Video yükleniyor...

Video Yüklenemedi

Ana Sayfaya Dön

لاہورمیں ری ٹویٹ کرنےپر25سالہ نوجوان کواٹھایا گیا،خاندان پراتنا دباؤڈالا گیا کہ اسکی اہلیہ ہرٹ اٹیک سےمرگئیں،نوجوان کو پےرول پررہائی نہیں ملی،مردہ لاش جیل لےکرگئے،کہادیکھ لو چہرہ،کیا میں جھوٹا بن جاؤں؟سلمان اکرم راجہ

253,989 görüntüleme • 5 ay önce •via X (Twitter)

0 Yorum

Yorum bulunmuyor

Orijinal gönderinin yorumları burada görünecek

Benzer Videolar

ڈاکٹر عافیہ صدیقی اور انکے معصوم بچوں کے ساتھ ظلم کی کیا انتہا کی گئی اور اب کیسے ڈاکٹر فوزیہ کو پیچھے ہٹنے پر مجبور کیا جارہا ہے، عافیہ کے امریکی وکیل Clive Stafford Smith کے کابل افغانستان سے ثبوت اکٹھے کرنے کے دوران شہزاد اکبر Mirza Shahzad Akbar کے ساتھ انٹرویو میں تکلیف دہ انکشافات۔ "ہمارے پاس بیش بہا ثبوت اکٹھے ہوچکے ہیں جس سے عافیہ کے خلاف کھڑا کیا گیا جھوٹا بیانیہ بینقاب ہو جائیگا، ہمارے پاس وڈیو ریکارڈنگ اور آڈیو ریکارڈنگز بھی موجود ہیں، اسلیے ISI ہمیں دھمکا رہی ہے انکو یہ نہیں کرنا چاہیے، وہ یہ سب اسلیے کررہے ہیں کہ جب یہ سارا کچھ ایکسپوز ہوگا تو انکو بہت شرمندگی ہوگی۔ عافیہ کو کراچی سے اغوا کرتے ہوئے اسکے 3 بچے بھی اغواء کیے گئے، میں نے ثبوت حاصل کر لیے ہیں کہ 3 سالہ بیٹی مریم کو افغانستان میں زبردستی ایک امریکی سفید فام عیسائی خاندان کے حوالے کیا گیا۔ 5 سالہ بیٹے احمد کو جیل میں رکھا گیا اور زبردستی اسکا نام اسان علی رکھا گیا۔ ایک سوال یہ بھی ہے کہ عافیہ کا 6 ماہ کا بیٹا سلیمان بھی اغواء کے وقت انکے ساتھ تھا وہ زندہ ہے یا نہیں، اس پر الجزیرہ کی دو حصوں میں ڈاکیومنٹری بھی آرہی ہے ہم اسکو ہر جگہ دکھائیں گے کیونکہ ISI اپنے ہتھکنڈے ترک نہیں کررہی، ہم سلیمان کی تلاش کیلیے اسکی تصویر کو AI سے reproduce کروا رہے ہیں کہ اگر وہ زندہ ہے تو 22 سال کی عمر میں کیسا لگتا ہوگا۔ پورے امریکہ میں ہم کمپین کریں گے تاکہ اسکو تلاش کیا جاسکے اور ملنے پر اسکا DNA کروائیں گے۔ کیا پتہ کہ کسی کو معلوم ہو کہ یہ پاکستانی نوجوان کہاں ہے کسی کو مل جائے۔"

Obaid Bhatti

30,705 görüntüleme • 11 ay önce

میر رضا علی کو 12 گھنٹے سے زائد مغوی بنا کر جو سفاکانہ تشدد کیا گیا، اس کا تصور ہی روح کے کانپنے کے لیے کافی ہے۔ مقتول کو بے حس اور ساکت کرنے کے لیے اس کی نس کے زریعے خون میں محلول اتارا گیا، تاکہ وہ پور ے ہوش و حواس میں رہتے ہوئے ہر زخم اور درد کو محسوس تو کر سکے، لیکن نہ ہل سکے اور نہ ہی کسی قسم کی مزاحمت کر سکے۔ اس بے بس نوجوان کو تیزاب سے نہلایا گیا، اس کا چہرہ اور فنگر پرنٹس جلائے گئے، اور منہ میں زبردستی تیزاب انڈیلا گیا۔ حقائق نے ثابت کر دیا ہے کہ کراچی میں قانون نام کی کوئی چیز باقی نہیں رہی۔ 25 سالہ جوان کو سفاکانہ طریقے سے اغوا کیا گیا، 12 گھنٹے سے زائد محبوس رکھ کر بدترین تشدد کا نشانہ بنایا گیا، ہڈیاں توڑی گئیں اور تیزاب پلایا گیا تیزاب میں نہلایا گیا اور اس سفاکانہ قتل کو "خودکشی" ثابت کرنے کے لیے یہ پیپلزپارٹی کے سیاسی بھرتی شدہ حرام خور راشی افسران ایڑی چوٹی کا زور لگارہے تھے ۔ ایس ایس پی سمیع اللہ سومرو، ایس ایس پی زبیر نذیر احمد شیخ ، ایس ایچ او کامران قریشی ، ایس ڈی پی او / ڈی ایس پی محمد ارشد آفریدی یہ تمام حرام خور راشی افسران مل کر اس کیس کو پہلے دن سے خودکشی کا رخ دینے، سمارٹ واچ جیسا اہم فرانزک ثبوت دبانے اور میڈیا پر مقتول کی کردار کشی، تفتیش کو گمراہ کن سمت میں موڑنے، واقعے کی درست ٹائم لائن چھپانے اور لواحقین کی جانب سے اغوا و تشدد کی نشاندہی کو مکمل نظر انداز کرنے لاش پر تشدد، ٹوٹی ہڈیوں اور تیزاب کے نشانات کو نظر انداز کر کے من گھڑت کہانیاں بنائیں اور پرانی پوسٹ مارٹم رپورٹ کے ذریعے قاتلوں کو بچانے کی راہ ہموار کرنے میں ملوث ہیں ۔ یہ ان اہلکاروں کی نااہلی نہیں، بلکہ ایک سنگین جرم اور قاتلوں کی سیدھی سیدھی دلالی ہے!

