Video wird geladen...

Video konnte nicht geladen werden

Zur Startseite

یہ ایک ایٹمی ملک کے وزیراعظم کا خطاب ہے ۔ جسے سن کر کیا سر شرم سے جھک گیا ہے ۔ “اگر ہم نے اپنے دہشت گردوں کو قابو نہ کیا ہوتا تو وہ نیویارک یا لندن کی سڑکوں پر دندناتے پھر رہے ہوتے۔” اپنے ہی ملک کو دنیا...

301,712 Aufrufe • vor 3 Tagen •via X (Twitter)

0 Kommentare

Keine Kommentare verfügbar

Kommentare vom Original-Post werden hier angezeigt

Ähnliche Videos

#AsimMunirOurPride دبئی ترکی مصر ملائشیا انڈونیشیا اور دیگر مسلم ممالک نے اپنے ملک میں انتہا پسندی کو ماڈلزم کے ذریعے سے قابل نہیں کیا ان ملکوں میں دہشت گردی اور امتحان بھی اس لیے نہیں ہے کہ ایک تو انہوں نے مولویوں کو مسجد تک محدود کیا صرف نماز پڑھانے تک اور دوسرا انہوں نے اپنے ملکوں میں اور دیگر چیزوں کو کھولا تاکہ عوام دہشت گردوں کو اور انتہا پسندوں کی طرف مت جائیں جہاں تک کہ سعودی کے محمد بن سلمان نے جو ایک انٹرویو میں کہا کہ وہ اپنے نوجوانوں کو دہشت گردوں کے ہاتھوں میں نہیں جانے دیں گے اس لیے وہ جدید اور محرم سعودی عرب پر کام کر رہے ہیں پاکستان میں بھی اسی طرز کا سسٹم ہونا چاہیے ہمارے ہاں 70 فیصد لوگ انپڑھ ہوتے ہیں جو اسانی سے دہشت گرد ہیں اور مولویوں میں ا جاتے ہیں دہشت گردی کی طرف سے ہٹانے کا صرف ایک طریقہ ہے انٹرٹینمنٹ اور ماڈرنزم کو بھی ساتھ ساتھ لے کے چلا جائے اور مجھے خوشی ہے کہ پاکستان بدل رہا ہے اور تیزی کے ساتھ انٹرٹینمنٹ انڈسٹری بھی ترقی کر رہی ہے یہ پاکستان کی ایک ماڈل ہے اسلام اباد #اليوم_الوطني_السعودي_٩٦

Khurram Khan

64,216 Aufrufe • vor 3 Tagen

کہا جا رہا ہے یہ غالبا میاں صاحب کا جیل کا چھوٹا سا سیل۔ اگر کوئی اور ملک ہوتا تو یہ تمام جیل سیلزجن میں بھٹو، بےنظیر بھٹو شہید، دیگر سیاسی قیدی رہے، پبلک میوزیمز ہوتے اور عوام کے لیے کھلے ہوتے تاکہ عوام کو سچ کا علم ہوتا، یہاں سب سیاسی قیدیوں کے گزرے ہوئے عیام کی تفصیلات نصب ہوتیں، کیا کھاتے تھے، کیسے رہتے تھے وغیرہ۔۔۔ لیکن ہمارے ہاں تو یہ ہو نہیں سکتا کیونکہ عوام کو سچ پتہ لگ جاتا اور شعور کے ساتھ جب سچ مل جاتا ہے تو status quo کو نقصان کوتا ہے۔ ہمیں نہ سچ سننا اور جاننا ہے اور شعور سے تو ویسے بھی پیٹ نہیں بھرتا شعور سے صرف قومیں ترقی کرتی ہیں اور وہ ترقی تبدیلی کے مترادف ہے جو ہمیں نہیں چاہیے۔ شایدکبھی آنے والے وقتوں میں ہم ایسی شعوری ترقی حاصل کر سکیں جہاں ہم اپنی تاریخ کو own کرنے سے نہ گھبرائیں اور ان جیل سیلز کو سکولوں کالجوں کے بچوں کے لیے کھول دیں تاکہ عوام اپنے سیاسی فیصلے کرنے سے پہلے ان تمام شخصایت کے جیل کے ادوار، انکی وہاں رہائش کے حالات اور حقائق اور ان میں کیے گئے سیاسی فیصلوں کو جان سکے۔ کیونکہ جو قومیں اپنی تاریخ کو قبول نہیں کرتیں، نظر چراتی ہیں یا اسکو مسخ کرنے کی کوششیں کرتی ہیں وہ اپنی ماضی کی غلطیوں سے کچھ سیکھ نہیں سکتیں اور جب تک غلطیاں قبول نہ کی جائیں ان غلطیوں کو سدھارا بھی نہیں جا سکتا۔

