Загрузка видео...

Не удалось загрузить видео

На главную

مقامی حکومتیں اور نئے صوبے: ایم کیو ایم راہنما حیدر عباس رضوی کی دو ٹوک گفتگو: 👇👇👇 سندھ کو 15 سالوں میں 35 کھرب وفاقی سے منتقل ہوا کم از کم لاڑکانہ ہی بدل گیا ہوتا۔۔ جس انداز سے سندھ میں بلدیاتی نظام موجود ہے وہ بلدیاتی نظام کے...

18,961 просмотров • 1 месяц назад •via X (Twitter)

Комментарии: 0

Нет доступных комментариев

Здесь появятся комментарии из оригинального поста

Похожие видео

آئین پاکستان کاحکم ہے کہ صوبائی حکومتیں مکمل سیاسی انتظامی اور مالی اختیارات مقامی حکومتوں کو منتقل کردیں لیکن خدشات کے عین مطابق سندھ پر 18 سال سے حکمران پی پی پی کی لیڈرشپ پوری قوت سے ملک میں آرٹیکل 140-A کے تحت سیاسی، انتظامی اور مالی اختیارات نچلی سطح تک منتقل کرنے کی قومی تحریک کو کچلنے کی ہر ممکن کوشش کررہی ہے کل مقامی حکومتوں کے قانون میں سندھ اسمبلی سے ترمیم کروادی گئی اور منتخب بلدیاتی حکومتوں اور نمائندوں کے اختیارات کو صرف اور صرف کو اداروں سے رابطوں اور شکایت تک محدود کردیا ۰کر لو جو کرنا ہے کہ مصداق بلڈنگ کنٹرول، پولیس، سالڈ ویسٹ، ماس ٹرانزٹ اور بڑے شہری منصوبوں پر مکمل اختیارات پر سندھ حکومت کی گرفت کو مزید مضبوط کردیا گیا ۔ مزید یہ کہ مدت پوری ہونے کے بعد میئر یا چیئرمین کو نئے منتخب عہدیدار کے آنے تک ایڈمنسٹریٹر کے طور پر برقرار رکھنے کی شق بھی قانون میں شامل کردی گئی مکمل تحقیقاتی تجزیہ دیکھنے کے لیے OMR کے یوٹیوب لنک پر کلک کریں۔

Kamran Khan

22,819 просмотров • 21 дней назад

پاکستان کا سیاسی نقشہ بدلنے والا ہے! ملک کی سب سے بڑی پاور بیس پنجاب اسمبلی نے پہلی بار کھل کر اعلان کر دیا ہے کہ چار بڑے صوبوں کا ماڈل ناکام ہو چکا ہے، اور پاکستان کی بقا صرف مکمل ڈیولوشن آف پاور یا چھوٹے صوبوں/آٹونومس ایڈمنسٹریٹو یونٹس میں ہے۔آج کے On My Radar میں ہم بات کر رہے ہیں اس تاریخی پیش رفت کی، جس نے پاکستان میں گورننس کا سارا ڈھانچہ ہلا کر رکھ دیا ہے۔ پنجاب اسمبلی نے متفقہ طور پر قرار داد منظور کی ہے کہ اختیارات اور وسائل کا مکمل انتقال بلدیاتی حکومتوں کو آئینی تحفظ کے ساتھ دیا جائے۔ سپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خان نے آج On My Radar Vlog میں واضح کیا کہ ملک میں بڑھتی ہوئی رائے یہ ہے کہ ہر ڈویژن کو خود مختار ایڈمنسٹریٹو یونٹ بنایا جائے یا کم از کم بلدیاتی حکومتوں کو وہ مالی اور انتظامی طاقت دی جائے جس سے عوام کے مسائل گلی محلے کی سطح پر حل ہوں۔یہ سب مجوزہ 28ویں ترمیم سے جڑا ہوا ہے، جس سے پاکستان کی آئینی تاریخ میں پہلی بار حقیقی خود مختار حکومتوں کے زریعے ہی ممکن دکھائی دیتا ہے۔مزید جاننے کے لیے یوٹیوب لنک پر کلک کریں۔