Sყҽԃ Mσɳιʂ Jαʋҽԃ

21,864 görüntüleme • 19 gün önce

اڈیالہ جیل میں عمران خان اور ڈاکٹر عظمیٰ کی ملاقات کا احوال اڈیالہ جیل میں چیئرمین عمران خان صاحب کی اپنی بہن ڈاکٹر عظمیٰ سے تفصیلی گفتگو ہوئی ڈاکٹر عظمیٰ نے بتایا کہ میں نے عمران خان صاحب کو مشورہ دیا کہ اب ہمیں لانگ مارچ کی کال دینی چاہیے اور اڈیالہ کی جانب پیش قدمی کرنی چاہیے یہ سن کر عمران خان صاحب مسکرا دیے عمران خان نے ڈاکٹر عظمیٰ کے ذریعے سہیل افریدی کو پیغام دیا کہ وہ اپنی کابینہ اپنی صوابدید سے تشکیل دیں فی الحال ایک مختصر مگر فعال ٹیم بنائیں جو اس وقت کی فوری ضروریات کو پورا کر سکے انہوں نے واضح کیا کہ میں نے کسی کا نام تجویز نہیں کیا یہ وزیرِاعلیٰ کی صوابدید ہے کہ وہ اپنی ٹیم اپنی مرضی سے منتخب کریں عمران خان نے سلمان اکرم راجہ کے لیے خصوصی پیغام دیتے ہوئے کہا کہ میری جماعت کے عہدیداران سے ملاقات کی اجازت نہیں دی جا رہی اس صورتِ حال نے پارٹی کے نظم و ضبط اور باہمی اعتماد کو متاثر کیا ہے جس سے تحریک کے داخلی امور میں ابہام اور بداعتمادی پیدا ہو رہی ہے انہوں نے کہا کہ آئندہ جو بھی پیغام میں اپنی جماعت تک پہنچاؤں گا وہ سلمان اکرم راجہ کے ذریعے عوام اور پارٹی تک پہنچے گا وہی میرے پیغامات کے واحد مجاز ترجمان ہوں گے عمران خان نے اس بات پر بار بار زور دیا اور اسے بڑی اہمیت دی عمران خان نے تشویش کا اظہار کیا کہ تاحال علامہ ناصر اور محمود خان اچکزئی کی بطور قائدِ حزبِ اختلاف تقرری کی سرکاری توثیق کیوں نہیں ہوئی اس معاملے پر وہ خاصے برہم اور مضطرب دکھائی دیے اور انہوں نے اپنی جماعت سے بھی اس تاخیر پر گہری تشویش ظاہر کی انہوں نے بلال اعجاز اور احمد چٹھہ کے حوالے سے بھی سخت برہمی کا اظہار کیا اور کہا کہ میرا نام لے کر انہیں عہدوں سے ہٹانا سراسر غلط ہے میرا نام غلط طور پر استعمال کیا گیا میں نے ایسی کوئی ہدایت نہیں دی یہ میرے قدیم اور وفادار رفقاء ہیں اڈیالہ جیل میں آج ڈاکٹر عظمیٰ کے ہمراہ عمران خان صاحب کا یہ اہم پیغام قوم اور اپنی جماعت کے نام جاری کیا گیا جو موجودہ سیاسی منظرنامے میں نہایت اہمیت و سنگینی رکھتا ہے