Shiffa Z. Yousafzai

35,997 Aufrufe • vor 7 Monaten

احمدیوں پر آئینی پابندیاں اپنی جگہ لیکن مذہبی انتہاپسندوں کو قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت کس نے دی ؟؟ پاکستان کے آئین میں آرٹیکل 260(3) کے تحت احمدیوں کو غیر مسلم قرار دیا گیا ہے، جبکہ آرڈیننس XX (1984) کے مطابق احمدی کوئی بھی اسلامی شعار اپنانے، خود کو مسلمان کہنے یا اپنے عبادتی مقامات کو مسجد کہنے کے مجاز نہیں ہیں۔ آرٹیکل 14 (پرائیویسی اور انسانی وقار کے تحفظ) آئینی نقطہِ نظر : پاکستان کا آئین ہر شہری کو مذہبی آزادی، پرائیویسی اور بنیادی انسانی حقوق کی ضمانت دیتا ہے۔آرٹیکل 20 ہر شخص کو اپنے مذہب پر عمل کرنے کا حق دیتا ہے۔آرٹیکل 14 انسانی عزت و وقار اور پرائیویسی کی حفاظت کرتا ہے۔کسی کی پرائیوٹ پرالرٹی میں زبردستی گھس کر ان کی عبادت میں مداخلت کرنا اور ہتک آمیز سلوک روارکھنا آئین کی خلاف ورزی ہے۔ پرائیویسی اور انسانی حقوق: کسی بھی فرد یا گروہ کا کسی کی عبادت گاہ میں گھس کر انہیں نشانہ بنانا بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ پاکستان دستخط کنندہ ہے اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے عالمی اعلامیے (UDHR) کا، جس کی آرٹیکل 18 ہرانسان کے مذہبی آزادی کے حق کو تسلیم کرتی ہے،اور آرٹیکل 12 پرائیویسی کے حق کی حفاظت کرتی ہے یہ قوانین ریاستی سطح پر ایک مخصوص مذہبی گروہ کے عقیدے کو محدود کرتے ہیں، جبکہ احمدی خود کو غیر مسلم نہیں مانتے۔ یہی نکتہ بنیادی انسانی حقوق، مذہبی آزادی، اور بین الاقوامی قوانین سے متصادم ہو جاتا ہے۔مسلۂ یہی سے شروع ہوتا ہے کہ اگر وہ اپنی عبادت اپنے گھروں یا اپنی عبادت گاہوں میں کریں، تو وہاں ریاست یا عوام کا دخل دینا آئین کے آرٹیکل 14 (پرائیویسی اور انسانی وقار کے تحفظ) کے خلاف جاتا ہے۔ جنازہ اور تدفین کا حق/قبر اور کتبے کی روایت: مذہب یا انسانی ارتقا؟ کسی بھی انسان کو دفنانے کا حق محض ایک اسلامی فریضہ نہیں بلکہ ایک عالمی انسانی قدر ہے۔ تدفین اور قبروں پر نشانات (کتبے) لگانے کی روایت صرف اسلام تک محدود نہیں بلکہ انسانی تہذیب کے آغاز سے موجود ہے۔ قدیم ترین انسانی معاشروں، جیسے مصر، میسوپوٹیمیا، یونان،رومن سلطنت،اور وادیٔ سندھ میں تدفین ایک عام رواج تھا۔ انسان ہمیشہ سے اپنے مُردوں کوعزت کے ساتھ دفنانے اوران کی قبروں کی نشاندہی کرنے کا طریقہ اپناتا آیا ہے، تاکہ وہ یادگار رہیں اورنسلیں بعد میں ان سے جُڑی رہیں۔ اسلامی نقطۂ نظر: اسلام نے تدفین کو اہمیت دی اور اس میں سادگی پر زور دیا، مگر قبروں کی بےحرمتی اور لاشوں کی بےعزتی کو سختی سے منع کیا۔ نبی اکرم ﷺ نے دشمنوں کی لاشوں تک کی بےحرمتی سے منع فرمایا اور انہیں دفنانے کا حکم دیا۔ ٹی ایل پی کا کسی بھی فرد کی تدفین میں مداخلت، قبروں کو مسمار کرنا، یا لاشوں کی بےحرمتی کرنا اسلامی تعلیمات، انسانی اقدار، اور قانون کی صریح خلاف ورزی ہے۔ کسی کی قبر کو نقصان پہنچانا نہ صرف قرآن و حدیث کے خلاف ہے بلکہ یہ ایک وحشیانہ اور غیر انسانی فعل بھی ہے، کُجا کہ تازہ قبریں کھول کر اسلام کی خدمت سمجھنا۔ کسی بھی گروہ کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ اسلام کے نام پر دوسروں کی تدفین روکے یا قبروں کو نقصان پہنچائے۔یہ نہ صرف اسلامی اصولوں کی خلاف ورزی ہے بلکہ معاشرتی بربریت اور قانون شکنی کا مظہر بھی ہے یہ ایک سنگین مسئلہ ہے کہ عام شہری کسی بھی گروہ کے خلاف خود عدالت، پولیس اور جلاد بن بیٹھتے ہیں۔ قانونی لحاظ سے، کسی بھی جرم کی تحقیقات اور سزا کا اختیار عدالت کے پاس ہوتا ہے، نہ کہ کسی ہجوم یاگروہ کے پاس۔ مگر ہوتا کیا ہے؟ •شدت پسند گروہ (جیسے TLP) ایک ہجوم اکٹھا کرتے ہیں۔ •پولیس اکثر یا تو بے بس ہوتی ہے یا خود بھی ایسے گروہوں کے دباؤ میں آکر ان کے ساتھ کھڑی ہو جاتی ہے۔ •عدالتیں بھی اکثر ان معاملات میں فوری ایکشن نہیں لیتیں، جس کی وجہ سے یہ رجحان بڑھتا جا رہا ہے۔ یہ صورت حال ایک “موب جسٹس” کو فروغ دے رہی ہے،جس میں لوگ خود ہی جج، جیوری،اور جلاد بن جاتے ہیں، جو کہ ایک مکمل لاقانونیت (Anarchy) کی علامت ہے۔ •پولیس اکثر مذہبی انتہا پسند گروہوں کو کنٹرول کرنے کے بجائے ان کے دباؤ میں آکر ان کے احکامات پر چلتی ہے۔ •TLP جیسے گروہوں کو ریاست کبھی کبھار اپنے مفادات کے لیے بھی استعمال کرتی ہے۔ •اگر ریاست یا اسٹیبلشمنٹ کو کسی بڑے سیاسی یا سیکیورٹی معاملے سے عوام کی توجہ ہٹانی ہو، تو ایسے مذہبی گروہوں کو فعال کر دیا جاتا ہے تاکہ عوام کا غصہ کسی اور طرف منتقل ہو جائے۔ یہ ایک بڑا سوال ہے کہ کیا ریاست مذہبی شدت پسندی کو اپنے سیاسی یا عسکری مقاصد کے لیے استعمال کر رہی ہے؟ بلوچوں نے ٹرین پر حملہ کیا اور یرغمال بنایا، جو ریاست کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے۔ ایسے وقت میں جب میڈیا اور عوام کا فوکس بلوچ مسئلے پر ہونا چاہیے تھا،اچانک TLPاور مذہبی شدت پسندی کے واقعات بڑھ جاتے ہیں۔ تحریر :سونیا خان خٹک

Sonia Khan khattak(SK)

