Video yükleniyor...

Video Yüklenemedi

Ana Sayfaya Dön

معاشروں کا زوال یکایک نہیں آتا؛ اقدار کی پامالی جب معمول بن جائے تو اخلاقی انحطاط خاموشی سے اپنی جڑیں مضبوط کر لیتا ہے۔ اداروں کے ساتھ ہم میں سے ہر فرد کی ذمہ داری ہے کہ بے راہ روی کو تماشہ بنانے کے بجائے اصلاحِ معاشرہ کی سنجیدہ...

247,441 görüntüleme • 8 gün önce •via X (Twitter)

12 Yorum

Manzar.M profil fotoğrafı
Manzar.M8 gün önce

Ameen

Sleepy Princess profil fotoğrafı
Sleepy Princess8 gün önce

What is this

Ayesha Ufaq profil fotoğrafı
Ayesha Ufaq8 gün önce

Authorities are sleeping

Sara Zain profil fotoğrafı
Sara Zain8 gün önce

مرد چاہے ریپ کرتے پھیریں لیکن عورت اگر زرا سا رقص کر لے بغیر کسی کو تکلیف پہنچائے تو اسلام کے ٹھیکیدار آجاتے ہیں اپنا رنڈی رونا لے کر

Eshaal_731 profil fotoğrafı
Eshaal_7318 gün önce

Ameen

Amin profil fotoğrafı
Amin8 gün önce

یہ قوم بےحس ہوگئ ہے

Soel Ebrahim profil fotoğrafı
Soel Ebrahim8 gün önce

Same thing happened in India. Society broke by media and constant push by NGO’s to commercialise the life and moral values in the name of liberty and so called freedom.

dominea profil fotoğrafı
dominea8 gün önce

the best solution is to ignore these scenes , if you don't like , because it is not that serious , she/other did not harm anyone

BLACK profil fotoğrafı
BLACK7 gün önce

معلوم نہیں ہم ابھی مزید کونسے زوال کے منتظر ہیں. جس دور میں ہم جی رہے یہ زوال ہی کا دور ہے، یہ مزید بدترین ہو سکتا ہے ہمارے کرتوتوں سے. ہمیں اس غلط فہمی سے نکل آنا چاہیے کہ ہم زوال پذیر نہیں ہیں. ہم ایک بڑے عذاب میں مبتلا ہیں جسے ہم عذاب سمجھ ہی نہیں رہے