Agha Sheikh Sarwar

22,129 görüntüleme • 10 ay önce

آج پہلے فرید قریشی ، اسد ملک اور مغل نے سلمان اکرم راجہ کی میڈیا ٹاک میں مجھے ناصرف کارنر کرنے کی کوشش کی بلکہ میرے سوال پوچھتے وقت بولنا شروع کر دیتے تھے پھر جب لاسٹ میں میں سوال کرنے کی کوشش کی تو بھی مرزا اخلاق سے نعرے لگوا کر مجھے روکنے کی کوشش کی میں نہایت صبر کیساتھ سب برداشت کیا اور تحمل کیساتھ برداشت کرتے ہوئے سوال پوچھ کر دم لیا پھر سب میڈیا والے نیچے چلے گئے اور مرزا اخلاق بھی نیچے پہنچ گیا ان سب کیساتھ بیٹھ کر اظہر جاوید کو برا کہا گیا اور تحریک انصاف کے کارکن مرزا اخلاق نے اظہر جاوید کی والدہ کو گالیاں دیں مجھ سے برداشت نہیں ہوا اسی وقت اظہر جاوید کو فون کر کے بتایا کہ آپکی والدہ کو گالیاں دی جا رہی ہیں اور رپوٹرز بیٹھ کر سن رہے ہیں کیونکہ میں سب کے سامنے اظہر جاوید کو فون کر کے بتا رہی تھی اسکے بعد شوکت ڈار اتے ہیں میں ہم لوگ باہر چلے جاتے ہیں میں جب دوبارہ ریسٹورینٹ میں داخل ہوتی ہوں یہ لوگ کھانا کھانے میں مصروف تھے اور میں شوکت ڈار صاحب سے کہا کہ میں ٹویٹ کرنے لگی ہوں کہ ہزار سور ملکر بھی شیر کو نہیں ڈرا سکتے اتنے میں اس ملک نے شوکت ڈار کو مجھے گالی دیتے ہوئے کہا اسے کہیں اپنا منہ بند کر لے میں نے کہا تمہیں کیوں تکلیف ہو رہی میں تمہیں سور نہیں کہہ رہی اسکے بعد اس نے گالیاں دیتے ہوئے کہا کہ میں چغل خور ہوں اور پھر میں نے بھی گالیوں کے جواب میں گالیاں ہی دیں اس نے مجھے دھمکی دی کہ تم مجھے جانتی نہیں ہو ہم تمہارے گھر ائیں گے خیر میں ایسے گیدڑ بھبکیوں سے ڈرنے والی نہیں جو شخص اپنے گھر کی عورتوں پر تشدد کرنے کا عادی ہو اسکا مطلب یہ نہیں کہ باہر بھی گالی دے گا سن لی جائے گی میں نے پولیس میں ان لوگوں کے خلاف رپورٹ کروا دی ہے فرید قریشی کے خلاف پہلے ہی پولیس میں کمپلئین ہیں آج دوسرے گینگ ممبرز کا بھی اضافہ ہو گیا ہے میں نے ARY اور Hum والوں کو شکایات کیں تھیںیہ سلسلہ پچھلے ایک سال سے جاری ہے جان بوجھ کر تحریک انصاف کے لوگوں کو میرے خلاف چھوڑا جاتا ہے اور کئی مرتبہ جانی نقصان بھی پہنچانے کی کوشش کی گئی ایسڈ اٹیک تک کروایا گیا لیکن میں نا تب ڈری تھی نا اب ڈروں گی کوئی مرد اٹھے اور مجھے گالی یا میری ماں کو گالی دے گا میں اس سے ڈبل گالی اسکی گھر کی عورتوں کو دونگی اور جتنی چیخیں مارنی ہے مار گالی تو ڈبل ہی ملے گی

