Video wird geladen...

Video konnte nicht geladen werden

Zur Startseite

مریم نواز اور کوٹھے کی نائیکہ میں کوئی فرق نہیں!! کوٹھے کی دنیا میں سینیئر ناچنے والی کو (نائیکہ) کہا جاتا ہے, یہ صرف ایک رقاصہ نہیں، بلکہ پورے کوٹھے کی سربراہ ہوتی ہے۔ وہ برسوں کی ریاضت، اتار چڑھاؤ اور فن کی پختگی کے بعد اس مقام تک...

75,415 Aufrufe • vor 1 Monat •via X (Twitter)

0 Kommentare

Keine Kommentare verfügbar

Kommentare vom Original-Post werden hier angezeigt

Ähnliche Videos

Monitoring اماں لعل جان و فدائی حوا: ایک آغوش، ایک عہد، ایک بیانیہ شہید فدائی حوا بلوچ، جن کا کوڈ نام دروشم تھا، 13 ستمبر 2006 کو تمپ کے علاقے کوہاڈ میں پیدا ہوئیں۔ وہ ایک ایسے گھرانے میں پروان چڑھیں جہاں سیاست محض گفتگو کا موضوع نہیں بلکہ روزمرہ کی حقیقت تھی۔ ان کے والد، ناکو نبی بخش، 8 نومبر 2021 کو شہید کیئے گئے۔ ایک بیٹی کے لیئے باپ کی غیر موجودگی ہمیشہ ایک خلا چھوڑتی ہے، مگر مزاحمتی معاشروں میں یہ خلا صرف ذاتی نہیں رہتا، وہ اجتماعی یادداشت کا حصہ بن جاتا ہے۔ اکتیس جنوری کو آپریشن ھیروف کے دوران مجید بریگیڈ کی جانباز فدائی بن کر حوا بلوچ گوادر کے محاذ پر دشمن کے فوجی کیمپ میں اپنے ساتھی فدائین کے ہمراہ داخل ہوتی ہے، آخری گولی تک لڑتی ہے، اور مزاحمتی تاریخ کے ماتھے کی جھومر بن جاتی ہے۔ بعض اوقات تاریخ توپوں کی گھن گرج سے نہیں، ماں کی خاموش پیشانی سے لکھی جاتی ہے۔ بعض اوقات انقلاب نعروں سے نہیں، رخصتی کے وقت کی مسکراہٹ سے جنم لیتا ہے۔ موقع وداع کی یہ ویڈیو، جس میں فدائی حوا اپنی والدہ اماں لعل جان سے گلے مل کر ہنستے ہوئے اپنے آخری فدائی مشن کیلئے روانہ ہوتی ہے، محض چند منٹ کا منظر نہیں، بلکہ ایک پورے عہد کی روح ہے۔ وہ لمحہ جب اماں لعل جان اپنی بیٹی کو ہنستے ہوئے گلے لگاتی ہیں، دراصل وہ لمحہ ہے جب ایک ماں اپنی ذات سے بلند ہو کر قوم بن جاتی ہے۔ اس گلے ملنے میں لرزش نہیں، الزام نہیں، سوال نہیں۔ جیسے وہ جانتی ہو کہ اس کی بیٹی صرف اس کی نہیں رہی۔ جیسے ایک قدیم درخت اپنی سب سے مضبوط شاخ کو آندھی کے سپرد کر دے، اس یقین کے ساتھ کہ وہ شاخ ٹوٹے گی نہیں، بلکہ ہوا کا رخ بدل دے گی۔ حوا کی مسکراہٹ میں بچپن کی معصومیت نہیں، ایک شعوری بلوغت ہے۔ اٹھارہ برس کی عمر میں اکثر لڑکیاں خواب دیکھتی ہیں، مگر اس کی آنکھوں میں خواب نہیں، فیصلہ ہے۔ وہ فیصلہ جو کسی جذباتی لمحے کا نتیجہ نہیں، برسوں کی خاموش تربیت کا ثمر تھا۔ اماں لعل جان کے چہرے پر سکون کیوں ہے؟ کیونکہ وہ جانتی ہیں کہ غلامی میں پرورش پانے والی نسلیں یا تو خوف سیکھتی ہیں یا مزاحمت۔ اور ان کی بیٹی نے خوف کو قبول نہیں کیا۔ اس سکون میں دکھ ہے، مگر شکست نہیں۔ اس میں درد ہے، مگر پچھتاوا نہیں۔ مزاحمت صرف میدان میں نہیں ہوتی۔ مزاحمت اس لمحے میں ہوتی ہے جب ایک نوجوان لڑکی اپنی ماں کے سامنے کھڑی ہو کر کہتی ہے کہ میں قربان ہونے کیلئے تیار ہوں۔ مزاحمت اس لمحے میں ہوتی ہے جب ماں اپنے آنسو نگل کر کہتی ہے کہ جا بیٹی، میں تیرے لیئے دعاگوار ہوں۔ فدائی حوا کی کہانی، سب سے پہلے ایک انسانی کہانی ہے۔ ایک ایسی بیٹی کی کہانی جس نے باپ کی یاد کو کمزوری نہیں، قوت بنایا۔ ایک ایسی ماں کی کہانی جس نے خوف کو بیٹی کی راہ میں دیوار نہیں بننے دیا۔ یہ بلوچ عورت کی نئی تعریف ہے۔ وہ صرف مظلوم نہیں، وہ فیصلہ ساز بھی ہے۔ وہ صرف رونے والی نہیں، رخصت کرنے والی بھی ہے۔ اماں لعل جان جب بیٹی کو گلے لگاتی ہیں تو وہ صرف اسے الوداع نہیں کہتیں، وہ ایک پیغام دیتی ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ ہماری مائیں ٹوٹتی نہیں، ہمارے گھر خالی ہوکر بھی کمزور نہیں ہوتے، ہماری بیٹیاں صرف خواب نہیں دیکھتیں، وہ خواب کو حقیقت میں بدلنے کی قیمت بھی ادا کرتی ہیں۔ اس ویڈیو کو دیکھتے ہوئے آنکھیں نم ہوسکتی ہیں، مگر یہ کمزوری کی نمی نہیں، شعور کی نمی ہے۔ یہ اس بات کا احساس ہے کہ کچھ فیصلے آسان نہیں ہوتے، مگر ضروری ہوتے ہیں۔ اور جب ایک ماں اپنی بیٹی کے فیصلے کے ساتھ کھڑی ہو جائے، تو پھر اس فیصلے کی اخلاقی طاقت آسمانوں کو ہلا سکتی ہے۔ ویڈیو کے آخر میں، حوا کی تصویر ہمارے سامنے آتی ہے۔ مسکراتی ہوئی۔ مطمئن۔ جیسے اسے معلوم ہو کہ اس کی زندگی کا پیمانہ لمبائی سے نہیں، گہرائی سے ناپا جائے گا۔ جیسے وہ کہہ رہی ہو کہ میں گئی نہیں، میں ایک سوال چھوڑ گئی ہوں۔ اور جب تک اس سوال کا جواب وطن کی آزادی و انصاف کی بحالی کی صورت میں نہیں ملتا، تب تک یہ کہانی ختم نہیں ہوگی۔