adeel khan profil fotoğrafı
adeel khan8 gün önce

Ya superman ki bati ha

🇵🇰🇹🇷🇬🇧 profil fotoğrafı
🇵🇰🇹🇷🇬🇧8 gün önce

F*ck off to Talobanistan

Kashif Abbas Nonari profil fotoğrafı
Kashif Abbas Nonari7 gün önce

متفق

Benzer Videolar

ہم پولیٹیکل لوگ ہیں، ڈائیلاگ پر یقین رکھتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ تمام اسٹیک ہولڈرز، چاہے وہ ادارے ہوں یا سیاسی لوگ، سب کو بیٹھ کر بات کرنی چاہیے۔ مجھے کوئی شرم نہیں کہ میں اپنے اداروں کے ساتھ بیٹھوں اور انہیں یہ سمجھانے کی کوشش کروں کہ اداروں اور عوام کے درمیان فاصلے بڑھ رہے ہیں۔ مضبوط ادارے مضبوط پاکستان کی علامت ہیں، لیکن مضبوط اداروں کے پیچھے عوام کا اعتماد بھی ہونا چاہیے۔ ہم اپنے اداروں کو اون کرتے ہیں، یہ میرے ملک کے ادارے ہیں، اس لیے چاہتے ہیں کہ ادارے مضبوط ہوں اور عوام کے ساتھ ان کا تعلق بھی مضبوط ہو۔ عمران خان صاحب کے ساتھ جو کچھ ہو رہا ہے، اس کی وجہ سے عوام میں اداروں کے حوالے سے ناراضی پیدا ہو رہی ہے، اور ہمیں اس فاصلے کو کم کرنے کے لیے بات کرنی چاہیے۔ 80 فیصد عوام عمران خان صاحب کے ساتھ جڑے ہیں اور عمران خان صاحب کے ساتھ جو کچھ ہو رہا ہے، اس کی وجہ سے لوگ اداروں سے ناراض ہیں۔ ہم اپنے اداروں کو اون کرتے ہیں، یہ میرے ملک کے ادارے ہیں، تو مجھے تو خوشی ہے کہ یہ ادارے مضبوط ہوں اور عوام کے ساتھ ان کا تعلق مضبوط ہو۔ اس سے پہلے بھی ہم ملے ہیں۔ جب بھی میاں صاحب نے ہاتھ بڑھانے کی کوشش کی، ہم نے بالکل ویلکم کیا، لیکن دوسرے دن ہمارے وارنٹ نکل جاتے تھے اور ہمیں مزید ایف آئی آرز میں ڈال دیا جاتا تھا۔ حکومت صرف باتوں سے نہیں، اپنے عمل سے ثابت کرے کہ اسے کیا کرنا ہے۔ ہمارے پاس ووٹ کا مینڈیٹ عمران خان کا ہے، تو یہ نہیں ہو سکتا کہ عمران خان صاحب کے مشورے کے بغیر ہم کوئی بات کریں۔ جب ووٹ اُن کا ہے، پہچان اُن کی وجہ سے ہے، مجھے ووٹ اُن کا ملا ہے اور مجھے اُن کی وجہ سے پیار ملتا ہے، تو میں کس طرح یہ بات کر سکتا ہوں؟ حکومت کو ہمارا اختیار دیکھنا ہے تو ہماری ملاقات عمران خان سے کروا دیں، انہیں پتہ چل جائے گا کہ ہمارے پاس بات کرنے کا اختیار ہے یا نہیں۔ بالکل، ہم پولیٹیکل لوگ ہیں۔ ہم خان سے بات کر سکتے ہیں، انہیں موجودہ زمینی حقائق سے آگاہ کر سکتے ہیں اور گائیڈ کر سکتے ہیں۔ پی ٹی آئی میں جو جمہوری کلچر ہے، یہ اُن لوگوں سے پوچھیں جو پی ٹی آئی چھوڑ چکے ہیں۔ یہ جو غلط تاثر دیا جاتا ہے کہ خان صاحب بات نہیں سنتے، خان صاحب سنتے ہیں۔ آپ مسلم لیگ میں کسی سے پوچھ لیں، کیا کسی میں ہمت ہے کہ میاں صاحب کے سامنے اُن سے اختلاف کرے؟ میٹنگ میں میری اور خان صاحب کی لڑائی بھی ہوتی تھی۔ ہم انہیں کہتے تھے کہ آپ غلط ہیں، اس طرح نہیں، اس طرح ہونا چاہیے۔ یہ والا کلچر آپ کو کسی اور پارٹی میں نہیں ملتا۔ میں محسن نقوی صاحب کو وزیراعظمِ پاکستان سے بھی زیادہ مضبوط سمجھتا ہوں اور سمجھتا ہوں کہ اس حکومت میں اگر کسی بندے سے بات ہو سکتی ہے اور جو اپنی بات منوا سکتا ہے، تو وہ نقوی صاحب ہیں۔