31,678 Aufrufe • vor 1 Jahr

"خون کی فطرت میں جم جانا ہے ' دھلنا نہی " آج سٹوڈنٹس میں سکالر شپ کی تقسیم کی اس تقریب میں چشم تخیل کی طاقت سے میں بھی موجود تھا - جب مریم نواز صاحبہ Maryam Nawaz Sharif نے یہ والا بھاشن شروع کیا تو میں نے ہاتھ کھڑا کیا اور پوچھا کہ " میڈم ! طلباء کو بھی شوق نہیں ہے کہ وہ یونیورسٹی کی جگہ ڈی چوک میں احتجاج کیلئے جائیں لیکن جب ان کا ووٹ چوری کرنے والا جیل کی بجاے سی ایم ہاؤس پہنچ جاتا ہے ' اس چوری کو روکنے کیلئے زمہ دار الیکشن کمیشن خود ہی سہولت کار بن جاتا ہے ' اس چوری پر بازپرس کرنے والی عدلیہ خود بیکار بن جاتی ہے ' اس چوری کو آشکار کرنے والا میڈیا خود ساہوکار بن جاتا ہے ' اس پر آواز اٹھانے والا صحافی ' سٹوڈنٹ اور ایکٹوسٹ مغوی اور پاسبان ہی اس کا اغواکار بن جاتا ہے ' --- تو پھر طلباء کو اپنے حق کی اس چوری پر جواب مانگنے کیلئے خود ہی یونیورسٹی چھوڑ کر ڈی چوک میں بھی بیٹھنا پڑتا ہے- آپ کا بیٹا جنید اس لئے آرام سے گریجویٹ کرگیا کیوں کہ وہ سارق (چور ) کا بیٹا تھا ' مسروق کا نہیں---اگر طلباء یونیورسٹی میں اچھے لگتے ہیں ڈی چوک پر نہیں ' تو طلباء کے حق کی چوری کرنے والے جیل میں اچھے لگتے ہیں ' سی ایم ہاؤس میں نہیں " - یہ سٹوڈنٹس وہاں موجود پنجاب پولیس کے جلادوں کے ہاتھ مجبور ہونگے ورنہ بہت سے نوجوان ذہنوں میں یہ بھاشن سن کر یہی سوال ابھرے ہونگے جو میں نے پوچھے - اس ملک کی قسمت چیک کریں کہ پہلے جن لوگوں کا حق کھایا جاتا ہے اور پھر انہی کے سامنے کھڑا ہو کر بھاشن بھی دیا جاتا ہے - سی ایم صاحبہ کے لہجے میں جو اعتماد ہے وہ ایسے ہی نہیں آتا - ڈھٹائی اور بےشرمی کی نجانے کتنی بوتلیں لگوانی پڑتی ہیں ' معصوموں کے خون کے کتنے پیالے پینے پڑتے ہیں ' تب جاکر لہجے میں یہ والا اعتماد آتا ہے کہ آپ مسروق (جس کی چوری ہوئی ہو ) کے سامنے اس کو منع کریں کہ پڑھائی پر توجہ دو اور اپنے سامان مسروقہ کی برآمدگی کا مطالبہ نہ کرو - پچھلی کچھ تقریروں میں جتنا گند اور غلاظت مریم نے اسلام آباد احتجاج کے شرکا کے خلاف اگلا ہے اس سے ایسا لگتا ہے کہ "پٹھان " ہونا اس ملک میں جرم ہی بن گیا ہے اور کی پی کے ڈیورنڈ لائن کے اسطرف واقع ہے - اس ملک کی دوتہائی سے زائد آبادی تیس سال سے نیچے کے نوجوان ہیں جس میں سے اکثریت جس کو سپورٹ کرتی ہے آپ اس کو "دہشت گرد اور انتشاری" کہتی ہیں - آج وہ بیشک آپ کے پریشر اور آپ کے زہر کے خوف سے آپ کے سامنے تالیاں بجائیں ' لیکن یہی وہ یوتھ ہے جو آپ کو اور آپ کے سہولت کاروں کو اپنے حق انتخاب اور آج ملک میں جاری فسطائیئت کا زمہ دار سمجھتی ہے - آپ کیلئے اس یوتھ کی یہ تالیاں منہ پر ہویے اسی رنگ روغن کی طرح ہیں جو پانی کا ایک چھینٹا پڑتے ہی جب اترتا ہے تو اندر سے زہر سے بھرا ہوا نفرت انگیز چہرہ سامنے آتا ہے - اس تقریر میں نہ چاہتے ہویے بھی مریم کے منہ سے یہ نکل ہی گیا کہ "اسلام آباد میں نہتے لوگ ..." . پھر خود کو ٹوکا اور بولا "نہتے پولیس والے " اگر ایک- کے 47 اور سنایپرگنوں سے لیس وہ پولیس والے ' رینجرز اور فوجی نہتے تھے تو پھر مریم کی نظر میں اسلحہ سے لیس اسی پولیس افسر کو کہا جائیگا جو نیوکلیر بمب کی ڈیوائس اور آر ڈی ایس کی جیکٹ ساتھ لے کر گھوم رہا ہو - خون میں قدرت نے ایک خاصیت رکھی ہے - یہ جب بہتا ہے تو جم جاتا ہے اور اس کے نشان نہیں جاتے کیوں کہ اس کی فطرت میں جمنا ہے ' دھلنا نہیں - اس حکومت اور اس کی سہولت کار ریاست کے چہرے پر بھی یہ خون اب جم گیا ہے جو بچوں کو یوں لارا لپا لگانے اور "میں پنجاب کی ماں " والی کہانیاں سنانے سے نہیں دھلے گا اور بار بار پوچھتا رہیگا کہ #گولی_کیوں_چلائی ؟ #IslamabadMassacre --------------------------------------------------------- Moeed Pirzada Imran Afzal Raja

