Video yükleniyor...

Video Yüklenemedi

Ana Sayfaya Dön

لوگوں نے لوڈشیڈنگ کا توڑ UPS نکالا تھا۔ میں نے UPS کا توڑ نکال لیا ہے پاکستانیوں کے لئے۔ اب لوڈشیڈنگ میں نا ہی ہوگا UPS کا خرچہ اور نا ہی کرنا پڑے گا ہاتھ کو تھکا دینے والے پنکھے کا استعمال۔ چائنہ سے 50,000 پیسوں کا کنٹینر منگوا...

12,611 görüntüleme • 1 ay önce •via X (Twitter)

0 Yorum

Yorum bulunmuyor

Orijinal gönderinin yorumları burada görünecek

Benzer Videolar

#ڈھول_پہ_ٹھپہ #سمبڑیال_کپتان_کا ♦️پاکستانیوں آج بتانا ہے نا خان نے ہار مانی ہے ،نا اس کی عوام مانے گی۔ ♦️8 فروری 2024 ۔۔۔۔۔عوام نے تمام تر ظلم فسطائیت کے باوجود اپنا فیصلہ خان کے حق میں کیا۔ ♦️یہ وہ الیکشن تھے،جس میں پارٹی کا انتخابی نشان تک چھین لیا گیا۔ ♦️اُمیدواروں سے کاغزات نامزدگی چھینے گئے۔ ♦️ پارٹی کے چیئرمین کو ناحق قید میں رکھا گیا۔ ♦️ کمپین سے روکا گیا۔ ♦️اغواء اور گرفتاریوں کا ایک نا رکنے والا سلسلہ جاری رہا۔ ♦️ان سب کے باوجود عوام نا ٹوٹی نا جھکی نا کمزور ہوئی۔ ♦️ تاریخ کا ریکارڈ ٹرن آؤٹ دیکھا گیا۔ ♦️تحریک انصاف کے ووٹرز کی تعداد کا جائزہ لگاتے ہوئے،الیکشن کمیشن نے قطاروں میں کھڑے لوگوں کے لیے وقت کی توسیع تک نا کی۔ ♦️کئی جگہوں پہ ووٹس کو ضائع کروانے ڈبل اسٹیپ مارے گئے۔ ♦️لاکھوں ووٹ مسترد کئے گئے۔ ♦️کئی حلقوں میں لوگ برف باری کے باوجود ووٹ ڈالنے آئے اور قومی فریضہ انجام دیا۔ ♦️اس بار کئی نوجواوں نے زندگی کا پہلا ووٹ تحریک انصاف کو دیا۔ ♦️عمران خان نے ہمیشہ خواتین کے حقوق اور احترام کو خاص توجہ دی ہے،اور 2024 کے الیکشن میں خواتین کا بہترین ٹرن آؤٹ رہا۔ ♦️کئی ایسے علاقے تھے جہاں خواتین کو پہلی بار موقع ملا ووٹ ڈالنے کا کیونکہ اس سے پہلے پنچایت سے اجازت نہیں ہوتی لیکن اس بار ملک کو دلدل سے نکالنے ہر مرد عورت ؛بوڑھے جوان نے اپنا فرض ادا کیا۔ ♦️کئی جگہوں پہ بچے کمپین کرتے نظر ائے۔ ♦️تو ساتھ ہی سوشل میڈیا ایکٹوسٹ نے دن رات ایک کیا اور گھر گھر مختلف پلیٹ فارمز کے زریعے آگاہی کروائی۔ ♦️ووٹرز کی معلومات میں رکاوٹ کے لیے اور رابطے منقطع کرنے۔۔۔موبائل سروس کو معطل رکھا گیا۔ ♦️انتخابی نتائج میں تاخیر کی گئی۔ ♦️صرف تحریک انصاف کا راستہ روکنے کروڑوں روپے کے الیکشن مینجمنٹ سسٹم کو ناکارہ دیکھایا گیا۔ ♦️اوور رائٹنگ ،نمبرز کی ہیرا پھیری کرکے فارم 47 کے زریعے ریجیکٹڈ امیدواروں کو عوام پہ مسلط کردیا گیا۔ ♦️لیکن ان سب ہتھکنڈوں کے باوجود مینڈیٹ پہ ڈاکے کے باوجود ووٹ۔۔۔۔ملک بھر سے 180 سیٹوں کے ساتھ نتیجہ تحریک انصاف کے حق میں تھا۔ جبکہ عوام پہ مسلط 17 سیٹوں والوں کو کیا گیا۔ ♦️بدقسمتی سے عوام کے حق میں ڈاکہ کی اس واردات کی سہولت کاری میں ہمارے ادارے ہماری عدالتیں بھی شامل رہیں ہیں۔ لیکن ♦️ہم نے ہار نہیں ماننی۔۔۔۔کیونکہ یہ سب ایک جدوجہد کا حصہ ہے،آزادی کی تحریک کا حصہ ہے۔اپنی پہچان حاصل کرنے کی جستجو ہے۔غلامی سے انکار کا اعلان ہے۔ ♦️اس لیے ایک بار پھر یکم جون کو "ڈھول_پہ_ٹھپہ" کے ساتھ بھرپور جواب دینا ہے۔کہ ♦️عوام حق سچ کے ساتھ اپنے عمران خان کے ساتھ کھڑی ہے۔ ♦️ایک بار پھر جیت کا جشن منانا ہے۔ ♦️مخالفین کی ہر چال کو ناکام بنانا ہے۔ ♦️آو قدم بڑھاؤ پاکستانیوں ۔۔۔۔۔خان کو لانا ہے۔ مستقبل کو بچانا ہے۔ ♦️ووٹ صرف خان کا۔۔۔۔ سمبڑیال_کپتان_کا ۔ ♦️ عمران خان کے نامزد امیدوار فاخر نشاط گھمن کے انتخابی نشان ڈھول پر مہر لگا کر کامیاب کروائیں اور ظلم کا بدلہ ووٹ سے لیں۔