Junaid Akbar

18,399 görüntüleme • 7 gün önce

میں آج اس بات پر بہت افسوس کرتا ہوں کہ کل عمران خان کی بہن علیمہ خان کے گھر کی چادر و چار دیواری کے تقدس کی پامالی کی گئی۔علیمہ خان کے بیٹے، جس کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں، کو اغوا کیا گیا۔علیمہ خان کے بیٹے کی پی ٹی آئی کے کسی بھی ایونٹ میں کوئی تصویر تک نہیں ہے۔جس طرح اسے اغوا کیا گیا، اس سے پتہ چلتا ہے کہ اس ملک میں ریاست ماں کے جیسی نہیں ہے۔ظلم و جبر کا نظام ہے، اس ملک میں قانون کا کوئی احترام نہیں ہے۔عدالتوں میں وہ سکت نہیں رہی کہ شہریوں کو محفوظ رکھ سکیں۔آج علیمہ خان کے دوسرے بیٹے شیرشاہ کو اغوا کیا گیا۔میں مریم نواز سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ جس طرح پنجاب پولیس کر رہی ہے یہ آپ کی ذمہ داری ہے۔اتنا ظلم کریں، جتنا کل کو برداشت کر سکیں۔ہم نے تو ہمیشہ اصول کی سیاست کی ہے، ہم ہمیشہ قانون کے احترام کی بات کرتے ہیں۔اب تمام راستے اور حدود کراس کر دی گئی ہیں۔چیف جسٹس آف پاکستان سے مطالبہ کرتے ہیں کہ عدلیہ ہمیں میرٹ کے مطابق انصاف دے۔جو 8 دنوں کا ریمانڈ دیا گیا ہے، کس بنیاد پر دیا گیا ہے۔واضح ہو گیا ہے کہ یہ سب کچھ حکومت کی ایما پر ہو رہا ہے۔حکومت نے عدالت پر اثر انداز ہو کر سب کچھ کیا ہے۔پنجاب کی فاشسٹ حکومت کے خلاف ہر فورم پر آواز اٹھائیں گے۔اسمبلی میں بھی آواز اٹھائیں گے، آپ کے حربوں سے ڈرنے والے نہیں ہیں۔ہم اپنی تحریک کو آگے بڑھائیں گے اور ظلم کی تاریک رات جلد ختم ہوگی۔

Asad Qaiser

36,456 görüntüleme • 1 yıl önce

شہید حسن نصراللہ شہید راہ قدس ہیں۔وہ مظلومین فلسطین کی حمایت کے شہید ہیں۔اس شہادت کے بعد اسرائیل کو نجات مل جائے گی؟ ہر گز ایسا نہیں ہو گا۔ شہید زندہ ہے یہ قران کا فیصلہ ہے۔ شہید نصر اللہ انبیاء اولیاء کے ساتھ ہیں۔حزب اللہ ایک مضبوط نظام کا نام ہے جو کربلا سے تعلق رکھتا ہے۔دشمن کی یہ بھول ہے کہ وہ حزب اللہ کو جھکا لے گا۔حزب اللہ کا آغاز پانچ افراد نے کیا تھا۔آج یہ اسرائیل کے خلاف مزاحمت کی بھرپور تحریک ہے۔یہ اللہ کا لشکر ہے۔اسرائیل و امریکہ قاتل ہیں۔قاتل کبھی کسی کے دوست نہیں ہوتے۔ شیعہ سنی مل کر پاک سرزمین کو امریکہ کے نجس وجود سے پاک کریں گے۔اگر چاروں طرف بارود جمع کر کے ہمیں درمیان میں بھی کھڑا کر دیا جائے تو ہم ظالموں کے سامنے کبھی نہیں سرنگوں نہیں ہوں گے۔ (اسلام آباد شہید راہ قدس سید حسن نصراللہ کی شہادت پر اسرائیل اور امریکہ کے خلاف شہید قدس ریلی سے خطاب) #لبنان_الصمود #لبنان #حسن_نصرالله

