正在加载视频...

视频加载失败

🚨لاہور کے گرد و نواح میں راوی کا دیگ نالا مختلف مقامات سے ٹوٹ چکا ہے۔ پچھلے سال بھی یہ ٹوٹنے کے قریب تھا لیکن حکام نے ماہرین کی وارننگ کے باوجود پورا سال اس پر کوئی کام نہیں کیا۔ اس وقت بھی صوبائی حکومت کہیں نظر نہیں آ...

119,442 次观看 • 1 个月前 •via X (Twitter)

0 条评论

暂无评论

原始帖子的评论将显示在这里

相关视频

مجھے کل پتا چلا کہ یوریا کھاد کی کمپنیوں پر پابندی لگائی گئی ہے۔ اس وقت کسان انتہائی پریشان ہیں، فصلوں کے لیے اس وقت کھادوں کی بہت ضرورت ہے۔ مجھے سمجھ نہیں آ رہی ہے کہ وفاقی حکومت کیوں خیبر پختونخوا کے عوام سے انتقام لے رہی ہے۔ کبھی سیکیورٹی کے نام پر سیکیورٹی آپ لوگوں سے سنبھالی نہیں جا رہی ہے، سیکیورٹی میں آپ نے کون سا ایکشن لیا ہے، اس وقت نیشنل ایکشن پلان پر کوئی عمل نہیں ہو رہا ہے، امن و امان کی صورتِ حال بد سے بدتر ہو رہی ہے۔ آپ روزگار کے مواقع ختم کر رہے ہیں۔ ابھی آپ کسان کو مار رہے ہیں تاکہ خیبر پختونخوا میں تھوڑا بہت رمک ہے، وہ بھی ختم ہو جائے۔ میں اس کی بھرپور مذمت کرتا ہوں اور اس پر اسمبلی اجلاس میں بات کروں گا۔ جو بھی اس پابندی کے ذمہ داران ہیں، وہ قوم کے دشمن ہیں، وہ زیادتی کر رہے ہیں، نفرتیں پیدا کر رہے ہیں۔ ہم نے ہر ممکن طریقے سے اس کا مقابلہ کرنا ہے، اس کے خلاف آواز اٹھانی ہے۔ اپنے کسان بھائیوں سے کہتا ہوں کہ میں آپ کے ساتھ ہوں، کل کے اسمبلی اجلاس میں اس معاملے کو اٹھاؤں گا۔

Asad Qaiser

20,433 次观看 • 9 天前

ایک دوست نے وڈیو بھیجی جس میں مریم صاحبہ سرکاری ہسپتالوں سے ادویات کی چوری کے متعلق بات کر رہی ہیں۔ 2017-18 میں ہی میری ٹیم نے پنجاب بھر کے بڑے سرکاری ہسپتالوں سے ادویات کی چوری ختم کروا دی تھی۔ اس وقت کے کئی MS (بشمول گنگارام، جناح، میو ہاسپٹل) اس کے گواہ ہیں۔ بدقسمتی کہ یہ IT پروجیکٹ PITB، بیوروکریسی اور PTI حکومت کی ملی بھگت کی نظر ہو گیا۔ کوئی سال بھر اسے اپنی ذاتی جیب سے بھی چلاتا رہا اور سیکرٹری اور وزیر کے دفاتر کے دھکے بھی کھاتا رہا، لیکن کسی نے ownership نہیں لی، اور پھر میرے لئے مزید کرنا ممکن نہ رہا۔ اور اب اس تقریر سے علم ہوا ہے کہ بدقسمتی سے 8 سال گزرنے کے باوجود ایسا کوئی نظام دوبارہ نہیں لایا جا سکا۔ یہ کام کرنے کے لیے کروڑوں کے وسائل بھی نہیں لگائے گئے تھے، تھوڑا فنڈ اور بہت زیادہ نیک نیتی اور جنون بذریعہ پلاننگ، رسرچ و تعلیم اسکی اصل وجہ تھی۔ نظام کی تبدیلی کے کسی مسئلے کے حل کیلئے چھ ماہ یا ایک سال سے زائد وقت نہیں چاہئے، اس سے زیادہ وقت لگتا ہے تو مسئلہ کہیں اور ہے۔

