Video yükleniyor...

Video Yüklenemedi

Ana Sayfaya Dön

مریم نواز سے ایک سوال کوئی نہیں پوچھ رہا کہ آپ کے کل اثاثے 84 کروڑ روپے کے ہیں آپ 3 سالوں میں 12 لاکھ روپے ٹیکس دیتی ہیں تو یہ کیسے ممکن ہے آپ نے 4ارب کا ہار اپنی صاحبزادی کو شادی میں پہنا دیا مریم صاحبہ کو...

42,700 görüntüleme • 14 gün önce •via X (Twitter)

13 Yorum

Ahad Anwar profil fotoğrafı
Ahad Anwar13 gün önce

Accountability bureau?

Waqar Ahmed Farooqui profil fotoğrafı
Waqar Ahmed Farooqui14 gün önce

Malik Riyaz gave it

Ali Imam profil fotoğrafı
Ali Imam14 gün önce

I think one of the many maraym's boy friend such as pakistan army have few dozen generals.

Durrani profil fotoğrafı
Durrani14 gün önce

یہ کون ثابت کرے گا کہ ہار 32 ملین ڈالر کا ہے کیونکہ یہ ہار مریم نے شاہ عالمی سے خریدا تھا۔ اگر یہ کسی مہنگے سیٹ سے ملتا ہے تو اس میں معصوم مریم کا کیا قصور ہے۔

أسد الشرق 🦁 profil fotoğrafı
أسد الشرق 🦁14 gün önce

پنجاب کو اب ہر حال میں نكلنا ہوگا یہ غیرت کا سوال ہیں

Mumtaz Baig profil fotoğrafı
Mumtaz Baig14 gün önce

قطری شہزادہ تو اب بھاگ گیا ہے

Sonia Khan profil fotoğrafı
Sonia Khan14 gün önce

بچوں نے اپنی گُلّک توڑی ہوگی بہن کی شادی کے لئے اور ویسے بھی بیچاری کہاں لے کر جائیگی ساتھ میں سب یہیں چھوڑ کر مرے گی انشاءاللہ اللّٰہ اس بدنصیب کو کُتے سے بدتر موت دے میرے غریبوں سے نوالہ چھینا ہے

Sheikh Mohammad Kashif profil fotoğrafı
Sheikh Mohammad Kashif14 gün önce

قطری زندہ باد

Qamar Ahmed profil fotoğrafı
Qamar Ahmed13 gün önce

قطری نے دیا ھے اپنی بیٹی کو شادی پر

Master Blaster_🇵🇰 🇨🇦ماسٹر بلاسٹر profil fotoğrafı
Master Blaster_🇵🇰 🇨🇦ماسٹر بلاسٹر14 gün önce

ہمارے اثاثے آمدنی سے زیادہ ہے تو تم کو کیا مسئلہ ہے بھئی؟ یہ جواب باپ نے دیا تھا تو یہی جواب بیٹی کا بھی ہو گا .

