجر حجر نہیں کہ ہم ہمیشہ پا بہ گل رہیں نہ ڈھور ہیں کہ رسیاں گلے میں مستقل رہیں محبتوں کی وسعتیں ہمارے دست و پا میں ہیں بس ایک در سے نسبتیں سگان با وفا میں ہیں میں کوئی پینٹنگ نہیں کہ اک فریم میں رہوں وہی جو من کا میت ہو اسی کے پریم میں رہوں تمہاری سوچ جو بھی ہو میں اس مزاج کی نہیں مجھے وفا سے بیر ہے یہ بات آج کی نہیں نہ اس کو مجھ پہ مان تھا نہ مجھ کو اس پہ زعم ہی جو عہد ہی کوئی نہ ہو تو کیا غم شکستگی سو اپنا اپنا راستہ ہنسی خوشی بدل دیا وہ اپنی راہ چل پڑی میں اپنی راہ چل دیا بھلی سی ایک شکل تھی بھلی سی اس کی دوستی اب اس کی یاد رات دن نہیں، مگر کبھی کبھی احمد فراز

Book of Love

14,532 views • 3 years ago

🚨🚨 بریکینگ نیوز : وقار ملک کے تہلکہ خیز انکشافات. نواز شریف ڈٹ گیا ہے, وہ ڈٹ گیا ہے بس اب نہیں چھوڑے گا۔🔥🔥🛑 خبر یہ ہے کہ فوج نے جو ری سیٹ پلان دیا ہے۔ نون لیگ نے فیصلہ کیا ہے کہ ہم اسکو ٹکر دیں گے ۔ہم فوج کو ٹکر دیں گے ۔ خبر یہ ہے کہ ن لیگ یہ سمجھ رہی ہے کہ محسن نقوی نے بات کی چلو خیر تھی لیکن جب DGISPR نے بھی وہ ہی بات کردی تو اب اسکا مطلب ہے ہمیں کچھ بولنا پڑے گا ۔ اگر اب ہم نے چوں, چا نا کی تو بہت دیر ہو جائیگی ۔اور ہم ساری زندگی پچھتائیں گے ۔تو میرے پاکستانیوں نواز شریف کیا کرسکتا ہے میں وہ آپکو بتا دیتا ہوں ۔ میں نے اس پر پی ایچ ڈی کی ہوئی ہے ۔ تو میں نے اس پر ایک پوسٹ بھی کیا ہے ۔ میں نے لکھا ہے کہ ن لیگی صحافیوں کیمطابق نواز شریف ڈٹ گیا ہے, اور ووٹ کو عزت دو والے بیانیے کو سٹور سے نکال کر صاف کرنے کا حکم دے دیا گیا ہے ۔ آگر جرنیل نا مانیں تو نواز شریف اگلی فلائیٹ سے مزاحمت کرنے لندن چلے جائینگے ۔اور پھر پکے ناراض ہو جائینگے ۔ اور کبھی واپس نہیں آئینگے ۔ تو میری یہ بات یاد رکھیئے گا کہ نواز شریف کی ٹوٹل مزاحمت یہ ہے کہ اگر اس بار حالات نے پلٹا کھایا تو نواز شریف پاکستان میں رہنے کی غلطی نہیں کرینگے. نواز شریف راتوں رات وہ کام کرے گا۔ جو 2017 میں اسحاق ڈار نے بڑی سمجھداری سے کیا تھا ۔اور خاقان عباسی کی جہاز میں لندن پہنچ گیا تھا ۔ اس بار نواز شریف بھی پرائیویٹ جہاز پکڑے گا اور سیدھا لندن چلا جائیگا ۔ پتہ نہیں مریم کو لیکر جائیگا۔ یا ہمیشہ کیطرح چھوڑ جائیگا پیچھے ہی۔ لیکن نواز شریف ٹھہرنے والے بندوں میں سے نہیں ہے ۔ نواز شریف کو جیسے ہی لگتا ہے کہ زمین گرم ہونے والی ہے تو وہ فوراً بھاگنے کی کرتا ہے ۔ تو میرے خیال میں نواز شریف یہی دھمکی لگائے گا۔کہ بھائی میں ناراض ہوکر چلا جاؤں گا ۔ میں روس جاؤنگا ۔ پھر آپ مجھے منانے آتے رہینگے ۔ کیونکہ میں آپکا لاڈلا بچہ ہوں ۔ منانے تو آپ نے پھر آجانا ہے ۔ تو اس بار میں ہکا ناراض ہو جاؤں گا ۔ بس یہ نواز شریف کی ٹوٹل اوقات اور حیثیت ہے ۔اس سے زیادہ نواز شریف کچھ نہیں کرسکتا ۔🔥🔥🚨