Dr Waqas Nawaz

12,319 Aufrufe • vor 1 Jahr

#دہشتگردی_کا_پیروکار_نیازی امریکہ جو دنیا کا ازاد خیال ملک ہے جہاں اپ کو ہر طرح کی ازادی حاصل ہے وہاں کی p*** industry دنیا کی نمبر ون پورن انڈسٹری ہے جو ہر سال 14 سے 15 ارب ڈالر بزنس کرتی ہے لیکن وہاں بھی ایک قانون صرف مرد اور عورت کو بطور جنس قبول کرتا ہے اس کے علاوہ وہ شی میل gays کو قبول نہیں کرتے ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی یہ قانون اپنی حکومت میں پاس کیا ترکی میں بھی یہی قانون ہے لیکن اپ نے نوٹ کیا کہ پچھلے چار سال میں پاکستان میں ہم جنس پرستی gay شی میلز کی تعداد کتنی زیادہ ہو گئی اپ انسٹاگرام اور ٹوٹر کو کھول کر دیکھیں اپ کے ہوش اڑ جائیں گے کہ کتنی ازادی سے یہ لوگ ویڈیوز بنا کر ڈال رہے ہیں اور باقاعدہ لوگوں کو افر کرتے ہیں اپنی طرف سے لاہور اسلام اباد کراچی ملتان اس مکروہ دھندے کا گڑ بن چکا ہے اگر یہ سب ہم دیکھ رہے ہیں تو ہمارے اداروں کو نظر نہیں اتا وہ ان کے خلاف ایکشن کیوں نہیں لیتے #وقار_امہ_عاصم_منیر
0:15

Sensitive content

#دہشتگردی_کا_پیروکار_نیازی امریکہ جو دنیا کا ازاد خیال ملک ہے جہاں اپ کو ہر طرح کی ازادی حاصل ہے وہاں کی p*** industry دنیا کی نمبر ون پورن انڈسٹری ہے جو ہر سال 14 سے 15 ارب ڈالر بزنس کرتی ہے لیکن وہاں بھی ایک قانون صرف مرد اور عورت کو بطور جنس قبول کرتا ہے اس کے علاوہ وہ شی میل gays کو قبول نہیں کرتے ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی یہ قانون اپنی حکومت میں پاس کیا ترکی میں بھی یہی قانون ہے لیکن اپ نے نوٹ کیا کہ پچھلے چار سال میں پاکستان میں ہم جنس پرستی gay شی میلز کی تعداد کتنی زیادہ ہو گئی اپ انسٹاگرام اور ٹوٹر کو کھول کر دیکھیں اپ کے ہوش اڑ جائیں گے کہ کتنی ازادی سے یہ لوگ ویڈیوز بنا کر ڈال رہے ہیں اور باقاعدہ لوگوں کو افر کرتے ہیں اپنی طرف سے لاہور اسلام اباد کراچی ملتان اس مکروہ دھندے کا گڑ بن چکا ہے اگر یہ سب ہم دیکھ رہے ہیں تو ہمارے اداروں کو نظر نہیں اتا وہ ان کے خلاف ایکشن کیوں نہیں لیتے #وقار_امہ_عاصم_منیر