Fraz

10,592 次观看 • 6 个月前

نئے صوبوں سے متعلق سوال پر امیر جےیوآئی مولانا فضل الرحمان کا جواب: ایک بات میں پہلے آپ صحافیوں سے کرنا چاہوں گا جی، ذرا مہربانی کریں، آپ میڈیا کی دنیا میں حمایت اور مخالفت کی لکیر نہ کھینچیں۔ یہ ایک ڈیبیٹیبل ایشو ہے اور اس پر مختلف پہلوؤں سے بات ہو سکتی ہے۔ اصولی طور پر ایک مسئلے کی پوزیشن اور ہوتی ہے، عملی طور پر جب آپ آتے ہیں تو پھر اس کی صورت اور ہوتی ہے۔ اصولی طور پر آپ کو حق ہے کہ آپ اپنا گھر بنائیں، لیکن کیا آپ کے پاس وسائل ہیں کہ آپ بنا سکیں؟ وسائل نہیں ہیں، جیب خالی ہے اور آپ جا کر وہاں اینٹیں رکھنا شروع کر دیں تو لوگ کہیں گے کہ یہ کیا کر رہا ہے؟ تو وہ ایک خامخواہ ضائع ہونے والی بات ہو جاتی ہے۔ میری اپنی ذاتی رائے یہ ہے کہ اصولی طور پر تو ہم یونٹس کے خلاف نہیں ہیں۔ ہم نے اس سے پہلے بہاولپور صوبے کی بھی حمایت کی تھی، ہم نے اس سے پہلے سرائیکی صوبے کی بھی حمایت کی تھی، ہم نے اس سے پہلے ہزارہ صوبے کی بھی حمایت کی تھی، ہم نے خود فاٹا کو صوبہ بنانے کا مطالبہ کیا تھا۔ تاہم سندھ ذرا اس سے مختلف تھا کہ سندھ کے عوام صوبے کی تقسیم کے لیے آمادہ نہیں تھے، اس وقت بھی نہیں تھے اور اب بھی نہیں ہیں۔ لیکن جو میری معلومات ہیں، جب اس وقت صوبہ، صوبہ ہو رہا تھا تو اسٹیبلشمنٹ بھی اس کی مخالف تھی۔ چنانچہ ان عناصر کی حوصلہ شکنی کی گئی جو صوبہ، صوبہ کر رہے تھے اور حکومتوں اور اسمبلیوں میں وہ لوگ نہیں آ سکے، کمزور پوزیشن میں آئے اور بالآخر ان کو وہ ایشوز چھوڑنے پڑ گئے۔ آج پھر کون سی ایسی وحی آ گئی ہے ان کے اوپر کہ آؤ، ان کو پتا نہیں کتنے اور کوئی نقشہ بھی نہیں ہے۔ کبھی آپ سولہ یونٹس میں تقسیم کر رہے ہیں، کبھی آپ بتیس یونٹس میں تقسیم کر رہے ہیں، کبھی ہر ڈویژن کو صوبے کا درجہ دے رہے ہیں۔ کچھ سمجھ میں نہیں آ رہا کہ نقشہ کیا ہے۔ تو ایک بات کہہ دینا اور پھر لوگوں کو چھوڑ دینا کہ وہ اس پر بحث کرتے رہیں، میرے خیال میں ملک کے اصل مسائل سے توجہ ہٹانے کے لیے یہ ایشو پھینکا گیا ہے۔ اس میں کوئی سنجیدگی ہے، نہ اس کے لیے اس وقت کوئی ماحول موجود ہے اور نہ ہی اس کے لیے کوئی تیاری موجود ہے۔ جب ماحول بھی نہیں ہے، اس وقت تیاری بھی نہیں ہے، تو خامخواہ ایک غیر سنجیدہ گفتگو، جس کا پاکستان متحمل نہیں ہو سکتا۔ ہمارے حکمران اس وقت باہر کی دنیا کے ریڈ کارپٹس کو انجوائے کر رہے ہیں اور ان کو یہ اندازہ نہیں ہے کہ پاکستان کی سرزمین جو خون سے سرخ ہے، اس کو بھی تو ہمیں سنبھالنا ہے۔ تو جہاں خون بہہ رہا ہو، جہاں ملکی زمین جو ہے وہ خون سے سرخ ہو اور آپ باہر دنیا میں جا کر وہاں پر ریڈ کارپٹ سے لطف اندوز ہو رہے ہوں، تو ذرا گھر کو تو ٹھیک کریں۔ ہم نہیں کہتے کہ آپ باہر کی دنیا سے اچھے تعلقات نہ رکھیں۔ ہم نے تو امریکہ اور ایران کے درمیان ثالثی کو سپورٹ کیا ہے۔ ہم نے سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان دفاعی معاہدے کو سپورٹ کیا ہے۔ ترکی کی شمولیت کو ہم نے سپورٹ کیا ہے۔ مصر اس میں آتا ہے، ایران اس میں آتا ہے۔ خیر، مقدم کریں گے ایک اسلامی بلاک کے قیام کا۔ یہ خود جمعیت علماء اسلام کے منشور کا حصہ ہے۔ تو جو چیزیں دنیا میں ہمارے اپنے فکر اور ہمارے نظریے کے مطابق آگے بڑھیں گی، ہم اس کو سپورٹ کریں گے۔

Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan

11,199 次观看 • 8 天前

آپ کو 9 مئی والے واقعات یاد ہوں گے نا ڈرتے ہیں کہیں ایسا موقع پھر نہ آ جائے اس میں میں ایک سوال کرتا ہوں آپ سبھی ساتھیوں سے خاص کر جو سمجھتے ہیں کور کمانڈر کا گھر آپ کا گھر نہیں ہے وہ میرا گھر ہے کور کمانڈر کا گھر ایسے کھلا کیوں تھا کہ لوگ چلے گئے آپ جواب دیں نا اس سے کیوں نہیں پوچھا گیا کہ کور کمانڈر صاحب آپ... کور کمانڈر کا گھر تو... نہیں دیکھیں جب عوام کا ایک سمندر آ جاتا ہے نا تو پھر اس کو روکا نہیں جا سکتا نہیں ہم... گولیاں تو نہیں چلاتے نا ہماری اپنی ایک فیصلہ ہو رہا ہے سچ یہ ہے اگر 9 مئی کے لوگوں کا یہ وہ ہے آپ رات پوچھیں سوچیں وہ بھی سوچیں آپ کو بھی پتہ ہے آپ کا یہ دل بھی مانتا ہے میرا بھی مانتا ہے اس 8 فروری کو الیکشن عمران کی پارٹی... 25 کروڑ انسانوں کو شہباز شریف اور ان کے متحدہ فوجیوں، سپاہیوں اور مجھ جیسے بیکار لوگوں نے سپورٹ کیا 25 کروڑ انسانوں کے خلاف دہشت گردی کی 9 مئی میں آپ نے 10 سال جیل دیے تو میں پوچھتا ہوں سپریم کورٹ ایک پارٹی سے اس کا نشان چھینتی ہے اس کی پارٹی کے لیڈر کو کہیں بھی کاغذات نامزدگی داخل ہونے نہیں دیے گئے تمام لوگوں کی یہ جو کے پی کے کی بات کر رہا ہے 200 نشانوں پر لوگوں نے انتخاب لڑا کہیں گائے تھی کہیں گھوڑا تھا کہیں گدھا تھا ووٹ انہوں نے دیے جیت لیے آسمان سے میں عمران خان کا، میں اس کا مخالف تھا لیکن جب وہ جیت چکا ہے اور آپ بائے فورس اس کو وہ کریں گے یہ تو پاکستان کی بنیادیں ہلا دے گا قائد حزب اختلاف محمود خان اچکزئی