Kamran Khan

85,993 просмотров • 10 месяцев назад

آج ان چار صوبوں کو توڑ کر ٹکڑوں میں تقسیم کیا جا رہا ہے،جب فوج کی حکومت تھی انہی چار صوبوں کو ایک صوبہ مغربی پاکستان بنا کر ون یونٹ لگا دیا تھا،وہ بھی ہماری فوج کی سوچ تھی اور آج صوبوں کو توڑ کر تقسیم کرنا بھی اسی فوج کی سوچ ہے،خواہ مخواہ ایک "کاکے" کو آگے کردیا ہے۔ جب چاہیں پورے مغربی پاکستان کو ایک صوبہ بنا دیں اور جب چاہیں چار صوبوں کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیں، جہاں ہر فیصلے کے پیچھے اسٹیبلشمنٹ کے اپنے عزائم ہوں وہاں کوئی قومی مفاد نہیں ہوتا۔ ہم نے اس ملک میں رہنا ہے تو خیرخواہی کی بنیاد پر اپنے ضمیر کی بات کرتے ہیں،ہم اپنی بھلائی اسی میں دیکھتے ہیں اور آپ کی بھی خیرخواہی اسی میں دیکھتے ہیں،مگر ان کا مزاج بن گیا ہے کہ ان کو خوشامدگروں کی زبان اچھی لگتی ہے۔ لیکن ہم ملک کو اسٹیبلشمنٹ کی ملکیت نہیں مانتے،یہ ملک ہمارا ہے،ہم اس کے شہری ہیں،اور ریاست عوام کے بغیر کچھ نہیں ہے۔ ہم اصولاً کسی یونٹ بنانے کے خلاف نہیں،دوسرے ملکوں میں بھی یونٹس بنتے ہیں لیکن وقت اور ماحول کو بھی دیکھنا چاہئے۔ ہم نے فاٹا کو صوبے میں انضمام کے وقت بھی کہا تھا یہ فاٹا کے عوام کے سیاسی مستقبل کا مسئلہ ہے، لہٰذا فاٹا کے عوام سے پوچھ لیا جائے لیکن آپ نے ان پر انضمام تھوپ دیا، آج اس کا کیا حشر ہے؟ اس وقت باجوہ صاحب تھے، جو مجھے کہتے تھے کہ آپ کیوں اس کی مخالفت کرتے ہیں؟ یہ تو ہمارے لیے ضروری ہے اور جب میں نے ان کو جوابات دئے تو چند روز کے بعد مجھے ایک امریکی افسر گھر آ کر ملا، اور اس نے کہا کہ آپ کیوں فاٹا انضمام کی مخالفت کرتے ہیں؟ یہ تو ضروری اور لازمی ہے۔ آج ہمارا جنرل خود مجھے کہتا ہے کہ فاٹا انضمام کا فیصلہ غلط تھا۔ جب چاہو لوگوں کے سیاسی مستقبل کو داؤ پر لگا دو اور پھر جب چاہو طریقہ بدل دو، آپ کا فیصلہ جو آج ناگزیر ہے،کل آپ کا وہ فیصلہ غلط ثابت ہوتا ہے،کسی ایک فیصلے کی مثال بھی نہیں ملتی جس کے نتائج قوم کی حفاظت میں سامنے آئے ہوں۔ یہ وہ ساری چیزیں ہیں جس پر ڈیبیٹ ہونی چاہئے یک طرفہ فیصلہ مسلط نہ کریں،یہ عوام کا ملک ہے، یہاں عوام نے رہنا ہے،عوام کا مستقبل اس سے وابستہ ہے۔ صوبوں کی تقسیم کے پیچھے کیا مفادات ہیں؟ نمبر ایک، صوبوں کے اندر جو معدنی ذخائر ہیں، آئین کی اٹھارویں ترمیم کے تحت صوبے اس کے مالک ہیں، صوبوں کے بچے اس کے مالک ہیں، اور یہ چیز انہیں مرکز میں ہضم نہیں ہو رہی ہے۔ دوسری چیز کہ این ایف سی ایوارڈ، قومی محصولات کا جو حصہ صوبوں کو ملتا ہے، وہ اب ستاون فیصد تک پہنچ گیا ہے، اور آئین کہتا ہے کہ اضافہ ہو سکتا ہے، کم ہی نہیں ہو سکتا،یہ بھی ان کو ہضم نہیں ہو رہا۔ اب صوبے تقسیم کرو تاکہ یہ لوگ ازسرِنو معدنیات اور این ایف سی ایوارڈ کے فیصلے پھر سے کریں۔ ہم صوبوں کو طاقتور دیکھنا چاہتے ہیں اور یہ لوگ سب کو کمزور کرنا چاہتے ہیں اس حوالے سے سیاسی جماعتوں کو بھی اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ پیپلز پارٹی بات تو کرتی ہے، لیکن وہ صرف سندھ کی حد تک کرتی ہے۔اصولی طور پر بات کریں۔ مسلم لیگ خاموشی اختیار کیے ہوئے ہے، مرکز میں حکومت مسلم لیگ نون کی ہے، اور اتنے بڑے قومی سطح کے معاملات کاکے کے حوالے ہیں جس کی حیثیت ایک ذاتی ملازم سے ذیادہ اہم نہیں ہے،وہ کابینہ کا ممبر ہے۔ اسلام آباد ٹیریٹری کے لیے دو کمیٹیاں بنی ہوئی ہیں۔ ایک کمیٹی میں بھی کاکا جی، دوسرے میں بھی کاکا جی، ایک کی رپورٹ کچھ، دوسری کی رپورٹ کچھ اس میں تضادات ہیں تو پاکستان ہم ان کے حوالے نہیں کرسکتے، یہ قوم کی چیز ہے، قوم کی امانت ہے اسکا فیصلہ بھی عوام نے کرنا ہے۔

