Загрузка видео...

Не удалось загрузить видео

На главную

ملٹری کسٹڈی میں درجنوں لوگ ہیں سپریم کورٹ نے 15 دن میں اپیل کا حق دینے کا حکم دیا مگر مہینے گزر گئے۔ پارلیمنٹ نے وہ حقوق جو ہم نے 60 سال میں بنائے ختم کر دیے۔ مجھے خطرہ ہے کہ اگر یہ سلسلہ یوں چلا تو کچھ علاقے...

19,311 просмотров • 8 месяцев назад •via X (Twitter)

Комментарии: 0

Нет доступных комментариев

Здесь появятся комментарии из оригинального поста

Похожие видео

نو مئی کے بارے میں یہ مقدمات نہیں ہیں بلکہ تماشا ہے۔ ​تھانہ شادمان حملہ کیس، شیر پاؤ پل جلاؤ گھیراؤ کیس، جناح ہاؤس کے قریب گاڑیاں جلانے کا کیس، سرور روڈ پولیس اسٹیشن میں درج مقدمات، کلب چوک اور جی او آر ون گیٹ پر حملہ کیس، ریس کورس تھانہ کیس، اور کلمہ چوک کے قریب کنٹینر جلانے کا کیس۔ ​ایک آدمی اگر جن بھی ہو، تو وہ ان سب جرائم میں بیک وقت شریک نہیں ہو سکتا۔ آپ نے تو ریکارڈ قائم کر دیا ہے۔ بریو! بریو! سبحان تیری قدرت، سبحان تیری کھیل! پانچ آدمیوں کو آپ نے فی کس 286 سال جیل کی سزا دی ہے۔ دنیا کی تاریخ میں کہیں بھی دیکھ لیں، کسی بھی جمہوریت یا بنانا ڈیموکریسی میں آپ کو اس قسم کی عدالتی کارروائیاں نہیں ملیں گی۔ ​پاکستان کا آئین ہائی ٹریزن (سنگین غداری) اس بات کو کہتا ہے کہ جو آئین کو توڑے گا، جو آئین کو روندے گا، اور جو آئین کو درخورِ اعتنا نہیں سمجھے گا، وہ ہائی ٹریزن کا مجرم ہے۔ اور ساتھ ہی وہ سارے لوگ جو اس عمل میں شریک ہوں گے، وہ بھی ہائی ٹریزن کے مجرم ہیں۔ ​بات یہ ہے کہ ہم تو مجبور ہیں، پاکستان ہمارا ملک ہے۔ کل کسی وزیر نے کہا تھا کہ ہم اسلام آباد میں جیل بنائیں گے۔ بابا! پاکستان میں اب مزید جیلوں کی ضرورت نہیں ہے۔ ​آپ نے اس پارلیمنٹ کو ایک ڈیبیٹنگ سوسائٹی کے معیار سے بھی نیچے گرا دیا ہے، ڈیبیٹنگ سوسائٹی سے بھی نیچے کر دیا ہے آپ نے۔ آپ رحم نہیں کرتے، بار بار ہم آپ سے کہتے ہیں۔ ​میں نے اس دن بات کی تھی تو میرے بھائی شہباز نے اس کا جواب دیا تھا، لیکن جس انداز میں وہ بولے، مجھے مزہ نہیں آیا۔ قائد حزب اختلاف محمود خان اچکزئی

PTI

13,532 просмотров • 3 месяцев назад

08 فروری 2024 کے عام انتخابات کے اسٹیبلشمنٹ نے کرپشن کے ستر سالہ ریکارڈ توڑ دئے ہیں، براہ راست مداخلت کر کے ایک ایک حلقے سے اپنی مرضی کے نمائندوں کو سلیکٹ کیا، اس طرح کے انتخابات سے آنے والے اراکین کو عوام کا نمائندہ نہیں کہا جاسکتا، ایسی صورت میں پھر پارلیمنٹ کے اہمیت ختم ہوجاتی ہے،وہاں بیٹھے ہوئے اراکین پر انگلیاں اٹھتی رہیں گی، دفاعی قوت جب سیاسی قوت بن جائے تو پھر ہم بھی میدان میں آئیں گے۔ ہم نے آئین اور جمہوریت کے لئے قربانیاں دی ہیں، آئین پر ہمارے اکابرین کے دستخط ہیں، اس لئے آئین کا تحفظ اپنی ذمہ داری تصور کرتے ہیں، لیکن آئین صرف ایک کاغذ کا ٹکڑا ہے، اس کی کوئی حیثیت نہیں رہی، جمہوریت اپنا مقدمہ ہار رہی ہے، وہ جمہوریت جو آئین کے ماتحت قرآن و سنت کے تابع ہے، اللہ تعالیٰ کی حاکمیت اعلیٰ ہوگی،پارلیمنٹ کی اکثریت بھی قرآن و سنت کے خلاف فیصلہ نہیں کر سکے گی، لیکن یہاں تو پارلیمنٹ کی بھی حاکمیت نہیں ہے، یہاں تو ملازمین کا تسلط قائم ہے، ہم ایسے نظام کے ساتھ کس طرح چلیں گے؟ ہمیں آگے چلنا ہے،یہ ملک کسی کی جاگیر نہیں ہے،وردی میں عزت نہیں ہے بلکہ عزت اس کردار میں ہے جو ملک کے آئین اور عوام کی فلاح ہو بھبود کے لئے ہو، جب عوام کی بھلائی کے بارے تشکیل کردہ پارلیمان میں عوام کی نمائندگی نہ ہو، جب عوام کی نمائندگی ملازمین کی رحم و کرم پر ہو تو پھر ہمیں بھی فیصلہ کرنا ہوگا، اس لئے ہم غیر پارلیمانی سیاست کرنے پر سوچ رہے ہیں، مرکزی جنرل کونسل اس کا فیصلہ کرے گی،ہم عوام میں جائیں گے،اور پھر فیصلے ایوان میں نہیں میدان میں ہوں گے۔

