Video yükleniyor...

Video Yüklenemedi

Ana Sayfaya Dön

لَا تَقْنَطُوا مِنْ رَحْمَةِ اللَّہ 🕋 اللہ کی رحمت سے ناامید نہ ہونا الله کو بتایا کریں اپنے دل کی کیفیت، اپنی تکالیف، اپنی خواہشیں، اپنی حسرتیں وہ بہت پیار سے سنے گا اس کے سامنے رو لینے سے ہی آپ کے دل میں سکون اترے گا بے شک...

12,696 görüntüleme • 27 gün önce •via X (Twitter)

0 Yorum

Yorum bulunmuyor

Orijinal gönderinin yorumları burada görünecek

Benzer Videolar

یہ میری بیٹی ہے۔ الحمدللہ اس نے حال ہی میں میٹرک کا امتحان کامیابی سے پاس کیا ہے۔ یہ بہت نیک، شریف اور فرمانبردار بچی ہے۔ اس کے والد گزشتہ دو سال سے روزگار کے سلسلے میں پردیس میں ہیں، اس لیے گھر کی تمام ذمہ داریاں میرے کندھوں پر ہیں۔ میٹرک کے امتحان کے بعد اس کا زیادہ وقت موبائل اور ٹک ٹاک ویڈیوز بنانے میں گزرنے لگا۔ ایک ماں ہونے کے ناطے مجھے فکر تھی کہ کہیں اس کی توجہ تعلیم سے نہ ہٹ جائے۔ اسی لیے میں نے فیصلہ کیا کہ اسے ایسے ماحول میں رکھا جائے جہاں وہ اپنی پوری توجہ پڑھائی پر دے سکے اور اپنے مستقبل کو بہتر بنا سکے۔ اسی مقصد کے لیے میں نے اسے کالج میں داخل کروانے اور ہاسٹل میں رکھنے کا فیصلہ کیا۔ اس سلسلے میں میں نے اپنے آفس کے باس سے بات کی۔ اللہ انہیں جزائے خیر دے، انہوں نے نہ صرف میری بیٹی کا کالج میں داخلہ کروانے میں مدد کی بلکہ ہاسٹل میں رہائش کا انتظام بھی کروا دیا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس کی تعلیم، ہاسٹل اور دیگر ضروری اخراجات کی فکر نہ کروں۔ ہاسٹل میں ان کا بیٹا بھی رہتا ہے، جو ایک اچھا اور بااخلاق لڑکا ہے، اور وہ بھی میری بیٹی کا خیال رکھے گا۔ میں اپنے باس کی اس مہربانی اور تعاون کو کبھی فراموش نہیں کر سکتی۔ اللہ تعالیٰ ایسے نیک دل انسانوں کو ہمیشہ خوش رکھے، کیونکہ آج کے دور میں دوسروں کے لیے اتنا کرنا ہر کسی کے بس کی بات نہیں۔ میری دعا ہے کہ میری بیٹی اپنی تعلیم پر پوری توجہ دے، محنت کرے اور زندگی میں بڑی کامیابیاں حاصل کرے۔

Nadia Malik

22,724 görüntüleme • 3 ay önce

شبر زیدی صاحب! اگر آپ کے منطقی پیمانے کو ہی ترازو مانا جائے، تو پھر میرا اور آپ کا بھی نہ کھانا ملتا ہے، نہ گانا ملتا ہے اور نہ ہی زبان ملتی ہے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ ہم دونوں کے درمیان 'آئین' کے ایک قانونی رشتے کے علاوہ کوئی چیز سانجھی نہیں ہے۔ آپ کو احمد آباد کی زبان اور کھانا مبارک ہو، لیکن اس حقیقت سے نظریں نہ چرائیں کہ اس سرزمین کا ایک بڑا حصہ یعنی خیبر پختونخوا اور بلوچستان کی بیلٹ، تاریخی، جغرافیائی، لسانی اور خون کے رشتے سے افغانستان کے ساتھ جڑی ہوئی ہے۔ ڈیورنڈ لائن ایک سیاسی لکیر ہو سکتی ہے، لیکن وہ ہزاروں سال کی تاریخ، ثقافت اور اس 'پشتون ولی' کو ختم نہیں کر سکتی جو ہمیں ایک دوسرے سے جوڑتی ہے۔ آپ کہتے ہیں کہ آپ کی زبان اور کپڑا نہیں ملتا؟ تو صاحب، ہماری زبان بھی ایک ہے، ہمارا لباس (پشتون لباس) بھی ایک ہے اور ہماری غیرت کے کوڈز بھی ایک ہیں۔ اگر آپ کو اپنی جڑیں گجرات میں نظر آتی ہیں، تو ہمیں اپنی جڑیں قندھار، جلال آباد اور کابل میں نظر آتی ہیں۔ آپ اپنے احمد آباد کے قصے سنائیں، لیکن ہمیں ہمارے بھائیوں سے دور کرنے کی کوشش نہ کریں۔ SyedShabbarZaidi

