Video wird geladen...

Video konnte nicht geladen werden

Zur Startseite

مجھے عشق بے تحاشہ تجھے سرِ عام کرنا ہے

191,038 Aufrufe • vor 3 Jahren •via X (Twitter)

8 Kommentare

Profilbild von itz Durrani
itz Durranivor 3 Jahren

مجھ سے مت پوچھ میرے دل کی کہانی ہمدم اس میں کچھ پردہ نشینوں کے بھی نام۔آتے ہیں

Profilbild von Sania Rafiq
Sania Rafiqvor 3 Jahren

بے وزن ۔۔۔۔

Profilbild von محمد نازک
محمد نازکvor 3 Jahren

ورثہ والے بھائی اشعار ہی بے وزن ہیں ۔۔

Profilbild von 𝕸𝖔𝖍𝖆𝖒𝖒𝖆𝖉 𝕱𝖆𝖗𝖆𝖟🇵🇰
𝕸𝖔𝖍𝖆𝖒𝖒𝖆𝖉 𝕱𝖆𝖗𝖆𝖟🇵🇰vor 3 Jahren

وہ دل نواز ہے لیکن نظر شناس نہیں... مرا علاج مرے چارہ گر کے پاس نہیں ― ناصر کاظمی

Profilbild von Sohaib Danish
Sohaib Danishvor 3 Jahren

گھٹیا سخن گھٹیا ڈیلیوری

Profilbild von عاجز
عاجزvor 3 Jahren

بے تکی شاعری۔۔۔ لگتا ہے اینکر اور آپ غالباََ محترمہ کے لب و رخسار پہ دادوتحسین کے ڈونگرے برسا رہے ہیں۔۔۔🤔

Profilbild von RUMI
RUMIvor 3 Jahren

try to maintain your class. Dont ruin ur image in followers' eyes.

Profilbild von Jauharabadi جوہرآبادی
Jauharabadi جوہرآبادیvor 3 Jahren

آج تو بالکل علی زریون جیسی شاعری لگائ آپ نے

Ähnliche Videos

پیر سید نصیر الدین نصیرؒ کا خوبصورت کلام بزبانِ شاعر مجھ پہ بھی چشمِ کرم اے میرے آقا کرنا حق تو میرا بھی ہے رحمت کا تقاضا کرنا میں کہ ذرہ ہوں مجھے وسعتِ صحرا دےدے کہ تیرے بس میں ہے قطرے کو بھی دریا کرنا میں ہوں بے کس ترا شیوہ ہے سہارا دینا میں ہوں بیمار ترا کام ہے اچھا کرنا تُو کسی کو بھی اٹھاتا نہیں اپنے در سے کہ تری شان کے شایاں نہیں ایسا کرنا تیرے صدقے، وہ اُسی رنگ میں خود ہی ڈوبا جس نے، جس رنگ میں چاہا مجھےرُسوا کرنا یہ ترا کام ہے اے آمنہ کے دُرِّ یتیم ساری امّت کی شفاعت، تنِ تنہا کرنا کثرتِ شوق سے اوسان مدینے میں ہیں گم نہیں کُھلتا کہ مجھے چاہیے کیا کیا کرنا یہ تمنائے محبت ہے کہ اے داورِ حشر فیصلہ میرا سپردِ شہہِ بطحا کرنا آل و اصحاب کی سنت ، مرا معیارِ وفا تری چاہت کے عوض ، جان کا سودا کرنا شاملِ مقصدِ تخلیق یہ پہلو بھی رہا بزمِ عالم کو سجا کر ترا چرچا کرنا یہ صراحت ورفعنالک ذکرک میں ہے تیری تعریف کرنا ،تجھے اونچا کرنا تیرے آگے وہ ہر اک منظرِ فطرت کا ادب چاند سورج کا وہ پہروں تجھے دیکھا کرنا طبعِ اقدس کے مطابق وہ ہواؤں کا خرام دھوپ میں دوڑ کے وہ ابر کا سایا کرنا دشمن آجائے تو اٹھ کر وہ بچھانا چادر حسنِ اخلاق سے غیروں کو وہ اپنا کرنا کوئی فاروق سے پوچھے کہ کسے آتا ہے دل کی دنیا کو نظر سے تہہ وبالا کرنا اُن صحابہ کی خوش اطوار نگاہوں کو سلام جن کا مسلک تھا طوافِ رخِ زیبا کرنا مجھ پہ محشر میں نصیرؔ اُن کی نظر پڑ ہی گئی کہنے والے اسے کہتے ہیں، خدا کا کرنا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

اردو ورثہ

46,228 Aufrufe • vor 1 Jahr