正在加载视频...

视频加载失败

🚨لیفٹننٹ کرنل اسفند یار بیگم ح راس گی کیس "پروفیسر جدون کے حوالے سے پہلے بھی شکایات سامنے آچکی تھیں اور اسی معاملے پر ڈاکٹر آئنہ کی جانب سے یونیورسٹی انتظامیہ کو آگاہ کیا گیا تھا۔ ڈاکٹر آئنہ کو دھمکیوں کا سامنا بھی کرنا پڑا۔ سوشل میڈیا پر دکھائی...

12,629 次观看 • 1 个月前 •via X (Twitter)

18 条评论

𝓛𝓪𝓲𝓫𝓪 ♡🧚 的头像
𝓛𝓪𝓲𝓫𝓪 ♡🧚1 个月前

پہلے سے شکایات اور مبینہ دھمکیوں کے دعوے سنجیدہ نوعیت کے ہیں، یونیورسٹی انتظامیہ کو شفاف تحقیقات کے ذریعے اصل صورتحال واضح کرنی چاہیے۔

Elon Mark 🥷💰 的头像
Elon Mark 🥷💰1 个月前

سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی کہانیاں اکثر یکطرفہ اور حقائق سے دور ہوتی ہیں

Erica 🪙 💰 的头像
Erica 🪙 💰1 个月前

سوشل میڈیا پر چلنے والی خبریں حقائق کے برعکس ہیں۔

Ayna 的头像
Ayna1 个月前

سوشل میڈیا ٹرائل کے بجائے گواہوں کے بیانات اور حقائق پر مبنی تحقیقات ہی سچ سامنے لا سکتی ہیں۔

Ghazنa 的头像
Ghazنa1 个月前

طالب علم کا بیان درست ہے تو معاملے کی غیر جانبدارانہ تحقیقات ہونی چاہئیں تاکہ حقائق سامنے آئیں اور سوشل میڈیا پر پھیلنے والی قیاس آرائیوں کا خاتمہ ہو۔

Miss Noor 的头像
Miss Noor1 个月前

طالب علم کا بیان درست ہے تو معاملے کی غیر جانبدارانہ تحقیقات ہونی چاہیے

Ahsas.malik🐐 的头像
Ahsas.malik🐐1 个月前

اگر ڈاکٹر آئینہ کو دھمکیوں کا سامنا تھا تو اس معاملے کو سنجیدگی سے کیوں نہیں لیا گیا؟

سیدہ✯✯ 的头像
سیدہ✯✯1 个月前

پروفیسر جدون کے خلاف پہلے بھی شکایات درج ہو چکی تھیں۔

Ishra Rajpoot 的头像
Ishra Rajpoot1 个月前

سوشل میڈیا پر ایک مختلف کہانی چل رہی ہے جبکہ طلبہ کچھ اور مؤقف پیش کر رہے ہیں، اصل حقائق سامنے آنے چاہئیں

اقراءzarnab 🎀 的头像
اقراءzarnab 🎀1 个月前

سوشل میڈیا پر ادھوری معلومات کی بنا پر فیصلہ کرنے کے بجائے اصل سچائی کا سامنے آنا ضروری ہے۔

Meinkonhoon🫡 的头像
Meinkonhoon🫡1 个月前

اگر یہ بات سچ ہے تو انتظامیہ کو پروفیسر جدون اور پورے معاملے کی فوری شفاف تحقیقات کرنی چاہئیں۔

Meeru🦋✨ 的头像
Meeru🦋✨1 个月前

طالب علم کی یہ گواہی اس بات کو واضح کرتی ہے کہ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی کہانیاں اکثر یکطرفہ اور حقائق سے دور ہوتی ہیں، جس کی تصدیق کے بغیر نتائج اخذ کرنا ناانصافی ہے۔

Aleena 的头像
Aleena1 个月前

دھمکیوں اور سابقہ شکایات کے دعوے انتہائی سنجیدہ ہیں۔ یونیورسٹی انتظامیہ کو شفاف تحقیقات کے ذریعے حقیقت عوام کے سامنے لانی چاہیے۔

iqra zarnab 的头像
iqra zarnab1 个月前

اگر ڈاکٹر آئنہ کو سچ بولنے پر دھمکیاں مل رہی ہیں تو انہیں فوراً تحفظ اور انصاف ملنا چاہیے۔

Ruhma 的头像
Ruhma1 个月前

ڈاکٹر آئنہ کی جانب سے انتظامیہ کو بروقت آگاہ کر دیا گیا تھا۔

Naina 的头像
Naina1 个月前

Every side of the story deserves to be heard. False or incomplete claims only create more confusion.