Senator Allama Raja Nasir

34,023 görüntüleme • 2 yıl önce

جمعیت علماء اسلام واضح طور پر عوام کے ساتھ ہے،عوام امن کے تلاش میں ہے، ہم امن کے جدوجھد کر رہے ہیں، ہماری جدوجھد کو فساد سے تعبیر نہ کیا جائے، اگر ہمارے امن کے قافلہ ایسا کوئی عنصر ہے تو ہمیں سوچنا پڑے گا کہ اسکو کون فیڈ کر رہا ہے، ہم حالات کے ہر رخ کو جانتے ہیں، عوام کو ہمدردی کے الفاظ کی بنیاد پر مطمئن نہیں کیا جاسکتا۔ ہم اپنی فوج کو بھی مضبوط دیکھنا چاہتی ہیں، لیکن صحیح راستے پر مضبوط دیکھنا چاہتے ہیں، جبر کا راستہ درست نہیں جس میں اپنی عوام پر گولیاں برسائی جائیں، آپریشن کے نام پر ماؤں کے دوپٹے کے تقدس کو پامال کیا جائے،الیکشن میں اپنی مرضی کے نتائج مرتب کریں، اپنی پسندیدہ پارلیمان بنائیں اور جبری حکومت کریں، اپنی مرضی کی سیاسی جماعتیں بنائیں، یہ ان کا حق نہیں، ایسی صورتحال میں ہم عوام کے ساتھ مل کر جدوجھد کریں گے اور آئینی طریقے سے غیر آئینی طریقوں کا راستہ روکیں گے۔ قائد جمعیت مولانا فضل الرحمان مدظلہ

Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan

15,261 görüntüleme • 2 yıl önce

افغانستان پر حملوں کابیان یہ کوئی نئی بات نہیں ہے،نائن الیون کے فوراً بعد پاکستان کے اندر امریکیوں کو ہوائی اڈے دئے گئے،فضائیں امریکیوں کے حوالے کردی، 20 سال تک پاکستان کے ہوائی اڈوں سے امریکی جہازوں کو اڑنے کی اجازت دے دی گئی،20 سال تک افغانستان پر پاکستان کی سرزمین سے بمباریاں ہوتی رہیں، یہ سب نظر کیوں نہیں آرہا اور ایک بار پھر دہشت گردی کے عنوان سے ایک بھڑک مارنے کی کوشش کی جارہی ہے کہ ہم افغانستان میں جا کر کاروائی کریں گے، پاکستان کی دہشت گردی کو روکنے اور اس کی خواب میں ناکامی کو چھپانے کے لئے افغانستان پہ حملوں کی بات کی جارہی ہے۔ ہمیں اس بات کا جواب دیا جائے کہ خیبرپختونخوا میں حکومتی فنڈز سے جاری ہونے والے پروجیکٹس کے فنڈز کا 10 فی صد دہشت گردوں کو ادا نہیں کیا جاتا؟ ریاست سے شہری کو سوال کرنے کا حق ہے کہ یہ تم دہشت گردوں کے معاون ہو یا دہشت گردوں کے مقابلے میں بے بس ہو، ہم ریاست کے لیے فکر مند ہیں ہمیں ان طفل تسلیوں سے تسلیاں دینے کی کوشش نہ کی جائے سنجیدہ گفتگو کی جائے ہم معاملات کو آپ سے بہتر جانتے ہیں۔

