Video yükleniyor...

Video Yüklenemedi

Ana Sayfaya Dön

قُلۡ اَفَغَیۡرَ اللّٰہِ تَاۡمُرُوۡٓنِّیۡۤ اَعۡبُدُ اَیُّہَا الۡجٰہِلُوۡنَ ﴿۶۴﴾ آپ کہہ دیجئے اے جاہلو! کیا تم مجھ سے اللہ کے سوا اوروں کی عبادت کو کہتے ہو۔ Surat No. 39 Ayat No. 64 #IslamicMessagingSystem #SahilAdeem #Taghut #ظاعوت

13,273 görüntüleme • 2 yıl önce •via X (Twitter)

10 Yorum

Zaynab profil fotoğrafı
Zaynab2 yıl önce

@SahilAdeem Pakistani culture mn jahil kehna allow ni hai jbksy islam jahil ko jahil he krhta hai iska matlab yehi taghoot hai pak culture

Eagle profil fotoğrafı
Eagle2 yıl önce

@SahilAdeem

اُ سا مہ ✍🏻 profil fotoğrafı
اُ سا مہ ✍🏻2 yıl önce

@SahilAdeem The true presenter of Isalm , The great Sahil adeem ❤️❤️

saher profil fotoğrafı
saher2 yıl önce

@SahilAdeem Weldone Sahil Bhai

Fariha Farid profil fotoğrafı
Fariha Farid2 yıl önce

@SahilAdeem You should have given a general statement.Why you pointed out on women. The whole nation is following the system of tagoot.Why only women are blamed.They are an easy target.

Mujahid profil fotoğrafı
Mujahid2 yıl önce

@SahilAdeem

Bukhari profil fotoğrafı
Bukhari2 yıl önce

@SahilAdeem Bhai apko kisne license dia jahaliat k certificate batnay ka

Shariq Anjum profil fotoğrafı
Shariq Anjum2 yıl önce

@SahilAdeem Yee joo log itna dhekhne ke baadh bhi ikhtilafat karthey hain asal jahil voo hain. Qur'an may Allah taala ne kaha indeed it is not the eyes that are blinded; it is rather the hearts in the breasts that are rendered blind.

Riz profil fotoğrafı
Riz2 yıl önce

@SahilAdeem تو پاکستان میں 95% خواتین اللہ کا منکر ہے؟ یا ابوجہل کی طرح رسول اللہ علیہ السّلام پر اعتراض کرتے ہیں؟

Sahil... profil fotoğrafı
Sahil...2 yıl önce

@SahilAdeem 2 story teller ek sath beth gye

Benzer Videolar

اہلِ مصر اہل البیت سے اتنی محبت کیوں کرتے ہیں ؟ جب سیدہ زینب سلام اللہ علیہا پر (کربلا کے واقعات کے بعد) مظالم ڈھائے گئے اور ان پر اپنے نانا محمد مصطفیٰ ﷺ کا شہر (مدینہ) بھی تنگ کر دیا گیا، تو اس وقت ابنِ عباس (رضی اللہ عنہ) نے، جو کہ کافی معمر ہو چکے تھے، آپؑ سے مخاطب ہو کر کہا: 'اے اللہ کے رسول ﷺ کی نواسی! آپ مصر تشریف لے جائیں، وہاں ایسے لوگ بستے ہیں جو اللہ کی رضا اور رسول اللہ ﷺ سے قرابت داری کی وجہ سے آپ سے بے پناہ محبت کرتے ہیں۔' پھر جب آپؑ مصر تشریف لائیں اور اہل مصر نے 'بلبیس' کے مقام پر آپؑ کا اس طرح استقبال کیا جیسے غم زدہ لوگوں کو پرسہ دیا جاتا ہے، اور جب آپؑ نے اہل مصر کا یہ والہانہ استقبال، محبت اور عقیدت دیکھی، تو آپؑ نے اہل مصر کے لیے وہ تاریخی دعا فرمائی: "اے اہلِ مصر! اے مصر کے رہنے والو! تم نے ہمیں پناہ دی، اللہ تمہیں پناہ دے۔ تم نے ہماری مدد کی، اللہ تمہاری مدد کرے۔ تم نے ہماری اعانت کی، اللہ تمہاری اعانت فرمائے۔ اللہ تمہارے ہر غم کو خوشی میں بدل دے اور ہر تنگی سے نکلنے کا راستہ عطا فرمائے۔" پس یہ وہ شہر (ملک) ہے جو ہمیشہ محفوظ رہے گا، اس کی ضمانت دی گئی ہے، یہ امن والا ہے کیونکہ یہ آلِ محمد ﷺ کا قبلہ (مرکزِ محبت) ہے۔ اللہ نے اس سرزمین کو یہ شرف بخشا ہے کہ یہاں آلِ بیتِ رسول ﷺ کی تقریباً 40 ہستیاں مدفون ہیں۔"

Mufti Fazal Hamdard

32,300 görüntüleme • 5 ay önce

پتہ نہیں میں بزدل ہوں، کمزور ہوں، یا ایمان ضعیف ہے، یہ تو اللہ کو بہتر پتا ہے۔ مطلب، جب بھائی آپ کا شہید کیا جائے، والد آپ کا شہید کیا جائے، کزن آپ کا اٹھا کر چھ مہینے غائب رکھا جائے اور پھر مسخ شدہ لاش آپ کے ہاتھ میں تھما دی جائے، اور جیتا ہوا الیکشن آپ سے چھین لیا جائے، تو پھر آپ کیا کریں گے؟ یہ تو پتہ نہیں، میں نے آپ کو کہا تھا کہ میں دوسروں کا نام نہیں لیتا، اپنی بات تو کر سکتا ہوں۔ آپ کی نظر میں پتہ نہیں میں بزدل ہوں، میں کمزور ہوں، یا میں کس سوچ اور فکر کا مالک ہوں، پھر بھی ہم کہتے ہیں کہ نہیں، خدا را! آپ ملازم کو نہیں بخش رہے۔ ایک ملازم کی کیا سزا ہو سکتی ہے؟ ایک سادہ سی ڈیمانڈ ہے، ڈی آر اے ہے اور یکساں نظامِ تنخواہ (Salary System) ہے۔ آپ کی نظر میں وہ بھی بد ہے۔ اب تو دروازے بند کر رہے ہو، عدالتوں سے انصاف کی توقعات آپ نے ختم کر دی ہیں، پارلیمنٹ کی خودمختاری آپ نے پاؤں تلے روند دی ہے۔ مطلب، وہ کیا کریں؟ وسائل ہمارے لوٹے جا رہے ہیں، اور ہم سب کچھ دیکھ رہے ہیں۔ میرے گھر کے سامنے سے گیس نکل رہی ہے، مگر میں اس سے مستفید نہیں ہوں؛ لوگوں کے کارخانے اس سے چل رہے ہیں۔ میرے گھر سے سونا نکالا جا رہا ہے، کوئلہ نکالا جا رہا ہے، لیکن میں دو وقت کی روٹی کے لیے ترس رہا ہوں۔ یعنی میں آپ سے پوچھنا چاہتا ہوں: کیا اس وقت پاکستان کی اہمیت پنجاب کے کیلے اور مالٹے ہیں، یا بلوچستان اور پشتونخوا کے ساحل اور وسائل؟ اصغر خان اچکزئی (صدر، اے این پی بلوچستان)