💟زمریوسف🌹 的头像
💟زمریوسف🌹1 个月前

اگر پہلے بھی شکایات موجود تھیں اور انتظامیہ کو آگاہ کیا گیا تھا تو معاملے کی مکمل اور غیرجانبدارانہ تحقیقات ہونی چاہئیں۔ حقائق سامنے آنا ضروری ہیں۔

R🌻 的头像
R🌻1 个月前

طالب علم کا یہ بیان معاملے کو ایک نیا رخ دیتا ہے۔ سوشل میڈیا کی یکطرفہ کہانی کے بجائے تمام فریقین کے مؤقف اور دستیاب شواہد کو سامنے رکھنا چاہیے۔

相关视频

🚨🚨Exclusive Information on Sarhad University Incident سرحد یونیورسٹی میں فوجی لیفٹیننٹ کرنل کی جانب سے فائرنگ کا واقعہ بنیادی طور پر کُرسی اور طاقت کی جنگ ہے۔ یہ لڑائی ہیلتھ سائنسز کے HOD جدون صاحب اور لیفٹیننٹ کرنل اسفند یار ولی کی اہلیہ میں ہے کیونکہ اُن کی اہلیہ کو اضافی چارج دیا گیا جو پہلے جدون صاحب کے پاس تھا۔ جدون صاحب طلباء کی فیسز معاف یا رعایت دے دیتے تھے جس کی وجہ سے لیفٹیننٹ کرنل صاحب کی اہلیہ کو اضافی چارج دے دیا گیا۔ گزشتہ جمعے کو ان دونوں کے درمیان گالم گلوچ اور تلخ کلامی کا واقعہ پیش آیا اور بات تھانے تک پہنچ گئی جس پر جدون صاحب نے کرنل اسفند یار کی اہلیہ سے مبینہ طور پرمعافی مانگ لی اور یہ بات یونیورسٹی میں پھیلا دی گئی کہ جدون صاحب نے کرنل اسفند یار ولی کی اہلیہ سےمعافی مانگی ہے۔ اس بات پر جدون صاحب آگ بگولہ ہوگئے۔ جدون صاحب نے اپنے من پسند طلباء کو بتایا کہ انہیں یونیورسٹی سے فارغ کیا جارہا ہے اس پر طلباء نے آج احتجاج کی کال دی اور یونیورسٹی کا گیٹ بندکر دیا، طلبہ کا آج کا پرچہ منسوخ کر دیا گیا۔ طلبہ کی جانب سے کرنل صاحب کی اہلیہ کو مبینہ طور پر ہراساں کیا گیا جس پر انہوں نے اپنے شوہر کو کال کی اور اُن کے یونیورسٹی آنے پر ہنگامہ ہو گیا۔ جس پر فوج کی اعلیٰ قیادت نے سخت ایکشن لیا اور کرنل اسفند یار کو گرفتار کر کے ان کیخلاف تادیبی کارروائی کا آغاز کر دیاگیا۔

