Загрузка видео...

Не удалось загрузить видео

На главную

لاہور ہائیکورٹ میں ایک دلچسپ کیس! انٹرمیڈیٹ کے ایک طالب علم نے لاہور ہائیکورٹ میں درخواست دی کہ میں بورڈ کے امتحانات میں دوسرے نمبر پر آنے والے تین امیدوران میں سے ایک تھا باقی دو کو پوزیشن ہولڈر قرار دیا گیا لیکن مجھے نہیں! چار سال سے قرض...

97,143 просмотров • 2 дней назад •via X (Twitter)

Комментарии: 7

Фото профиля Hamad Khan
Hamad Khan2 дней назад

CMPortal isn't helpful, it only forward complaints to concerned Dept. & bureaucracy simply clear their dashboard by resolving tickets without actually resolving issues. There should be some monitoring/checks on resolution of logged complaints. C.c: @MaryamNSharif @cmopunjabpk

Фото профиля Sargoshian
Sargoshian2 дней назад

قرض پر پڑھنے والے نے وکیل کی فیس کیسے برداشت کی ہوگی۔ بورڈ کو یہ مسئلہ حل کرنا چاہیئے تھا۔

Фото профиля Anwar ul Mustafa Anwar ul Mustafa
Anwar ul Mustafa Anwar ul Mustafa2 дней назад

Sir yeh hmaray gaon ka lrka hai Gujranwala bored say is ne 1077 nmbr Liye us hisab say is ki doosri position bnti hai lekn yeh 1059 nmbr walay ko doosri position k Liye namzd kia gia hai

Фото профиля Muqarrab Qayyum
Muqarrab Qayyum2 дней назад

سی ایم پورٹل اور کمپلین سیل مسائل حل کرنے کیلئے نہیں ہوتے۔ ان میں اپنی مرضی کے بندے بھرتی کر کے ان کو تنخواہ دینا اور نوازنا اصل ٹارگٹ ہوتا ہے۔ یہی وہی عمران دور کے پی ایم پورٹل جیسی خرافات ہے۔ پورٹل والے شکایت اسی محکمے کو بھیجتے ہیں جنہوں نے مسئلہ پیدا کیا ہوتا ہے۔

Фото профиля AzHeR Ali
AzHeR Ali2 дней назад

@MaryamNSharif @RanaSikandarH

Фото профиля Dr Tahir Khan HalimXai
Dr Tahir Khan HalimXai2 дней назад

He took improvement exams in 9th

Фото профиля Mohammad Azam
Mohammad Azam2 дней назад

لو کر لو گل!

