Video wird geladen...

Video konnte nicht geladen werden

Zur Startseite

لوگوں کو آخر ملا کیا؟ لوگوں کو تو گولیاں ملیں، 24 نومبر کو بے گناہ لوگ جان سے چلے گئے۔ آخر اپنے ہی لوگوں پر گولیاں کون چلاتا ہے؟" انقلاب تب آتے ہیں جب ظلم اپنی انتہا کو پہنچ جائے، مگر یاد رکھیں انقلاب کے لیے بندوقوں کی ضرورت...

20,284 Aufrufe • vor 3 Monaten •via X (Twitter)

0 Kommentare

Keine Kommentare verfügbar

Kommentare vom Original-Post werden hier angezeigt

Ähnliche Videos

جنید اکبر کے سومنات والے بیان پر جس کی جنید اکبر نے وضاحت بھی کی کچھ لوگ غصہ ہیں ان کو غصہ اور غیرت اس وقت کیوں نہ آئی جب چھبیس نومبر کو نہتے معصوم لوگوں پر گولیاں چلائی گئیں جب مریدکے میں معصوم نہتے لوگوں پر گولیاں چلائی گئیں،ان کو غصہ اور غیرت تب نہیں آئی جب ماڈل ٹاؤن میں معصوم لوگوں کو شہید کررہے تھے۔تب غیرت نہیں آئی جب کشمیر میں معصوم کشمیریوں پر گولیاں چلا رہے تھے۔ ان کو غصہ اور غیرت تب نہیں آتی جب معصوم پختون معصوم بلوچ شہید ہوتے ہیں۔ ان کو غصہ اور غیرت تب نہیں آتی جب پی ٹی آئی ورکرز کی چادر چاردیواری کے تقدس کو پامال کرتے ہیں، عمران خان کی غیر سیاسی بہنوں کو جیل میں بند کرتے ہیں۔ ان کو غصہ اور غیرت تب نہیں آتی جب یاسمین راشد جیسی بزرگ کینسر سروائیور کو جیل میں ڈالا جاتاہے، ہماری ماؤں بہنوں کو گھسیٹا جاتا ہے، کسان تباہ ہورہا ہے، معیشت تباہ ہورہی ہے، صنعت تباہ ہورہی ہے، نوجوان ملک کو چھوڑ کر جارہے ہیں۔۔: ان کو غصہ نہیں آتا ان کو تب بھی غیرت آتی نہ غصہ جب پنجاب کی جعلی وزیر اعلیٰ کہتی ہے کہ “ہمیں انڈیا سے کوئی خطرہ نہیں باقی صوبوں سے خطرہ ہے” وزیراعلی Sohail Afridi

PTI

60,143 Aufrufe • vor 10 Tagen

ہماری وہ تمام اضلاع جو عمران خان پر جان دیتے تھے ، آج وہاں پر عمران خان پر ظلم ہو رہا ہے، یعنی بنوں، کوہاٹ، کرک، ہنگو اور دیگر علاقوں سے لوگ آئے۔ آج یہ کچھ ہو رہا ہے، ہمارا وزیراعلی میک اپ کے لئے گیا ہے۔ اگر آپ لوگوں کے ساتھ بیٹھ جاو گے تو لوگ بیٹھ جائیں عمران خان کو غرق کر کیا۔ وزیر اعلی خود چھپ گیا لوگوں کو چھوڑ کر شفیع جان نہ لوگوں کو کھانا دے سکتا ہے نہ ناشتہ دے سکتا ہے لیکن پانچ لوگ بھی موجود نہیں ہیں۔ مجھے عمران خان عزیز ہے، وہ ہمارے وزیراعظم ہیں، یہ بات اپنی جگہ درست ہے، لیکن جب حالات ایسے ہوں گے تو لوگ بھی اسی حساب سے ردِعمل دیں گے۔ اس وقت صورتحال یہ ہے کہ عمران خان کو جو ووٹ ملے تھے، عمران خان کی رہائی اور حقوق کے لیے احتجاج کیا جا رہا ہے۔ لیکن اگر لوگ ہی احتجاج میں شریک نہ ہوں اور لوگ ساتھ نہ دیں تو پھر احتجاج کا کیا فائدہ؟ وزیراعلٰی سے بھی مطالبہ ہے کہ عوام کی بات سنی جائے۔ لوگوں نے اپنی جیب سے چندہ دیا ہے۔ تقریباً ایک ارب تیس کروڑ روپے جمع ہوئے ہیں۔ یہ رقم ہم نے عوام سے چندہ کرکے جمع کی ہے۔ ہر شخص نے اپنی استطاعت کے مطابق حصہ ڈالا، کسی نے ایک ہزار دیا، کسی نے زیادہ دیا، کسی نے بیس ہزار تک بھی دیے۔ اب آپ نہ کارکنوں کو ساتھ لے کر چل رہے ہیں، نہ کوہاٹ کے لوگوں کو، نہ بنوں کے لوگوں کو۔ جو لوگ موجود ہیں، وہ صرف چند مخصوص لوگ ہیں۔ شفیع جان لاکھوں کی تعداد میں لوگوں کی بات کی جاتی ہے، لیکن علاقے میں کوئی خاص سرگرمی نظر نہیں آ رہی۔ نہ لوگ اس طرح نکل رہے ہیں اور نہ ہی کوئی مؤثر احتجاج نظر آ رہا ہے۔ - ایک ارب تیس کروڑ روپے چندہ جمع کیا گیا، ہم نے بھی اپنا چندہ دیا، دوسروں نے بھی دیا۔ اب اس چندے کو کسی دوسرے مقصد کے لیے استعمال کرنا درست نہیں۔ - اب یہ سب کچھ بند ہونا چاہیے۔ عمران خان کی جنگ اپنی جگہ، لیکن احتجاج کا ایک طریقہ ہونا چاہیے۔ آخر میں، میں یہ ضرور کہوں گا کہ یہ احتجاج ناکام ہوا ہے۔ اور اگر اسی طرح مزید احتجاج کیے گئے تو وہ بھی ناکام ہوں گے۔ یہ احتجاج ایک بار پھر ناکام ہو گیا ہے۔ یہ پی ٹی آئی کے اپنے ورکرز کہہ رہے ہیں 👇👇👇

Gharidah Farooqi (T.I.)

37,046 Aufrufe • vor 1 Tag