Maulana Fazl-ur-Rehman

33,970 просмотров • 29 дней назад

سابق وزیر اعظم عمران خان کو قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے ان کے وکلاء جب عدالتوں میں پیش ہوتے ہیں ان کو وکالت ناموں پر عمران خان کے دستخط چاہیے ہوتے ہیں لیکن عدالت کے حکم کے باوجود وکلاء کو عمران خان سے ملنے نہیں دیا جاتا ہے اور عمران خان کے دستخط نہیں لینے دیئے جاتے، اسی لیے 7 اپریل کو منگل کے دن علیمہ خان نے پاکستان تحریکِ انصاف کے تمام ایم این ایز، ایم پی ایز اور عہدیداران کو کال دی ہوئی ہے کہ آپ سب نے اظہارِ یک جہتی کے لیے اڈیالہ کے باہر آنا ہے اور تقریباً دس ہزار کی تعداد ہونی چاہیے، اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا علیمہ خان کی اس کال کو پاکستان تحریکِ انصاف کے ایم این ایز، ایم پی ایز اور عہدیداران سیریس لے رہے ہیں یا نہیں، میری تمام لوگوں سے اپیل بھی ہوگی کہ آپ نے 7 اپریل کو اڈیالہ جیل کے باہر پہنچنا ہے اور پر امن رہتے ہوئے بھرپور طاقت کا مظاہرہ کرنا ہے، جو بھی الیکشن میں جیتے ہیں وہ پاکستان تحریکِ انصاف کے ٹکٹ پر عمران خان کے نام سے جیتے ہیں اور خاص طور پر جو 8 فروری کا الیکشن ہوا ہے اس میں تو لوگوں نے لائنوں میں لگ کر کھمبے، گاجر، مولی جیسے انتخابی نشانات کو ووٹ دیا ہے، لوگوں کا الیکشن کمپین میں ایک روپیہ بھی نہیں لگا اور عمران خان کے نام پر ووٹ لیے ہیں تو ان سب کو عمران خان کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیئے، اسی طرح نو اپریل کو ہماری حکومت کو گرائے ہوئے چار سال ہو جائیں گے اور نو اپریل کے دن تحریکِ انصاف نے لیاقت باغ راولپنڈی میں جلسے کا اعلان کیا ہے، میری تحریکِ انصاف کے تمام لوگوں سے یہ گزارش ہوگی کہ آپ نے اس جلسے میں بھرپور شرکت کرنی ہے۔ #علیمہ_خان_کی_کال_اڈیالہ_احتجاج