Anisha KHAN

45,318 views • 1 month ago

آپ نے مارنا ہے تو کتنوں کو ماریں گے؟ فرعون سے زیادہ تو آپ نہیں مار سکتے۔ یہ ملک ہمارا ہے، آئیں عہد کریں، ہر ادارہ عہد کرے۔ جہاں تک بات معافی مانگنے کی ہے، تو معافی سب مانگیں، سارے ادارے۔ افواجِ پاکستان بھی، ایجنسیاں بھی، ادارے بھی اور سیاسی لوگ بھی۔ مصلحتوں سے کام نہ لیں۔ چھوٹی چھوٹی مصلحتوں کی وجہ سے آپ نے بربادی کر دی ہے۔ جب تحریک انصاف کی چھینی ہوئی سیٹیں بانٹی گئیں تو کسی نے انہیں لینے سے انکار نہیں کیا۔ ہم سیاسی لوگ ہیں، وہ ریوڑیوں کی طرح بانٹ رہے تھے اور ہم نے اپنی جیبیں کھلی رکھی ہوئی تھیں کہ اس میں ڈال دو۔ کیا ملک ایسے چلے گا؟ جب افواج اس حد تک آ جاتی ہیں، جب وردی والے لوگ اسمبلیوں کو مارکیٹ میں رکھ دیتے ہیں کہ 'بسم اللہ! یہ بولی ہے، سیٹوں کا ریٹ کیا ہے؟ 30 کروڑ، 40 کروڑ،جب آپ 40 کروڑ میں اسمبلی کی سیٹیں بیچیں گے اور ان کو وزیر بنائیں گے، تو وہ یہ 40 کروڑ پاکستان کے پیٹ سے ہی نکالیں گے۔ یہ پاکستان کے ساتھ کیسا مذاق ہے؟۔ محمود خان اچکزئی Mehmood Khan Achakzai