Похожие видео

🚨امریکی CIA نے القاعدہ تک کیسے رسائی حاصل کی؟🚨 جان کریاکو کو القاعدہ کے چار ارکان کے ایک کافی شاپ میں روزانہ ملنے کی اطلاع ملی۔ اس نے عربی حلیے میں روزانہ وہاں جانا شروع کر دیا۔ پھر ان میں سے ایک عربی سے اس کا کیسے رابطہ ہوا؟ یہ سنسنی خیز کہانی سنیے: میں پاکستان میں تھا۔ مجھے ایک اطلاع ملی تھی کہ القاعدہ کے درمیانی سطح کے چند جنگجو روزانہ صبح دس بجے ایک کافی شاپ میں ملاقات کرتے تھے۔ میری عربی اس وقت بالکل درست اور فصیح تھی۔ میں نے آپریشنل وجوہات کی بنا پر ایک گھنی داڑھی رکھی ہوئی تھی۔ انٹرویو کرنے والے نے پوچھا : کیا میں آپ کی کچھ عربی سن سکتا ہوں؟ جان کریاکو نے جواب دیا : ہاں۔ "آپ سے مل کر خوشی ہوئی۔" بسم اللہ الرحمن الرحیم الحمد للہ رب العالمین الرحمن الرحیم" میں نے ایک عربی اخبار خریدا اور کافی شاپ میں جا کر بیٹھ گیا، اور واقعی دس بجے وہ چاروں آ گئے۔ ان میں سے ایک نے میری طرف دیکھا، میں نے بھی اس کی طرف دیکھا، اور بس، ہماری نظریں ملیں۔ میں نے یہ ایک ہفتہ کیا۔ دوسرے ہفتے میں وہاں کافی پی رہا تھا، عربی اخبار کے ساتھ بیٹھا ہوا، اور وہ شخص جس نے پچھلے ہفتے میری طرف دیکھا تھا، اس نے سر ہلایا۔ تو میں نے بھی سر ہلایا، بس اتنا ہی —— کوئی اور بات چیت نہیں ہوئی۔ تیسرے ہفتے میں اب اس کے لیے باقاعدہ ایک شناسا انسان بن چکا تھا، وہ مجھے پہچانتا تھا۔ ایک دن اس نے مجھ سے کہا: "السلام علیکم" میں نے کہا: "وعلیکم السلام" — تم پر بھی سلامتی ہو۔ ایک دن وہ اکیلا آیا، تو میں نے کہا: "تفضل، براہ مہربانی بیٹھ جائیں۔ میرے ساتھ بیٹھیں، اس میں کوئی معنی نہیں کہ آپ اکیلے بیٹھیں اور میں اکیلے بیٹھوں۔" تو وہ بیٹھ گیا، ہم بات کرنے لگے، اور میں نے اس سے پوچھا کہ آپ پاکستان میں کب سے ہیں؟ اس نے کہا: میں پانچ سال سے یہاں ہوں۔ میں افغانستان میں تھا، میں نے امریکیوں کے خلاف جہاد کیا تھا۔ میں نے کہا: اوہ، وہ تو جہنم کی طرح رہا ہو گا۔ اس نے کہا: اوہ تورابورا کی بمباری تو وحشیانہ اور خوفناک تھی۔ میں نے کہا: اور آپ کا خاندان کیسا ہے؟ اس نے کہا: میری بیوی، بیٹا اور بیٹی قاہرہ میں ہیں۔ میں نے کبھی اپنے بیٹے سے ملاقات نہیں کی — وہ میری روانگی کے فوراً بعد پیدا ہوا تھا جب میں جہاد کے لیے گیا تھا۔ میں نے کہا: مجھے بہت افسوس ہے۔ اس نے کہا: ہاں، میں تنہا ہوں، اور میں گھر جانا چاہتا ہوں۔ اور ہم نے یہ رابطہ جاری رکھا۔ آخر کار ایک دن میں نے اس سے کہا: چلو، میں آپ کو ڈنر پر لے جاتا ہوں۔ کافی شاپ سے باہر چلیں۔ حقیقت یہ تھی کہ میں نہیں چاہتا تھا کہ اس کا کوئی دوست آ کر ہمیں دیکھ لے۔ تو ہم ایک ریسٹورنٹ میں ڈنر کے لیے گئے، اور میں نے کہا: سنیں، ایک چیز ہے جس میں میں نے آپ سے سچ نہیں بولا۔ میں لبنانی نہیں ہوں۔ دراصل، میں امریکی ہوں۔ کیا آپ اس سے ٹھیک ہیں؟ اس نے کہا: مجھے لگتا ہے ہاں۔ میں نے کہا: دراصل، میں سی آئی اے کا افسر ہوں۔ اس نے کہا: ٹھیک ہے۔ (وہ چیختا ہوا بھاگا نہیں، نہ ہی بندوق نکالی — کچھ نہیں کیا) اس نے پوچھا: آپ مجھے کیوں ملنا چاہتے ہیں؟ آپ مجھ سے بات کیوں کرنا چاہتے ہیں؟ میں نے کہا: دراصل، آپ کے پاس ایک چیز تک رسائی ہے جو میں چاہتا ہوں جو بہت مخصوص تھی۔ میں نے اسے بتا دیا کہ کیا چاہیے؟ اس نے کہا: اور آپ میرے لیے کیا کریں گے؟ میں نے کہا: آپ کے دل کی جو بھی خواہش ہو۔ اس نے کہا: میں گھر جانا چاہتا ہوں۔ میں نے کہا: میں یہ کر سکتا ہوں۔ (اور معلومات؟ ہاں، میں نے مخصوص معلومات چاہی تھیں جو میں نہیں بتاؤں گا۔) ورنہ میں جیل چلا جاؤں گا۔ تو ہم نے اس کے لیے پاسپورٹ کا بندوبست کیا، میں نے اس کے لیے فرسٹ کلاس ٹکٹ خریدا، اور اسے ایئرپورٹ تک چھوڑنے گیا، کچھ نقد رقم دی تاکہ وہ دوبارہ زندگی کی شروعات کر سکے۔ اور روانگی سے پہلے میں نے پوچھا: میں آپ سے ایک بات پوچھنا چاہتا ہوں — آپ مجھے یہ معلومات دینے پر کیوں رضامند ہوئے؟ میں تو غالباً آپ کا دشمن ہوں۔ اس نے کہا: میں یہاں پانچ سال سے ہوں، اور آپ پہلے شخص ہیں جس نے کبھی مجھ سے میرے خاندان کے بارے میں پوچھا۔ تو میں نے کہا: تم بہت خوش نصیب ہو، پھر میں اس سے کبھی نہیں ملا۔ یہی ہمارا کام ہے۔ John Kiriakou #CIA #JohnKiriakou #alQaeda #USA #Pakistan

اکرم راعی Akram Raee

135,662 просмотров • 6 месяцев назад

جو انہوں نے میرے ساتھ کیا جو تذلیل کرنا چاہی عزت ذلت اللہ کے ہاتھ میں ہے، میں اپنے بچوں کو کیا بتاؤں؟ میں اپنے خاندان کو کیا بتاؤں؟ میں اپنی ماں کو کیا بتاؤں؟ مجھ سے خاندان والے پوچھتے ہیں کہ یہ کیوں کیا آپ کے ساتھ؟ جو زخم آپ نے دیکھے ہیں نا اس سے گہرے زخم میرے دل پہ لگے ہیں، میں تو پاکستانی ہوں پاکستان سے محبت کرتا ہوں میں تو پاکستان کیلئے کچھ کرنا چاہتا ہوں پر میرے ساتھ کیوں کیا انہوں نے؟ یہ زخم تو ٹھیک ہو جائیں گے مگر میرے دل پہ جو زخم لگے یہ زخم تو کبھی ٹھیک نہیں ہوں گے میں تو کبھی نہیں بولوں گا جس طرح جانوروں سے بھی بدتر سلوک میرے ساتھ کیا گیا مجھے مارا گیا جانوروں کے ساتھ بھی کوئی ایسا نہیں کرتا جو انہوں نے میرے ساتھ کیا، میں پوچھتا رہا اپنا قصور پوچھتا رہا میرا قصور یہ ہے کہ میں پاکستان کے لیے کھڑا ہوں میرا قصور یہ ہے کہ میں کبھی جھکا نہیں میرا قصور یہ ہے کہ میں عمران خان کے لیے کھڑا ہوں تو مار لو مجھے، تم مجھے گولیاں مارو تم میرا سر کاٹو میری بوٹیاں کاٹو میں عمران خان کے ساتھ کھڑا ہوں میں پاکستان کے ساتھ کھڑا ہوں۔ سابق رکن قومی اسمبلی فہیم خان

Qasim Khan Suri

15,827 просмотров • 7 месяцев назад