Khurram Khan

72,524 Aufrufe • vor 6 Tagen

یہ شخص کہتا ہے کہ ایک پاکستانی کی جان ہزار افغانیوں کی جانوں پر مقدم ہے۔ کاش یہ بات تم ارشد شریف کی ماں سے جا کر کہتے جس کا بیٹا ایک سچا پاکستانی تھا، جس نے صرف تم جیسے غداروں کو بے نقاب کرنے کی جرات کی اور اسی جرم میں اسے جلاوطنی، تعاقب اور آخرکار قتل تک پہنچا دیا گیا۔ یا پھر ظلے شاہ کے والدین سے پوچھتے جس کو مارنے سے پہلے اس کے نازک اعضاء تک کو ٹارچر کیا گیا۔ کسی پاکستانی جان کی قدر پوچھنی تھی تو وقار ستی کے والد سے پوچھتے جس کے بچے کے سر میں ڈی چوک پر فوجیوں نے گولی ماری اور پھر لاش دینے سے بھی انکار کر دیا۔ یا مریدکے کے فیصل کی ماں سے پوچھتے جو اپنے بچے کا چہرہ تک نہ پہچان سکی کیونکہ اسے مارنے کے بعد اس کے سر پر فوجی گاڑی گزار دی گئی تھی۔ پاکستان اور پاکستانیوں کا خون بیچ کر تم نے اپنا اقتدار بھی بنایا جائیدادیں بنائیں بیرون ملک کاروبار خریدے جزیرے بناۓ پزا سٹور خریدے محل بناۓ اور اپنے بچوں کے مستقبل بھی۔ اس لیے تمہاری گندی زبان سے جب لفظ پاکستان یا پاکستانی نکلتا ہے تو وہ لفظ نہیں لگتا وہ شہید پاکستانیوں کے خون پر کیا گیا ایک تلخ مذاق لگتا ہے۔