Asghar khan Achakzai

54,629 görüntüleme • 7 ay önce

سات ستمبر کا دن اس فتح کا دن ہے،جب ختمِ نبوت کے قلعے کو توڑنے کے لیے ایک سامراجی ایجنٹ نے جھوٹی نبوت کا لبادہ اوڑھا، اور عوامی تحریک اور ہمارے اکابر کے پارلیمانی کردار نے اس کے کفر کو بے نقاب کیا اور پوری دنیا کو بتا دیا کہ قادیانی ہو یا لاہوری گروپ، جو اپنے آپ کو احمدی کہتے ہیں، یہ دائرۂ اسلام سے خارج ہیں، اور اب پاکستان میں ان کو غیر مسلموں کی فہرست میں درج کیا جائے گا۔ یہ معمولی معرکہ نہیں تھا۔ اس معرکے میں ہمارے بزرگوں نے جس ذہانت کا مظاہرہ کیا اور جس طرح ان کو بے نقاب کیا، یہاں تک کہ جب ان سے پوچھا گیا کہ اگر تمہارے مدعیِ نبوت پر کوئی ایمان نہیں لاتا تو آپ کی نظر میں وہ کافر ہے یا نہیں؟ تو انہوں نے کہا: کافر ہے۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ اگر ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ آج زندہ ہوتے، اگر حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ آج زندہ ہوتے، اگر حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ زندہ ہوتے، اگر حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ زندہ ہوتے، اگر حضرات حسنین رضی اللہ تعالیٰ عنہما زندہ ہوتے، اور وہ مرزا غلام احمد پر ایمان نہ لاتے تو کیا وہ بھی کافر ہوتے؟ تو اس نے کہا: ہاں، وہ بھی کافر ہوتے۔ پروپیگنڈا تو کیا جا رہا ہے کہ قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دیا گیا، اور کوئی نہیں پوچھتا ان سے کہ تم ابو بکر صدیق سے لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آج کے امتی تک کو بھی کافر کہتے ہو۔ پوری امتِ مسلمہ کو کافر کہنا یہ مغرب کی نظر میں جرم نہیں ہے، لیکن اس ایک چھوٹے سے طائفے اور گمراہ طائفے کو کافر قرار دینا، جیسے بہت بڑا کوئی حادثہ ہوگیا۔ جب سات ستمبر دو ہزار چوبیس کو سات ستمبر انیس سو چوہتر کے فیصلے کی گولڈن جوبلی منائی گئی اور مینارِ پاکستان پر پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا اجتماع ہوا، پوری تاریخ کے تمام اجتماعات کے ریکارڈ توڑ دیے، اس نے ایک بار پچاس سال کے بعد ثابت کر دیا کہ آج بھی پوری قوم پارلیمنٹ کے اس فیصلے کے پشت پر کھڑی ہے۔ لہٰذا تم کچھ بھی کر لو، امریکہ کی پشت پناہی لے لو، یورپ کی پشت پناہی لے لو، اور کم بخت! تم تو خود لکھتے ہو کہ میں انگریز کا خودکاشتہ پودا ہوں۔ جو انگریز کا خودکاشتہ پودا ہے، اس نے ہمیں دین دینا ہے؟ اللہ پر بہتان باندھنے کی یہی چیزیں ہیں کبھی اللہ کا شریک ٹھہرایا کرتے تھے، کبھی اللہ کے لیے بیوی اور بچے تجویز کرتے تھے، اور کبھی کہتے تھے کہ یہ وحی تو ہم پر بھی آسکتی ہے۔ تو اس قسم کے بہتان کو اللہ رب العزت نے بڑی شدت کے ساتھ رد کر دیا۔