Safina Khan

60,764 görüntüleme • 1 yıl önce

کیا عمران ریاض کو خاتون سے معافی مانگنی چاہیے؟ کیا انہیں اس بدتمیزی سے جواب دینا چاہیے تھا؟ یا پھر عمران ریاض ایک "چھوٹا مستری" بن چکے ہیں؟ پچھلے دنوں عمران ریاض یورپ کی یاترا پر تھے، ڈنمارک میں ایک خاتون نے ان سے پوچھا کہ آپ نے گواہی کیوں نہ دی؟ اس وقت عمران ریاض بیٹھے ہوئے تھے، پتہ نہیں کہاں کہاں مرچیں لگی کہ اٹھ کر اونچی اونچی اواز میں چیخنے لگے، کبھی یہاں کھڑے ہو کر تو کبھی وہاں کھڑے ہو کر۔ کیوں؟ یہی بات تو وہ بیٹھ کر بھی کر سکتے تھے۔ تو چیخنے چلانے کی ضرورت کیوں پڑی؟ اور کیا انہوں نے سوالات کے جوابات دیے؟ عمران ریاض کا پہلا موقف تھا : مجھے کہا جاتا تو میں گواہی ضرور دیتا اور برگیڈیر کی پمبیری گھما دیتا۔ دوسرا موقف : میری گواہی سے کوئی فرق نہ پڑتا۔ بلکہ آئی ایس آئی تو چاہتی ہے کہ میں گواہی دوں۔ تیسرا موقف : یہ الٹے بھی لٹک جائیں تو میں گواہی نہ دوں گا۔ عمران ریاض کا ایک موقف اور بھی ہے : عاصم منیر بھی میرا موقف نہیں بدل سکتا. پہلے بتاتے تھے کہ عادل راجہ نے ان کی فیملی کی لوکیشن ایکسپوز کی، ان کے پورے خاندان کی جان خطرہ میں ڈالی، میں گواہی کیوں دوں ؟ اب ان کے اپنے انٹرویو سے، جب یہ بات ثابت ہو گئی کہ ان کی فیملی کی لوکیشن ان کی اپنی وجہ سے ایکسپوز ہوئی تھی، تو اب ایک اور موقف لے ائے : ایک فوجی نے میرے جسم کو چوٹ پہنچائی، دوسرے نے میری روح پر وار کیا۔ ساتھ میں مظلومیت کے ساز پر وہی مانترا : عاصم منیر بھی میرا موقف نہیں بدل سکتا. ان کے جواب کو غور سے سنیں، ڈرامہ کو الگ کریں، جذبات کو ایک سائیڈ پر کریں، نوٹنکی کو ایک طرف رکھیں، اور دیکھیں کہ عمران ریاض نے اصل میں کہا کیا؟ ان کی روح پر کون سا وار ہوا؟ عادل راجہ ان کی اہلیہ کو ان کے بارے میں غلط بتاتے رہے، اور وہ بے چاری یہاں وہاں ڈھونڈتی رہیں۔ جب ایک دنیا کہہ رہی تھی کہ عمران ریاض کو قتل کر دیا گیا ہے، ان کی زبان کو نقصان پہنچا دیا گیا ہے، اپ وہ بول نہیں سکیں گے، اس وقت عادل راجہ ہی تھے جن کے الفاظ میرے سمیت بہت سارے لوگوں کے لیے تسلی کا باعث تھے کہ وہ زندہ ہیں۔ اس وقت میرا عادل راجہ سے کوئی رابطہ نہیں تھا، بلکہ میں عمران ریاض کا پرستار تھا۔ عمران ریاض کا رویہ یہ سوچنے پر مجبور کر دیتا ہے کہ کہیں انہیں غصہ اس بات پر تو نہیں، کہ جب پوری قوم ان کی زندگی کے بارے میں فکر مند تھی، تو عادل راجہ لوگوں کو کہہ رہے تھے کہ وہ زندہ ہیں، ان کی رہائی کے لیے کوششیں کریں؟ یا پھر انہیں اس بات پر افسوس ہے کہ عادل راجہ کی یہ خبر بھی سچی کیوں ہو گئی ؟ اب پچھلے کچھ ماہ میں جتنا میں نے عادل راجہ کو جانا، یہ والا الزام بہت گھٹیا ہے۔ بہت سے لوگوں کو لگتا ہوگا کہ عادل راجہ بتاتے ہوں گے کہ کیا لکھنا ہے؟ وہ کبھی بھی نہیں کہتے۔ میرا کوئی سوال ہو تو اس کا جواب دیتے ہیں، ایک دو بار پوچھا تو یہی کہا کہ جو تمہیں ٹھیک لگتا ہے وہ لکھو، بے شک میرے خلاف ہی کیوں نہ ہو۔ اب میں یہ تو مان سکتا ہوں کہ عادل راجہ کے پاس یہ خبر تھوڑی دیر سے پہنچی ہو کہ عمران ریاض کہاں قید ہیں، اور اس وقت تک جگہ بدل چکی ہو، لیکن یہ ماننا مشکل ہے کہ انہوں نے جان بوجھ کر غلط بتایا ہو۔ اس موضوع پر عادل راجہ اور سبین کیانی ایک تفصیلی وی لاگ بھی کر چکے ہیں، اس میں اپ کو بہت سارے سوالات کا جواب مل جاتا ہے۔ وہ ضرور دیکھیے۔ خیر مجھے یہ سمجھ نہیں آ رہی کہ عمران ریاض کی روح پر کون سا وار ہوا جس کی وجہ سے انہیں شانتی نہیں مل پاتی؟ اور کون سے ویوز لینے تھے عادل راجہ نے؟ ان کا تو اس وقت یوٹیوب چینل بھی نہیں تھا ! جیسا کہ میں نے پہلے عرض کیا اگر جذباتیت کو ایک طرف رکھیں، تو عمران ریاض کے جواب میں کچھ بھی نہیں ہے۔ سچ صرف یہ ہے، کہ الفاظ بدل بدل کر عمران ریاض یہی شعر پڑھتے رہتے ہیں کہ میں راجے کو کبھی میرے ڈھول سپاہی نہ دوں گی، میں گواہی نہ دوں گی، میں گواہی نہ دوں گی۔ اور رہی بات حاضرین محفل کی، تو اس بات پر افسوس ہوا کہ کسی نے عمران ریاض کو روکا نہیں۔ انہیں جواب دینا تھا، لیکن وہ الٹا یہ سوال خاتون سے پوچھ رہے تھے کہ عادل راجہ نے کبھی سہیل وڑائچ پر وار کیا؟ حالانکہ سب جانتے تھے کہ عادل راجہ نے سہیل وڑائچ کو بہت ایکسپوز کیا۔ بچے بچے کو پتہ ہے کہ ان کی رومانوی گفتگو کی ریکارڈنگز ایجنسیوں کے پاس ہیں، کس کی وجہ سے؟ عادل راجہ کی وجہ سے! بہتر تو یہ ہوتا کہ اگر حاضرین محفل سے کوئی انسان روکتا، عمران ریاض کو کہتا کہ جوش جذبات میں خاتون کا احترام ملحوظ رکھیں، جواب نہیں دینا، نہ دیں، لیکن بے پر کی نہ اڑائیں، چیخیں نہیں، چلائیں مت۔ لیکن کوئی بھی ایسا نہ تھا جو یہ کہنے کی جسارت کر سکتا۔ سلام ہے اس خاتون کی ہمت کو، جس نے بھری بزم میں سوال اٹھانے کی ہمت تو کی۔ کاش تھوڑی سی ہمت وہاں بیٹھے مرد بھی دکھا سکتے !! کہیں عمران ریاض ایک "چھوٹا مستری" تو نہیں بن چکے جو ہر وہ بات کہہ سکتے ہیں جو وہ کہنا چاہتے ہیں، لیکن ان سے کوئی سوال نہیں ہو سکتا؟ کاش یہی جرات عمران ریاض بریگیڈیر کے خلاف دکھا سکتے! کاش یہی جذبات وہ اس وقت دکھا پاتے جب افتاب اقبال نے انہیں سامنے بٹھا کر تیتر کی پھبتی کسی تھی, اور محترم نے دانتوں کی نمائش کر دی تھی۔ کاش یہی ہمت وہ اس وقت دکھاتے، جب ان کی وجہ سے ان کی فیملی کی لوکیشن ایکسپوز ہوئی، اور یہ اپنی فیملی کو خطرے میں چھوڑ کر سات ملکوں کی سیر کو نکل گئے ! کاش ان کا یہ لہجہ اس وقت بھی ہوتا جب انجینیئر مرزا کو ان کے اوپر چھوڑا گیا تھا، اور وہ للکار للکار کر تھک گیا کہ میری آڈیوز لیک کرو، لیکن ٹارزن بھیا پتلی گلی سے کلٹی مار گئے۔ اس سوال کے ساتھ اجازت : کیا اپنے نامناسب اور غیر مہذب طرز تکلم کی وجہ سے، عمران ریاض کو معافی مانگنی چاہیے یا نہیں؟ کھلم کھلا جھوٹ بولنے پر ندامت کا اظہار کرنا چاہیے، یا نہیں؟ 🤔

