Video yükleniyor...

Video Yüklenemedi

Ana Sayfaya Dön

ماشاء اللّٰہ ہر گزرتے دن کے ساتھ ایک نیا Low Level سامنے آ جاتا ہے ۔۔ اب AC DC بھی زرعی زمینوں پر قبضوں کے لیے براہ راست میدان میں آ گئے ہیں ۔۔ سمجھ آئی علیم خان کو کیوں وزیراعلی بنوانا تھا اور اب “اُس راستے والی” میڈم...

179,714 görüntüleme • 2 yıl önce •via X (Twitter)

0 Yorum

Yorum bulunmuyor

Orijinal gönderinin yorumları burada görünecek

Benzer Videolar

یہ ویڈیو دیکھ کر دل کانپ جاتا ہے۔ لاہور موٹروے پر سردیوں کی ایک اور صبح۔ دھند اتنی گہری کہ چند قدم آگے کچھ دکھائی نہیں دیتا۔ اور اس دھند کے سینے میں گھسی ہوئی ایک ڈائیوو بس۔ جو اب بس نہیں رہی، بس کے چیتھڑے سڑک پر بکھرے پڑے ہیں۔ یہ حادثہ نہیں تھا۔ یہ لاپرواہی کا انجام تھا۔ سوال یہ نہیں کہ دھند کیوں تھی؟ سوال یہ ہے کہ دھند میں رفتار کیوں کم نہیں کی گئی؟ سوال یہ ہے کہ درجنوں جانوں کو ایک ڈرائیور کی انا اور جلد بازی کے حوالے کیوں کیا گیا؟ یہ بس ٹائم پر پہنچنے کی دوڑ میں تھی، مگر کسی نے یہ نہیں سوچا کہ دیر سے پہنچنا بہتر ہے یا لاش بن کر؟ سردیوں میں موٹروے پر ہر سال یہی کہانی دہرائی جاتی ہے: دھند، تیز رفتار بسیں، اوورٹیک، ہائی بیم، اور پھر ایک ویڈیو… جس میں چیخیں نہیں ہوتیں، بس خاموشی ہوتی ہے اور لوہے کے ٹکڑے۔ قانون موجود ہے، وارننگ بھی دی جاتی ہے، پیغامات بھی آتے ہیں۔ مگر جب تک کمرشل گاڑیوں کو یہ احساس نہیں دلایا جائے گا کہ ان کی ذرا سی غفلت درجنوں گھروں کو اجاڑ سکتی ہے، تب تک یہ مناظر بدلیں گے نہیں۔ یہ ویڈیو صرف ایک حادثے کی نہیں، یہ ایک سوال ہے ہم سب سے۔ کیا ہماری جانیں واقعی اتنی سستی ہیں کہ دھند میں بھی بسیں نہیں رک سکتیں؟ اللہ رحم کرے اور ہمیں عقل دے۔ ورنہ اگلی ویڈیوکسی اور کی ہوگی۔

منصور مصطفیٰ

63,519 görüntüleme • 8 ay önce

🔔🔔 اسلام آباد میں 32 روز سے بلوچ لاپتہ افراد کے اہلخانہ کے دھرنہ میں چار سالہ شاری سب کی توجہ کا مرکز ہے۔۔ شاری خوش ہے۔۔ اسلام آباد میں پہلی بار پارک گئی اور جھولوں پر کھیل رہی ہے۔۔ یہ پارک پریس کلب کے سامنے سڑک پار ہے۔۔ معلوم نہیں بلوچستان کے دور دراز شہروں اور قصبوں میں ایسے جھولے ہوں گے یا نہیں۔۔ پارک شاری کے گھر کے پاس ہوگا یا نہیں۔۔ ہم اسلام آباد، لاہور اور کراچی کے باسی تو اب اپنے بچوں کو مہنگے الیکٹرک جھولوں اور گیمز والے “تھیم پارکس، جواے لینڈ اور پلے ایریاز” میں لے کر جاتے ہیں لیکن بلوچستان سے اپنے ماموں کی تلاش کے لیے آئی چار سالہ شاری کے لیے لوہے کے یہ جھولے بھی ایک بہت بڑی مسرت کا باعث ہیں۔ شاری کو ایک فیشن ایبل عینک اور میوزک والی گھڑی بھی مل گئی ہے تو شاری کافی مصروف بھی ہے۔ شاید شاری کے لیے احمد شمیم صاحب نے مشہور نظم لکھی اور نیرہ نور صاحبہ نے گا کر امر کردی: ہمیں ماتھے پہ بوسا دو کہ ہم کو تتلیوں کے‘ جگنوؤں کے دیس جانا ہے ہمیں رنگوں کے جگنو‘ روشنی کی تتلیاں آواز دیتی ہیں نئے دن کی مسافت رنگ میں ڈوبی ہوا کے ساتھ کھڑکی سے بلاتی ہے ہمیں ماتھے پہ بوسا دو

