Загрузка видео...

Не удалось загрузить видео

На главную

منیرا مارشل اتنا سہما ھوا کیوں تھا؟ چوھدری جے ڈی وینس جٹ نے اب اتنی عوام کے سامنے چپیڑیں تھوڑی کروانی تھی

18,632 просмотров • 3 месяцев назад •via X (Twitter)

Комментарии: 0

Нет доступных комментариев

Здесь появятся комментарии из оригинального поста

Похожие видео

وقت بڑی ظالم چیز ہے۔۔ صدر ٹرمپ سے جب صحافیوں نے سوال پوچھا۔۔کہ کیا نائب صدر JD وینس ایران کے حوالے سے مزاکرات کرنے کے لیے پاکستان جا رہے ہیں؟ تو ٹرمپ جواب دئیے بغیر آگے بڑھ گیا۔ اگر امریکی نائب صدر JD وینس پاکستان آ گیا تو یہ بھارت کی بڑی زلت اور پاکستان کی بڑی جیت ہو گی کیونکہ جے ڈی وینس کی بیوی بھارتی نژاد امریکی ہندو ہے اور مئی کی پاک بھارت جنگ سے پہلے جب بھارت نے"پہلگام"میں فالس فلیگ کروایا تو جے ڈی وینس اس وقت اپنی بیوی کے ساتھ بھارت کے دورے پر تھا اور اس کی بیوی کو مودی نے"بھارت کی بیٹی"قرار دیا تھا۔ پاکستان پر بھارتی حملوں کے پیچھے مبینہ طور پر"جے ڈی وینس"کی آشیرآباد بھی تھی۔ بھارتی حملوں کے بعد JD نے ہی کہا تھا۔۔کہ ہم جنگ میں نہیں انوالو ہونگے۔۔ بھارت پاکستان کو خود ہی دیکھ لے گا۔ 10 مئی کو بھارت کی عبرتناک ٹھکائی کے بعد بھارت نے سیزفائر کرتے۔۔ جے ڈی کو مودی نے فون کیے تھے اور جے ڈی کی گارنٹی پر ٹرمپ نے محمد بن سلمان کے زریعے پاکستان کی مقبوضہ کشمیر میں پیش قدمی رکوائی تھی۔ پھر مودی کے مزاکرات سے مکرنے کے بعد ٹرمپ JD سے مبینہ طور پر ناراض رہا تھا۔ اسی ناراضگی کی وجہ سے جے ڈی اور دنیا کے سب سے امیر آدمی ایلن مسک نے ٹرمپ کا مواخذہ کرنے کی بھی مبینہ کوشش شروع کی تھی۔ اب ٹرمپ اور JD کی دوبارہ بات چیت نارمل ہوئی ہے لیکن ٹرمپ JD کو پاکستان کے"در"پر بھیجنا چاہ رہا ہے۔ اللہ اکبر۔۔۔ وقت کیسے بدلتا ہے یہ ہو گیا تو۔۔۔سمجھیں مودی اور JD کی آکڑ ٹوٹے گی۔ (اسد آر چوہدری)

Asad R Chaudhry

78,094 просмотров • 4 месяцев назад

اسلام آباد مذاکرات بے نتیجہ رہے امریکہ اور ایران کے درمیان کوئی سمجھوتہ نہ ہو پایا مذاکرات کے دوران پیش رفت ضرور ہوئی مگر حتمی معاہدہ نہ ہوسکا۔امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے 21 گھنٹے طویل مذاکرات کے بعد اعلان کیا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان ابھی تک مکمل معاہدہ طے نہیں پایا، تاہم واشنگٹن نے اپنا “بہترین اور آخری آفر” تہران کے سامنے رکھ دیا ہے۔ نائب صدر جے ڈی وینس کے مطابق اب دنیا کی نظریں ایران کے جواب پر ہیں۔ذرائع کے مطابق سب سے بڑی رکاوٹ وہی بنی جس کا پہلے سے خدشہ تھا، ایران نے اپنا افزودہ یورینیم ذخیرہ حوالے کرنے سے صاف انکار کردیا دلچسپ بات یہ ہے کہ امریکی نائب صدر نے اپنی پریس بریفنگ میں آبنائے ہرمز کے معاملے کا کوئی ذکر نہیں کیا۔اطلاعات ہیں کہ ایرانی وفد نے مزید وقت مانگا لیکن امریکی نائب صدر نے انتظار سے انکار کرتے ہوئے مذاکراتی کمرہ چھوڑ دیا۔اپنی “Best and Final Offer” پریس کانفرنس کے صرف 45 منٹ بعد جے ڈی وینس واشنگٹن واپس روانہ ہوچکے تھے اب سب سے اہم سوال یہ ہے کیا تہران امریکی آخری پیشکش قبول کرے گا یا اسلام آباد مذاکرات غیر معینہ مدت کے لئے ختمُ ہو جائیں گے؟

Kamran Khan

114,470 просмотров • 3 месяцев назад