Maulana Fazl-ur-Rehman

24,484 görüntüleme • 5 gün önce

اب آپ ناراض کس بات پر ہوئے ہیں؟ کہ میں نے کہا: "ہم لشکر نہیں بنائیں گے۔" آپ قبائل سے جگہ جگہ کہہ رہے ہیں کہ تم لشکر بناؤ اور لڑو۔ ہم نے کہا: "نہیں، یہ عوام کی ذمہ داری نہیں ہے۔" اس کے لیے آپ ہیں۔ آپ ہی بھرتی ہوتے ہیں، آپ ہی پیٹیاں باندھتے ہیں۔ لیکن پھر بھی پاکستان کے عوام نے آپ کو اخلاقی طور پر سپورٹ کیا ہے۔ آپ عوام کو جنگ میں جھونکنا چاہتے ہیں۔ تو پھر میں بتانا چاہتا ہوں کہ مشرقی پاکستان میں تم نے عوام سے کہا تھا کہ تم لشکر بناؤ۔ تو البدر بنا، الشمس بنا۔ اس نے پاکستانی فوج کے شانہ بشانہ لڑائی لڑی۔ آج بھی وہ دشمنی برقرار ہے یا نہیں؟ عوامی لیگ اور جماعتِ اسلامی کی آج بھی برقرار ہے۔ آج بھی جماعتِ اسلامی کے لوگوں کو پھانسیاں نہیں دی گئیں؟ تو تم ہماری قوم اور عام آدمی کو اس طرح کی دشمنیوں میں الجھانا چاہتے ہو؟ اور میں کیوں لشکر بناؤں؟ میری صوبائی حکومت، خواہ میرے اختلاف ہی کیوں نہ ہوں، وہ آپ سے کہتی ہے کہ ہم خود پولیس کو استعمال کر کے جنگ لڑ سکتے ہیں، فوج سائیڈ پر ہو جائے۔ تو آپ صوبائی حکومت کی طاقت کو استعمال کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں، اور آپ عام آدمی کو کہہ رہے ہیں کہ لشکر بناؤ۔ پہلے صوبائی حکومت کی پیشکش کو تو قبول کرو۔ اور نتیجہ یہ نکلا ہے، کہ بنوں میں چند مہینوں کے اندر اندر کتنی دفعہ چھاؤنی پر حملے ہوئے۔ وہ اندر داخل ہو گئے۔ ابھی حال ہی میں کتنے تھانوں پر انہوں نے قبضے کیے۔ کئی کئی دن تک قابض رہے۔ اور بالآخر پولیس نے اعلان کر دیا کہ: "اب ہم آپریشن میں فوج کے ساتھ نہیں لڑیں گے، ہم خود لڑیں گے، اپنے افسروں کا حکم نہیں مانیں گے۔" لہٰذا چین آف کمانڈ ٹوٹ چکا ہے۔ اور میرے بنوں کا سپاہی اپنے ڈی پی او کا حکم نہیں مانتا، اپنے ڈی آئی جی کا حکم نہیں مانتا، اپنے آئی جی پی کا حکم نہیں مانتا۔ اس کے بعد لکی مروت میں وہاں کی پولیس نے باقاعدہ اعلان کر دیا کہ: "ہم اپنی کمیٹی بنائیں گے، ہم اپنے طور پر لڑیں گے، ہم فوج کا سہارا لینے کے لیے تیار نہیں، نہ ان کے شانہ بشانہ لڑنے کے لیے تیار ہیں۔" وہ نہ ڈی پی او کو مانتے ہیں، نہ ڈی آئی جی کو، نہ آئی جی کو، اور ابھی چار دن ہوئے ہیں، چار دن، ٹانک میں پولیس ایک مسجد میں جمع ہوئی، ڈی پی او کو بھی ساتھ لائے۔ سب نے قرآنِ کریم پر ہاتھ رکھا کہ: "ہم فوج کے شانہ بشانہ نہیں لڑیں گے، اور اگر ہمارا سپاہی شہید ہوا تو کسی فوجی کو اپنے جنازے میں شریک ہونے کی اجازت بھی نہیں دیں گے۔ یہاں تک حالات پہنچ گئے ہیں۔ اب کیا رہ گیا؟ ڈیرہ اسماعیل خان رہ گیا، کرک رہ گیا، کوہاٹ رہ گیا۔ اب اس حالت تک ملک کو کس نے پہنچایا ہے؟ کیا یہ فضل الرحمٰن نے پہنچایا ہے؟ تمہاری اپنی فورسز تم پر اعتماد نہیں کر رہیں۔ تمہاری پالیسیوں سے مایوس ہو چکی ہیں۔ تو کبھی اپنے گریبان میں بھی جھانکو۔ اب تم فرشتے تو نہیں ہو کہ معصوم ہو، تم غلطی نہیں کرتے؟ دیکھیں! میرے مضمون کو سمجھو، میرے مضمون کو پڑھو، میرے لفافے کو نہ دیکھو،میں کیا کہنا چاہتا ہوں؟ اول سے لے کر آخر تک قوم کو میری تقریر سناؤ۔ اس میں توہین کی کون سی بات ہے؟ بے توقیری کی کون سی بات ہے؟ ہاں، میں نے آپ کو اپنی ذمہ داریوں کا احساس دلایا ہے، آپ کو اپنے دائرۂ کار کا احساس دلایا ہے، آپ کو اپنے دائرۂ اختیار کا احساس دلایا ہے کہ اپنے حدود میں رہو۔ تمہاری ساری توانائیاں پاکستان کے اوپر اپنی سیاسی گرفت مضبوط کرنے میں صرف ہو رہی ہیں۔ اور آج بھی جو تم نے شہداء کا مسئلہ اٹھایا ہے، تم اپنے ملک میں سیاسی تسلط اور سیاسی گرفت کو مضبوط بنانے کے لیے شہداء کے خون کو بطور ایندھن استعمال کرنے کی کوشش کر رہے ہو۔ اپنے جرائم کو چھپانے کے لیے شہداء کے پیچھے چھپتے ہو۔ ہم آپ سے کوئی جنگ نہیں لڑ رہے۔ ہم آپ کی پالیسیوں سے اختلاف کر رہے ہیں۔ میرے دلائل کا جواب دلائل سے دیجیے۔ کہتے ہیں: "معافی مانگنی ہے۔" میں نے مانگنی ہے یا تم نے مانگنی ہے؟ غلطی تم نے کی ہے۔ ہم تو رسول اللہ ﷺ کے اس ارشاد پر عمل کرتے ہیں: سَلُوا اللهَ الْعَافِيَةَ، وَلَا تَتَمَنَّوْا لِقَاءَ الْعَدُوِّ اللہ سے عافیت مانگا کرو، دشمن کا سامنا کرنے کی تمنا نہ کیا کرو۔ لیکن اگر مقدر میں ہے اور مقابلہ ہو گیا، پھر ڈٹ جاؤ۔ یہ اصول ہے۔ میں اپنی فوج کو دشمن نہیں کہہ رہا۔ میں اپنی فوج کو پاکستان کی فوج کہتا ہوں۔ اور جب میں پاکستانی ہوں تو فوج بھی پاکستانی فوج میری ہوئی۔ میں اپنی فوج کو اپنی فوج سمجھتا ہوں۔ لیکن جب آپ اپنے دائرۂ اختیار سے تجاوز کریں گے.... کسی کو اپنے عمل کا حساب کیا دیتے سوال سارے غلط تھے، جواب کیا دیتے قائد جمعیت مولانا فضل الرحمٰن کا اسلام آباد میں وکلاء کنونشن سے خطاب #قائدانقلاب_مولانا #سیاسی_چوکیدار #مولانا_سے_معافی_مانگ #شہداء_صرف_بہانہ #لشکر_نہیں_امن

Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan

36,465 görüntüleme • 1 ay önce

آپ اپنے شہداء کی بات کرتے ہیں، مجھے سکھاتے ہو کہ شہید کس کو کہتے ہیں؟ مجھے سکھاتے ہو کہ شہید کا مقام کیا ہے؟ میں قرآن و سنت کا ایک طالب علم ہوں، میں شہید کے مقام کو جانتا ہوں، شہید کیا ہوتا ہے؟ جو شہید اپنے وطن کے لیے قربانی دیتا ہے، اس کی قدر و منزلت کو میں جانتا ہوں۔ آپ مجھے اس کی قدر و منزلت نہ سمجھائیں۔ میں تمہیں جانتا ہوں کہ تمہاری نظر میں اپنے شہداء کی کیا قدر و قیمت ہے۔ پاکستان ایک ادارہ جاتی ملک ہے، اور پوری دنیا میں ادارے متعین ہیں، ان کا دائرۂ کار متعین ہے، ان کا دائرۂ اختیار متعین ہے۔ اگر میں نے آپ کو ان کی ذمہ داریوں کی طرف متوجہ کیا ہے، اگر میں نے آپ کو ان کے اپنے دائرۂ کار اور اس دائرۂ کار کے اندر ان کی صلاحیتوں کی طرف متوجہ کیا ہے، تو میں اب بھی کہتا ہوں: پالیسی ساز لوگو! سپاہی نے تو آپ کا حکم ماننا ہے۔ پالیسی ساز تو آپ بڑے ہیں۔ میں آپ کی پالیسیوں سے اختلاف کر رہا ہوں، بڑے ادب و احترام کے ساتھ اختلاف کر رہا ہوں، لیکن آپ میرے بیان کی ازخود تشریح کر کے جو میری کردار کشی کرنا چاہتے ہیں، اور سمجھتے ہیں کہ فضل الرحمٰن جھک جائے گا، سرنڈر کر جائے گا۔ یاد رکھو! مجھے میرے ماں باپ نے سرنڈر ہونے کے لیے نہیں جنا۔ اور میں نے آپ کو اپنی ذمہ داریوں تک محدود رہنے کی بات کی ہے۔ یہ میں نے پہلی مرتبہ نہیں کی۔ یہ تو پارلیمنٹ میں اور عام جلسوں میں بھی میں نے بار بار کہی ہے۔ قصور والی بات قصوروار ٹھہری، اور عجیب بات بتاؤں، وکلاء حضرات! ذرا اس پر بھی غور کریں کہ اڑتالیس گھنٹے بعد ان کو پتا چلا کہ میں نے یہ بات کہی ہے۔ مجھے افسوس یہ ہے کہ میرے خلاف بدنیتی پر مبنی ایک جملے کی غلط تشریح کر کے قوم کو گمراہ کرنے کی کوشش کی گئی، عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش کی گئی، میڈیا کو گمراہ کرنے کی کوشش کی گئی، اور شہداء کے خاندانوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کی گئی۔ میں ان کو بتانا چاہتا ہوں کہ صرف ہم ہیں، الحمد للہ، صرف ہم ہیں جنہوں نے ایک سے زیادہ مرتبہ جلسوں میں یہ بات کہی ہے: "اگر میری فوج پر خدا سخت وقت نہ لائے، میرے ملک پر خدا برا وقت نہ لائے، ورنہ جب میری فوج اپنے ملک کا دفاع کرے گی تو میرے یہ فقیر ان شاء اللہ اپنے فوجیوں کے شانہ بشانہ مورچوں میں کھڑے ہوں گے۔" آپ نے کبھی ہمارے اس جذبے کو سراہا؟ اور قربانیاں ہیں، اگر پاکستان کا ایک سپاہی ملک کے لیے قربانی دیتا ہے، اور اسی لیے وہ فوج میں بھرتی ہوا ہے، تو جمعیۃ علماء اسلام تو فوج نہیں ہے، پھر میری جمعیۃ علماء اسلام کی صفوں کے اندر سے بڑے اکابر سے لے کر عام علماء اور طلبہ تک دو سو سے زیادہ شہداء ہم نے کیوں دیے؟ کس کے لیے دیے؟ تم نے اس قسم کی حرکت کر کے جمعیۃ علماء اسلام کے کارکنوں اور ان کی قربانیوں کا مذاق اڑایا ہے، اور اب اس کا ردِعمل آئے گا۔ آپ سمجھتے ہیں کہ ہم پیچھے ہٹ جائیں گے؟ ہم نے ترتیب بنا لی ہے۔ میں چاروں صوبوں میں جاؤں گا۔ چاروں صوبوں میں وہاں کے عوام اور کارکنوں کے درمیان جاؤں گا، بڑے جلسوں سے بھی اور کنونشنوں سے بھی خطاب کروں گا۔ میں اپنا موقف لے کر آگے جاؤں گا۔ تم نے میرے علماء کو شہید کیا۔ علماء کرام شہید ہوئے۔ میرے استاد اور میرے شیخ مولانا حسن جان شہید ہو گئے۔ میرے والد صاحب کے شاگردِ رشید، وزیرستان کے استاد الاساتذہ مولانا نور محمد شہید ہو گئے۔ مولانا معراج الدین، جو میں سمجھتا ہوں کہ میرا دایاں بازو تھے، تم نے وہ بازو توڑ دیا۔ اور میں نے باجوڑ میں ایک جلسے کے ایک سو جنازے اٹھائے ہیں، میں روزانہ خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں کہیں نہ کہیں دو یا تین جنازے اٹھا رہا ہوں۔ میں تو آپ کے ہر جنازے پر آپ کے ساتھ رویا ہوں۔ کبھی یاد ہے کہ تم میرے جنازے پر میرے ساتھ روئے ہو؟ مجھے کہتے ہو تم نے غلط بات کی ہے؟ میں کہتا ہوں تم نے اپنے شہداء کی بھی تذلیل کی ہے، فوج کے شہداء کی بھی تذلیل کی ہے، ان کے خاندانوں کی بھی تذلیل کی ہے، تم نے میرے شہداء کی بھی تذلیل کی ہے، تم نے ان کی بھی بے توقیری کی ہے۔ معافی کہتے ہو فضل الرحمٰن مانگے؟ نہیں! آج اگر میری بات غلط ہے تو مجھے ضرور رائے دیں۔ آپ قانون کے ماہر ہیں، میری رہنمائی کریں۔ میرا مطالبہ یہ ہے کہ جس فوج نے، جس جنرل نے، جس دفتر سے میرے خلاف اور میری جماعت کے خلاف پروپیگنڈا کمانڈ کیا ہے، اس کو معافی مانگنی ہوگی۔ ہم نے ایسی کوئی کچی گولیاں نہیں کھیلی ہیں۔ بھروسا تم نے توڑا تھا، مگر خود کو سزا یوں دی کہ پھر جو مل گیا مجھ کو، بھروسا کر لیا اُس پر قائد جمعیت مولانا فضل الرحمٰن کا اسلام آباد میں وکلاء کنونشن سے خطاب #مرد_آہن_مولانا #پروپیگنڈہ_برگیڈ #چوکیدار_وڑگیا #BroadcastMaulanaNow #LawyersStandWithMaulana

Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan

24,668 görüntüleme • 1 ay önce

بھروسا تم نے توڑا تھا مگر خود کو سزا یوں دی کہ پھر جو مل گیا مجھ کو، بھروسا کر لیا اس پہ۔ عدم اعتماد کی فضا تم نے پیدا کی۔ میرے مخالفین ساری زندگی کبھی ملا ملٹری الائنس کہتے تھے، کبھی کہتے تھے کہ اسٹیبلشمنٹ کے بہت قریب ہے۔ کیوں؟ میری سیاست اعتدال کی ہے۔ میں مذہبی طبقے سے تعلق رکھتا ہوں، اور اس کو اشتعال دلانے کے لیے پوری دنیا وسائل استعمال کر رہی ہے۔ اس ماحول میں رہ کر جب میں اپنے ماحول کو اعتدال کی راہ دکھاؤں گا تو یقیناً کچھ نرمیاں اس کے اندر آئیں گی۔ کوئی اس کو کہتا ہے: تم مفاد پرست ہو، موقع پرست ہو، تم نے فلاں جگہ یہ کیا، وہ کیا۔ نہیں! ہم نے حالات کے مطابق پالیسی اختیار کی، اور ہم کبھی حکومتوں کی خواہش پر نہیں چلے۔ میں اگر 1988ء میں اسمبلی میں آیا، تب بھی اپوزیشن میں تھا۔ مجھے 1990ء میں ہرایا گیا۔ 1993ء میں آیا، میں پھر اپوزیشن میں تھا۔ 1997ء میں اسمبلی میں آیا، میں پھر اپوزیشن میں تھا۔ تم نے میرے خلاف اس وقت بھی گندا پروپیگنڈا کیا، غلیظ ترین پروپیگنڈا کیا۔ کبھی کہا: ڈیزل پرمٹ خریدا ہے۔ پھر ڈیزل پرمٹ اگر میں نے لیا ہے تو دستاویز ہوگی نا؟ پرمٹ کے معنی ہی دستاویز ہیں۔ 2003ء، 2004ء میں آپ نے میرے خلاف یہ پروپیگنڈا کیا۔ آج 2026ء ہے۔ کہیں کوئی اس کا ریکارڈ، کوئی دستاویز، کوئی ثبوت تمہیں آج تک ملا؟ کہتے تھے: پلازے لے لیے ہیں، فیکٹریاں بنا لی ہیں، دبئی میں ہوٹل بنا لیے ہیں۔ اسی ہزار کی لسی پی لی ہے، دو دن ہوٹل میں ٹھہرا ہوں تو کہتے ہیں: اسی ہزار کی لسی پی لی ہے۔ شرم بھی نہیں آتی اس قسم کی گفتگو کرتے ہوئے۔ اور پھر ایک وقت آیا جب اسٹیبلشمنٹ کی ایک اہم شخصیت نے مجھے پیغام بھیجا کہ وہ مجھ سے ملنا چاہتے ہیں۔ میں نے انکار کر دیا۔ پھر نوابزادہ نصر اللہ خان مرحوم درمیان میں آئے اور مجھے کہا: "آپ کو بات کر لینی چاہیے۔" میں نے اپنی جماعت سے مشورہ کیا۔ انہوں نے بھی مجھے کہا: "ہاں، ہمیں مل لینا چاہیے تاکہ پتا تو چلے کہ ہم کس غار سے ڈسے جا رہے ہیں۔" ان ملاقاتوں میں جب میں نے اپنی شکایات ان کے سامنے رکھیں، اور میں نے ان کو چیلنج کیا کہ اللہ تمہیں دیکھ رہا ہے، اللہ تمہیں سن رہا ہے، میں بھی بیٹھا ہوں، تم بھی بیٹھے ہو۔ اگر میرے ہاتھ سے یا میرے ماحول کے اندر کوئی ایسے غلط کام ہوئے ہوں، کوئی ایسے غلط مفادات میں نے حاصل کیے ہوں، تو اللہ کے لیے کم از کم مجھے واضح طور پر بتا دو کہ فضل الرحمٰن، آپ کے اندر یہ نقص ہے۔ اس اعلیٰ ترین افسر نے سر جھکایا، پھر سر اٹھایا، پھر کہا: "مولانا! کوئی ایسی بات نہیں ہے، قطعاً کوئی ایسی بات نہیں ہے۔" تو میں نے کہا: "پھر میری کردار کشی کیوں کی؟ کیوں میرے بارے میں یہ غلط باتیں کیں؟" انہوں نے کہا: "میں متعلقہ حلقوں (Concerned Quarters) کو ہدایت دے دوں گا، ان شاء اللہ آئندہ ایسا نہیں ہوگا۔ تو میں نے کہا: آپ نے تو کہہ دیا کہ ہم نے جو بولا، جھوٹ بولا، غلط بولا، اور آئندہ ہدایت دے دوں گا کہ ایسا نہیں ہوگا، لیکن میرا دعویٰ تو اپنی جگہ برقرار ہے کہ تم نے الیکشن میں دھاندلی کرائی ہے، اور حکمران جو بھی بنے گا، دھاندلی سے بنے گا۔سو آج میرا سوال یہ ہے کہ دھاندلی سے بنی ہوئی حکومت ہمیں قبول نہیں قائدِ جمعیت مولانا فضل الرحمٰن کا اسلام آباد میں وکلاء کنونشن سے خطاب #قائدانقلاب_مولانا #سیاسی_چوکیدار #مولانا_سے_معافی_مانگ #شہداء_صرف_بہانہ #لشکر_نہیں_امن

Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan

14,962 görüntüleme • 1 ay önce

پنجاب سمیت پاکستان کے مختلف شہروں میں احمدیوں کوتشدد کا نشانہ بنانے اوران کی عبادت گاہوں کو نقصان پہنچانے کے تسلسل کے ساتھ پیش آنے والے واقعات نہایت افسوسناک اورقابل مذمت ہیں۔ ایسالگتاہے کہ ملک میں مذہبی منافرت پھیلانے کےلئے احمدیوں کےخلاف کوئی نئی سازش بنائی گئی ہےجس کے تحت احمدیوں کی عبادت گاہوں کونقصان پہنچانے، انہیں جسمانی طورپرنقصان پہنچانے، ان کی ماں بہن بیٹیوں کی بے حرمتی کرنے اوران کی املاک کونقصان پہنچانے کاسلسلہ شروع کردیاگیا ہے۔ میرا سوال یہ ہےکہ جب آپ ملک کے آئین میں لکھ چکے ہیں، پارلیمنٹ میں قانون سازی کرکے احمدیوں کو غیرمسلم قراردے چکے ہیں کہ وہ قومی شناختی کارڈ میں اپنے آپ کو مسلمان نہیں لکھ سکتے۔انہیں احمدی لکھنا ہوگا یا قادیانی لکھناہوگا۔ اب جب یہ بات طے ہوگئی ہے، آپ انہیں غیرمسلم قراردے چکے ہیں اور آپ انہیں مسلمان مانتے ہی نہیں ہیں توآپ احمدیوں سےایک انسان ہونے کےناطے ان کی جان مال تباہ وبرباد کرنے اورانہیں نقصان پہنچانے پرکیوں تلے بیٹھے ہیں؟کیاآپ کچھ شہریوں سےاس بنیاد پرکہ وہ احمدی ہیں، ان سے زندہ رہنے کاحق بھی چھین لیں گے؟ یہ کونسا مولوی ہےجویہ بتاتاہے کہ احمدیوں کی عبادت گاہوں کو جلادو، تباہ کردو، انہیں ماردو؟ یہ نہ اللہ تعالیٰ نے کہاہے نہ رسول اللہ ۖ نےکہاہے ۔مولوی درس دیکرہم سے تو مظاہرے کرواتاہے،عوام سے کہتا ہے کہ امریکہ، برطانیہ، جرمنی اوردیگر یورپی ممالک میں بہت فحاشی اورعریانی ہےلیکن خود تبلیغ کے نام پر ان ممالک کے دوروں پرجاتا ہے ۔ میں سوال کرتاہوں کہ کیاکہ عیسائی حضرت محمدمصطفےٰ ۖ کی رسالت کو مانتے ہیں؟ کیایہودی حضورۖ کی رسالت اورختم نبوت پر یقین رکھتے ہیں؟ کیا ہندو یا بدھ مت مذہب کے ماننے والے آنحضرت ۖ کی رسالت اورختم نبوت کو مانتےہیں؟ وہ نہیں مانتے اسلئے آپ اپنے علاقوں میں عیسائیوں کےگھروں، عبادت گاہوں کوجلادیتے ہیں،ان پر توہین مذہب کاالزام لگاکران کومارتےہیں لیکن تعلیم اور روزگارحاصل کرنےکےلئےانہی عیسائی ممالک میں جاتے ہیں، ہمارا ملک انہی ممالک سے بھیک مانگتاہے۔میں عوام سے ہاتھ جوڑکراپیل کرتاہوں کہ خدارا آپ انتہا پسندی کا درس دینے والے مولویوں کی باتوں میں نہ آئیے۔ مجھےبہت افسوس ہےکہ آج پنجاب کے مختلف شہروں اورکراچی میں بھی احمدیوں کی عبادت گاہوں پر حملےکئے جارہے ہیں،وہ اپنی عبادت گاہوں میں نمازیں پڑھ رہے ہیں تو وہاں احتجاجی مظاہرے کئےجارہے ہیں،انہیں زدوکوب کیا جارہاہے،جب پوچھاجاتا ہے کہ مظاہرے کیوں کئے جارہے ہیں تو جواب دیا جاتا ہےکہ یہ ہماری طرح نمازکیوں پڑھتے ہیں، رکوع وسجود کیوں کرتےہیں۔ جب آپ انہیں غیرمسلم قراردے چکے ہیں توآپ کا ان سےکوئی تعلق نہیں ہے۔آپ کوکوئی حق نہیں پہنچتاکہ آپ ان کےطریقہ ء عبادت پراعتراض کریں، انہیں ان کی عبادت سے روکیں اوران کی عبادت گاہوں کونقصان پہنچائیں۔ یہ سراسر ظلم ہے، جبر ہے، غنڈہ گردی ہے،بدمعاشی ہے۔ یہ جوعمل کیاجارہاہے وہ غیرشرعی ہے، غیراسلامی ہے اورمرضیء الٰہی کےخلاف ہے۔ کوئی احمدی ہو،پارسی ہو، ہندو، عیسائی، یہودی ہویاکسی بھی مذہب یاعقیدے کا ماننےوالاہو، اسے اللہ تعالیٰ پیدا کرتاہے، جب اللہ نے اس کوپیدا کردیا توپھر اللہ اس سےتعصب نہیں کرتاکہ یہ میرے بندے کس کی عبادت کررہے ہیں،کیوں کررہے ہیں،ان کوتباہ وبرباد کردو۔اللہ انہیں بھی رزق دیتاہے، انہیں آکسیجن فراہم کرتاہے،انہیں اولاد کی نعمت عطا کرتا ہے، انہیں ان کی محنت کاپھل دیتا ہے، اللہ اپنے بندوں میں تفریق اورنفرت وتعصب نہیں کرتاہے۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے فرمایاہے '' لکم دینکم ولی الدین '' تمہارادین تمہارے ساتھ، میرادین میرے ساتھ ''۔ جو لوگ غیرمسلموں کو ازیتیں پہنچارہے ہیں، ان کی عبادت گاہوں کو نقصان پہنچارہے ہیں ان کےلئے قرآن مجید میں واضح طورپر ارشادِ باری تعالیٰ ہےکہ'' لااکراہ فی الدین ''، ''دین میں کوئی جبر نہیں ''۔ یعنی کوئی کسی بھی طرح عبادت کررہا ہو اس بنیاد پر آپ ان کےساتھ زیادتی نہ کریں۔آپ دین کی بنیادپرکسی پرجبر کرکےکسی کو اپناہم خیال ،ہم نوا، یا ہم مذہب نہیں بناسکتے۔ جولوگ احمدیوں یادیگر غیرمسلموں اوران کی عبادت گاہوں کو نقصان پہنچارہے ہیں وہ اللہ تعالیٰ کے احکامات کی خلاف ورزی کر رہے ہیں۔ آپ سےکون کہہ رہاہےکہ آپ اپنادین چھوڑ دیں یا کسی کادین اپنالیں، آپ اپنےدین اور اپنے عقیدے پرقائم رہیں اوردوسروں کوان کے عقیدے پررہنےدیں۔میں ہاتھ جوڑکراپیل کرتاہوں کہ خدارا احمدیز یاکسی بھی غیرمسلم یاکسی دوسرے عقیدے کے ماننےوالےکومذہب اور عقیدے کےاختلاف کی بنیاد پرزدوکوب کرنا،اسے زیادتی کا نشانہ بنانا،ان کےگھروں یاعبادت گاہوں کونقصان پہنچانا بند کردیں۔ عیسائی ہوں، ہندوہوں، بدھ مت ہو، یہودی ہوں، احمدی ہوں،کسی بھی غیرمسلم کی عبادت گاہوں کونقصان نہ پہنچائیں۔ 1/2