Asad Ali Toor

27,367 görüntüleme • 1 yıl önce

#انقلابی_ڈر_گئے معاشرے کی گندگی کو ہائی لائٹ کرنا بھی ایک جہاد ہے :::::::: تصویر میں نظر انے والے ہجڑے کا نام حنین باجوا ہے اس کا تعلق لاہور سے ہے اور ڈرگ مافیا اور پاکستان کی ہم جنس پرست کمیونٹی جو اس وقت دن بدن پھیلتی جا رہی ہے اس کو سپورٹ کرتا ہوں یہ اس وقت پاکستان کے ٹاپ کے لڑکیوں کے سپلائر میں اس کا نام اتا ہے یہ سرکاری افسران سیاستدان بزنس مینوں کو لڑکیاں سپلائی کرتا ہے اب یہ کرتا کیا ہے کہ چھوٹے چھوٹے گاؤں اور شہروں سے انے والی لڑکیاں جو لاہور میں نوکری کے لیے اتی ہے ان کو اس نے دکھا کر ان کو جسم فروشی پر لگا دیتا ہے ماڈرن کپڑے پہنا کر صاف ستھرا کر کے لڑکیوں کو 20 25 ہزار میکسیمم 30 ہزار دیتا ہے اور خود دو دو ڈھائی ڈھائی لاکھ پکڑتا ہے تصویر میں نظر انے والی لڑکی کا تعلق بھی اوکاڑہ سے ہے یہ انپڑھ اور پینڈو لڑکی ہے لاہور میں ماڈل بننے ائی تھی ماڈل بن نہیں سکی بے شرم ہجڑے کے ہاتھ لگ گئی باقی رزلٹ اپ کے سامنے اس جیسے بے شمار درندے بڑے بڑے شہروں میں بیٹھے ہیں جو چھوٹے شہروں سے انے والی لڑکیوں کو لیبل لگا دیتے ہیں اور سب سے جو خطرناک کام ہے اب یہ ویڈیوز اپ کو سوشل میڈیا پر عام مل جاتی ہے جو پہلے کبھی نہیں ملتی تھی کیونکہ ہمارے ادارے ان کے خلاف ایکشن نہیں لیتے وہ بھی ان کی گنگا میں اپنے ہاتھ دھوتے ہیں الٹا ان کی نشاندہی کرنے والے پھنس جاتے ہیں #یوتھئیے_کیلا_کھا_گئے #Islamabad
0:13

Sensitive content

#انقلابی_ڈر_گئے معاشرے کی گندگی کو ہائی لائٹ کرنا بھی ایک جہاد ہے :::::::: تصویر میں نظر انے والے ہجڑے کا نام حنین باجوا ہے اس کا تعلق لاہور سے ہے اور ڈرگ مافیا اور پاکستان کی ہم جنس پرست کمیونٹی جو اس وقت دن بدن پھیلتی جا رہی ہے اس کو سپورٹ کرتا ہوں یہ اس وقت پاکستان کے ٹاپ کے لڑکیوں کے سپلائر میں اس کا نام اتا ہے یہ سرکاری افسران سیاستدان بزنس مینوں کو لڑکیاں سپلائی کرتا ہے اب یہ کرتا کیا ہے کہ چھوٹے چھوٹے گاؤں اور شہروں سے انے والی لڑکیاں جو لاہور میں نوکری کے لیے اتی ہے ان کو اس نے دکھا کر ان کو جسم فروشی پر لگا دیتا ہے ماڈرن کپڑے پہنا کر صاف ستھرا کر کے لڑکیوں کو 20 25 ہزار میکسیمم 30 ہزار دیتا ہے اور خود دو دو ڈھائی ڈھائی لاکھ پکڑتا ہے تصویر میں نظر انے والی لڑکی کا تعلق بھی اوکاڑہ سے ہے یہ انپڑھ اور پینڈو لڑکی ہے لاہور میں ماڈل بننے ائی تھی ماڈل بن نہیں سکی بے شرم ہجڑے کے ہاتھ لگ گئی باقی رزلٹ اپ کے سامنے اس جیسے بے شمار درندے بڑے بڑے شہروں میں بیٹھے ہیں جو چھوٹے شہروں سے انے والی لڑکیوں کو لیبل لگا دیتے ہیں اور سب سے جو خطرناک کام ہے اب یہ ویڈیوز اپ کو سوشل میڈیا پر عام مل جاتی ہے جو پہلے کبھی نہیں ملتی تھی کیونکہ ہمارے ادارے ان کے خلاف ایکشن نہیں لیتے وہ بھی ان کی گنگا میں اپنے ہاتھ دھوتے ہیں الٹا ان کی نشاندہی کرنے والے پھنس جاتے ہیں #یوتھئیے_کیلا_کھا_گئے #Islamabad

Khurram Khan

52,120 görüntüleme • 2 gün önce