Загрузка видео...

Не удалось загрузить видео

На главную

🚨 لیاقت چٹھہ قومی ہیرو قرار دے دیا گیا لیاقت چٹھہ آج کدھر غائب کر دیا گیا ہے ؟ لیاقت چٹھہ کمشنر تھا اس نے بہادری کا مظاہرہ کیا اور بتایا تحریک انصاف 50 50000 ووٹوں کی لیڈ سے راولپنڈی جیت رہی تھی سکندر سلطان راجہ اور قاضی فائز...

30,237 просмотров • 1 год назад •via X (Twitter)

Комментарии: 0

Нет доступных комментариев

Здесь появятся комментарии из оригинального поста

Похожие видео

مخصوص نشستوں کے کیس میں سپریم کورٹ کا تفصیلی فیصلہ آنے کے بعد راولپنڈی کمشنر لیاقت چٹھہ کے انکشافات کو مزید تقویت ملی ہے، جنہوں نے انکشاف کیا تھا کہ چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان 8 فروری کے انتخابات میں سنگین دھاندلی میں براہ راست ملوث تھا۔ یاد دہانی کے لیے: فروری 2024 میں کمشنر راولپنڈی لیاقت علی چٹھہ نے اقرار کیا تھا کہ انہوں نے پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ جیتنے والے امیدواروں کے نتائج تبدیل کئے اور راولپنڈی سے قومی اسمبلی کی 13 اور صوبائی اسمبلی کی تمام نشستوں کے نتائج تبدیل کئے یہاں تک کہ وہ امیدوار جو 70,000 ووٹوں سے آگے تھے ان کو ہرا دیا گیا۔ چٹھہ کے مطابق، ان پر اتنا "دباؤ" ڈالا گیا کہ انہوں نے خودکشی کرنے کا بھی سوچا۔ انہوں نے چیف الیکشن کمشنر اور چیف جسٹس آف پاکستان پر انتخابی دھاندلی میں براہ راست ملوث ہونے کا انکشاف بھی کیا! اس دن سے کمشنر چھٹہ لاپتہ ہیں اور دھاندلی کی درخواست آج بھی سپریم کورٹ میں زیر التوا ہے! #Article6onECP #عدلیہ_بچاؤ_ملک_بچاؤ

PTI

87,206 просмотров • 2 лет назад

راولپنڈی کے کمشنر لیاقت چٹھا کے سنگین الزامات بے بنیاد نہیں ہو سکتے مگر انکی وجہ جاننا بھی ضروری ہے کیا لیاقت چٹھہ ۴ مارچ کو ریٹائر نہیں ہو رہے؟ کیا لیاقت چٹھہ کی گریڈ ۲۱ میں ترقی کے لئیے سیکیکشن بورڈ کا چھ فروری کا اجلاس پندرہ دن کے لئیے ملتوی نہیں ہو گیا؟ اس پس منظر اگر الزامات درست بھی مان کئیے جائیں تو کیا ایک کمشنر کی بطور ریٹرننگ افسر ڈیوٹی لگائی جاتی ہے؟ ہو سکتا ہے اِنکے علم اور تحویل میں بہت سے فارم ۴۵ ہوں اور ریٹائرمنٹ سے پہلے گریڈ ۲۱ میں ترقی کے امکان ختم ہونے پر انہوں نے یہ تباہ کن بیان جاری کئیے ہوں، ذرائع کیمطابق کمشنر راولپنڈی گذشتہ چار پانچ حکومتوں میں تواتر کیساتھ اچھی پوسٹنگ لیتے رہے ہیں اور ریٹائرمنٹ کے قریب جب اِن سے ترقی کی لالچ دے کر دھاندلی کروائی گئی اور وعدہ خلافی ہوئی تو موصوف پھٹ پڑے۔ بارحال انکے الزامات بے بنیاد نہیں ہو سکتے اور انکی تحقیقات اعلی ترین سطح پر ہونی چاہئیے کیونکہ الزام آئینی اداروں اور عہدیداروں بشمول چیف جسٹس پر بھی لگایا گیا ہے۔

Matiullah Jan

413,910 просмотров • 2 лет назад