Maulana Fazl-ur-Rehman

127,509 görüntüleme • 2 yıl önce

8 فروری کو سب نے گھروں سے نکلنا ہے، پاکستان کی نظریاتی و جغرافیائی سرحدوں کی حفاظت بلا تخصیص مسلک و مذہب ہر پاکستانی پر واجب ہے۔ ہم نے مادر وطن کی حفاظت کے لیے تحریک انصاف اور مجلس وحدت مسلمین کے امیدواروں کو کامیاب بنانا ہے۔یہ الیکشن حقیقی آزادی کے لیے ہے۔پی ڈی ایم میں شامل جماعتوں نے ایک مستحکم حکومت کو گرانے میں مذموم کردار ادا کیے۔عالمی اسٹیبلشمنٹ کے یہ مہرے پچھتر سال سے ہم پر مسلط ہیں۔یہ امریکی غلام ہیں۔عمران خان داخلہ خودمختاری اور آزاد خارجہ پالیسی کی بات کرتا تھا اسے جان بوجھ کر ہٹایا گیا تاکہ خطے میں بھارت کو مضبوط کیا جا سکے۔ہم سب نے پاکستان کی خاطر پر امن انداز میں ووٹ کاسٹ کرنا ہے۔ بدامنی سے خود کو دور رکھنا ہے۔ اگر کوئی مشتعل کرنے کی کوشش کرتا ہے تو ایسی سازش اور بہکاوے سے خود کو دور رکھنا ہے۔8 فروری ملک میں اندھیرے پھیلانے والوں کی شکست کا دن ہو گا۔کسی کے حق پر ڈاکہ ڈالنے کی کوئی کوشش کی گئی تو یہ پاکستان کے وجود پر کاری ضرب ہو گی۔ ارض پاک کی بقا، سالمیت اور داخلی خودمختاری پر کسی قسم کا کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔جب ہم متحد ہو کر نکلیں گے تو پاکستان کے دشمنوں کی شکست یقینی ہو گی۔

Senator Allama Raja Nasir

147,863 görüntüleme • 2 yıl önce

امیر جےیوآئی مولانا فضل الرحمٰن کی اسلام آباد میں پریس کانفرنس حکومت اور حکومت میں شامل جماعتیں خاموش ہیں، اس کا ایک فرد بول رہا ہے، وہ ہوتا کون ہے؟ ملک کے اندر اس کی حیثیت کیا ہے، اس کی پہچان کیا ہے؟ وہ جس کے گھر کا نوکر ہے، اس کی نوکری کرے، ان کے برتن دھوئے، کپڑے دھوئے، ان کی یہی ڈیوٹی ہے۔ ملک کے مسائل سے اس کا کوئی سروکار نہیں۔ اتنے بے بس ہم بھی نہیں ہیں کہ آپ ملک کے ساتھ کھیلتے رہیں اور ہم تماشا دیکھتے رہیں۔ اگر حالات نہیں ہیں، نئے مسائل اور ایشوز کا پاکستان متحمل نہیں ہے، تو پھر ہم بھی پاکستانی ہیں۔ ہم آپ کو پاکستان کا مالک تصور نہیں کرتے۔ حد سے آگے بڑھیں گے تو پھر اور لوگ بھی حد سے آگے بڑھیں گے۔ شکر کرو کہ ابھی ملک آپ کے ساتھ ہے، عوام پاکستان کے ساتھ ہیں، مذہبی جماعتیں پاکستان کے ساتھ ہیں، سیاسی جماعتیں پاکستان کے ساتھ ہیں۔ ہم نے ایران اور امریکہ کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کیا، ہم نے اس سے اختلاف نہیں کیا، لیکن قوم کو نتائج تو بتائے جائیں ناں کہ اس کردار کا کیا نتیجہ نکلا؟ آج سعودی عرب پر گولے برسائے جا رہے ہیں، حرمین شریفین کی طرف راکٹوں کے رخ کر دیئے گئے ہیں، اور کچھ پتہ نہیں کہ یہ جو ثالثی کا کردار تھا، خطے میں قیامِ امن کے لیے ایک کوشش تھی، اصولی طور پر ہم نے اس سے اختلاف نہیں کیا۔ لیکن قوم کو بتایا تو جائے، اور میں نے کئی بار اس بات کا ذکر کیا ہے کہ پارلیمنٹ کا اِن کیمرہ اجلاس بلا کر قوم کے نمائندوں کو بتایا جائے کہ ملک کہاں کھڑا ہے۔ کوئی جواب نہیں دیا جا رہا۔مولانا فضل الرحمن

Fahim Akhtar Malik

11,304 görüntüleme • 8 gün önce