Tehreek-e-Tahafuz-e-Ayin-e-Pakistan

16,902 次观看 • 3 个月前

کیا دہشتگردی ختم ہوگئی؟آپ اور ہم جس صوبے سے تعلق رکھتے ہیں، پورے طول و عرض پر آپ نظر ڈال لیں، کہیں پر امن ہے؟ اور صرف بدامنی کی بات نہیں کر رہا، بدامنی اس حد تک بڑھ گئی ہے کہ حکومتی رِٹ ختم ہو رہی ہے، پولیس کا چین آف کمانڈ ٹوٹ گیا ہے۔ لکی مروت میں، بنوں میں، ٹانک میں پولیس جو ہے، وہ آزاد ہو گئی ہے اور اس نے اپنی امن کمیٹیاں بنا لی ہیں، اور وہ وردی بھی نہیں پہن رہے، اور کانسٹیبل جو ہے، وہ خود اپنا نظام اپنے ہاتھ میں لیے ہوئے ہیں۔ نہ کوئی ڈی پی او کا آرڈر چلتا ہے، نہ کوئی ڈی آئی جی کا آرڈر چلتا ہے، نہ کوئی آئی جی کا آرڈر چلتا ہے۔ پرسوں ترسوں ہمارے بنوں کے ڈی آئی جی کی جو سیکیورٹی ہے، وہ ایک کانسٹیبل نے کِلوز کی ہے۔ ایک کانسٹیبل نے آرڈر دیا کہ سب یہ ڈیوٹی چھوڑ دو، آ جاؤ واپس۔ یہ حالت ہے! اب اس حالت میں ہم زندگی گزار رہے ہیں۔ کب تک ہم یہ زندگی اس طرح گزارتے رہیں گے؟ اور کہہ رہے ہیں کہ ہم ٹھیک کریں گے، ہم لڑیں گے۔ وہ ایک چڑیا ہے، وہ کہتا ہے: بلوچستان کےلئے تو ایک تھانیدار کی مار ہے۔ بس ،، تمہارے تھانیداروں کا کیا حشر کر دیا۔ تمہارے تھانوں کا کیا حشر کر دیا؟ کچھ تو حقائق کی طرف جاؤ۔ تو جب ہم حقائق کی طرف جائیں گے تو پھر ہم اس کے بعد مشاورت تو ہونا ہے۔ اب شہباز شریف بیچارہ وزیر اعظم ہے، پوری دنیا میں جاتا ہے، اور اگر وہ قابلِ قبول ہوگا تو آرمی چیف کو ساتھ لے کر جائے گا، ورنہ پھر اس کو کوئی ہاتھ بھی نہیں ملائے گا۔ بھئی، تم باہر جاؤ، تمہیں کوئی عزت دے، ہم اس کو پاکستان کی عزت کہیں گے، لیکن آپ کے ملک کے اندر کی سرزمین خون سے سرخ ہے اور تم باہر دنیا میں ریڈ کارپٹس کو انجوائے کر رہے ہو، کوئی احساس نہیں آپ کو؟ اسی سے گزارہ کر رہے ہو، کہ فلاں ملک پر آپ اتر رہے ہیں، ریڈ کارپٹس پر جا رہے ہیں، آپ کا استقبال ہو رہا ہے، بادشاہ آپ کا استقبال کر رہے ہیں۔ یہ ساری چیزیں ہیں۔ ہاں، کوئی جائز کام ہے، اگر آپ نے سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدہ کیا، جمعیت اس کو سپورٹ کرتی ہے۔ اگر اس پر ترکی شامل ہو گیا، ہم سپورٹ کرتے ہیں۔ جمعیت علماء اسلام کا منشور ہے: ایک اسلامی بلاک کا قیام۔ اگر اور اسلامی ممالک اس میں شامل ہوتے ہیں، اور یہ درحقیقت اس طرف ایک قدم ہے کہ اسلامی دنیا امریکہ پر اپنا انحصار ختم کرے، اور باہم یہ اپنی قوت کو مجتمع کرے، تو اگر کوئی ایسی بات ہوتی ہے تو ہم نے تو اختلاف نہیں کیا۔ اختلاف برائے اختلاف نہیں ہو رہا، ورنہ ہم یہاں بھی اختلاف کرتے ہیں۔ تو آپ کیوں جا رہے ہیں؟ آپ تو نمائندے نہیں ہیں پاکستان کے، آپ کی حکومت تو جعلی ہے اور واقعی جعلی ہے، اس میں بھی کوئی شک نہیں۔ اور پھر اقلیت حکومت کر رہی ہے۔ پیپلز پارٹی حکومت کا حصہ نہیں ہے، صرف آئینی عہدے لئے ہوئے ہیں ۔ گلگت میں الیکشن ہے، ایک دوسرے کے خلاف بول رہے ہیں، مقابلہ ہے ان کا۔ کشمیر میں الیکشن ہے، ایک دوسرے کے خلاف بول رہے ہیں، بھرپور بول رہے ہیں۔ اور اسمبلی میں آ کر بیٹھتے ہیں تو پہلے اختلاف کرتے ہیں، پھر جب ووٹ کا وقت آتا ہے،،،،،،،،،،،،،،، اس قسم کی ایک سیاست ہے جو ملک کے اندر چل رہی ہے۔ قائد جمعیت مولانا فضل الرحمٰن کا پشاور میں خطاب

Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan

13,807 次观看 • 3 天前

کبھی جہاز خرید لیتے ہیں، پچھلے سال انہوں نے چار کروڑو روپیوں کی بلٹ پروف مرسیڈیز لے لیں، ارے یار اتنی بھی آپ لوگوں کو کیا تھریٹ ہے، پہلے بھی تو لوگ چیف منسٹر رہے ہیں، نجم سیٹھی کفایت شعاری مہم کوئی نہیں چل رہی،ابھی آپ دیکھ لیں کوئی کفایت شعاری نہیں ہو رہی، نہ اسلام آباد نہ پنجاب، نہ سندھ ، نہ کے پی اور نہ بلوچستان میں ہو رہی ہے، آئی ایم ایف ان کو کہتا ہے آپ اپنے اخراجات کم کریں، اپنی عیاشیاں کم کریں، اپنی کرپشن کم کریں، وہ یہ کرتے نہیں ہیں، اس لئے تو یہ unpopular ہیں، اس لئے Democracy Getting a Bad Name، یہ مطلب ہے جمہوریت کا ، مگر ان کو احساس نہیں ہے، I am Shocked، کوئی احساس نہیں ہے سب ایک ہی حمام میں ہیں، پبجاب والے بھی یہی کر رہے ہیں، سینیٹ والے بھی یہی کر رہے ہیں کے پی والے بھی یہی کر رہے ہیں، کبھی جہاز خرید لیتے ہیں، پچھلے سال انہوں نے چار کروڑو روپیوں کی بلٹ پروف مرسیڈیز لے لیں، ارے یار اتنی بھی آپ لوگوں کو کیا تھریٹ ہے، پہلے بھی تو لوگ چیف منسٹر رہے ہیں آپ دیکھ نہیں باہر عوام کی کیا حالت ہے کم از کم تھوڑا تو لحاظ کریں، نجم سیٹھی