Qasim Khan Suri

10,723 просмотров • 6 месяцев назад

جمعیۃ علماء اسلام کی مرکزی مجلس عمومی کا اجلاس کراچی میں طے تھا لیکن بلوچستان کے لوگ بدامنی اور غیر محفوظ راستوں کی وجہ سے کراچی نہیں پہنچ سکتے تھے،یہ پہلی مرتبہ ہوا ہے کہ بدامنی کی وجہ سے ہم نے اپنا اجلاس ملک کے ایک کونے سے دوسرے کونے میں منتقل کیا ہے،اس سے ملک کے داخلی امن و امان کی صورتحال کا اندازہ کیا جاسکتا ہے۔ ہم بار بار کہہ چکے ہیں کہ دو صوبوں میں عملا کوئی حکومتی نظام نہیں ہے،عوام پر دہشتگرد گروہ مسلط ہیں،سندھ بھی ڈاکو راج اور اسٹریٹ کرائم کی لپیٹ میں ہے، بلوچستان میں دن دہاڑے بینک لوٹے جارہے ہیں اور بیچ سڑک پر وہ پیسے تقسیم کئے جارہے ہیں،کوئی نظام نہیں ہے کہ اپنے ملک کے شہریوں اور بینکوں کو تحفظ فراہم کر سکے۔ ہمارے صوبے میں وزراء کی گاڑیوں پر فائرنگ کر کے ان کو روکا جاتا ہے،اٹھایا جاتا ہے۔ ہمارے ایک سینیٹر شکور خان جو سینیٹ میں پریولیج کمیٹی کے چئیرمین بھی ہیں کو ائیر پورٹ پر روک دیا گیا،چین میں ایک طے شدہ پروگرام کے لئے سفر کرنے سے روک دیا گیا۔ اس تمام صورتحال سے واضح ہوتا ہے کہ حکومت کہیں پر بھی موجود نہیں ہے،طاقتور ادارے حکومت کر رہے ہیں،جہاں جس کے ساتھ جو رویہ اختیار کریں،وہ کسی آئین،قانون اور اخلاق کے پابند نہیں ہیں۔