PTI

77,179 views • 1 month ago

بھروسا تم نے توڑا تھا مگر خود کو سزا یوں دی کہ پھر جو مل گیا مجھ کو، بھروسا کر لیا اس پہ۔ عدم اعتماد کی فضا تم نے پیدا کی۔ میرے مخالفین ساری زندگی کبھی ملا ملٹری الائنس کہتے تھے، کبھی کہتے تھے کہ اسٹیبلشمنٹ کے بہت قریب ہے۔ کیوں؟ میری سیاست اعتدال کی ہے۔ میں مذہبی طبقے سے تعلق رکھتا ہوں، اور اس کو اشتعال دلانے کے لیے پوری دنیا وسائل استعمال کر رہی ہے۔ اس ماحول میں رہ کر جب میں اپنے ماحول کو اعتدال کی راہ دکھاؤں گا تو یقیناً کچھ نرمیاں اس کے اندر آئیں گی۔ کوئی اس کو کہتا ہے: تم مفاد پرست ہو، موقع پرست ہو، تم نے فلاں جگہ یہ کیا، وہ کیا۔ نہیں! ہم نے حالات کے مطابق پالیسی اختیار کی، اور ہم کبھی حکومتوں کی خواہش پر نہیں چلے۔ میں اگر 1988ء میں اسمبلی میں آیا، تب بھی اپوزیشن میں تھا۔ مجھے 1990ء میں ہرایا گیا۔ 1993ء میں آیا، میں پھر اپوزیشن میں تھا۔ 1997ء میں اسمبلی میں آیا، میں پھر اپوزیشن میں تھا۔ تم نے میرے خلاف اس وقت بھی گندا پروپیگنڈا کیا، غلیظ ترین پروپیگنڈا کیا۔ کبھی کہا: ڈیزل پرمٹ خریدا ہے۔ پھر ڈیزل پرمٹ اگر میں نے لیا ہے تو دستاویز ہوگی نا؟ پرمٹ کے معنی ہی دستاویز ہیں۔ 2003ء، 2004ء میں آپ نے میرے خلاف یہ پروپیگنڈا کیا۔ آج 2026ء ہے۔ کہیں کوئی اس کا ریکارڈ، کوئی دستاویز، کوئی ثبوت تمہیں آج تک ملا؟ کہتے تھے: پلازے لے لیے ہیں، فیکٹریاں بنا لی ہیں، دبئی میں ہوٹل بنا لیے ہیں۔ اسی ہزار کی لسی پی لی ہے، دو دن ہوٹل میں ٹھہرا ہوں تو کہتے ہیں: اسی ہزار کی لسی پی لی ہے۔ شرم بھی نہیں آتی اس قسم کی گفتگو کرتے ہوئے۔ اور پھر ایک وقت آیا جب اسٹیبلشمنٹ کی ایک اہم شخصیت نے مجھے پیغام بھیجا کہ وہ مجھ سے ملنا چاہتے ہیں۔ میں نے انکار کر دیا۔ پھر نوابزادہ نصر اللہ خان مرحوم درمیان میں آئے اور مجھے کہا: "آپ کو بات کر لینی چاہیے۔" میں نے اپنی جماعت سے مشورہ کیا۔ انہوں نے بھی مجھے کہا: "ہاں، ہمیں مل لینا چاہیے تاکہ پتا تو چلے کہ ہم کس غار سے ڈسے جا رہے ہیں۔" ان ملاقاتوں میں جب میں نے اپنی شکایات ان کے سامنے رکھیں، اور میں نے ان کو چیلنج کیا کہ اللہ تمہیں دیکھ رہا ہے، اللہ تمہیں سن رہا ہے، میں بھی بیٹھا ہوں، تم بھی بیٹھے ہو۔ اگر میرے ہاتھ سے یا میرے ماحول کے اندر کوئی ایسے غلط کام ہوئے ہوں، کوئی ایسے غلط مفادات میں نے حاصل کیے ہوں، تو اللہ کے لیے کم از کم مجھے واضح طور پر بتا دو کہ فضل الرحمٰن، آپ کے اندر یہ نقص ہے۔ اس اعلیٰ ترین افسر نے سر جھکایا، پھر سر اٹھایا، پھر کہا: "مولانا! کوئی ایسی بات نہیں ہے، قطعاً کوئی ایسی بات نہیں ہے۔" تو میں نے کہا: "پھر میری کردار کشی کیوں کی؟ کیوں میرے بارے میں یہ غلط باتیں کیں؟" انہوں نے کہا: "میں متعلقہ حلقوں (Concerned Quarters) کو ہدایت دے دوں گا، ان شاء اللہ آئندہ ایسا نہیں ہوگا۔ تو میں نے کہا: آپ نے تو کہہ دیا کہ ہم نے جو بولا، جھوٹ بولا، غلط بولا، اور آئندہ ہدایت دے دوں گا کہ ایسا نہیں ہوگا، لیکن میرا دعویٰ تو اپنی جگہ برقرار ہے کہ تم نے الیکشن میں دھاندلی کرائی ہے، اور حکمران جو بھی بنے گا، دھاندلی سے بنے گا۔سو آج میرا سوال یہ ہے کہ دھاندلی سے بنی ہوئی حکومت ہمیں قبول نہیں قائدِ جمعیت مولانا فضل الرحمٰن کا اسلام آباد میں وکلاء کنونشن سے خطاب #قائدانقلاب_مولانا #سیاسی_چوکیدار #مولانا_سے_معافی_مانگ #شہداء_صرف_بہانہ #لشکر_نہیں_امن

Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan

14,884 views • 1 month ago

فواد صاحب آپ نے کہا کہ آپ گوجرانولہ کے 52 بے گناہ اسیران سمیت تمام سیاسی قیدیوں کے ساتھ کھڑے ہیں، اگر واقعی آپ کا دعویٰ درست ہے تو کبھی آپ ، محمود مولوی صاحب، عمران اسماعیل صاحب اور دیگر جا کر گوجرانولہ کے بے گناہ اسیران سے ملیں، ان کی فیملیز سے ملیں تو آپ کو پتا چلے کہ ان پر کیا ظلم کیے گئے اور کیا ستم ڈھائے جارہے ہیں، کبھی جسٹس عالیہ نیلم اور جسٹس یحییٰ خان سے بھی ملیں اور ان کو بتائیں کہ جن بے گناہوں کا کیس میں نام تک نہیں ہونا چاہیے تھا پہلے انہیں جھوٹی سزائیں ہوئیں، پھر ان کی وہ ضمانت کی درخواستیں جو ایک ڈیڑھ ماہ میں سنی جانی چاہئیں تھی، ان کے 3 برس سے فیصلے نہیں ہو سکے ، ان کی وہ اپیل جو ایک سال میں سپریم کورٹ تک پہنچ کر ڈیسائڈ ہو جاتی ، وہ ہائی کورٹ میں ابھی تک ابتدائی سماعت کے مراحل میں بھی داخل نہیں ہوئی، اگر آپ ان بے گناہوں کے ساتھ ہیں تو اس کیس کی ٹائم لائن کے کر پریس کانفرنس کیجئے تاکہ آپ کو اور آپ کے سننے والوں کو پتا چلے کہ اس کیس میں جبر کی کتنی بھیانک تاریخ رقم ہوئی ہے ، چلیں پی ٹی آئی کی لیگل ٹیم اور تنظیم تو کمپرومائزڈ ہے ،کبھی آپ لوگ ہی ایک لسٹ اور بھی بنا لیں کہ پچھلے تین برسوں میں کس بے گناہ قیدی کا بھائی یا کس قیدی کی ماں ،کسی کا والد تو کس کس کی بہن اس دنیا سے رخصت ہوئے تو ان کو جنازے تک میں شرکت نہیں کرنے دی گئی اس نوجوان پر کیا گزری ہو گی کہ جو نا حق قید ہے اور اس دوران اس کی ماں اس کی جدائی کا صدمہ نہ سہہ پائی اور پاکستان کی عدالتوں سے مایوس ہو کر اللہ کی عدالت میں پیش ہو گئی ، اور بیٹا اپنی ماں کو نہ تو قبر میں اتار سکا اور نہ اس کا آخری دیدار کر سکا Ch Fawad Hussain