Waqar khan

46,737 Aufrufe • vor 6 Monaten

کسی کو سزا کسی کو جزا ( جو چاہے آپ کا حسن کرشمہ ساز کرے) ملک میں کچھ بھی ہوجاے پاکستانی پولیس نے کبھی مجھے مایوس نہیں کیا - کسی بھی معاملے میں جو کرنا چاہیے ' اس کے بالکل متضاد اور برعکس کرکے ہمیشہ میری امید پر یہ لوگ پورا اترے ہیں - ان کو کیوں لگتا ہے کہ لوگ ان سے نرم دل ' میٹھا میٹھا یا حاتم طائ ہونا آئیکسپیکٹ کرتے ہیں - ہر گز نہیں - لوگ ان سے بس قانون کی عمل داری کرنا اور پروفیشنل ہونا ایکسپکٹ کرتے ہیں اور الحمد للہ یہ ہر موقع پر انتہائی غیر پروفیشنل' بے قانون اور غیر ذمے دار ثابت ہوتے ہیں - عورت کو بس ایک عورت اہلکار ہی ہاتھ لگاے -- لیکن نہیں - وہاں ان کے مرد اہلکار عورتوں کے گریبان پر ہاتھ ڈالتے بھی دیکھے گیے ہیں - ایک سرکاری افسر ہوتے ہویے ان کو عوام کا خادم ہونا ہوتا ہے - وہاں ان کے آئ جی پھولوں والی بگھیوں پر برطانوی راج والے پروٹوکول میں اسلام آباد کی سڑکوں پر مٹر گشت کرتے بھی دیکھے گیے ہیں - اور اب آج یہ نمونہ - ایک نوجوان جو بغیر ڈرائیور کے گاڑی کا تجربہ بغیر کسی لائسینس ' کسی انجنیرنگ اتھارٹی اپروول کے اسلام آباد کی ہائی وے پر کر رہا تھا ' اور ساتھ کیمرہ مین کو انٹرویو بھی دے رہا تھا ' اس نے پولیس کی گاڑی میں ٹکر دے ماری تو پولیس محض یہاں ویوز اور عوامی داد سمیٹنے کیلئے ایک انتہائی غفلت والے اقدام کو سراہ رہی ہے اور جگہ جگہ میمز بن رہی ہیں - یہ مذاق ہے ؟ ابھی تین دن پہلے اس ملک میں ایک حادثہ ہوا ہے جہاں ایک ہسپتال میں چودہ ننھے بچے جل کر دنیا سے چلے گیے ہیں ' اس کے بعد اس طرح کے بھیانک مذاق ؟ چلیں یہ تو پولیس تھی - یہی کسی کا بچہ اس نے نیچے دے دیا ہوتا - اپنے ویوز کے چکر میں کسی موٹر سائکل کو کچل دیا ہوتا - کسی ویل چیئر یا فٹ پاتھ پرچڑھ جاتا ' یا کسی کو ساری عمر کیلئے معذور کردیا ہوتا ' تو تب بھی پولیس کا یہی رسپانس ہوتا ؟ اگر جواب "نہیں " میں ہے تو اب یہ والا رسپانس کوئی بہت بردباری نہیں بلکہ انتہائی غیر پروفیشنل رویہ ہے - یہاں کوئی بھی مہذب ملک ہوتا تو اس آدمی کو جرمانہ کرکے اس کے ڈراوئنگ لائسنس کینسل کرکے اس کو حوالات میں رکھتا - کیا آ پ کو معلوم ہے کہ کسی بھی ملک میں شراب پی کر ڈرائیونگ کرنا انتہائی بڑا جرم سمجھا جاتا ہے اور ڈرائیور کا لائسنس معطل کرکے اس پر فوجداری مقدمہ چلایا جاتا ہے وہ اس لئے کہ یہ سمجھا جاتا ہے کہ شراب پی کر ڈرائیور سیٹ پر ہوتے ہویے بھی دماغی طور پر کار کی سیٹ پر نہیں ہوتا - اور یہاں تو ڈرائیور دماغی طور پر نہیں ' جسمانی طور پر سیٹ سے ہی غائب ہے - اس پر یہ واہ واہ اس بات کا ثبوت ہے کہ ہمارا کوئی بھی شعبہ پروفیشنل نہی ہے - کیا پولیس والے نے چیک کیا کہ اس معاملے میں قانون کی کہتا ہے ؟ پاکستان پینل کوڈکیا کہتا ہے ؟ یہ کبھی سزا دے دینا اور کبھی معاف کردینا کسی پولیس والے کی بساط اور اختیار کب سے ہوگیا ؟ یہ ملک ہے یا ان کا تھانہ ہے کہ کسی کو چھتر چڑھا دیے کسی کو ہار پہنا دیے - جہاں تک اس سٹوڈنٹ کی بات ہے تو اس کو بھی معلوم ہونا چاہیے کہ آپ نے اگر ایسا تجربہ کرنا بھی ہے تو اس کا پروٹوکول ہے - آپ کسی آتھینٹک کمپنی سے گاڑی چیک کرواتے ہیں ' اس کے بعد اس گاڑی کے بنانے والے کی اہلیت اور کریڈنشل چیک کراتے ہیں اس کے بعد ایسا تجربہ کسی ایسی جگہ کرتے ہیں جہاں عوام یا ٹریفک نہ ہو - اگر اس طرح کے عمل پر شاباش ملنے لگی تو کل کو کوئی انجن لگا کا جہاز بنا کر چھت سے چھلانگ لگا دیگا اور کسی راہ چلتے پر ٹرانسفارمر جیسا انجن گرادیگا - اسی اصول کے مطابق ون ویلنگ کرنے والے سارے من چلوں کو ایوارڈ دینا چاہیے کہ یہ بھی ٹیلنٹ ہے - خدا کیلئے - کبھی تو ہمیں بھی غلط ثابت کریں - کوئی کام ویسے بھی کیا کریں جیسا قانون کی کتاب میں لکھا ہوتا ہے - آپ کو سوشل میڈیا پر حاتم طائ بننے کی تنخواہ نہی دی جاتی ' قانون پر عملداری کی تنخواہ ملتی ہے جس کا آپ کے عمل سے دور دور کا بھی تعلق نہی ہے - خرد کا نام جنوں پڑ گیا جنوں کا خرد جو چاہے آپ کا حسن کرشمہ ساز کرے قلم کی جسارت وقاص نواز ---------------------------------------------------- Moeed Pirzada Hamid Mir حامد میر Imran Riaz Khan Islamabad Police

Dr Waqas Nawaz

66,050 Aufrufe • vor 24 Tagen