Shehroz Azhar

75,570 次观看 • 1 个月前

کرنل کی بیوی کے بارے میں معلومات جو فوجی حلقوں سے مل رہی ہیں سرحد یونیورسٹی کے ڈاکٹر جدون ہیلتھ سائنسز ڈیپارٹمنٹ میں سٹوڈنٹس افئیر کے انچارج ہیں وہ سٹوڈنٹس کو فیس میں انسٹالمنٹ کی سہولت اور انٹرنشپ کے لئے ہسپتال جانے والے سٹوڈنٹس کو فری ٹرانسپورٹ سروس دیتے ہیں کرنل کی بیوی ڈاکٹر اعینہ نے آتے ہی فیس انسٹالمنٹ اور ہسپتال کے لئے فری ٹرانسپورٹ سروس کی سہولت ختم کردی اس پر ڈاکٹر جدون نے اعتراض کیا کروڑوں روپے کمانے والے ادارے کو ساڑھے سات لاکھ روپے سے خسارہ نہیں ہوگا لیکن سٹوڈنٹس کو بہت ریلیف ملے گا اس پر خاتون غصہ ہوئی یہ خیراتی ادارہ نہیں ہے نہ آپ کے باپ کا ہے جو اپنی مرضی سے چلاؤ ڈاکٹر جدون نے کہا تمھارے باپ کا بھی نہیں ہے اس پر خاتون نے مزید برا بھلا کہا ڈاکٹر جدون خاموش رہا پہلے اپنے بھائی کو فون کیا پھر پولیس کو فون کیا پولیس نے دونوں کو تھانے بلایا خاتون نے ہراسگی کا الزام لگایا دوستوں نے ڈاکٹر جدون کو سمجھایا کے شکایت کنندہ کی زیادہ سنی جاتی ہے تو ڈاکٹر جدون نے معافی مانگ لی اگلے دن ڈاکٹر اعینہ نے یونیورسٹی انتظامیہ پر پریشر ڈالا اس ڈاکٹر کو نوکری سے نکالو اگلے دن خبر پھیل گئی ڈاکٹر جدون کو طلبہ سے بھلائی کرنے پر استعفیٰ دینے پر مجبور کیا گیا ہے سٹوڈنٹس نے کیمپس کا گیٹ اندر سے بند کردیا اور ڈاکٹر صاحب کی بحالی کا مطالبہ کرنے لگے اس دوران محترمہ تشریف لائیں اور غصہ کرنے لگی لیکن طلبہ نہ مانے پھر خاتون نے کرنل صاحب کو بلایا اور یہ واقعہ رونما ہوا عادل راجہ

Waqar khan

331,846 次观看 • 1 个月前

صحافی منصور علی خان سرحد یونیورسٹی واقع کے اصل حقائق منظرِ عام پر لے آئے۔ جو افسوسناک واقع سرحد یونیورسٹی میں پیش آیا یہ اچانک سے رونما نہیں ہوا بلکہ اسکا تعلق گزشتہ کئی روز سے چلنے والے یونیورسٹی کے اندرونی معاملات سےہے۔ چند روز قبل بنوں کے رہائیشی اور الائیڈ ہیلتھ سائنسز ڈیپارٹمنٹ کے سربراہ ڈاکٹر جدون خان کو کرپٹ سروسز/ رشوت خوری اور طالبات کو ہراساں کرنے کے الزام میں عہدے سے ہٹا دیا گیا تھا اور اسکی جگہ Miss Aina کو تعینات کیا گیا جو کہ جدون اور اسکے حواریوں کو ہضم نا ہوا۔ کچھ روز قبل جدون مس عینا کے دفتر گیا ان سے بدتمیزی کی اور دھمکیاں دی جسکے بعد Miss Aina نے 15 پر کال کرکے پولیس کو اطلاع دیکر جدون کیخلاف درخواست دی لیکن یونیورسٹی انتظامیہ نے ڈاکٹر جدون سے معافی نامہ لکھوا کر معاملہ رفع دفع کروا دیا۔ لیکن معطل شدہ HOD کی بحالی کے مطالبے پر طلبہ کی ایک بڑی تعداد نے معطل HOD سمیت احتجاج شروع کردیا۔ ڈاکٹر آئینہ صورتحال کو سنبھالنے اور مظاہرین سے بات چیت کے لیے وہاں پہنچیں۔ بات چیت کے دوران تلخ کلامی ہوئی اور ایک طالب علم نے مبینہ طور پر ڈاکٹر آئینہ کے گریبان پر ہاتھ ڈالا اور انہیں دھمکیاں دیں۔ صورتحال بے قابو ہونے پر ڈاکٹر آئینہ نے اپنے شوہر، جو پاک فوج کے افسر ہیں، کو اطلاع دی جو تنہا یونیورسٹی پہنچے اور ان کے ساتھ کوئی فوجی دستہ یا جوان موجود نہیں تھا۔ ڈاکٹر آئینہ نے افسر کو اس نوجوان کی نشاندہی کی جس پر بدسلوکی کا الزام تھا۔ افسر اس نوجوان کی طرف بڑھے اور اسے سرزنش کی، جس کے بعد صورتحال مزید کشیدہ ہو گئی اور طلبہ کے ایک گروہ نے افسر کو گھیر لیا اور دھکم پیل کے بعد تشدد شروع کر دیا کشیدہ صورتحال میں افسر نے اپنا اسلحہ نکالا اور ہوائی فائرنگ کی۔ تاہم یہ معاملہ بھی باقاعدہ انکوائری اور قانونی جانچ کے تحت ہے کہ اس موقع پر طاقت کے استعمال کی نوعیت اور قانونی حیثیت کیا تھی۔ جبکہ دوسری طرف ویڈیوز اور دیگر شواہد کی بنیاد پر تقریباً 37 افراد پر افسر پر مبینہ حملے، جن میں کہنی، مکے اور لوہے کی راڈ کے استعمال کے الزامات شامل ہیں، کی نشاندہی کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ اس کے علاؤہ یونیورسٹی سے تعلق رکھنے والے افراد سمیت تمام متعلقہ افراد کے کردار کا جائزہ لیا جا رہا ہے اور شواہد کی بنیاد پر قانونی کارروائی کا فیصلہ کیا جائے گا۔