Altaf Hussain

38,906 görüntüleme • 1 yıl önce

” ذاکر جان، کہاں ہو تم؟ میں آپ کے بلوچستان کو چھوڑ آئی ہوں “ ذاکر مجید بلوچ کی جبری گمشدگی کو سولہ سال مکمل ہو چکے ہیں۔ سولہ برس ایک ماں کی آہوں، سسکیوں اور لرزتے ہونٹوں کا کربناک سفر۔ ذاکر کی والدہ، جو ہر دن اپنے بیٹے کے نام کی صداؤں میں گزارتی ہے، آج بھی “ذاکر جان، ذاکر جان” پکار رہی ہے۔ شاید الفاظ اس کے درد کا مکمل احاطہ نہ کر سکیں، مگر اس کی فریاد، اس کی خامشی، اس کی چیخیں، سب کچھ کہہ رہی ہیں۔ اس کی سب سے دل چیر دینے والی بات یہی ہے: “ذاکر جان، میں آپ کے گھر، آپ کے بلوچستان کو چھوڑ آئی ہوں، کیونکہ وہاں مجھے انصاف نہیں ملا۔ریاستِ پاکستان نے مجھے انصاف نہیں دیا” یہ جملہ صرف ایک ماں کی شکستگی نہیں، یہ ریاستی نظام پر ایک دھچکہ ہے۔ یہ اس ملک کے قانونی، آئینی اور اخلاقی نظام پر ایک سوالیہ نشان ہے۔ جو لوگ کہتے ہیں کہ بلوچستان میں جبری گمشدگیاں “پروپیگنڈا” ہیں، وہ اس ماں کی آنکھوں میں جھانکیں۔ ان کی بے بسی شاید اُن کے سوئے ضمیر کو جگا سکے۔ یہاں جو لوگ کشمیر اور فلسطین کی ماؤں کے ساتھ دکھ کا اظہار کرتے ہیں، جو کہ ہم سب کو کرنا بھی چاہیے۔ مگر جب بات بلوچستان کی ماؤں پر آتی ہے، تو کیوں ہمارے لب سل جاتے ہیں؟ کیا اس لیے کہ یہاں جبر ریاست پاکستان کے ہاتھوں ہو رہا ہے؟ کیا درد صرف سرحد پار کے مظلوموں کا ہی معتبر ہے؟ یہ ایک ماں کی فریاد ہے جو نہ صرف ذاکر مجید بلوچ کے لیے ہے، بلکہ اُن تمام جبری گمشدہ افراد کی درد کی عکاسی اور اجتماعی پکار ہے جو بلوچستان کی ماؤں، بہنوں اور خاندانوں کی زندگیوں کو سالوں سے ایک اذیت میں ڈالے ہوئے ہے۔

Sammi Deen Baloch

14,908 görüntüleme • 1 yıl önce

دیکھیں سبیح بھائی جیل میں جانا میرے لیے بہت آسان ہے، میں آپ کو حلفاً کہہ رہا ہوں۔ میرے اپنے گھر والے مجھے اگست 2023 سے کہہ رہے ہیں کہ تم جیل میں چلے جاؤ، وہاں جا کر کم سے کم تم سے ہفتے میں ایک مرتبہ ملاقات ہو جایا کرے گی، تین وقت کا کھانا ملے گا، جگہ جگہ جہاں تم در بدر ہوتے پھر رہے ہو وہاں نہیں ہو گے، ہو سکتا ہے کوئی کمپنی بھی مل جائے اندر، پولیٹیکل کیپیٹل بھی آپ کو پتہ ہے سبیح بھائی، پاکستان کی سیاست میں جیل جا کے پولیٹیکل بھی بڑا بنتا ہے نا۔ تو یہ تنقید بھی جو ہے، جو آپ کہہ رہے ہیں 42ہزار کمنٹ ہیں میرے لئے، یہ بھی ختم ہو جائے گی جب میں جیل میں بیٹھا ہوں گا لڈو کھیلوں گا، یا مشکل وقت تو ہوتے ہی ہیں۔ لیکن یہ بھی میں اپ کو بتاتا ہوں کہ جو زندگی میں نے گزاری ہے نا پچھلے ایک ڈیڑھ سال میں اکیلے، وہ اگر جیل سے بدتر نہیں تو جیل سے بہتر بھی نہیں تھی۔ ایک سال ہو گیا میں نے اپنے بچوں کی شکل نہیں دیکھی، ایک سال ہو گیا میں نے اپنے گھر والوں سے ملاقات نہیں کی۔ میرا گھر سیلڈ، میرے کاروبار کو بھی سیل کیا گیا، میرے گھر کو توڑ دیا گیا، میرے بوڑھے والدین کو دو مرتبہ گرفتار کیا گیا۔ میرے لیے بہت آسان ہے کہ میں خان صاحب سے کہو کہ خان صاحب اب وقت اگیا ہے کہ میں جیل چلا جاتا ہوں، ضمانت ہونی ہوگی تو ہو جائے گی، نہیں ہونی ہوگی تو نہیں ہوگی۔ میں جیل میں وقت گزاروں گا پانچ مہینے یا چھ مہینے، باقی بھی تو لوگ گزار ہی رہے ہیں نا۔ ظاہر ہے میں بھی گزار سکتا ہوں اللہ کے فضل سے۔ پولیٹیکل کیپٹل بھی میرا بڑھ جائے گا، تنقید بھی ختم ہو جائے گی اور یہ جو پارٹی کا میرے اوپر ایک بات ہے دیکھیں بڑا کام کرنا پڑتا ہے۔۔۔ حماد اظہر کا انٹرویو-4 جون،2024

