Video yükleniyor...

Video Yüklenemedi

Ana Sayfaya Dön

منصور علی خان المعروف لونڈا لپاڑا نے بلاول زرداری کا انٹرویو لیا کہا جاتا ہے یہ انٹرویو ISPR کی طرف سے سیٹ کروا کردیا کیونکہ آدھے جرنیلوں نے گود لیا ہوا ہے بلاول صاحب کو اور آدھوں نے ہاتھ رکھا ہوا ہے سر پر مریم صاحبہ کے بلاول زرداری...

52,158 görüntüleme • 2 ay önce •via X (Twitter)

0 Yorum

Yorum bulunmuyor

Orijinal gönderinin yorumları burada görünecek

Benzer Videolar

بریکنگ نیوز 🚨شہباز گل کا بڑا تہلکہ خیز انکشاف۔ Exclusive سٹوری بریک کرڈالی۔ بلاول کا اسٹبلیشمنٹ کے خلاف بیان، پنڈی سے آئی ایک کال پر لیٹ گئے، دو گھنٹے بھی اپنے موقف پر کھڑے نہ ہوسکے 🔥🔥 بلاول زرداری نے تقریر میں کہا کہ ہم نے تمہارا ساتھ دیا تھا ریاست کے مفادات کیلئے ن لیگ کیلئے نہیں۔آپ نے اس کو مقبوضہ کشمیر بنادیا۔ تقریر بلاول ذرا بھاری کر گئے۔ بلاول سیاست کی آئس کریم ہیں، جیسے آسکریم پگھل جاتی ہے، اپنی ہیت، شکل برقرار نہیں رکھ سکتی، بلاول کا بھی کچھ ویسا ہی حال ہوا ہے۔ اس بیان کے بعد بلاول سے کوئی ملنے آیا۔ یہ Exclusive خبر ہم آپ کو بالکل پوری طرح سے تحقیق کرنے کے بعد دے رہے ہیں۔ چوہدری صاحب کی طرح سے انکو کوئی ملنے آیا۔ یہ بھی میں آپ کو بتا دیتا ہوں ایک برگیڈئیر صاحب ملنے آئے، انہوں نے فون پر بات کسی اور سے کروائی جو ان سے ایک درجہ اوپر شخصیت ہیں، میجر جنرل فیصل نصیر صاحب سے۔ انہوں نے بلاول صاحب کی اچھی خاصی درگت بنائی ٹیلی فون کے اوپر۔ بتانے والے بتاتے ہیں کہ آواز کافی اونچی تھی اور سیدھی کھلی بے عزتی کی گئی، کہ آپ کو شرم نہیں آئی آپ نے یہ کیا باتیں کی ہیں ساری۔ آپ بھول گئے ابھی گلگت بلتستان میں آپ کو حکومت دی ہے۔ How Much You and Your Dad Wants۔ صدارت آپ کو دی، دو گورنر شپ آپ کو دیں، ڈپٹی سپیکر آپ کا بنوایا۔ انہوں نے سب کچھ گنوا دیا۔ سب کچھ آپ کو دیا ہوا ہے، آپ کو شرم نہیں آرہی آپ نے کس قسم کی تقریر ہمارے بارے میں کی ہے۔ اور پھر ساتھ ہی بلاول آئس کریم پگھل گئی۔ اب یہ آپ کی مرضی ہے، آپ بلاول صاحب کو اسٹروبری آئس کریم سمجھتے ہیں یا آپ انہیں چاکلیٹ سمجھتے ہیں، یا آپ انہیں ونیلا یا بیچ میں کوئی اور فلیور مکس سمجھتے ہیں، بہرحال جو بھی ہو وہ آئس کریم ہیں، تو پھگل گئی فوراً ہی۔ بلاول نے کہا کہ نہیں نہیں میرا مقصد یہ نہیں تھا، میرا تو یہ تھا، میرا تو یہ تھا، وہی جو وہ کچی پکی بچارے اردو بولتے ہیں۔ پھر جنرل نے کہا مجھے نہیں پتہ، ابھی اور اسی وقت اسے ختم کریں اور Statements جاری کریں اور پھر فون بند کردیا۔ جو برگیڈئیر صاحب ساتھ بیٹھے تھے اُن سے بلاول صاحب نے پوچھا اب کیا کریں؟ اب یہ بھی فوجیوں کا طریقہ ہوتا ہے، ایک ذرا جو بھی ریٹائرڈ فوجی افسران ہے وہ آپ کو بتائیں گے پاؤں بھاری رکھیے گا، دوسرا کہے گا سر وہ آپ سے زیادہ کچھ غصہ کر گئے، صاحب غصے میں تھے لیکن میں آپ کی پوزیشن سمجھتا ہوں تو ایک آپ کے ساتھ مل جاتا ہے، تو بریگیڈیئر صاحب نے کہا کہ آپ انٹرویو دے دیں ٹیلی ویژن پر۔ پھر دو عدد انٹرویو Arrange کروائے گئے۔ پھر بلاول نے وسیم بادامی کے پروگرام میں کہا میں نے ریاست کہا تھا، میں نے اسٹبلیشمنٹ تو نہیں کہا تھا۔ یہ حالت ہے انکی۔ یہ Statements دے کے دو گھنٹے اپنی Statement پر نہیں رہے سکتے اور انہوں نے لیڈر بننا ہے اور کل کو وزیراعظم بننا ہے۔ دیکھ لیا آپ نے کیسے بری طرح سے انکو ملٹری جنرل استعمال کرتے ہیں۔

‏زہـــرہ لیــاقت

46,739 görüntüleme • 1 ay önce