Siddique Jan

79,757 views • 1 month ago

آپ میں سے یہاں موجود تمام خواتین و حضرات بغیر سفارش کے بھرتی ہوئے ہیں، میرٹ ہی ہمارا اصل سرمایہ ہے، اور انشاءاللہ تعالیٰ، اسی میرٹ کی بنیاد پر ہم نے خیبر پختونخوا کی تاریخ بدل دی ہے۔ جو تصویر آپ سامنے کرسی دیکھ رہے ہیں، یہ میرے پرنسپل رہ چکے ہیں۔ اس سے بھی بڑھ کر، یہ میرے والد صاحب کے استاد بھی رہ چکے ہیں۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ جب یہ پرنسپل تھے، تو کینٹ نمبر ون گورنمنٹ اسکول میں انہوں نے میرٹ کی بنیاد پر داخلے دیے۔ انہوں نے اس اسکول کو اس معیار تک پہنچایا کہ لوگ سفارش سے بھی داخلہ لینے پر مجبور تھے۔ جب یہ ریٹائر ہوئے، تو ایک پرائیویٹ اسکول مسلم پبلک اسکول میں چلے گئے، جہاں میں بھی پڑھتا تھا۔ یہ مسلم اسکول میں میرے پرنسپل رہے، اور میری کردار سازی اور آج یہاں تک پہنچنے میں ان کا بنیادی کردار ہے۔ میں نے اپنی پوری زندگی میں کبھی کسی استاد کے سامنے بدتمیزی نہیں کی، اور انشاءاللہ تعالیٰ آئندہ بھی نہیں کروں گا، کیونکہ معاشرے میں استاد کو روحانی باپ اور روحانی ماں کا درجہ دیا گیا ہے۔ اس لیے ہم سب پر فرض ہے کہ ہم اپنے اساتذہ کی عزت اور احترام کریں۔ جب ہم میٹرک سے فارغ ہو رہے تھے تو سر ہمارے سامنے کھڑے ہوئے اور انہوں نے ہم سے کہا آپ یہاں سے جا رہے ہیں۔ ہو سکتا ہے آپ کے ذہن میں یہ خیال ہو کہ آپ میں سے کئی ڈاکٹر بنیں گے یا انجینیئر بنیں گے، لیکن ایسا ضروری نہیں۔ ہو سکتا ہے آپ میں سے کوئی بھی ڈاکٹر نہ بنے یا کوئی بھی انجینیئر نہ بنے۔ لیکن میری ایک نصیحت یاد رکھنا: جو بھی کام کرو، کمال کا کرو، کیونکہ معاشرے میں عزت ہمیشہ کمال کے انسان کی ہوتی ہے۔ #CMKP #SohailAfridi #TeacherTribute #KPEducation