Fiza Alam

31,250 görüntüleme • 7 gün önce

علی ع کی وصیت ضربت کے بعد حسنینؑ شریفین اور ان کے چاہنےوالوں کے نام حضرت علی علیہ السلامؑ کی وصیت: اُوْصِیْکُمَا بِتَقْوَی اللّٰہِ میں تم دونوں کو خدا سے ڈرتے رہنے کی وصیت کرتا ہوں وَاِنْ لَا تَبْغِیَاالدُّنْیَا وَاِنْ بَغَتْکُمَا اور دنیا کی طرف مائل نہ ہونا خواہ وہ تمہاری طرف مائل ہو وَلَا تَأَسَفًا عَلیٰ شَیْ ءٍ مِنْھَا زُوِیَ عَنْکُمَا اور دنیا کی جو چیز تم سے روک لی جائے اس پر افسوس نہ کرنا وَقُوْلَا بِالْحَقِّ اور جو بھی کہنا حق کے لئے کہنا۔ وَاعْمَلَا لِلْاَجْرِ اور جو کچھ کرنا ثواب کے لئے کرنا وَکُوْنَا لِلظَالِمِ خَصْمًا وَلِلمَظْلُوْمِ عَوْنًا اور ظالم کے دشمن اور مظلوم کے مددگار رہنا اُوْصِیْکُمَا وَجَمِیْعَ وَلَدِیْ وَاَھْلِیْ وَمَنْ بَلَغَہُ کِتَابِیْ بِتَقْوَی اللّٰہِ وَنَظْمِ اَمْرِکُمْ میں تم دونوں کو، اپنی دوسری اولادوں کو، اپنے کنبے کے افرادکواور جن لوگوں تک میرایہ نوشتہ پہنچے، اُن سب کو وصیت کرتا ہوں کہ اللہ سے ڈرتے رہنا اور اپنے امور کو منظم رکھنا وَصَلَاحِ ذَاتِ بَیْنِکُمْ۔ فَاِنِّیْ سَمِعْتُ جَدَّکُمَاصَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ یَقُوْلُ:صَلَاحُ ذَاتِ الْبَیْنِ اَفْضَلُ مِنْ عَامَۃِ الصَّلٰوۃِ وَالصِّیَامِ اورباہمی تعلقات کو سلجھائے رکھنا، کیونکہ میں نے تمہارے نانا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے سنا ہے کہ:آپس کی کشیدگیوں کومٹانا عام نماز روزے سے افضل ہے وَاللّٰہَ اللّٰہَ فِیْ الْاَیْتَامِ، فَلاَ تُغِبُّوْاأَفْوَاہَہُمْ وَلَا یَضِیْعُوْا بِحَضْرَتِکُمْ دیکھو! یتیموں کے بارے میں اللہ سے ڈرتے رہناان پر فاقے کی نوبت نہ آئے اور تمہارے ہوتے ہوئے وہ برباد نہ ہوں وَاللّٰہَ اللّٰہَ فِیْ جِیْرَانِکُمْ، فَاِنَّھُمْ وَصِیَّۃُ نَبِیِّکُمْ، مَازَالَ یُوْصِیْ بِھِمْ، حَتَّی ظََنَنَّا أَنَّہُ سَیُوَرِّثُھُمْ دیکھو! اپنے ہمسایوں کے بارے میں خدا سے ڈرتے رہنا، کیونکہ ان کے بارے میں تمہارے نبیؐ نے برابر ہدایت کی ہےآپ ؐان کے بارے میں اس قدر تاکید فرماتے تھے کہ ہمیں یہ گمان ہونے لگا تھا کہ آپ ؐاُنھیں بھی ورثہ دلائیں گے وَاللّٰہَ اللّٰہَ فِیْ الْقُرْاٰنِ، لَا یَسْبِقُکُمْ بِالْعَمَلِ بِہٖ غَیْرُکُمْ اور قرآن کے بارے میں اللہ سے ڈرتے رہنا، کہیں ایسا نہ ہو کہ دوسرے اس پر عمل کرنے میں تم پر سبقت لے جائیں وَاللّٰہَ اللّٰہَ فِیْ الصَّلوٰۃِ، فَاِنَّھَاعَمُودُ دِیْنِکُم نماز کے بارے میں اللہ سے ڈرنا کیونکہ وہ تمہارے دین کا ستون ہے وَاللّٰہَ اللّٰہَ فِیْ بیْتِ رَبِّکُمْ، لَا تُخْلُوْہُ مَابَقِیْتُمْ اور اپنے رب کے گھر کے بارے میں خدا سے ڈرتے رہنا، جیتے جی اسے خالی نہ چھوڑنا فَاِنَّہُ اِنْ تُرِکَ لَمْ تُناظَرُوْا کیونکہ اگریہ خالی چھوڑ دیا گیا توپھر (عذاب سے) مہلت نہ پاؤ گے وَاللّٰہَ اللّٰہَ فِی الْجِہَادِ بِاَمْوَالِکُمْ وَاَنْفُسِکُمْ وَاَلْسِنَتِکُمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّہِ اپنے اموال، جان اور زبان سے راہِ خدا میں جہاد کے سلسلے میں خدا سے ڈرتے رہنا وَعَلَیْکُمْ بِالتَّوَاصُلِ وَالتَّبَاذُلِ، وَاِیَّاکُمْ وَالتَّدَابُرَوَالتَّقَاطُعَ تم پر لازم ہے کہ ایک دوسرے سے میل ملاپ رکھناا ور ایک دوسرے کی اعانت کرناخبردار ایک دوسرے سے قطع تعلق سے پرہیز کرنا لَا تَتْْرُکُواالْاَمْرَ بِالْمَعْرُوْفِ وَالنَّہْیَ عَنِ الْمُنْکَرِ، فَیُوَلَّیٰ عَلَیْکُمْ شِرَارُکُمْ، ثُمَّ تَدْعُوْنَ فَلَا یُسْتَجَابُ لَکُمْ دیکھو!امربالمعروف اور نہی عن المنکرکو ترک نہ کرنا، ورنہ بد کردار تم پر مسلّط ہوجائیں گے اور پھر اگر تم دعا مانگوگے تو وہ قبول نہ ہوگی یَا بَنِیْ عَبْدِالْمُطَّلِبِ! لَا اُلْفِیَنَّکُمْ تَخُوْضُوْنَ دِمَآءَ الْمُسْلِمِیْنَ، خَوْضًا تَقُوْلُوْنَ: قُتِلَ اَمِیْرُالْمُؤْمِنِیْنَ اے عبدالمطلب کے بیٹو! ایسا نہ ہو کہ تم، امیرالمو منین قتل ہوگئے، امیر المومنین قتل ہوگئے کے نعرے لگاتے ہوئے مسلمانوں کے خون سے ہولی کھیلنے لگو أَلاَ لاَ تَقْتُلُنَّ بِیْ اِلَّا قَاتِلِیْ دیکھو! میرے بدلے میں صرف میرا قاتل ہی قتل کیاجائے اُنْظُرُوْااِذَاأَ نَامُتُّ مِنْ ضَرْبَتِہِ ہٰذِہٖ، فَاضْرِبُوْہُ ضَرْبَۃً بِضَرْبَۃٍ، وَلَا تُمَثِّلُ بِالرَّجُلِ، فَاِنِّیْ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہُ (صَلّی اللّٰہ عَلیْہِ وَآلِہِ وَسَلَّمَ) یَقُوْلُ: ” اِیَّاکُمْ وَالْمُثْلَۃَ وَلَوْبِالْکَلْبِ الْعَقُوْرِ دیکھو! اگر میں اس ضرب سے مر جاؤں، تو تم اس ایک ضرب کے بدلے میں اسے ایک ہی ضرب لگانا، اور اس شخص کے ہاتھ پیرنہ کاٹنا، کیونکہ میں نے رسول اللہ(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو فرماتے سنا ہے کہ: خبردار کسی کے ہاتھ پیر نہ کاٹنا، خواہ وہ کاٹنے والا کتّا ہی کیوں نہ ہو نہج البلاغہ، مکتوب:47

