Video wird geladen...

Video konnte nicht geladen werden

Zur Startseite

منگل عمران خان صاحب سے فیملی اور وکلا کا ملاقات کا دن ! بہنوں اور وکلا کو ایک دفعہ پھر ملنے نہیں دیا گیا،اڈیالہ جیل کے باہر کھڑی پولیس اور اڈیالہ جیل حکام ایک مرتبہ پھر لاقانونیت کو پروموٹ کر رہے ہیں،آج اسلام آباد ہائیکورٹ میں سماعت تھی وہاں...

13,224 Aufrufe • vor 1 Monat •via X (Twitter)

0 Kommentare

Keine Kommentare verfügbar

Kommentare vom Original-Post werden hier angezeigt

Ähnliche Videos

آج جو شریکِ جرم ہیں، کل کو وہی فریادی ہوئے تو ؟ ایک صوبے کا منتخب وزیراعلیٰ، اپنی پوری کابینہ اور ارکانِ پارلیمنٹ کے ساتھ، گزشتہ رات اڈیالہ جیل کے باہر سڑک پر کھڑا رہا، اور آج صبح سویرے سے سپریم کورٹ کے دروازے پر دھرنا دے کر بیٹھ گیا ہے، نہ اقتدار کی شان، نہ پروٹوکول کا غرور۔ اور اس لیے نہیں کہ اسے اقتدار چاہیے، اس لیے بھی نہیں کہ کوئی این آر او مانگ رہا ہے، بلکہ صرف ایک مطالبہ کہ جس شخص کے نام پر عوام نے ووٹ دیا، وہ اڈیالہ جیل میں قید ہے، 2 دسمبر کے بعد نہ اس سے ملاقات کرائی گئی، نہ اس کی خیریت کی خبر دی گئی۔ وہ ملاقات، جس کی اجازت آئین دیتا ہے، قانون دیتا ہے، جیل مینوئل دیتا ہے اور عدالتی فیصلے دیتے ہیں، وہ ملاقات چھین لی گئی، اور پھر ایک رات، خاموشی سے، اندھیرے میں، اسی قیدی کو پمز اسپتال منتقل کیا جاتا ہے، جزوی اینستھیزیا دیا جاتا ہے، سرجری ہوتی ہے اور پھر اسی خاموشی سے واپس جیل پہنچا دیا جاتا ہے، نہ خاندان کو بتایا جاتا ہے، نہ پارٹی کو، نہ قوم کو۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا یہ غیر آئینی ہے کہ ایک منتخب وزیراعلیٰ اپنے لیڈر کی صحت پر سوال اٹھائے؟ کیا یہ غیر قانونی ہے کہ اس کے ذاتی معالجین کو مریض سے ملنے دیا جائے؟ کیا یہ جرم ہے کہ قوم کو بتایا جائے کہ جسے انہوں نے مینڈیٹ دیا، اس کی صحت کس حال میں ہے؟ جمہوریت، نیم جمہوریت یا ہائبرڈ نظام، دنیا کے کسی نظام میں ایسا نہیں ہوتا، ہاں بندوبستی نظام میں ایسا ضرور ہوتا ہے، جہاں آمریت نافذ ہوتی ہے، جہاں فیصلے آئین سے نہیں، طاقت سے ہوتے ہیں، جہاں عدالتیں، حکومتیں اور ادارے سب ایک ہی جگہ سجدہ ریز ہوتے ہیں، لہٰذا ایسے بندوبستی نظام سے کیا شکوہ، وہ قائم ہی اسی مقصد کے لیے کیا گیا ہے۔ لیکن سوال ان سیاسی جماعتوں، ان کے رہنماؤں اور کارکنوں سے ہے جن کی شراکت داری سے یہ بندوبستی نظام قائم ہے، انہیں سوچنا چاہیے کہ وقت کا پہیہ رکنے کا نام نہیں لیتا، آج آپ شریکِ جرم ہیں، کل اس کا شکار بھی ہو سکتے ہیں، پاکستان تحریک انصاف اور عمران خان مار کھا کر بھی کھڑے ہیں، کیونکہ ان کے ساتھ عوام ہے، جو ٹوٹے نہیں، بکھرے نہیں۔ اگر خدا نہ کرے کہ کل یہی ظلم کسی اور جماعت، کسی اور لیڈر کے حصے میں آئے، تب نہ کندھا ملے گا، نہ ہمدردی، نہ آواز، کسی بھی معاشرے کے لیے اس سے زیادہ شرمناک لمحہ اور کوئی نہیں ہوتا کہ وہ ظلم کو دیکھے، سمجھے اور پھر بھی خاموش رہے۔