Yar Muhammad Khan Niazi

14,010 views • 9 months ago

نئے صوبوں سے متعلق سوال پر امیر جےیوآئی مولانا فضل الرحمان کا جواب: ایک بات میں پہلے آپ صحافیوں سے کرنا چاہوں گا جی، ذرا مہربانی کریں، آپ میڈیا کی دنیا میں حمایت اور مخالفت کی لکیر نہ کھینچیں۔ یہ ایک ڈیبیٹیبل ایشو ہے اور اس پر مختلف پہلوؤں سے بات ہو سکتی ہے۔ اصولی طور پر ایک مسئلے کی پوزیشن اور ہوتی ہے، عملی طور پر جب آپ آتے ہیں تو پھر اس کی صورت اور ہوتی ہے۔ اصولی طور پر آپ کو حق ہے کہ آپ اپنا گھر بنائیں، لیکن کیا آپ کے پاس وسائل ہیں کہ آپ بنا سکیں؟ وسائل نہیں ہیں، جیب خالی ہے اور آپ جا کر وہاں اینٹیں رکھنا شروع کر دیں تو لوگ کہیں گے کہ یہ کیا کر رہا ہے؟ تو وہ ایک خامخواہ ضائع ہونے والی بات ہو جاتی ہے۔ میری اپنی ذاتی رائے یہ ہے کہ اصولی طور پر تو ہم یونٹس کے خلاف نہیں ہیں۔ ہم نے اس سے پہلے بہاولپور صوبے کی بھی حمایت کی تھی، ہم نے اس سے پہلے سرائیکی صوبے کی بھی حمایت کی تھی، ہم نے اس سے پہلے ہزارہ صوبے کی بھی حمایت کی تھی، ہم نے خود فاٹا کو صوبہ بنانے کا مطالبہ کیا تھا۔ تاہم سندھ ذرا اس سے مختلف تھا کہ سندھ کے عوام صوبے کی تقسیم کے لیے آمادہ نہیں تھے، اس وقت بھی نہیں تھے اور اب بھی نہیں ہیں۔ لیکن جو میری معلومات ہیں، جب اس وقت صوبہ، صوبہ ہو رہا تھا تو اسٹیبلشمنٹ بھی اس کی مخالف تھی۔ چنانچہ ان عناصر کی حوصلہ شکنی کی گئی جو صوبہ، صوبہ کر رہے تھے اور حکومتوں اور اسمبلیوں میں وہ لوگ نہیں آ سکے، کمزور پوزیشن میں آئے اور بالآخر ان کو وہ ایشوز چھوڑنے پڑ گئے۔ آج پھر کون سی ایسی وحی آ گئی ہے ان کے اوپر کہ آؤ، ان کو پتا نہیں کتنے اور کوئی نقشہ بھی نہیں ہے۔ کبھی آپ سولہ یونٹس میں تقسیم کر رہے ہیں، کبھی آپ بتیس یونٹس میں تقسیم کر رہے ہیں، کبھی ہر ڈویژن کو صوبے کا درجہ دے رہے ہیں۔ کچھ سمجھ میں نہیں آ رہا کہ نقشہ کیا ہے۔ تو ایک بات کہہ دینا اور پھر لوگوں کو چھوڑ دینا کہ وہ اس پر بحث کرتے رہیں، میرے خیال میں ملک کے اصل مسائل سے توجہ ہٹانے کے لیے یہ ایشو پھینکا گیا ہے۔ اس میں کوئی سنجیدگی ہے، نہ اس کے لیے اس وقت کوئی ماحول موجود ہے اور نہ ہی اس کے لیے کوئی تیاری موجود ہے۔ جب ماحول بھی نہیں ہے، اس وقت تیاری بھی نہیں ہے، تو خامخواہ ایک غیر سنجیدہ گفتگو، جس کا پاکستان متحمل نہیں ہو سکتا۔ ہمارے حکمران اس وقت باہر کی دنیا کے ریڈ کارپٹس کو انجوائے کر رہے ہیں اور ان کو یہ اندازہ نہیں ہے کہ پاکستان کی سرزمین جو خون سے سرخ ہے، اس کو بھی تو ہمیں سنبھالنا ہے۔ تو جہاں خون بہہ رہا ہو، جہاں ملکی زمین جو ہے وہ خون سے سرخ ہو اور آپ باہر دنیا میں جا کر وہاں پر ریڈ کارپٹ سے لطف اندوز ہو رہے ہوں، تو ذرا گھر کو تو ٹھیک کریں۔ ہم نہیں کہتے کہ آپ باہر کی دنیا سے اچھے تعلقات نہ رکھیں۔ ہم نے تو امریکہ اور ایران کے درمیان ثالثی کو سپورٹ کیا ہے۔ ہم نے سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان دفاعی معاہدے کو سپورٹ کیا ہے۔ ترکی کی شمولیت کو ہم نے سپورٹ کیا ہے۔ مصر اس میں آتا ہے، ایران اس میں آتا ہے۔ خیر، مقدم کریں گے ایک اسلامی بلاک کے قیام کا۔ یہ خود جمعیت علماء اسلام کے منشور کا حصہ ہے۔ تو جو چیزیں دنیا میں ہمارے اپنے فکر اور ہمارے نظریے کے مطابق آگے بڑھیں گی، ہم اس کو سپورٹ کریں گے۔

Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan

11,199 views • 17 days ago

کل کہتے تھے کہ لال مسجد میں جو ظلم ہوا ہے، یہ مولانا فضل الرحمٰن دیکھو، یہ جمعیت علماء دیکھو ! (حالانکہ) جب لال مسجد کا واقعہ ہوا تو جمعیت علماء تو نہیں تھی، مولانا صاحب تو آل پارٹیز کانفرنس میں شرکت کے لیے لندن چلے گئے تھے۔ اس دور کے آپ ان کے اخبارات اٹھا کر دیکھ لیں، ان کا میڈیا اٹھا کر دیکھ لیں، صبح شام جو انہوں نے مولانا فضل الرحمن صاحب اور جمعیت علمائے اسلام کے خلاف باتیں کی ہیں وہ ریکارڈ پر موجود ہیں۔ آج وہی سر پر چادر رکھ کر کہتے ہیں کہ جی لال مسجد میں تو کچھ ہوا ہی نہیں تھا، میں نے تو تحقیق کی ہے وہاں تو کچھ ہوا ہی نہیں تھا۔ تو آپ کو تحقیق کرنے میں بیس سال لگ گئے؟ تو سیدھی طرح کہو نا کہ 2005-06 میں جمعیت علمائے اسلام کے خلاف یہ سب کچھ کرنا بھی آپ کو ڈیوٹی کے طور پر سونپا گیا تھا اور آج بھی یہ کہنا تمہیں ڈیوٹی کے طور پر سونپا گیا ہے۔ آج تکرار ہو جائے گی، لیکن تابش نے ان کے لیے بڑا خوبصورت شعر کہا ہے اور بالکل ان پر فٹ ہے۔ اپنے آپ کو اہل مدرسہ کہتے ہیں نا، لیکن ڈیوٹی کس کی کرتے ہیں؟ اسٹیبلشمنٹ کی۔ دفاع کس کا کرتے ہیں؟ اسٹیبلشمنٹ کا۔ تو اسی پر تابش نے کہا تھا نا : منسوب چراغوں سے، طرفدار ہوا کے تم لوگ منافق ہو، منافق بھی بلا کے ! اپنے کردار کو تو دیکھو ذرا! کہتے ہیں جمعیت علمائے اسلام تو کوئی اور تھی، جمعیت علمائے ہند تو کچھ اور تھی۔ سوات کے لوگو! آپ مجھے بتاؤ، دو بھائیوں کے بیچ میں، اگر جس طرح کل مولانا صاحب نے کہا کہ جائیداد کی تقسیم ہو جائے، اور کوئی ڈیرہ اسماعیل خان سے اٹھ کر آپ کے پاس آ کر کہے کہ جی تم دونوں تو سرے سے بھائی ہی نہیں تھے، تمہارا ایک دوسرے کے ساتھ کیا کام؟ اس کو جوتے مارو گے کہ نہیں مارو گے؟ مارو گے نا ! اب جس کا جمعیت علمائے اسلام سے نہ کوئی تعلق ہے، نہ اس کا جمعیت علمائے ہند سے کوئی تعلق ہے، وہ بھی کہتا ہے کہ جمعیت علمائے ہند کوئی اور تھی، جمعیت علمائے اسلام کوئی اور ہے۔ یہ وہ مذہبی لبادے میں کھڑے منافق ہیں، یہ آپ کا مقابلہ کریں گے؟ ان کا کردار تو دیکھو ذرا ! اب جمہوریت کی اس جنگ میں بھی، آپ کے کردار کا مقابلہ کوئی بہت بڑا جمہوریت پسند نہیں کر سکتا۔ آئین کی سربلندی کی جنگ میں بھی کوئی بہت بڑا آئین کا علمبردار آپ کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔ اگر اسلام، شعائر اسلام، مذہبی ادارے، ہمارے عقیدے، ہمارے نظریے کے تحفظ کی جنگ میں بھی کوئی آپ کے کردار کا مقابلہ نہیں کر سکتا... تو جمعیت علمائے اسلام کے کارکنو! پھر یہ بتاؤ، پھر آپ کو سوشل میڈیا کے میدان پہ کوئی کیسے شکست دے گا؟ بتاؤ تو سہی ! Zia ur Rehman #مولانا_سے_معافی_مانگو #حلف_نبھاؤ_بارڈرجاؤ #سلیکشن_مافیا_نامنظور #آئین_شکن_مقدس_گائے #مولانا_شان_پاکستان