Siddique Jan SMT

13,510 次观看 • 1 个月前

یہ صاحب اس وی لاگ میں جس معدے کے ڈاکٹر کا ذکر کر رہے ہیں وہ میں ہوں جس نے ان پر پی ٹی وی پر کینسر کے بارے میں اس جھوٹ کو کہ "کرایو تھراپی کیموھراپی کا متبادل ہے " غلط ثابت کیا تھا کیوں کہ یہ کینسر کے علاج کے بنیادی اصول کے ہی منافی ہے کیوں کہ کیوتھراپی اس وقت لگتی ہے جب لیمف نوڈ (lymph node) تک کینسر پھیل چکا ہے یعنی سٹیج تھری - اور اس وقت کوئی کرایو تھراپی کوئی کوبلیشن مشین اس کا علاج نہی کرسکتی - میری اس بات پر یہ مجھے بلاک کر کے بھاگ گیے اور آج اس وی لاگ میں کہ رہے ہیں کہ معدے کا ڈاکٹر کینسر پر کیسے بات کرسکتا ہے - ان کی یہ جہالت چیک کریں کہ معدے کا ڈاکٹر کینسر کے بنیادی اصولوں جو سب ڈاکٹروں کو پتا ہوتے ہیں ' ان پر بات نہیں کرسکتا لیکن ایک نام نہاد صحافی جس کا میڈیسن سے دور دور تک لینا دینا نہی وہ یہ بات پورے اعتماد سے کرسکتا ہے - اس بارے میں میں صحافی شفا یوسفزئی Shiffa Z. Yousafzai کے ساتھ ایک تفصیلی پروگرام بھی کر چکا ہوں جس میں میرے ساتھ ڈاکٹر فیضان ملک جو ایک انکالوجسٹ ہیں وہ بھی موجود تھے اور اس بات کو ہم نے تفصیل سے غلط ثابت کیا تھا کہ کرایو تھراپی یا کوبلیشن مشین کسی طرح بھی کیموتھراپی کا متبادل نہیں ہے - اسی جہالت کی وجہ سے اس وقت بھی پی ٹی وی نے ان کو شو کاز نٹس اشو کیا تھا کہ آپ نے کینسر سے متعلق غلط بات کی ہے اور یہ بات آج بھی اپنی جگہ قائم ہے - اس شخص کا عمران خان اور شوکت خانم کینسر ہسپتال سے بغض اس قدر زیادہ ہے کہ یہ اس کی آگ میں کینسر کے مریضوں کو بھی جھونک سکتا ہے -

Dr Waqas Nawaz

45,473 次观看 • 11 个月前

🔵 نیا سال آ گیا… لوگ خوشیاں منا رہے ہیں، دعائیں کر رہے ہیں، اور ادھر بلاسفیمی بزنس گروپ کی متاثرہ مائیں ایک اور سال اپنے بچوں کے بغیر دیکھ رہی ہیں۔ جب گھڑی نے بارہ بجائے، تو کسی ماں نے کیک نہیں کاٹا… اس نے اپنے بچے کی تصویر کو سینے سے لگایا اور خاموشی سے رو دی۔ اس کے لیے نیا سال کوئی خوشخبری نہیں لایا، بس ایک اور سالِ انتظار دے گیا۔ یہ سال بھی گزر گیا دروازہ نہ کھلا قدموں کی آہٹ نہ آئی وہ بچہ، جسے جھوٹے الزام میں چھین لیا گیا تھا، واپس نہ آیا۔ ماں آج بھی وہی سوال کرتی ہے: میرا بیٹا کس جرم کی سزا کاٹ رہا ہے؟ اور جواب میں صرف خاموشی ملتی ہے… لمبی، ظالم خاموشی۔ نئے سال کی رات سب کچھ بدلنے کا وعدہ کرتی ہے، مگر ان ماؤں کے لیے وقت وہیں رک گیا ہے جہاں ان کا بچہ آخری بار نظر آیا تھا۔ یہ آنسو کمزوری نہیں، یہ زندہ ضمیر کے ثبوت ہیں۔ اور اگر اس نئے سال میں بھی ان کی آواز نہ سنی گئی تو یہ ملک صرف سال نہیں بدلے گا، اپنا ضمیر کھوتا جائے گا۔ #StopBlasphemyBusiness #JusticeFor450 #450LivesMatter

Voice of the Victims of Blasphemy Business Group

17,428 次观看 • 7 个月前