Waseem Malik

38,228 Aufrufe • vor 7 Monaten

عمران خان کے علاج سے متعلق تین ججز کے فیصلے کو حکومت اور انتظامیہ نے ردی کی ٹوکری پھینک کر ججز کے منہ پر طمانچہ مارا ہے، ایک دفعہ پھر اس ملک کے " ان ٹچیبل" نے ثابت کیا کہ وہ آئین و قانون سے بالاتر ہیں، ہمارے خلاف عدالت ، ایف آئی اے یا کوئی اور ادارہ حکم دیتا ہے تو ایک گھنٹے میں اس پر عملدرآمد ہو جاتا ہے ، پندرہ منٹ میں پولیس پہنچ جاتی ہے، عمران خان کے علاج کے لیے عدالتوں نے دو دنوں کا وقت دیا مگر جو خود کو آئین و قانون سے بالاتر سمجھتے ہیں، فیصلے پر عملدرآمد نہیں کیا، اگر عدالتیں ان " ان ٹچیبل" کو کٹہرے میں نہیں لا سکتیں تو انہیں مظلوموں کو بھی سزا سنانے کا کوئی حق نہیں، اگر ظالموں اور طاقتوروں کو سزائیں نہیں سنائی جا سکتی تو عدلیہ سے گزارش ہے کہ جن کمزور لوگوں کو قید کیا ہے انہیں بھی آزاد کر دیں, یہ نہیں ہو سکتا کہ ایک ملک میں کمزور کے لیے ایک قانون ہو اور طاقتور کے لیے دوسرا قانون ہو, عمران خان نے حقیقی آزادی کی جو جد و جہد شروع کی ہے اسکا مقصد کمزور اور طاقتور کے لیے ایک قانون ہے, عدالتوں کو سوچنا ہوگا کہ یہ ملک کو کس طرف لے جا رہے ہیں، کسان پریشان ہے ، صنعتکار سرمایہ ملک سے باہر منتقل کر رہا ہے, اگر انکا فیصلہ ہے کہ انہوں نے طاقتور کو بچانا ہے تو ہم اس فیصلے سے باغی ہیں, نوجوانوں نے ملک کا فیصلہ کرنا ہے ، انہیں اپنے مستقبل کے لیے کھڑا ہونا ہے, پی ٹی آئی خواتین پر ظلم و جبر کیا جا رہا ہے ، عمران خان کی بہنوں کی بے توقیری کی گئی،اب ان کے پاس عورت کارڈ کا پتا بھی ختم ہو گیا, عمران خان سے ہم جنون کی حد تک عشق کرتے ہیں، ہم خان کی بہن کے ایک ایک آنسو کی قیمت چکائیں گے، 27 تاریخ کو اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ ہوگا ، اب20 نہیں 40 لاکھ لوگ لے کر جائیں گے، وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی کا ہنگو میں ابوبکر صدیق چوک میں اسٹریٹ موومنٹ شرکاء سے خطاب!

Tehreek-e-Insaf

41,838 Aufrufe • vor 7 Tagen

"معاملہ اس لیے اہم ہے کہ آج (عمران خان سے ملاقات کے لیے) فیملی جب جائے گی ایک یا دو بجے اڈیالہ جیل تو کیا سپرنٹینڈنٹ اڈیالہ جیل ان کی ملاقات کروائیں گے ؟ ایز پر ارڈر آف دا سپریم کورٹ ؟ اور کیا جب وہ فیملی اندر جائے گی عمران خان صاحب سے بات ہوگی تو وہاں سے ہمیں یہ بھی مل سکتی ہے خبر کہ کیا پچھلے ایک ہفتے میں دو دفعہ عمران خان صاحب کے بیٹوں سے بات کروائی ہے سپرنٹینڈنٹ اڈیالہ جیل نے یا نہیں؟ تو یہ دو پوائنٹس بڑے میجر ہیں اس ارڈر کے اور یہ ڈائریکٹ کرتے ہیں سپرنٹینڈنٹ اڈیالہ جیل کے ساتھ اور اگر ان پر عمل نہیں ہوتا تو سپرنٹینڈنٹ اڈیالہ جیل کے خلاف توہین کی کاروائی انیشیٹ ہو سکتی ہے کہ پہلا معاملہ تو شفاء کا تھا انتظامیہ اسلام آباد کی تھی اب یہ تو سپرنٹینڈنٹ اڈیالہ جیل، آئی جی جیل خانہ جات یا پنجاب حکومت کا معاملہ ہے تو وہ چیزیں جو ہیں وہ میرے خیال میں خراب بھی ہو سکتی ہیں تو اب کل کا دن بڑا اہم ہے کہ حکومت کیا باقی دو نکات پر سپریم کورٹ کے آرڈر کے مطابق عمل کرتی ہے یا نہیں"

Saqib Bashir

45,116 Aufrufe • vor 4 Tagen