Hashim Khan

16,927 görüntüleme • 5 ay önce

ترجیحات کا اندازہ اس سے لگالیں!! نوٹ خواں اور انکے مداح نے محافل نعت کے نام پر جو مسلک حق اہلسنت کو نقصان پہنچایا ہے اسکا ازالہ دہائیوں تک نہیں ہوسکے گا مدارس ویران ہیں قرآن کریم سے درس قرآن سے دوری تین کاموں نے اہلسنت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا درباروں کے مجاور جنہوں نے مریدین کو دین سے جوڑے کی بجاے اپنی ذات کو پیش رکھا محافل نعت کے نام پر مدارس کی ویرانی اور آجکل عمرہ کا ٹرینڈ جی حاضری کا وقت ہو گیا مدینہ پاک سے بلاوا آگیا جبکہ یہاں مریدین کو جس اصلاح کی ضرورت تھی وہ ناپید ہو گئی مدارس کے طلباء کو جس تربیت کی ضرورت تھی وہ خواب بن گئی افراد کی تربیت کے بجاے ہم اپنی خواہش کی تکمیل کے لیے عمرے پر عمرہ کیے جارہے ہیں ہم یہ کیوں نہیں سوچتے کہ نبی رحمت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی عمر مبارک میں کتنے عمرے اور حج ادا فرماے علماء کو سوچنا چاہیے کہ کہیں وہ اپنی حقیقی ذمہ داریوں سے جان چھڑا کر حرمیں شریفین کی طرف تو نہیں بھاگ رہے؟ مجھے پتہ ہے اس پر بھی گالیاں ہی سننے کو ملنی ہیں لیکن درد دل رکھنے والے لوگ میری بات کو ضرور سمجھیں گے۔۔ کیا دیا ان نعت خوانوں نے مسلک کو؟ سواے بے عملی ،جنت کے ٹکٹس بازو ہلانے پر جنت محفل میں رات جاگنے پر جنت بھلے نماز نہ پڑھو مجھے بچوں کو پڑھانے کے لیے قاری صاحب کی ضرورت تھی مگر ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملا وہ بندہ جو تجوید و قرات سے بچوں کو قرآن پڑھا سکے باوجودیکہ منہ مانگی فیس دینے پر بھی تیار تھا خدا را اپنی ترجیحات بدل لو!!

Mohammad Hayat

33,472 görüntüleme • 6 ay önce

ابھی ابھی آغا شیخ سرور سے بات ہوئی، وہ کوریج میں مصروف تھا اور لوگوں کی کوریج کرنے کے لیے قافلے کی مرکزی گاڑیوں سے الگ ہو کر ایک موٹر سائیکل سوار سے لفٹ لے کر لوگوں کے درمیان کوریج کر رہا تھا، ویڈیوز بنا رہا تھا، اپنی کمنٹری کر رہا تھا کہ اچانک ایک ڈالہ اس بائیک کے آگے آیا اور ڈالے میں سوار لوگ اترے اور وہاں سے امین اللہ نام کا شخص اترا اور پھر انہوں نے آغا شیخ سرور کو مارنا شروع کر دیا۔ آغا شیخ سرور کو مارتے ہوئے وہ یہ بھی کہہ رہا تھا اپنے گارڈز سے کہ اس کو گولی مار دو۔ آغا شیخ سرور نے بتایا کہ اس کے ہاتھ کی ہڈی ٹوٹ گئی ہے اور جبڑے ڈسلوکیٹ ہوئے ہیں زبان پہ کٹ لگے ہیں اور وہ بری طرح سے زخمی ہے۔ صرف آغا شیخ سرور کو نہیں زعیم لغاری اور ان کے ساتھ ساتھ شاکر اعوان کو بھی تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ وہ کہتے ہیں اگر مینا خان آفریدی بیچ میں آ کر نہ بچاتے تو مجھے گولی ماری جا سکتی تھی۔ آغا شیخ سرور نے یہ بھی کہا کہ اس کو کارکنوں نے بھی بہت سپورٹ کیا اور مارنے والوں سے بچانے میں مدد کی۔ میں نے پوچھا کہ یہ امین اللہ نام کا شخص کیوں تشدد کروا رہا تھا، کیوں آپ کی جان کے پیچھے پڑ گیا؟ تو اس نے کہا مجھے کسی نے یہ بتایا کہ امین اللہ ہی ٹی آئی حیدر آباد کا کوئی عہدیدار ہے اور اسے اس بات پر غصہ تھا کہ لیاری کی کوریج کے موقع پر آغا شیخ سرور نے جب ایک جگہ کوریج کی تو امین اللہ کے کسی مخالف کو کوریج ملی تھی اور امین اللہ کو اس بات کا شدید رنج تھا۔ اب یہ تینوں صحافی اس کوریج کا بائیکاٹ کرنے ارادہ رکھتے ہیں

Tariq Mateen

72,255 görüntüleme • 25 gün önce