Asad profil fotoğrafı
Asad14 gün önce

پائی جان یہ ہار قطر سے آیا ہے

Danyal Aziz🇵🇰 profil fotoğrafı
Danyal Aziz🇵🇰14 gün önce

میری لندن میں تو کیا، پاکستان میں بھی کوئی جائیداد نہیں۔۔۔🤭

Sheraz Nazir profil fotoğrafı
Sheraz Nazir14 gün önce

جسکی بیٹی ہے ہوسکتا ہے اس نے دیا ہو، اب بیٹی کس کی ہے یہ نہی پتا

Benzer Videolar

اقرار الحسن سے عوام نے جو سوالات پوچھے ہیں ان میں سے ایک کا بھی جواب نہیں دیا گیا۔ پہلا سوال آپ نے خود ایک انٹرویو میں کہا کہ جب آپ چھٹی جماعت میں تھے تو آپ کے والد نے دوسری شادی کی اور پھر جرمنی چلے گئے۔ آپ نے کہا کہ آپ کو نہیں معلوم وہ کہاں رہتے ہیں کیا کرتے ہیں یا انہوں نے کتنی شادیاں کی ہیں۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا صرف دوسری شادی کی وجہ سے کوئی ملک چھوڑ کر جرمنی میں پناہ لیتا ہے؟ ملک چھوڑنے کی اصل وجہ کیا تھی وہ آپ نے آج تک نہیں بتائی۔ دوسرا سوال آپ کے والد اسماعیل شاہ پر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم کی شان میں گستاخی کے الزامات ہیں اور اس کی ویڈیو شواہد بھی موجود ہیں۔ آپ کے والد پر 295C کی دفعات بھی درج ہیں۔ اگر یہ سب جھوٹے الزامات تھے تو آپ کے والد نے عدالت کا دروازہ کیوں نہیں کھٹکھٹایا اور پاکستان چھوڑ کر بھاگنے کو ترجیح کیوں دی؟ تیسرا سوال آپ کی کمپنی Perfectum Pakistan کا واحد بیرون ملک دفتر جرمنی کے فرینکفرٹ میں ہے جہاں آپ کے والد مقیم ہیں۔ یہ محض اتفاق ہے یا آپ کے اور آپ کے والد کے درمیان کاروباری تعلق بھی ہے؟ اگر آپ کو اپنے والد کے بارے میں کچھ معلوم نہیں تو پھر جرمنی میں دفتر کیوں؟ چوتھا سوال آپ نے خود ایک انٹرویو میں اعتراف کیا کہ آپ نے اہم معاملات پر والد سے رابطہ کیا اور ان سے مشورہ لیا۔ جب آپ انہیں نہیں جانتے اور ان سے کوئی تعلق نہیں تو پھر مشورہ کس بات پر لیا گیا؟ یہ تضاد کیسے؟ پانچواں سوال آپ کہتے ہیں آپ کو فخر ہے مگر برسوں میں ایک بار بھی والد سے ملاقات کا کوئی ویڈیو ثبوت سامنے نہیں آیا۔ جس باپ پر فخر ہو اس کے ساتھ ایک تصویر ایک مشترکہ ویڈیو بھی نہیں؟ یہ کیسا فخر ہے جو چھپ کر ہو؟ چھٹا سوال آپ کے والد کا تعلق اہل تشیع مکتب فکر سے ہے اور وہ ایک مذہبی مقرر کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ اگر آپ واقعی ان کی سوچ اور عقائد سے الگ ہیں تو آپ نے کبھی عوامی سطح پر اپنے والد کے ان مبینہ بیانات سے لاتعلقی کا اظہار کیوں نہیں کیا؟ ساتواں سوال آپ نے پاسپورٹ شناختی کارڈ اور اسناد دکھا کر والد کا نام ثابت کیا مگر کسی نے آپ کی والدیت پر سوال نہیں اٹھایا۔ عوام آپ کے والد کے مبینہ کارناموں کے بارے میں حقائق جاننا چاہتی ہے جو زبان زد عام ہیں منقول