Maulana Fazl-ur-Rehman

95,920 просмотров • 2 лет назад

اس وقت پاکستان میں طاقت حق بن چکی ہے، اور ماحول ایسا بنا دیا گیا ہے کہ جس کی لاٹھی، اس کی بھینس۔ طاقتور اسٹیبلشمنٹ جو چاہتی ہے وہی ہو رہا ہے۔ جج خود فیصلے نہیں لکھ رہے، فیصلے لکھوائے جا رہے ہیں، ڈکٹیٹ ہو رہے ہیں، اور عدلیہ اپنی ساکھ اور استقلال کھو چکی ہے۔ پارلیمنٹ کے ذریعے عوام پر ظلم ہو رہا ہے، عدلیہ کے ذریعے ظلم ہو رہا ہے، پولیس کے ذریعے ظلم ہو رہا ہے۔ بے گناہوں کو قتل کیا جا رہا ہے، مبینہ پولیس مقابلے ہو رہے ہیں، اور یہ سب کچھ واضح طور پر اخبارات میں آ رہا ہے۔ پاکستان کے عوام بھی غیر متعلق کر دیے گئے ہیں، اور پاکستان کی پارلیمنٹ بھی غیر متعلق ہو چکی ہے۔ اب کوئی چیز اپنی جگہ پر باقی نہیں رہی۔ پاکستان میں جو کچھ نظر آ رہا ہے وہ کھنڈر ہیں۔ عدلیہ کی جو عمارتیں ہمیں پیچھے نظر آتی ہیں، وہ بھی اس وقت کھنڈر بن چکی ہیں۔ یہاں عادل نہیں ملتا، یہاں عدل و انصاف کا قتل ہو رہا ہے۔ پارلیمنٹ کے اندر پاکستان کے عوام کے حق میں قانون سازی نہیں ہوتی، بلکہ عوام کے حق پر ڈاکہ ڈالنے کے لیے اقدامات کیے جاتے ہیں۔ پولیس کیا کر رہی ہے، عدالتیں کیا کر رہی ہیں، بیوروکریسی کیا کر رہی ہے—سب آپ کے سامنے ہے۔ ایک طرف پاکستان کی ریاست اور اس کی سالمیت پر یلغار ہے، اور دوسری طرف بدترین مہنگائی ہے۔ پھر ایسے فیصلے کیے جا رہے ہیں جن سے عوام کو مزید تکلیف پہنچے۔ عمران خان صاحب کے ساتھ اس وقت پاکستان کے عوام کی نوّے فیصد اکثریت کھڑی ہے۔ جو بھی آج ان کا مخالف ہے، وہ دراصل انتہاکت واروں کے ساتھ کھڑا ہے۔ ہم سب ایک ہیں، اسی لیے ان کی پوری کوشش ہے کہ ہمیں مایوس کریں، ناامید کریں، اور لوگوں سے کہیں کہ آپ کچھ نہیں کر سکتے۔ لیکن حقیقت میں یہ ان کی بزدلی اور پریشانی کی علامت ہے۔ یہ لوگ ہار چکے ہیں، اور جو اپنے عوام سے لڑتے ہیں وہ کبھی جیت نہیں سکتے۔ پاکستان کے نظام پر عوام کا اعتماد مکمل طور پر ختم ہو چکا ہے، اور اس وقت پاکستان عوام کے بغیر چلایا جا رہا ہے۔ یہ لوگ دنیا میں جا کر جو فیصلے اور معاہدے کر رہے ہیں، ان کی دو ٹکے کی حیثیت بھی نہیں۔ پاکستان کے عوام انہیں قبول نہیں کرتے۔ ہم آج ہونے والے فیصلے کی سخت مذمت کرتے ہیں۔ یہ فیصلہ قابلِ مذمت ہے۔ آپ جانتے ہیں کہ جس طرح کے ٹرائل ہو رہے ہیں، جس طرح کی صورتحال بنائی جا رہی ہے—جنوری سے عمران خان صاحب کے کیسز ہائی کورٹ میں زیرِ التوا ہیں، ان کی سماعت نہیں ہو رہی۔ یہ پک اینڈ چوز کی صورتحال ہے، اپنی مرضی کے فیصلے کیے جا رہے ہیں۔ یہ سمجھتے ہیں کہ ایسے فیصلے انہیں بچا لیں گے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ استثنا لینے کے باوجود ان کا خوف ختم نہیں ہو رہا۔ ڈر کے سائے میں ایسے فیصلے کیے جا رہے ہیں۔ خدا نہ کرے کسی ملک پر بزدل، حقیر اور چھوٹے لوگ مسلط ہو جائیں۔ یہ لوگ پست ترین سطح پر جا کر مخالفت کرتے ہیں۔ ہم خداوندِ عبدالمطلب کے بارگاہ میں دعا کرتے ہیں کہ ہمیں ان ظالموں، بونوں اور حقیر لوگوں سے نجات عطا فرمائے۔ یہاں آئین کی بالادستی ہو، قانون کی حکمرانی ہو، اور پاکستان کے عوام کو انصاف اور ان کا حق ملے۔

Senator Allama Raja Nasir

29,309 просмотров • 9 месяцев назад