Maulana Fazl-ur-Rehman

25,290 просмотров • 16 дней назад

جب تین صوبوں میں نئے صوبے بن سکتے ہیں تو پھر سندھ میں کیوں نہ بنیں؟ اگر سندھ دھرتی ماں ہے،توکیا پنجاب، خیبرپختونخوا اور بلوچستان دھرتی ماں نہیں؟ ………………………………… پاکستان انتہائی نازک صورتحال کی طرف تیزی سے گامزن ہے، پاکستان میں یہ بحث ومباحثہ چل رہا ہے کہ ملک میں نئے صوبے بننے چاہئیں یا نہیں بننے چاہئیں، پیپلزپارٹی نئے صوبوں کی کھل کر مخالفت کررہی ہے، وہ کہتی ہے کہ پنجاب، KPK اور بلوچستان میں نئے صوبے بنادئیے جائیں لیکن سندھ میں نئے صوبے نہ بنیں، پیپلزپارٹی اور سندھی قوم پرست سندھ کی تقسیم نہیں چاہتے اور کہتے ہیں کہ سندھ دھرتی ماں ہے، تو کیا پنجابیوں کے لئے پنجاب دھرتی ماں نہیں ہے؟کیاپشتونوں کے لئے خیبرپختونخوادھرتی ماں نہیں ہے؟ کیابلوچوں کے لئے بلوچستان دھرتی ماں نہیں ہے؟ جب تین صوبوں میں نئے صوبے بن سکتے ہیں تو پھر صوبہ سندھ میں کیوں نہ بنیں؟نئے صوبوں سے سندھ کی تقسیم تو نہیں ہورہی ہے۔ ایک ملک میں چار صوبے بنے تو نہ ملک کوکوئی نقصان پہنچا اور نہ ہی چارصوبے بننے سے ملک ٹوٹا، نئے صوبوں کے قیام سے سندھ، پنجاب، خیبرپختونخوا اوربلوچستان کی صوبائی حیثیت برقراررہے گی۔ سندھ میں نئے صوبوں کے قیام کی مخالفت کرنا سندھی قوم پرست تنظیموں اوربطورسیاسی جماعت پیپلزپارٹی کاحق ہے لیکن یہ بات ناقابل فہم ہے کہ صوبوں کی تقسیم تین صوبوں میں جائز ہو لیکن ایک صوبے میں ناجائز ہو۔ دنیا کاکوئی ایک ملک بتائیں جس کی تاریخ اور جغرافیہ آج 2026ء میں وہی ہو جوآج سے 1000 سال یا 500 سال پہلے تھا۔ پیپلزپارٹی اورسندھی قوم پرستوں کو یہ بات معلوم ہے کہ ملک میں نئے صوبوں کے قیام کی بات وفاق اورملٹری اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے کی گئی ہے لیکن پیپلزپارٹی کی توپوں کارخ مہاجروں کی جانب ہے۔اس حقیقت سے کوئی انکارنہیں کرسکتا کہ پیپلزپارٹی،فوجی اسٹیبلشمنٹ کی پیداوارہے،اس نے ہمیشہ وفاق اورفوجی اسٹیبلشمنٹ کو ڈرانے کیلئے سندھ میں نام نہادقوم پرستوں کو پال رکھا ہے۔ آزاد سندھودیش کانعرہ لگانے والے تمام قوم پرست نہ صرف عام انتخابات میں پیپلزپارٹی کوہی ووٹ دیکر کامیاب بناتے چلے آرہے ہیں بلکہ پیپلزپارٹی کیلئے کام بھی کرتے ہیں۔پاکستان کے عوام اورفوج اس حقیقت کوجان چکے ہیں کہ پیپلزپارٹی نے ذوالفقارعلی بھٹو کے دور سے قوم پرستوں کاٹولہ فوج کو ڈرانے کیلئے رکھا ہوا ہے اسی لئے نام نہاد قوم پرست اورپیپلزپارٹی ایک ہی بات کہتے ہیں کہ اگر یہ نہ ہوا تو سندھو دیش بن جائے گا۔ آج بھی سندھ اسمبلی میں پیپلزپارٹی والوں کی جانب سے بلاواسطہ دھمکیاں دی گئی ہیں کہ اگر سندھ میں نئے صوبوں کی بات کی گئی تو کشت وخون ہوجائے گا اورسندھو دیش کی راہ ہموار ہوجائے گی۔ ہمیں پاکستان کی موجودہ صورتحال کا انتہائی سنجیدگی سے جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔ ایک وقت تھا جب انڈیا کا زیرانتظام کشمیر بھارت کے جغرافیے کا حصہ نہیں تھامگر اب وہ بھارت کی یونین میں شامل کیاجاچکا ہے جبکہ پاکستان کے زیرانتظام کشمیر کو آزادکشمیر کہاجاتا ہے، لیکن اب کشمیری عوام خود کہہ رہے ہیں کہ کشمیرآزاد نہیں ہے بلکہ وفاق پاکستان کے تحت اس طرح چلایاجارہاہے جیسے وہ پاکستان کا ایک صوبہ ہو۔ کشمیری عوام مطالبہ کررہے ہیں کہ ہمیں آزادی کے ساتھ حقوق دو تو ان پر گولیاں چلائی جارہی ہیں، پانی، بجلی، گیس، آٹے کے معاملات خودچلانے اور کشمیر کی قانون ساز اسمبلی کی آزادی کامطالبہ کررہے ہیں لیکن مطالبہ کرنے والے کشمیریوں پرگولیاں چلائی گئی جارہی ہیں اوراب تک 100 زائد کشمیریوں کو شہید کیاجاچکاہے۔ 1/2

Altaf Hussain

16,308 просмотров • 1 месяц назад

پاکستان کا موجودہ فرسودہ عوام کا خون چوس نظامِ حکومت اپنی بقا کی سب سے بڑی سیاسی مگر آخری جنگ میں داخل ہوگیا ہے نئے صوبوں، طاقتور انتظامی یونٹس اور بااختیار مقامی حکومتوں کی بحث نے ملک کی سیاست کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔ پیپلز پارٹی نے سندھ اسمبلی سے واضح اعلان کردیا ہے کہ سندھ میں نظام حکومت اور موجودہ صوبائی نظام میں کسی بڑی تبدیلی کو قبول نہیں کیا جائے گا۔ وزیراعلیٰ مراد علی شاہ کا دوٹوک مؤقف ہے: سندھ ایک ہے اور ایک ہی رہے گا۔ دوسری طرف یہ دلیل زور پکڑ رہی ہے کہ 25 کروڑ سے زیادہ آبادی والے پاکستان کو صرف چار بڑے صوبوں سے مؤثر انداز میں چلانا مشکل ہوچکا ہے اور اختیارات کراچی، لاہور، پشاور اور کوئٹہ سے اضلاع اور شہروں تک منتقل ہونے چاہئیں۔اسی بحث کے دوران مسلم لیگ نون اور پیپلز پارٹی کے تعلقات بھی دباؤ میں ہیں، جبکہ ممکنہ آئینی تبدیلیوں کی بازگشت بھی سنائی دے رہی ہے۔یہ معاملہ کہاں تک جاسکتا ہے؟ On My Radar کی مکمل رپورٹ دیکھنے کے لیے OMR کا YouTube لنک ضرور کلک کریں