Ihsan Ullah Khan 🇵🇰

13,283 views • 1 month ago

تو ان مشکلات سے ہم گزر رہے ہیں، بلوچستان کے علاقوں میں خون ریزی ہو رہی ہے، جنگ ہے، پشتون علاقوں میں جنگ ہے، خیبر پختونخوا میں جنگ ہے، کشمیر میں، راولاکوٹ میں تین مہینے ہو گئے ہیں، لوگ بیٹھے ہیں، یہ ان سے بات کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔ کیا مقاصد ہیں؟ رفتہ رفتہ اس میں ان عناصر کو غلبہ مل رہا ہے جو خود مختار کشمیر کی بات کرتے ہیں، جذبات میں تبدیلی آ رہی ہے، کیا مقصد ہے؟ کیا اس ملک کو توڑنا ہے؟ یہ کہنا کہ ہم ملک کے محافظ ہیں، کسی کا باپ بھی اس ملک کو نقصان نہیں پہنچا سکتا، مانتے ہیں، آپ بڑے طاقتور ہیں، لیکن ہم، مجھے یاد ہے اور شاید کوئی بزرگ ایسے ہوں جو ان کو بھی یاد ہو، جب دسمبر 1971ء میں ہتھیار ڈالنے سے ایک دن پہلے جنرل یحییٰ خان نے قوم سے خطاب کیا اور کہا: ہم لڑیں گے، گلی گلی میں لڑیں گے، صحراؤں میں لڑیں گے، کھیتوں میں لڑیں گے، کارخانوں میں لڑیں گے، پہاڑوں میں لڑیں گے اور لڑیں گے، اور ان کے خلاف ہم جنگ لڑیں گے، اگلے دن ہتھیار پھینک دیئے یہ بڑے بڑے بول تو ہم نے اس وقت بھی سنے ہیں۔ ملک کو اور عوام کو کیوں امتحان میں ڈال رہے ہو؟ کیوں مزے لے رہے ہو، جب آپ کی پبلک اس کرب سے گزر رہی ہے۔ اور آج 2026ء ہے۔ 1979ء میں جب افغانستان میں انقلاب آیا اور جنگ شروع ہوئی، اب آپ بتائیں کہ پینتالیس، چھیالیس سال ہو رہے ہیں، ایک ہی خطے کے اوپر اتنے نصف صدی کے قریب خون بہہ رہا ہے۔ اس طرح کا خون جب بہتا ہے تو پھر وہ جغرافیائی تبدیلیوں کی نشاندہی کرتا ہے۔ تو پھر ہمیں اپنے ارادوں سے آگاہ تو کر دیجیے۔ ہم تو سہ رہے ہیں اور سہتے رہیں گے۔ چلتا رہے گا معاملہ، چند روز اور میری جان، فقط چند ہی روز ظلم کی چھاؤں میں دم لینے پہ مجبور ہیں اور کچھ دیر ستم سہ لیں، تڑپ لیں، رو لیں اپنے اجداد کی میراث ہے، معذور ہیں جس پہ قید ہے، جذبات پہ زنجیریں ہیں فکر محبوس ہے، گفتار پہ تعزیریں ہیں اپنی ہمت ہے کہ ہم پھر بھی جیے جاتے ہیں جس پہ قید ہے، جذبات پہ زنجیریں ہیں فکر محبوس ہے، گفتار پہ تعزیریں ہیں اپنی ہمت ہے کہ ہم پھر بھی جیے جاتے ہیں زندگی کیا کسی مفلس کی قبا ہے جس میں ہر گھڑی درد کے پیوند لگے جاتے ہیں ان حالات سے ہم نے لڑنا ہے، لیکن اب ظلم کی میعاد کے دن تھوڑے ہیں۔ ایک ذرا صبر، فریاد کے دن تھوڑے ہیں۔ عرصۂ دہر کی جھلسی ہوئی ویرانی میں ہم کو رہنا ہے کہ یوں ہی تو نہیں رہنا ہے اجنبی ہاتھوں کا بے نام غبارِ ستم آج سہنا ہے، ہمیشہ تو نہیں سہنا ہے۔

Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan

10,442 views • 12 days ago

اسلام آباد میں سرعام بدمعاشی!! ابھی ایک شہری نے ویڈیو بھیجی!! کہہ رہاہے, پاکستان میں واقع ہی جنگل کا قانون ہے جوکہ آج ثابت ہو گیا آج میں اپنے کزنز کے ہمراہ مری سے براستہ ایکسپریس وے اسلام آباد کی طرف اسلام آباد آرہے تھے, تو اسی دوران ایک TOYOTA AXIO گاڑی جسکو ایک شخص شراب میں دھت ہو کر 846-BMC رجسٹرڈ نمبری چلا رہا تھا جس نے پہلے دو تین بار ہماری گاڑی کو ہٹ کرنے کی کوشش کی اور جس سے پہلے تو ہم نے بمشکل خود کو بچایا تو وہ شخص کبھی ہمارے آگے کبھی ہماری سائیڈ پر آکر سائیڈ دبانے کی کوشش کرنے لگا آخر کار ہم نے گاڑی اس سے پیچھے کر لی تو اس نے ہم سے آگے گاڑی بھگا کر آگے لے گیا آگے جا کر ایکسپریس وے کے عین درمیان میں گاڑی کھڑی دی اس میں سے نکل کے ہمیں گالیاں دینی شروع کر دی اور گاڑی سے پسٹل نکال کر ہم پر تان لیا جو کہ ویڈیو میں صاف دیکھا جا سکتا ہے عین اس وقت ہم نے ہمت کرکے فورا موبائل سے ویڈیو بناتے ہوئے گاڑی پیچھے کو بھگا لی اور اس طرح ہماری بچت ہوئی لیکن 130 پہ موٹروے پولیس اور 15 پر کال کرنے کے باوجود وہ بندہ بھاگ گیا یہ ہے آپ کے پنجاب اور اسلام آباد کی پولیس کی کارکردگی ایک بندہ سرعام ایکسپریس وے کے اوپر شراب پی کر گاڑی چلا رہا ہے اور لوگوں کی گاڑیوں میں ہٹ کر رہا ہے اور سرعام روڈ کے درمیان میں گاڑی کھڑی کرکے لوگوں پر اسلحہ تان رہا ہے اور پولیس کو بار بار کال کرکے اطلاع دینے کے باوجود وہ بھاگ جاتا ہے وہ بھی اتنی آسانی سے کہ جیسے اٹے میں سے بال نکلتا ہے ایک مشہور شاہراہ پر لوگوں کی جان کی یہ اہمیت ہے کہ کوئی بھی کہیں بھی سرعام روڈ کے درمیان کھڑا ہو کر پسٹل تان لیتا ہے باقی, اگر اسلام آباد کا یہ حال ہے تو باقی ملک کا تو اللہ ہی حافظ ہے!!

ZEShan ⚫

33,324 views • 8 days ago

ہم مسجد میں امامت کر رہے ہیں تو اس کی ہم تنخواہ لے رہے ہیں، پھر تو ہماری امامت بھی ضائع ہو جائے گی۔ مدرسوں میں جو صحیح بخاری، صحیح مسلم، ہدایہ، قدوری پڑھا رہے ہیں، علمِ دین پڑھا رہے ہیں، وہ سارے اساتذہ 99 فیصد تو سب تنخواہ لیتے ہیں۔ اس پر پروپیگنڈا یہ ہوا کہ جی علماء بھی تو تنخواہ لیتے ہیں، شیخ الحدیث بھی تو تنخواہ لیتا ہے، کیا ان کی تنخواہوں، فلاں فلاں، کون شیخ الحدیث ہے جو کہتے ہیں تنخواہ میں لوں گا، بخاری شریف تم پڑھاؤ، پیسے میں لوں گا، مسلم شریف تم پڑھاؤ، رقم میں لوں گا، تدریس تم کرو، کون شیخ الحدیث ہے، کون ایسے کہتا ہے؟ جی امام بھی تنخواہ لیتا ہے، خطیب بھی تنخواہ لیتا ہے، کون امام ہے، کون خطیب ہے جو کہے امامت و خطابت کا مشاعرہ تم میں لوں گا، تنخواہ تو میں لوں گا، تے میرے اکاؤنٹ میں آئے گی، لہذا نمازیں عوام پڑھائے، کون شیخ الحدیث ہے جو اس طرح کی باتیں کرتا ہے؟ پھر کہتے ہیں کہ مولانا نے خوارج کو مضبوط کیا، شرم تمہیں نہیں آتی، جس بندے کی اولاد پہ حملے ہوئے، جس کی اپنی ذات پہ حملے ہوئے، جو بندہ 500 سے زائد شہداء کا وارث ہے، جس میں چھوٹے بچے بھی ہیں، جس میں خواتین بھی ہیں، جس میں جوان بھی ہیں، جس میں بزرگ بھی ہیں، جس میں پیرانِ طریقت بھی ہیں، جس میں پارلیمنٹیرینز بھی ہیں، وہ ان کی لاشیں اٹھا کر کیا اس وقت وہ شہداء کی مخالف بات کرے گا، وہ تو شہداء کے پرچم کو آگے لے کر چل رہا ہے، اس کے اوپر اس طرح کا غلیظ پروپیگنڈا کبھی نہیں چلے گا انشاء اللہ تعالیٰ #کنگال_عوام #عیاش_حکمران #چوکیدار_وڑگیا #مرد_آہن_مولانا #پروپیگنڈہ_برگیڈ

Maulana Muhammad Anwar

23,517 views • 1 month ago