Video yükleniyor...

Video Yüklenemedi

Ana Sayfaya Dön

مصطفیٰ کمال کے ذریعے لانچ کیا گیا پروجیکٹ پی ایس پی کیسے ناکام ہوا، دبئی سے وطن واپسی سے لے کر پی ایس پی کے ایم کیو ایم میں ضم ہونے تک ہونے تک کیا کیا ہوا؟ دیکھیے اس ویڈیو میں اور ہاں کس طرح وہ وزیرصحت کے عہدے...

59,893 görüntüleme • 3 gün önce •via X (Twitter)

0 Yorum

Yorum bulunmuyor

Orijinal gönderinin yorumları burada görünecek

Benzer Videolar

▪️کیا پی ٹی ایم خیبرپختونخوا کے نوجوانوں کی ہمدرد ہے یا دشمن؟ ▪️کچھ اہم سوالات نقیب اللہ محسود کے کراچی میں ہونے والے قتل کے بعد 2018 میں پی ٹی ایم منظر عام پر آئی جس کا ابتدائ مقصد نقیب اللہ محسود کو انصاف دلانا تھا۔ نقیب اللہ محسود والا مقصد تو کہیں غائب ہُو گیا مگر پی ٹی ایم اُس وقت کی افغان حکومت کی مدد سے اور بہت سے ایجنڈوں کے ساتھ آہستہ آہستہ پھلنے پھولنے لگی اور آج کی تاریخ میں 2024 میں خیبر پختونخوا کے جنوبی اضلاع میں نوجوانوں کو جھوٹے خوابوں کے نام پے ریاست کے خِلاف بھڑکا رہی ہے - حقیقت یہ ہے کہ 2018 سے لے کے اب تک پی ٹی ایم خیبرپختونخوا کے نوجوانوں سے صرف وعدے کرنے میں مصروف ہے اور ان کو اپنی تشدد سے بھرپور گھٹیا سیاست کا ایندھن بنا رہی ہے۔ آئیے دیکھتے ہیں کہ آج تک پی ٹی ایم کے لیڈرز کا لائِحَۂ عَمَل خیبرپختونخوا کے نوجوانوں کے لیے کتنا مفید ثابت ہوا۔۔۔!! کیا پی ٹی ایم کے لیڈرز کا لائِحَۂ عَمَل خیبرپختونخوا کے نوجوانوں کے مستقبل کے لئے نعروں کہ علاوہ کچھ کرنے کے قابل ہے ؟ منظور پشتین پاکستان کے سیاسی نظام کو نہیں مانتے، پاکستان کے آئین کو نہیں مانتے تو پھر آخر نوجوانوں کے مستقبل کے لئے کیسے کچھ کریں گے ؟؟ منظور پشتین صاحب کہتے ہیں کہ نا میں نے وزیر اعلیٰ بننا ہے نا وزیر اعظم - بقول اُن کے وہ اس نظام کے باغی ہیں - لیکن جب ان سے پوچھو کہ پھر ان نوجوانوں کےمستقبل کا کیا کرنا ہے جو اچھے کی امید لگا کے ان کے ساتھ ہیں تو جواب میں نعرہ لگاتے ہیں لر و بر یو افغان - لیکن اس نعرے سے نوجوانوں کو کیسے نوکریاں ملیں گی ؟ آج بالفرض منظور پشتین کو وزیر اعلیٰ بنا دیا جائے تو پھر یہ نظام اور آئین کو تسلیم نا کرتے ہوئے کیسے نوجوانوں کو کچھ دے سکیں گے ؟ کیا لر و بر یو افغان کا ایجنڈا نوجوانوں کی ترقی کا ضامن ہے ؟ حقیقت یہ ہے کہ فِتنہ الخوارج کی کارروائیوں اور دھماکوں میں ہمیشہ خیبرپختونخوا کے پختونوں کا خون بہا - کیا پی ٹی ایم کے لیڈرز نے خیبرپختونخوا کے معصوم عوام کے قاتل فِتنہ الخوارج کی کسی بھی لیول پے مذمت کی ہے ؟ آخر کیوں پی ٹی ایم اپنے بے جا مطالبات سے فِتنہ الخوارج کی کارروائیوں کو فائدہ پَہُنچانا چاہتی ہے اور آخر ان کے مابین اتحاد کی وجہ کیا ہے ؟ کیا پی ٹی ایم کے لیڈرز نے آج تک اسمبلی میں یا کسی اہم فورم پے خیبرپختونخوا کے نوجوانوں کی ترقی کے لیے کوئی آواز اٹھائی؟ کیا پی ٹی ایم کے لیڈرز کے چیک پوسٹوں کے خاتمے کے مطالبے سے خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کا خاتمہ ھو گیا ؟ پی ٹی ایم کے لیڈرز نے اربوں روپے کے ترقیاتی فنڈز حاصل کرکے نوجوانوں اور عوام کی فلاح کے کیا اقتدامات کیے؟ کیا پی ٹی ایم کے لیڈرز نے قبائلی علاقوں میں پاک فوج کی جانب سے بنائے گئے صحت اور تعلیم کے شعبہ جات میں ڈاکٹروں اور ٹیچرز کی حاضری کو یقینی بنا کر عوام کو ریلیف مہیاء کیا گیا؟ تقریباً 5 سال اسمبلی میں رہ کر محسن داوڑ نے نوجوانوں کے لیے کونسا پراجیکٹ شروع کیا؟ *جی نہیں۔۔!!* *بدنصیبی کی بات ہے کہ ان سب سوالوں کا جواب نفی میں ہے-* حقیقت یہ ہے کہ صرف ریاست پاکستان اور اس کے ادارے ہی خیبرپختونخوا کے نوجوانوں اور عوام کے خیر خواہ اور ان کی ترقی اور خوشحالی کے لیے فکر مند ہیں- یہ بات سب کو ذہن نشین کرلینی چاہیے کے آج تک خیبرپختونخوا میں نوجوان نسل کی ترقی، خوشحالی اور فلاح و بہبود کے لیے جتنے منصوبوں کا آغاز کیا گیا وہ حکومت پاکستان اور پاک فوج کے تعاون سے پائے تکمیل تک پہنچے اور کچھ پے کام ابھی بھی جاری ہے۔ انشاءاللہ وہ بھی جلد از جلد مکمل کرلیے جائیں گے۔ *ان منصوبوں میں معیاری تعلیمی اداروں کا قیام عمل میں لایا گیا، روزگار کے مواقع فراہم کیے گئے، صحت کے اعلیٰ مراکز قائم کیے گئے، انفراسٹرکچر کی بہتری اور نوجوانوں کے لئے مختلف سکلز پروگرامز کا انعام کیا گیا۔*۔ پچھلے 20 برس میں قبائلی علاقوں میں حکومت پاکستان اور پاک فوج کے تعاون سے تقریباً 383 ارب روپے سے زیادہ کے منصوبے پایہ تکمیل تک پہنچے- پی ٹی ایم چند لوگوں کا گروہ ہے جو کہ آپس میں بھی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے۔ جس کی مثال محسن داوڑ اور منظور پشتین کی مفادات کے لیے آپس میں لڑائی کی شکل میں ہمارے سامنے موجود ہے۔ *محسن داوڑ نے اپنا سیاسی عہدہ حاصل کے بعد پی ٹی ایم سے آگے نکلنے کے لیے این ڈی ایم پارٹی کا قیام عمل میں لایا۔ اور یہی لوگ اب ایک دوسرے کو سیاسی مقاصد کے لیے قتل کروا رہے ہیں جس کی حالیہ مثال گیلامن وزیر کی صورت میں ہمارے سامنے ہیں۔* مصدقہ ذرائع کے مطابق محسن داوڑ سیاسی مقاصد کی حصول کے بعد سوئٹزرلینڈ کی سیر کرتا پھرتا ہے جبکہ داوڑ، وزیر اور پشتین، تینوں اپنے اپنے لیول پے راولپنڈی میں ملاقات کے لئے سفارش کرواتے پھرتے ہیں -

Eagle Eye

12,000 görüntüleme • 2 yıl önce