Kamran Khan

37,964 просмотров • 1 месяц назад

قمر زمان کائرہ، راہنما پاکستان پیپلز پارٹی 👇👇👇 میں مانتا ہوں میری پارٹی سمیت کوئی صوبہ مقامی حکومتوں کو اختیار نہیں دینا چاہتا۔۔ حل نئے صوبے نہیں بلکہ مقامی حکومتوں کو صوبوں کے دائرہ کار سے نکالنا اور آئینی کور دینا ہے۔ بحث یہ ہے کہ ملک میں گورننس فیل ہو گئی ہے اس لیے صوبوں کو چھوٹا کیا جائے۔۔ یعنی وفاق بہترین چل رہا ہے، وہاں گورننس کا مسئلہ نہیں ہے، وزیر بہترین کام کر رہے ہیں، ایف بی آر بہت اچھا کام کر رہا ہے، صوبے سب خراب کر رہے ہیں۔ اس طرح تو پنجاب کے پانچ صوبے بنا لیں تو اڑھائی اڑھائی کروڑ کا صوبہ بنے گا، پورا بلوچستان اتنا ہے۔۔ پیپلز پارٹی کو قبول ہو یا نا ہو۔۔ جو صوبے بنانا چاہتے ہیں وہ آئین کے مطابق سب کام کر لیں۔ پیپلز پارٹی کہہ رہی ہے کہ ریفرنڈم اٹھاریں ترمیم میں ختم ہو چکا، آئین تین نظام حکومت دیتا ہے۔۔ وفاقی، صوبائی اور مقامی حکومت۔۔۔ مقامی حکومت کو ہم نے صوبوں کے ماتحت کر دیا اور بااختیار نہیں کیا۔۔ سندھ میں مقامی حکومت ہے مگر اختیار نہیں۔ پنجاب کہتا ہے سندھ میں بہت برا مقامی حکومتوں کا نظام ہے تو پھر پنجاب میں مثالی مقامی حکومتوں کا نظام لے آئیں۔ مقامی حکومتوں کو سامنے لائیں اور آئینی کور دیں۔ #FaislaAapKa TEAM | Hum News Qamar Zaman Kaira

Asma Shirazi

34,459 просмотров • 1 месяц назад

شریف خاندان پاکستان کو توڑنے اور صوبوں کو لڑانے کی سازش کر رہا ہے، آرمی اسٹیبلشمنٹ کے تحفے مریم صفدر نے آج فوج کے ہی بلوچستان اور خیبر پختونخواہ میں فتنۃ الہندوستان کے بیانیے کو دفنا دیا ہے اور مودی کے بیانیے کی تائید کر دی ہے کہ پاکستان دھشتگرد ملک ہے، ساری قوم کو فوج نے خیبر پختونخواہ اور خصوصاً بلوچستان میں فتنۃ الہندوستان پر لگایا ہوا تھا، ہندوستان نے پاکستان کا پانی بند کیا ہوا ہے پاکستان سے جنگ کی میزائل اور ڈرون مارے اور آج مریم صفدر کہتی ہے کہ افسوس کی بات ہے کہ مجھے تھریٹ میرے پڑوسی ملک سے کم ہے، لیکن میرے پڑوسی صوبوں سے زیادہ ہے، وہاں سے دہشت گردی پنجاب میں آتی ہے، اس خاندان کو شرم نہیں آتی یہ اپنی شادیوں میں مودی کو بلاتے تھے، یہ فتنہ عورت پاکستان کی عوام کو لڑوا رہی ہے، بلوچستان میں بیوروکریسی کی اکثریت پنجاب سے ہیں بلوچستان کو تو وفاق میں اس کے کوٹے کی نوکریاں تک نہیں دی جاتیں اور پنجاب ہی کے لوگ بھرتی کر دیے جاتے ہیں، شریف خاندان نے پاکستان کو صرف کاروبار بنایا ہوا ہے یہاں سے پیسے چوری کرو اربوں روپے کے جہاز خریدو اور اپنے ملک برطانیہ لوٹ جاؤ۔ #مینڈیٹ_چور_شریف_مافیا #مینڈیٹ_چور_اردلی_حکومت

Qasim Khan Suri

22,964 просмотров • 1 месяц назад