Video wird geladen...

Video konnte nicht geladen werden

Zur Startseite

لاپتہ افراد: حقیقت، الزامات یا سیاسی بیانیہ؟ | سدرہ صدو زئی

107,194 Aufrufe • vor 23 Tagen •via X (Twitter)

8 Kommentare

Profilbild von FORCE
FORCEvor 22 Tagen

Sidra Sadozai ne acha point uthaya. Har cheez ko political na banao.

Profilbild von Waqas Ahmed
Waqas Ahmedvor 22 Tagen

Maria aur Sidra ki discussion balanced thi. Dono angle aaye.

Profilbild von Kiran Gohar
Kiran Goharvor 22 Tagen

How do we balance national security with human rights in Balochistan?

Profilbild von Ali Tahir
Ali Tahirvor 22 Tagen

حقیقت جانے بغیر الزام نہیں لگانا چاہیے۔ نہ ہی انکار کرنا چاہیے۔

Profilbild von Zohaan Malik
Zohaan Malikvor 22 Tagen

بہت ضروری موضوع۔ سچ اور جھوٹ میں فرق کرنا ضروری ہے۔

Profilbild von Being Muslim
Being Muslimvor 22 Tagen

سر اصل اعداد و شمار کیا ہیں؟ کتنے کیس عدالتوں میں ہیں؟

Profilbild von Jawaid Ali
Jawaid Alivor 22 Tagen

“Political narrative” favorite excuse when you don’t want to answer.

Profilbild von Zain Ahmed
Zain Ahmedvor 22 Tagen

Are these cases genuine disappearances or people who joined militant groups?

Ähnliche Videos

عقیل یوسف زئی کے الزامات کا حقیقت پر مبنی جواب امیر انصار الامہ پاکستان، مولانا فضل الرحمن خلیل نے عقیل یوسف زئی کی جانب سے قائدِ جمعیت مولانا فضل الرحمن پر عائد کیے گئے الزامات کو بے بنیاد، من گھڑت اور حقائق کے منافی قرار دیتے ہوئے ان کا مدلل اور جامع جواب۔ مولانا فضل الرحمن خلیل نے اپنے بیان میں مختلف دعوؤں اور الزامات کا حقائق و شواہد کی روشنی میں جائزہ پیش کرتے ہوئے ان کے پسِ پردہ موجود مبالغہ آرائی اور یک طرفہ پروپیگنڈے کی نشاندہی کی۔ انہوں نے واضح کیا کہ سیاسی و مذہبی قیادت کے بارے میں رائے قائم کرتے وقت قیاس آرائیوں کے بجائے مستند حقائق، تاریخی پس منظر اور قابل اعتماد شواہد کو بنیاد بنایا جانا چاہیے۔ انہوں نے عقیل یوسف زئی کے مؤقف کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ بغیر ثبوت اور کسی زمہ دار ریاستی عہدیدار کا حوالہ دیئے بغیر محض من گھڑت الزامات اور یک طرفہ دعووں کی بنیاد پر کسی شخصیت کی کردارکشی کرنا صحافتی اصولوں اور ذمہ دارانہ طرز اظہار کے تقاضوں سے ہم آہنگ نہیں۔ مولانا فضل الرحمن خلیل کے مطابق، حقائق کو مسخ کرنے کے بجائے انہیں دیانت داری کے ساتھ عوام کے سامنے پیش کرنا ہی ذمہ دار صحافت اور سنجیدہ سیاسی مکالمے کا تقاضا ہے۔

Muhammad Aslam Awan

21,077 Aufrufe • vor 28 Tagen