Aamir Gujjar

29,105 görüntüleme • 4 ay önce

سوال: اچھا مولانا صاحب ملک کے بہتر مفاد میں آپ عمران خان سے بھی مل سکتے ہیں ان کو شامل ہونے کی دعوت دے سکتے ہیں؟ جواب: دیکھیے ہر چیز باوقار انداز سے ہو اس میں کوئی شک نہیں کہ دس بارہ سال ہم ایک دوسرے کے بڑے مد مقابل رہے ہیں اور ہمارے بڑے تحفظات ہیں اور ان کو اگر دور کیا جاتا ہے تو ہم سیاسی لوگ ہیں مذاکرات سے بھی انکار نہیں کریں گے اور مذاکرات کے لیے اگر ماحول بنتا ہے تو اس کی بھی حوصلہ افزائی کریں گے ہم کوئی مستقل جھگڑے اور جنگ اور تلخیاں اس کو باقی رکھنا نہ ملک کے مفاد میں سمجھتے ہیں نہ ہمارے سوسائٹی کے مفاد میں ہے۔ سوال: آپ کی طرف سے ویلکم ہے عمران خان کے لیے۔۔ تو یہ ذرا واضح کیجیے گا اگر آپ کو ضرورت پڑتی ہے یا۔۔۔۔ جواب: میرے پاس ان کے دو وفود آئے ہیں اس کے باوجود ان کے لوگ جو ہیں وہ مجھے مسلسل مل رہے ہیں چاہے آف دی ریکارڈ مل رہے ہیں یا میڈیا کے سامنے بھی مل رہے ہیں تو ملتے ہیں اور یہی گفتگو چل رہی ہے کہ آپس کے جو تحفظات ہیں کس طرح ان کو دور کرنے کے لیے ماحول بنایا جائے۔ سوال: مولانا صاحب ابھی آپ نے فرمایا کہ 10 12 سال کی تلخیاں تھی اب آپ سیاسی طور پر کہہ رہے ہیں کہ سیاسی لوگ دروازے کھلے رکھتے ہیں تو جو سب سے زیادہ پچھلے سات آٹھ سالوں میں آپ کی طرف سے الزام کہ یہ یہودی لابی ہے تو یہ سیاسی تلخیاں ختم ہوں گی تو آپ ان کو یہودی لابی سے مسلمان لابی میں کیسے دیکھیں گے؟ جواب: یہ بات ذہن میں رکھے اگر ہم نے برصغیر کی سیاست میں کسی کو انگریز کا ایجنٹ کہا ہے یا ہم نے عالمی سطح پر کسی کو امریکہ کا ایجنٹ کہا ہے تو یہ عنوان ہے یہ گالی نہیں ہے مطلب یہ ہے کہ جو عالمی سطح پر ایک ورلڈ وائڈ جو ایکنامک نیٹ ورک ہے اور اس کے اوپر جو جیوش کی ایک بالادستی ہے جب میں دیکھوں گا کہ میرے ملک کو بھی اس نیٹ ورک کے اندر ڈالا جا رہا ہے اور یہاں پر میں سود کے خاتمے کی بات کرتا ہوں اور میں مکمل طور پر عالمی سطح پر سودی نظام کے اندر جا رہا ہوں ان کی معیشت کے اصولوں کے مطابق چلوں گا تو اس سے میرا اختلاف ہوگا اب اس اختلاف کا عنوان اگر یہ ہے کہ یہودی ایجنٹ تو اس کو گالی کیوں کہا گیا اس کو سنجیدگی سے لینا چاہیے تھا مجھ سے پوچھنا چاہیے تھا کہ آپ یہ بات کیوں کہہ رہے ہیں اگر میں کہتا ہوں کہ قادیانیوں کو دوبارہ مسلم سٹیٹس پاکستان میں دینا یہ میرے تحفظات ہیں بجائے اس کے کہ آپ مجھے اس کے بدلے میں گالیاں دیں آپ مجھے مطمئن کریں میں پاکستان کا شہری ہوں میرے پیچھے کچھ لوگ ہیں ان کے ایک سوچ ہے ان کے تحفظات ہیں میں ان کے نمائندگی کر رہا ہوں اگر میں کہتا ہوں کہ پاکستان میں مغربی تہذیب کو فروغ دیا جا رہا ہے اور ہماری اسلامی اور مشرقی تہذیب جو ہے اس کا خاتمہ کیا جا رہا ہے اس کے بدلے میں گالی دینے کی بجائے مجھ سے پوچھا جائے مجھ سے بات کی جائے سیاستدان کا کام یہی ہوتا ہے اگر میں نے آپ کے اوپر کوئی اعتراض کیا ہے یا آپ کے ساتھ میں کوئی ایک تحفظات کا اظہار کیا ہے تو اپ کا فرض بنتا ہے کہ آپ یہ بات کہے کہ فضل الرحمان یہ بات آپ کیوں کر رہے ہیں مجھے تاکہ جب میں آپ کے ساتھ اپنی بات رکھوں تو آپ یا مجھے مطمئن کر سکیں اس بات پر کہ میں میرے ایجنڈا نہیں ہے یا یہ کہ یہ میرا ایجنڈا ہے اور آپ کے مفاد کے لیے ہے کچھ تو کرنا پڑے گا نا جی تو یہ چیزیں جو ہیں ان کو سیاسی طور پر ہم لے رہے ہیں اور آج جب ان کے لوگ آئے ہیں اگر یہ لوگ 12 سال پہلے بھی اتے تب بھی میرے یہی ایٹیٹیوڈ ہوتا اور اگر آج آئے ہیں تب بھی میرا وہی ایٹیٹیوڈ ہے

Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan

17,018 görüntüleme • 2 yıl önce

جناب مشال یوسف زئی صاحبہ اس معاملے پر میں نے بھی آپ سے رابطہ کرنے کی کوشش کی لیکن آپ نے مجھے کوئی جواب نہیں دیا آپ اس معاملے سے متعلق تمام تر باتیں غلط بیانی کے ساتھ پھیلا رہی ہیں ایسا کوئی خط کوٹ لکھپت جیل سے نہیں آیا البتہ یہ ضرور کہا گیا کہ ہمارے لیے جو بھی آواز اٹھائے گا ہم اس کے ساتھ کھڑے ہیں یہ سارا معاملہ آپ کے چند ایسے نام نہاد صحافیوں کی وجہ سے پھیلایا اور گھڑا جا رہا ہے جنہوں نے چند ٹکوں کے عوض اپنی آبرو اور صحافتی دیانت فروخت کر دی ہے یہ لوگ جیل میں مقید اسیران کی تمام تر جدوجہد اور قربانیوں کو خاک میں ملانے پر تلے ہوئے ہیں سب سے پہلے آپ ایک بیان دیتی ہیں اور اس بیان میں کہتی ہیں کہ مجھے جیل کے اسیران خصوصاً خواتین کے حق میں آواز اٹھانے سے روکا جا رہا ہے پھر جب یہ بات کوٹ لکھپت جیل میں ڈاکٹر یاسمین راشد عالیہ حمزہ صنم جاوید اور فلک جاوید تک پہنچتی ہے تو وہ واضح طور پر کہتی ہیں کہ آپ کو کوئی کیوں روک رہا ہے آپ کھل کر ہمارے لیے آواز اٹھائیں جب یہ بات آپ تک پہنچتی ہے تو آپ اسی معاملے کو مسخ کرکے لوگوں کو گمراہ کرتی ہیں اور یہ تاثر دیتی ہیں کہ آپ کو جیل سے کوئی خط موصول ہوا ہے اگر واقعی ایسا کوئی خط یا تحریری پیغام آپ کو موصول ہوا ہے تو اسے منظر عام پر لے آئیں تاکہ حقیقت سب کے سامنے آشکار ہو سکے صنم جاوید خان صاحبہ کے اہل خانہ نے آپ کی تمام تر باتوں اور ان صحافیوں کے دعووں کو مسترد کر دیا ہے جو چند ٹکوں کے عوض جیل میں مقید اسیران کی قربانیوں کو مٹی میں ملانے پر تلے ہوئے ہیں کبھی بھی جیل کے اسیران کی جانب سے کسی سیاسی کمیٹی کی بات نہیں ہوئی اور نہ ہی کبھی یہ کہا گیا کہ آپ کو کسی کمیٹی میں شامل کیا جائے یہ صنم جاوید خان صاحبہ کے والد کا بیان ہے اگر آپ کہیں تو باقی اسیران کے اہل خانہ کے بیانات بھی میں آپ کو بھیج دیتا ہوں تاکہ حقیقت پوری طرح واضح ہو جائے

Agha Sheikh Sarwar

41,790 görüntüleme • 1 ay önce

میں جس علاقے سے تعلق رکھتا ہوں، اس علاقے میں جو سب سے زیادہ فصل ہوتی ہے وہ تمباکو ہے۔ 70 فیصد میرے علاوہ تمباکو کے کاشتکار ہیں۔ یہ کیش کراپ ہے جس کی وجہ سے ہماری اکانومی چلتی ہے۔ یہاں میرے بارے میں ایک موصوف صاحب نے کہا کہ شاید میرا تمباکو کا کاروبار یا روزگار ہے۔ میں حلفیہ کہتا ہوں کہ نہ میرا تمباکو کا کوئی کاروبار ہے نہ روزگار ہے اور میں تمباکو کے پتے کو بھی نہیں جانتا۔ لیکن میں اس حلقے کا نمائندہ ہوں جہاں تمباکو کی فصل ہوتی ہے۔ آپ نے تمباکو پر 390 ارب روپے کا ٹیکس لگایا لیکن انٹرسٹنگ بات یہ ہے کہ جب آپ نے ٹیکس لگایا، اس سے پہلے 2023-24 میں ایف بی آر کے اعداد و شمار کے مطابق آپ کی ٹیکس کلیکشن 394 ارب روپے تھی، لیکن جب یہ ٹیکس لگایا تو آپ کی ٹیکس کلیکشن گر کر 165 ارب روپے ہو گئی۔ خیبر پختونخوا کے ان اضلاع میں جہاں تمباکو کی فصل ہوتی ہے، وہاں کے کسانوں کو بالکل کرش کر دیا گیا ہے، کسان بیچارے رو رہے ہیں۔ آپ نے مارکیٹ میں کمپٹیشن ختم کر دی، آپ نے چھوٹے اور بڑے کمپنیوں پر یکساں ٹیکس لگا دیا۔ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ آپ تیسرا ٹیکس سلیب لے کر آئیں تاکہ کمپٹیشن میں اضافہ ہو اور کسانوں کو اپنی فصل کا اچھا نرخ مل سکے۔

Asad Qaiser

45,184 görüntüleme • 3 ay önce