𝙁𝘼𝙍𝘼𝙃 𝙆𝙃𝘼𝙉 𝙏𝘼𝙉𝙊𝙇𝙄

16,661 görüntüleme • 1 yıl önce

مخصوص خفیہ ایجنسی اورسی ٹی ڈی پر مشتعمل درجنوں اسلحہ بردار افراد نے مجھے اسلام آباد میں اپنے گھر سے گزشتہ جمعہ کی رات کو 12:10 منٹ پر اغوا کیا تھا۔ میں اپنے والدین کا ایک ہی بیٹا ہوں۔ اغوا کے لئے خفیہ ایجنسی کی کالی ویگو، سی ٹی ڈی کے دو ڈالے اور ایک ٹویوٹا فیلڈر گاڑی کو استعمال کیا گیا۔ گاڑی میں بٹھاتے ساتھ ہی میری آنکھوں پر پٹی اور کالا کپڑا باندھ دیا گیا تھا۔ متعلقہ جگہ پر پہنچے تو مجھ سے کہا گیا کہ آپ ہم سے تعاون کریں اور ہم آپ سے۔ وہ سوالات پوچھتے گئے کہ آپ نو مئی کو کہاں تھے وغیرہ وغیرہ اور میں جوابات دیتا گیا۔ پھر مجھ سے کہا گیا کہ ایک وڈیو بناؤ جس میں بتاؤ کہ میں احتجاج اور سوشل میڈیا پر ریاست پاکستان کے خلاف جو بھی کمپین کرتا ہوں اس کا حکم عمران خان اور پارٹی کی سینئر قیادت دیتی ہے اور معافی مانگو۔ میں نے یہ کام کرنے سے انکار کر دیا کہ عمران خان کے خلاف کوئی بیان نہیں دوں گا۔ پھر یہ سنتے ساتھ ہی انہوں نے مجھ پر بدترین تشدد کرنا شروع کر دیا۔ میرے سر اور جسم پر جوتوں، مُکوں اور مختلف اوزاروں سے کئی گھنٹوں تک تشدد کرتے گئے۔ تشدد کے نشانات ابھی تک میرے جسم پر موجود ہیں ہیں اور تصاویر بھی ریکارڈ کا حصہ بن گئی ہیں۔ میں عمران خان اور پارٹی کے خلاف بیان کے لئے نہیں مانا اور نا ہی وڈیو بنوائی۔ بدترین تشدد کے بعد جب میری حالت بے زار ہوگئی تو انہوں نے مجھے پانی پِلایا اور کہا کہ ہم آپ کو چھوڑنے لگے ہیں اور مجھے امادہ کیا گیا کہ میں اپنے اغوا کی تفصیلات کسی کو نہیں بتاؤں گا۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ میری اتنی جلدی رہائی جسٹس محسن اختر کیانی کی وجہ سے ہوئی۔ اگر مجھے رہا نا کیا جاتا تو میرے والدین ہائی کورٹ میں پیٹیشن دائر کرتے جس کے لئے میں نے پہلے سے ہی ایک بیان حلفی لِکھ کر اپنے دوست کو دیا ہوا ہے جس میں لکھا ہوا ہے کہ مجھے اغوا کر کے غائب کر دیا جائے تو ذمہ داران کے نام لکھے ہوئے ہیں جس کا ڈائرکٹ الزام خفیہ اداروں پر جاتا ہے۔ جسٹس محسن اختر کیانی جس طرح سے احمد فرحاد کا کیس چلا رہے ہیں اس سے حساس اداروں پر سخت ترین دباؤ ہے۔ میرا موبائل فون آج دن تک واپس نہیں کیا گیا جس میں میری ذاتی زندگی کی بہت معلومات ہیں۔ نا تو میں بلیک میل ہوں گا اور نا ہی میں کبھی عمران خان اور اپنی پارٹی کی خلاف جاؤں گا بے شک مجھے قتل کر دیا جائے۔ میں اپنے خون کے آخری قطرے تک عمران خان کا وفادار رہوں گا، انشاءاللہ۔ اس کے علاوہ میں تمام پی ٹی آئی ورکرز، سوشل میڈیا وارئرز اور دوستوں کا شکر گزار ہوں جنہوں نے وقت ضائع کئے بغیر میری رہائی کے لئے آواز اٹھائی اور دعایئں کی۔ میں ساری زندگی آپ لوگوں کا احسان مند رہوں گا۔ PTI