Kashif Aslam

65,128 görüntüleme • 9 ay önce

چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ کی مداخلت پر القادر ٹرسٹ کیس میں ہوئی۔ مجھے ہدایت دی گئی کہ میں عمران خان سے ملاقات کروں ،میں القادر ٹرسٹ کیس میں میاں بیوی دونوں کی نمائندگی کر رہا ہوں۔ میں آپ کو بتا دوں کہ اس فیصلے میں سزائے موت یا عمر قید شامل نہیں ہے۔ یہ 14 سال کی سزا ہے ایسے کیس میں جہاں ایک روپے کی بھی مالی بدعنوانی ثابت نہیں ہوئی۔۔ سوال یہ ہے کہ جرم کیا ہے؟سابق وزیراعظم ہیں، اور ایک روپے کی بھی کرپشن ثابت نہیں ہوئی۔میں نے فیصلہ پڑھا ہے۔ ہم قانون سے بخوبی واقف ہیں۔ پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ 73 تنہائی قید کی اجازت دیتی ہے لیکن آپ حیران ہوں گے۔میرا 25 سال کا تجربہ ہے، میں نے ہزاروں قتل کے کیسز دیکھے ہیں، لیکن میں نے کبھی اس طرح کی تنہائی قید نہیں دیکھی، حتیٰ کہ دہشت گردی کے کیسز میں بھی نہیں۔جیلوں میں ایک نظام ہوتا ہے۔ کچھ قیدیوں کو وقتی طور پر الگ رکھا جاتا ہے، چند گھنٹوں یا دنوں کے لیے، لیکن ایسا سلوک 74 سالہ خاتون کے ساتھ نہیں کیا جاتا۔اس ملاقات میں عمران خان بار بار ایک ہی بات کرتے رہے کہ یہ تنہائی قید ان کے لیے اور ان کی اہلیہ کے لیے اذیت ناک ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں وکلاء تک رسائی نہیں، خاندان سے ملاقات نہیں، ایک دوسرے سے بات کرنے کی اجازت نہیں، ٹی وی نہیں، کتابیں نہیں، پڑھنے کی اجازت نہیں، حتیٰ کہ دیواریں دیکھنے تک کی آزادی نہیں۔وہ بار بار یہی بات دہراتے رہے کہ یہ قید کتنی تکلیف دہ ہے اور کس جرم کی سزا دی جا رہی ہے۔جب میں نے القادر ٹرسٹ کا فیصلہ پڑھا تو جیل سپرنٹنڈنٹ جو سزا دے رہا ہے وہ فیصلے میں درج ہی نہیں۔ کیا یہ حیران کن اور تشویشناک نہیں؟یہ انتہائی سخت سزا ہے، جو نہ صرف غیر ضروری بلکہ غیر منصفانہ اور قابل مذمت ہے۔مزید یہ کہ ان کی ضمانت بھی نہیں سنی جا رہی۔ ہم بار بار اسلام آباد ہائی کورٹ جا رہے ہیں۔ یہ صورتحال انتہائی سنگین اور پریشان کن ہے۔عمران خان اور ان کی اہلیہ کی تنہائی قید کو فوری طور پر ختم کیا جائے، یہی ہماری اولین ترجیح ہے۔ عمران خان اپنے کیسز لڑ رہے ہیں اور قانونی طریقہ کار کے مطابق انصاف چاہتے ہیں۔ہم آئین کے آرٹیکل 10A اور منصفانہ ٹرائل کی بات کرتے ہیں۔ اڈیالہ جیل کے حالات میں آپ کے سامنے رکھ چکا ہوں۔میں 9 مئی کے واقعات کی مذمت کرتا ہوں، لیکن یہ واقعہ اس وقت شروع ہوا جب عمران خان کو اسلام آباد ہائی کورٹ کے بایومیٹرک روم سے گرفتار کیا گیا۔ اور اب انہیں مسلسل مختلف کیسز میں قید رکھا جا رہا ہے، نہ اپیل سنی جا رہی ہے نہ ضمانت، اور انہیں تنہائی قید میں رکھا گیا ہے۔عمران خان نے واضح طور پر کہا کہ یہ قید اذیت ناک ہے اور بار بار اس پر زور دیا۔سلمان صفدر