Bàhot باھوٹ

140,922 Aufrufe • vor 6 Monaten

عموماً لوگوں کے ذہن میں اینجیوپلاسٹی اور اسٹنٹ کے حوالے سے بہت سے خدشات اور سوالات ہوتے ہیں۔ پتہ نہیں یہ پروسیجر کیسے ہوتا ہے، کتنی تکلیف ہوتی ہے، اسٹنٹ کیسا ہوتا ہے، کہاں لگتا ہے اور دل کی نالی میں کیسے پہنچایا جاتا ہے۔ چونکہ اب یہ پروسیجر بہت عام اور محفوظ ہو چکا ہے، اس لیے آج ہم نے اپنی ایک بزرگ مریضہ کی اجازت سے ایک مختصر ویڈیو ریکارڈ کی ہے تاکہ آپ اس پورے عمل کو آسان انداز میں سمجھ سکیں۔ اینجیوپلاسٹی کے آغاز میں مریض کے ہاتھ میں ایک کینولا لگایا جاتا ہے۔ اسی راستے سے ایک باریک ٹیوب، جسے کیتھیٹر کہا جاتا ہے، دل کی نالیوں کے دہانے تک پہنچائی جاتی ہے۔ اس کیتھیٹر کے ذریعے ہلکی سی ڈائی دی جاتی ہے تاکہ اسکرین پر دل کی نالیوں کی تصویریں واضح نظر آئیں اور معلوم ہو سکے کہ تنگی کہاں موجود ہے۔ اس کے بعد ایک نہایت باریک وائر نالی کے اندر سے گزارتے ہوئے تنگ حصے کو کراس کر کے آگے نارمل حصے تک پہنچائی جاتی ہے۔ پھر اسی وائر کے اوپر ایک چھوٹا سا بیلون لے جایا جاتا ہے جو تنگ جگہ پر راستہ بنانے میں مدد دیتا ہے۔ بعد ازاں اسی وائر کے ذریعے اسٹنٹ مطلوبہ مقام تک پہنچایا جاتا ہے۔ جب اسٹنٹ بالکل تنگی والی جگہ پر آ جاتا ہے تو بیلون کو پھلا کر اسٹنٹ کو نالی میں مکمل طور پر کھول دیا جاتا ہے۔ یوں اسٹنٹ نالی کی دیوار کا حصہ بن جاتا ہے اور خون کا بہاؤ بحال ہو جاتا ہے۔ پھر بیلون اور باقی آلات باہر نکال لیے جاتے ہیں اور پروسیجر مکمل ہو جاتا ہے۔ اسی تمام عمل کی مختصر مگر مکمل تفصیل اس ویڈیو میں دکھائی گئی ہے۔ امید ہے کہ اس سے آپ کو اینجیوپلاسٹی اور اسٹنٹ کے بارے میں بہتر آگاہی ملے گی اور آپ یہ پیغام دوسروں تک بھی پہنچا سکیں گے کہ یہ کوئی خوفناک یا پیچیدہ عمل نہیں بلکہ ایک محفوظ، مؤثر اور نسبتاً سادہ پروسیجر ہے جو روزانہ ہزاروں مریضوں میں کامیابی سے انجام دیا جاتا ہے۔

Yasir Bashir

14,282 Aufrufe • vor 3 Monaten