Wajahat Sami

659,410 görüntüleme • 2 yıl önce

#JusticeForIqra سرگودھا کی معصوم گھریلو ملازمہ اقراء پر بد ترین تشدد، 43جنوبی میں کہرام مچ گیا والدہ پر غشی کے دورے ۔ نواحی علاقہ 43جنوبی کی اقرا کے والد نے بتایا کہ بچی راولپنڈی اسلام آباد کے ایک تاجر عبد الرشید کے گھر ملازمہ تھی دو سال پہلے سے وہاں کام کرنے والی 15سالہ بچی کو محض چاکلیٹ گم ہونے کا الزام لگا کر تشدد کا نشانہ بنایا گیا اس کے سر ، بازوں ، ٹانگوں اور چہرے کو تیز دھار آلہ سے کاٹا گیا بازو ٹانگیں توڑی گئیں۔ باپ ثناء اللہ خود دو بچوں کے ساتھ منڈی بہت دن کے گاؤں میں ایک زمیندار کے گھر پر کام کرتا ہے غربت کے باعث اس نے اپنی بیٹی اقرا کو اسلام اباد میں ایک تاجر کے گھر پر چھوڑا لیکن ان ظالموں کی طرف سے اسے شدید تشدد کا نشانہ بنایا گیا جس کی وجہ سے بچی جان کی بازی ہار گئی ثنا اللہ کا مطالبہ ہے کہ وزیراعظم پاکستان اور وزیراعلی پنجاب محترمہ مریم نواز معاملہ کا نوٹس لیتے ہوئے ان ظالموں کے خلاف سخت سے سخت قانونی کاروائی عمل میں لائیں اور ان کی فوری گرفتاری بھی کی جائے غریب ثنا اللہ کا کہنا تھا کہ اسے معلوم نہیں تھا کہ اس طرح کا بہمانہ تشدد بھی کوئی انسان کر سکتا ہے اس کو بتانا تھا کہ بچی کو شدید اذیت دیتے ہوئے اس کے جسم پہ کٹ لگائے گئے جسے دیکھنا بھی اس کے لیے مشکل ہو رہا ہے اس کا بتانا تھا کہ پولیس کی طرف سے اسے راولپنڈی بلایا گیا جہاں پر ہسپتال میں اسی انکھوں کے سامنے اس کی لختہ جگر نے دم توڑ دیا لیکن یہ بے بس اور بیچارگی کے عالم میں اپنی بیٹی کی ڈیڈباڈی اٹھا کر سرگودھا اگیا ہے اس کا مطالبہ ہے کہ ملزمان کو گرفتار کیا جائے سرگودہ کے نواحی علاقہ 43 جنوبی میں بچی کی تدفین کا عمل جاری ہے