𝐼𝓂𝓇𝒶𝓃 𝐿𝒶𝓁𝒾𝓀𝒶

48,309 görüntüleme • 4 ay önce

آج ہم نے فیصلہ کرلیا ہے کہ اب عدالتی رویے کے خلاف احتجاج ہوگا، پوری قوم سے اپیل کرتا ہوں کہ پیر کے دن اسلام آباد کی طرف روانہ ہوجائے ۔ سپریم کورٹ مدر ان لاء نہیں ہیں مدر آف لاء ہیں۔ ٹیڑھی آنکھ سے دیکھنے والوں کو ایسا جواب دیں گے کہ چھٹی کا دودھ یاد آ جائے گا ۔ اب ڈبے سے گھی ٹیڑھی انگلی سے نکالا جائے گا ۔ سپریم کورٹ اور اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب سے سہولیات دینا جرم کو تحفظ فراہم کرنے کے مترادف ہے ۔ جرم کرنے والے کی حوصلہ افزائی کے مترادف ہے انوکھا فیصلہ دیا گیا ہے کہ 9 مئی کے بعد کے کسی مقدمے میں گرفتار نہ کیا جائے اور عدلیہ نے جو مقدمہ اس کے علم میں نہیں ہے اس میں گرفتار نہ کرنے کا حکم دیا ہے ۔ عدلیہ کہاں کھڑی ہے کس طرح وہ آئین اور قانون سے ماوراء فیصلے کر رہی ہے ۔ کیا یہ رعایت تین بار وزیر اعظم رہنے والے نواز شریف کو دی گئی ؟ اور جب نواز شریف کو جیل میں اطلاع دی گئی کہ ان کی اہلیہ آئی سی یو میں ہے انہوں نے منت سماجت کی کہ اہلیہ سے فون پر بات کرنے دیں مگر اجازت نہ ملی ۔ کیا یہ رعایت نواز شریف ،مریم نواز کو دی گئی ؟ کیا یہ رعایت فریال تالپور کو دی گئی ؟ عمران خان کو وی وی آئی پی پروٹوکول دیا جا رہا ہے ۔ ملک میں غنڈہ گردی دہشت گردی کو تحفظ فراہم کیا جا رہا ہے ۔ ہم نے فیصلہ کر لیا ہے اب سپریم کورٹ کے رویے کے خلاف شدید احتجاج ہو گا ۔ پی ڈی ایم کی جانب سے پوری قوم سے اپیل کرتا ہوں کہ پیر 15 مئی 2023 ء کو احتجاج کے لیے اسلام آباد پہنچیں ۔ سپریم کورٹ کے سامنے دھرنا دیا جائے گا ۔ موثر طور پر عوام کو بتایا جائے گا کہ سپریم کورٹ مدر ان لاء نہیں ہیں مدر آف لاء ہیں ۔ پارلیمنٹ کو بالا دست سمجھنا ہو گا اس کے نمائندوں کو کیوں نا اہل قرار دیا جاتا ہے ۔ چیف جسٹس آف پاکستان سن لو تین دو کا فیصلہ قبول نہیں ہے چار تین کا فیصلہ قانون کے مطابق ہے جس کے تحت چیف جسٹس کو ازخود نوٹس لینے کا اختیار نہیں ہے ۔ ایک ایک کارکن باہر نکلے ۔