Muhammad Amin Shaheedi

10,751 görüntüleme • 3 yıl önce

آج امریکہ کہتا ہے آؤ اتحاد کرو۔ کون سا اتحاد؟ کہتا ہے ابراہیمی اتحاد۔ مسلمان بھی حضرت ابراہیم علیہ السلام کو مانتے ہیں، یہودی بھی مانتے ہیں، عیسائی بھی مانتے ہیں۔ آؤ، یہ تینوں ایک مذہب پر آ جائیں، ایک ہی عبادت خانہ بنائیں، سب اس میں نماز پڑھیں۔ آج تمہیں حضرت ابراہیم یاد آ گیا؟ مجھے تمہاری تاریخ معلوم ہے۔ جب مغرب کے سرمایہ دارانہ نظام کے مقابلے میں انقلابِ روس آیا، کمیونسٹ انقلاب آیا، تو تم نے اس وقت مسلمان کو کہا کہ آؤ، تم بھی خدا کو مانتے ہو، ہم بھی خدا کو مانتے ہیں۔ تم نے خدا کے نام پر مسلمانوں کو اپنے قریب کیا، صرف اس لیے کہ کمیونسٹ انقلاب کو شکست دے سکو۔ ہمارے اکابر، ہمارے علماء کرام اس فلسفے سے آگاہ تھے۔ ان کو اندازہ تھا کہ یہی مغرب پھر مسلمانوں پر ٹوٹ پڑے گا، یہی مغرب مسلمانوں کا قتل عام کرے گا۔ ہم نے اس فلسفے سے اتفاق نہیں کیا، تو ہمارے علماء کو کمیونسٹ ملا کہا گیا۔ تم نے اس وقت بھی خدا کے نام پر مسلمان کو پکارا، لیکن صرف سوویت یونین کو توڑنے کے لیے، آج تم چین کی طاقت کو اور ابھرتی ہوئی معاشی طاقت کو روکنے کے لئے پھر مسلمانوں کو دھوکہ دیتے ہو اور کہتے ہو آؤ ابراہیمی اتحاد کرو۔ حضرت ابراہیم ہمارا پیغمبر تھا، عیسائی اسے چھوڑ چکے حضرت ابراہیم ہمارا پیغمبر تھا، مِلَّةَ أَبِيكُمْ إِبْرَاهِيمَ هُوَ سَمَّاكُمُ الْمُسْلِمِينَ ابراہیم ہمارا پیغمبر تھا، ابراہیم کے پیروکار ہم ہیں۔ حضرت اسماعیل کی اولاد سے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، آخری پیغمبر آئے، میرا پیغمبر جب میرا دین لایا، دینِ اسلام، تو پیغمبر بھی آخری تھا، اسلام بھی آخری مذہب، کتاب بھی آخری کتاب، اور رسول بھی آخری رسول۔ اسلام نے عیسائیت اور یہودیت کو منسوخ کردیا، اور توارت و انجیل میں بھی انہوں نے تحریف کردی، قرآن میں ایک حرف کی تبدیلی آج تک نہیں آئی، پورا قرآن محفوظ ہے، پورا اسلام محفوظ ہے، پورا دین محفوظ ہےاور امت مسلمہ ایک مستقل حیثیت رکھتی ہے آخری امت کی حیثیت رکھتی ہے۔ کُنْتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تم بہترین امت ہو جو انسانیت کی طرف بھیجے گئے ہو لہٰذا دنیا میں اسلام بھی ہوگا، دنیا میں مسلمان بھی ہوگا، دنیا میں قرآن بھی ہوگا، دنیا میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا دین بھی ہوگا، اور دنیا میں مسجد بھی ہوگی اور تم آج دوبارہ مسلم امہ کو دھوکہ نہیں دے سکو گے۔

Maulana Fazl-ur-Rehman

92,941 görüntüleme • 1 yıl önce

مجھے بھی بہت آفرز دی گئیں کہ تمہیں ایم این اے بنا دیں گے تمہیں وزیر بنا دیں گے تم کیا چاہتے ہو یہ پاکستان کا جھنڈا ہمیشہ رہے گا عمران خان ہمیشہ نہیں رہے گا اس سے پہلے بھی جو آئے وہ بھی چلے گئے تم شخصیت پرستی چھوڑ دو تم پاکستان کو دیکھو فوج ہمیشہ رہے گی، یہ (ملٹری اسٹیبلشمنٹ) اس طرح کی باتیں ہر ایک کو کرتے ہیں انہوں نے بہت کوشش کی کہ کسی طرح میں ان کی باتوں میں آ جاؤں لیکن مجھے پتہ ہے کہ یہ لوگوں کو صرف اور صرف خریدتے ہیں، بازار میں جس کی قیمت لگ جائے تو اس کی کوئی حیثیت نہیں رہتی یہ ہمیشہ سے عمران خان نے ہمیں سمجھایا ہے اور سکھایا ہوا تھا، میں نے ایک نظریہ کی وجہ سے سیاست شروع کی اور آج اللہ کا شکر ہے کہ اسی نظریہ پر کھڑا ہوں چاہے جلا وطنی میں ہوں جتنی بھی مشکلات گزری ہیں لیکن جب عمران خان کو دیکھتا ہوں کہ ایک ہزار اکتیس دن ہو گئے ہیں وہ شخص جو پاکستان کا سب سے مقبول ترین لیڈر ہے تمام مسلمان امہ انہیں چاہتی ہیں ان کے لیے دعائیں کرتی ہیں وہ اتنی مصیبت میں ہیں قید تنہائی کاٹ رہے ہیں بجلی نہیں ہوتی ٹیلیویژن نہیں ہوتا خبروں تک رسائی نہیں ہے لوگوں سے نہیں ملنے دیا جا رہا انہیں آنکھ کی تکلیف ہے گند میں مکھیاں مچھروں میں وہ رہ رہے ہیں لیکن ٹوٹ نہیں رہے عاصم منیر کی جو یزیدیت ہے اس کے آگے وہ سر نہیں جھکا رہے تو یہ ہمیں حوصلہ دیتی ہے، میری خیبر پختونخواہ کے تمام ایم پی ایز سے گزارش ہے کہ خدا کے لیے عمران خان کے نام پر تمہیں ووٹ پڑے ہیں تم ایم پی اے بن گئے ہو وزیر بن گئے ہو اور اللہ نے عزت دی ہے تو یہ آپس کی چھوٹی چھوٹی لڑائیوں کو چھوڑ کر آپ سب کو چاہیے کہ ایک ایجنڈے پہ آئیں اور وہ ہے عمران خان کی رہائی۔ #FascismUnderAsimLaw #PakistanUnderMartialLaw

Qasim Khan Suri

46,819 görüntüleme • 3 ay önce