Shehr Bano Official

39,229 görüntüleme • 1 yıl önce

کشمیریوں کا لباس پہنے راج ناتھ سنگھ کے زر خرید ننگ دین ننگ وطن ٹومی‼️‼️ #بھارتی_ایکشن_کمیٹی 👈اس وقت تقریباً بارہ لاکھ سے زائد کشمیری برطانیہ میں مقیم ہیں جن کی اکثریت برمنگھم میں ہے۔ لیکن ان لاکھوں کشمیریوں میں سے گن کر یہ دس بندر برمنگھم پاکستانی کونسلیٹ کے بغیر اپنی ناجائز پیدائش کا ثبوت دے رہے ہیں۔ 👈یہ کسی صورت کشمیری نہیں بلکہ راج ناتھ کے ٹکڑوں پر پلنے والے ٹومی ہیں جنہوں نے ایک وہو کرنے کا ایک پاؤنڈ لیا ہوا ہے۔ 👈اگر آپ حقیقت دیکھیں تو ایک مخصوص ٹولے نے ایک دور میں برطانیہ کا ویزہ لینے کی خاطر کاغذوں میں اپنے آپ کو قادیانی ظاہر کروایا تھا۔ یہ وہی بیغیرت ہیں جنہوں نے پہلے ویزے کے لیے دین سے غداری کی اور اب چند پاؤنڈز کے لیے ملک کے غدار بنے ہوئے ہیں۔ ان کے لیے بس اتنا ہی کافی ہے کتوں کے بھونکنے سے کارواں رکتے نہیں، اسلیے بھونکتے رہو ہم تمہیں اور تمارے آقاؤں کو اللہ کی نصرت سے ہمیشہ دھول چٹاتے رہیں گے۔

PakVocals

14,517 görüntüleme • 10 ay önce

لامین یامال کی درد ناک کہانی!؟ صحافی نے لامین یامال سے پوچھا کہ صرف 18 سال کی عمر میں اسپین کی ٹیم کا دباؤ وہ کیسے سنبھالتے ہیں؟ لامین یامال نے جواب دیا: "میری والدہ نے مجھے صرف 16 سال کی عمر میں جنم دیا، وہ اصل دباؤ تھا۔ میرے والد پیٹ پالنے کے لیے سڑکوں سے چیزیں چنتے تھے، وہ دباؤ تھا۔ مجھے تو صرف فٹبال کھیلنی ہے۔" یہ جواب ان کی پوری زندگی کی کہانی بیان کرتا ہے، جس کے پیچھے ایک جذباتی ماضی چھپا ہے لامین کی پیدائش سے پہلے ان کے والدین کرایہ نہ دے سکے۔ دو پڑوسیوں، لامین اور یامال نے ان کی مدد کی۔ والد نے عہد کیا کہ بیٹے کا نام انہی محسنوں پر رکھیں گے۔ یہ نام ایک ایسے قرض کا ریکارڈ ہے جسے خاندان کبھی پیسوں سے ادا نہیں کر سکا۔ والدین کی علیحدگی کے بعد والدہ نے فاسٹ فوڈ ریسٹورنٹ میں کام کر کے انہیں پالا۔ اسی نوکری کے دوران ان کی ملاقات "CF La Torreta" کلب کے کوآرڈینیٹر سے ہوئی، جنہوں نے لامین کی صلاحیت دیکھ کر فیس معاف کر دی۔ لامین نے بچپن میں والدین سے کہا تھا: "اگر میں عام نوکری کروں گا تو ہم مشکل میں رہیں گے، لیکن فٹبالر بن گیا تو آپ کو زندگی بھر فکر نہیں کرنی پڑے گی۔" انہوں نے صرف 15 سال کی عمر میں یہ وعدہ سچا کر دکھایا۔ لامین ہر گول کے بعد وہ انگلیوں سے 304 بناتے ہیں۔ یہ ان کے غریب محلے "روکافونڈا" کا پوسٹل کوڈ ہے، جہاں ان اجنبی پڑوسیوں نے ان کے خاندان کی مدد کی تھی۔آج، 19 سال کی عمر میں وہ دنیا کے سب سے بڑے فٹبال اسٹیج پر کھیل رہے ہیں۔ آج رات اگر وہ گول کرتے ہیں، تو اربوں اسکرینوں پر 304 کا اشارہ چمکے گا اور ان دو پڑوسیوں کے احسان کی گونج پوری دنیا سنے گی۔

ZEShan ⚫

37,424 görüntüleme • 24 gün önce