Maulana Fazl-ur-Rehman

289,727 görüntüleme • 3 yıl önce

کل بروز جمعرات سہیل آفریدی نے اڈیالہ جیل کے باہر دھرنا دیا، جو اچانک ڈھائی بجے ختم کر دیا گیا۔ سلمان اکرم راجہ نے اعلان کیا تھا کہ دھرنا پوری رات جاری رہے گا اور صبح لائحہ عمل دیا جائے گا، مگر آدھی رات کو دھرنا ختم کر دیا گیا۔ آج سپریم کورٹ کے باہر دھرنا دیا گیا اور ختم ہوتے ہی کہا گیا کہ علامہ راجہ ناصر محمود خان اچکزئی کو شامل کر کے پولیٹیکل کمیٹی اجلاس میں لائحہ عمل دیا جائے گا، لیکن اجلاس کے بعد خان صاحب کی رسائی کے حوالے سے کوئی واضح پیغام نہیں ملا۔ خان صاحب کی واضح ہدایات موجود ہیں کہ اگر انہیں آئیسولیشن میں ڈالا جائے یا کسی اور جیل منتقل کیا جائے تو صوبہ بند کیا جائے۔ ہر صورتحال کے لیے خان صاحب کی الگ ڈائریکشن ہے، اس کے باوجود ورکرز کو مایوس کیا جا رہا ہے اور جھوٹ بولا جا رہا ہے۔ یہ پارٹی عمران خان کی ہے، ان کے فیصلے کے بعد کسی پولیٹیکل کمیٹی کی کوئی حیثیت نہیں۔ ساری قربانیاں خان صاحب دے رہے ہیں، مگر سوشل میڈیا کے بڑے نام خاموش ہیں، جو منافقت کے زمرے میں آتا ہے۔ 20 دسمبر سے اب تک خان صاحب کو کسی نے نہیں دیکھا، 41 دن ہو چکے ہیں اور 60 دن سے ان کی بہنوں کی ملاقات نہیں ہوئی۔ خان صاحب اس وقت اغوا ہیں، اور ان کی مکمل آئیسولیشن اور اغوا کے خلاف خاموشی لمحۂ فکریہ ہے۔ آٹھ فروری کی شٹ ڈاؤن کال تاریخی ہے اور ہم اس پر اپنی مہم جاری رکھیں گے۔ لیکن خان صاحب کی صحت، خاص طور پر آنکھ کے مسئلے کے باعث، ان تک فوری رسائی اور ملاقات انتہائی ضروری ہو چکی ہے۔ ہم آٹھ فروری تک انتظار یا کوئی رسک نہیں لے سکتے۔ ہمیں آٹھ فروری سے پہلے ایسا لائحۂ عمل اور دباؤ بنانا ہوگا جس کے نتیجے میں خان صاحب سے ملاقات یقینی بنائی جائے۔ منگل کو ملاقات کے دعوے محض بہانے ہیں، کیونکہ اگر نیت ہو تو ہفتہ، اتوار یا پیر کو بھی ملاقات ہو سکتی ہے۔ مزید جھوٹے وعدے اور لالی پاپ بند ہونے چاہئیں۔ یہ تحریک حقیقی آزادی اور پاکستان کی بقا کی جنگ ہے۔ خان صاحب نے ملک کے لیے جنگ لڑی ہے، اب قیادت اور عوام دونوں کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ جب تک سب مل کر اپنا حصہ نہیں ڈالیں گے، نہ عمران خان رہا ہوں گے اور نہ ملک میں حقیقی تبدیلی آئے گی۔ شُکریہ (حیدر سعید)

Haider Saeed

17,067 görüntüleme • 7 ay önce

ہر مقابلہ کے کچھ اُصول ہوتے ہیں ہر جنگ کے کچھ قواعد ہوتے ہیں کچھ لکھے ہوئے اور کچھ بغیر لکھے جو کاغذ پہ تو نہیں لیکن صدیوں کی روایات نے تاریخ کے قلمدان سے لکھے ہوتے ہیں۔ جنہیں انگریزی میں Unwritten Rules of the game کہتے ہیں۔ سیاسی جنگ کے بھی کچھ حدود و قیود ہوتے تھے جن میں زات پہ حملے نہ کرنا ایک دوسرے کے گھروں تک نہ جانا مائیں بہنیں سانجھی ہیں کا اُصول بزرگوں اور بچوں کو مقابلہ سے باہر رکھنا اور ایک دوسرے کے گھروں کی خواتین کا احترام رکھنا ہر حال میں ان باتوں کا خیال رکھنا یہی ہمارا دین ہمیں سکھاتا ہے اور یہی ہمارا کلچر بھی ہے چاہے پختون ہو پنجابی ہو سندھی ہو یا بلوچ ان اصولوں کی پابندی کی جاتی تھی لیکن افسوس کہ حالیہ چند مہینوں میں سیاسی اختلاف کی بنیاد پہ اپنے سیاسی مخالفین کو زندانوں میں تو ڈالا گیا لیکن ساتھ ہی گھروں کی پردہ دار خواتین کو بھی نہ بخشا گیا جن کا سیاست سے براہ راست کوئ تعلق نہ تھا۔ قاسم سوری صاحب اور شہریار آفریدی صاحب کی گھریلو خواتین کو گھروں سے اٹھا کر جیلوں میں ڈالا گیا جو بہت غلط ہوا اور سب نے اس کو برا جانا لیکن بلخصوص پختون علاقوں میں اس قبیح عمل کو بہت ہی برا بھلا کہا گیا۔ اب کل سے سابق خاتون اول کی نام نہاد ”ڈائری“ کا جھوٹا پروپیگئںدا کر کے آسمان سر پہ اٹھایا گیا اور مشرقی روایات اور چادر چاردیواری کے اصولوں کی دھجیاں اڑائی گئیں۔ کچھ نے سیاسی مقاصد کیلئے اور کچھ ضمیر فروشوں نے چند ٹکوں کی خاطر۔ جھوٹ ایک لعنت ہے اور اس لعنت سے بچیں اور عمران خان کا سیاسی مقابلہ سیاسی میدان میں کریں اگر ہمت ہے۔ ایک غلط کیس میں جیل میں تو ڈال دیا اب صرف بغض عمران خان میں ان کی پردہ دار اہلیہ پہ زاتی غیر اخلاقی حملے کیئے گئے بغیر کسی ثبوط کے۔ میرا سوال یہ ہے کہ کیا ”اسلامی “ جمہوریہ پاکستان میں اب پردہ دار دیندار خواتین کی عزت اپنے گھروں کے اندر بھی محفوظ نہیں؟ کہیں تو لکیر کوئ اخلاق کی کھینچ لو کہ اس سے نیچے پستی میں مزید اور نہیں گرنا !!!