میاں عامر 🦁

61,160 次观看 • 1 个月前

مجھے فیصل آباد یونیورسٹی کا ایک واقعہ یاد آیا جس میں کمپیوٹر ڈیپارٹمنٹ کے ایچ او ڈی کی جگہ سیاسی اثرورسوخ استعمال کر کے کسی اور لگانا تھا وہ صاحب عہدہ چھوڑنے اور کسی دھمکی میں آنے تیار نہیں تھے پھر ایک سٹوڈنٹ سے ان کے خلاف ہراسمنٹ کی درخواست ڈلوا دی گئ۔ شریف آدمی تھا پہلے گھبرا گیا، اپنے تمام سوشل میڈیا بھی ڈی ایکٹیویٹ کر دیے ۔ پھر ہمت پکڑی اور فیصلہ کیا کہ میں اس ہراسمنٹ کمپلینٹ کو فیس کرونگا انہیں کمپلینٹ کے فیصلے تک معطل کر دیا گیا اور تقریبا ایک سال بعد وہ معصوم ثابت ہوے، بچی نے بھی بتایا کہ اسے استعمال کیا گیا اور یوں وہ باعزت اپنے عہدے پر بحال ہوے۔ میں نے یہ سٹوری کور لی تھی لیکن کیس میرے پاس بچی کے حوالے سے آیا تھا۔ اس کیس میں بھی ججوں صاحب کے خلاف جو ہراسمنٹ کمپلینٹس، جن کا دعوی کیا جا رہا ہے آئی ہیں تو وہ سامنے لانی چاہیں، جدون کو عہدے سے ہٹایا گیا اور میڈم اینا کو وہ عہدہ دیا گیا اس کا نوٹیفکیشن بھی سامنے آنا چاہیے۔ یونیورسٹی بنی ہراسمنٹ کمیٹی کی تفصیلات اور رہورٹس سامنے آنی چاہیں۔ اور جن طلباء کو ججوں صاحب بقول میڈیا اور ادارے کے فیور دیتے رہے اس کی تفصیل بھی پبلک کر دیں۔ جب فیکلٹی چیٹس پبلک ہو سکتی ہیں تو یہ سب پبلک ہونا بہت ضروری ہے۔

Saddia Mazhar|سعدیہ مظہر

11,665 次观看 • 1 个月前