Ali Muhammad Khan

180,639 görüntüleme • 3 yıl önce

ہم کل کی پریس کانفرنس کا جواب دینے نہیں بیٹھے وہ ایک افسوسناک اضطرابی گفتگو تھی اس میں کوئی ایسا بیانیہ نہیں تھا جس کا جواب دیا جائے محض الزامات تھے ہم آپ کو اس کا جواب نہیں دینگے صرف اتنا کہیں گے پاکستان کی عوام کو مت دھتکارو، پاکستان کی عوام عمران خان اور پی ٹی آئی کے ساتھ کھڑی ہے۔ عمران خان سیکیورٹی تھریٹ نہیں عمران خان نے اس ملک کو جوڑ کے رکھا ہوا ہے پاکستان کے کروڑوں نوجوان عمران خان کی وجہ سے اس بیانیے کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں جو پاکستان کی ریڑھ کی ہڈی ہے۔ نسل پرستی فرقہ واریت صوبائیت جیسے تمام بیانیوں کو رد کرکے عمران خان پاکستان کے بیانیے کے ساتھ کھڑا ہے عمران خان جو ایک قومی لیڈر ہے اس کو سیکیورٹی تھریٹ کہا گیا جو کہ ایک مضحکہ خیز بات ہے اور پہلی بار یہ بات نہیں ہوئی۔ 1990 میں میں اصغر خان کا وکیل تھا جس نے اس وقت کے ڈی جی آئی ایس آئی اور آرمی چیف کے خلاف مقدمہ لڑا اس کا موقف تھا کہ انہوں نے انتخابات میں مداخلت کی جس کی وجہ سے ہمارے عسکری اداروں کا امیج خراب ہوا ہے۔ سولہ سال مقدمہ چلا اس وقت کی ڈی جی آئی ایس آئی اسد درانی نے ایک ایفی ڈیوٹ فائل کیا جس میں تسلیم کیا کہ ہم نے مداخلت کی ہم نہیں چاہتے تھے بینظیر وزیراعظم بنے پیپلز پارٹی کا وجود باقی رہے ہم نے فیصلہ کیا تھا کہ بینظیر بھٹو اور پیپلز پارٹی نیشنل سیکیورٹی تھریٹ ہیں۔ بار بار انہوں نے فیصلے کیے کہ عوام کا کوئی مقبول لیڈر سیکیورٹی تھریٹ ہے جس کو منظر سے ہٹانا ضروری ہے لیکن ایسا ممکن نہیں پاکستان کی عوام باشعور ہے ان کے دلوں سے آپ ان کے لیڈر کو نہیں ہٹا سکتے پاکستان کے عوام جانتے ہیں ان کی خاطر کون سیاست کررہا ہے، کون ہے جو عہدے سے بے نیاز ان کے حقوق کی خاطر لڑ رہا ہے۔اس بدلتے ہوئے معاشی نظام میں جب تک عوامی مفاد کو مدنظر رکھ کر فیصلے نہیں ہونگے تو کچھ بھی نہیں ہوگا۔ جب تک پاکستان کی عوام کی مرضی پاکستان کے ایوانوں میں پاکستان کے وزیراعظم ہاؤس میں نہیں گونجے گی تب تک فلاح ممکن نہیں ہے۔ آپ نے سولہ سیٹوں والی پارٹی کو پاکستان کی حکومت دے کر کہا یہ عوامی فلاح کے منصوبے بنائیں گے یہ ممکن ہی نہیں ہے۔ جھوٹ اور فریب کے اس نظام کو پاکستان کے عوام کبھی بھی تسلیم نہیں کریں گے سلمان اکرم راجہ

𝐼𝓂𝓇𝒶𝓃 𝐿𝒶𝓁𝒾𝓀𝒶

64,970 görüntüleme • 8 ay önce